شام ہوئی تو
دور کسی سیارے سے
پریم نگر کے گلیارے سے
ایک انجانا ایک بیگانہ
آسیب
میرے گھر کے چھت پر اترا
مجھ کو یوں محسوس ہوا
جیسے چاند زمیں پر اترا
پھر یک دم اس نے آواز دی مجھ کو
اے چپ چاپ سے رہنے والے
کربِ تنہائی سہنے والے
دشتِ غیر میں اپنی دنیا بسانے والے
اپنی دھن میں
میر کی غزلیں گانے والے
نطشے، ساتر، کامو، ہائڈیگر کو پڑھنے والے
خود سے
اور خداؤں سے لڑنے والے
سن
جو کمرہ تو نے تعمیر کیا ہے
جس کی قید اپنا تقدیر کیا ہے
اس کمرے سے باہر آ
چھوڑ یہ جوگی پن چھت پر آ
میں نے کہا جی آیا
بس دروازہ ڈھونڈ رہا ہوں
آیا؟
جی بس آیا
آ تو گیا ہے تو لیکن تنہا تنہا
وہ جو تیرے ساتھ رہا ہے صدیوں صدیوں
ساتھ نہیں لایا اس کو
کوئی بھی تو نہیں تھا، میں صدیوں صدیوں تنہا تھا
اچھا۔۔۔!بیٹھ یہاں پر
اچھا تو یہ دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
جی۔۔ مرکیز کی ناول "تنہائی کے سو سال"
کس کی تنہائی کے سو سال؟
میری تنہائی کے سو سال۔۔۔
اور یہ بائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
یہ کلیاتِ رُسل میر ہے صاحب
اچھا۔۔۔
باقی کمروں میں یہ کون ہیں؟
جی معلوم نہیں،
تھوڑا تھوڑا یاد تو ہوگا
جی کوئی مجنوں کوئی فرہاد ہوگا
ایک ہی گھر ہیں نا یہ؟
جی،،،لیکن نفسی نفسی۔۔
اے نادان،،،اے انسان؟
انسان نہیں
پھر؟
میں ابھی ذات کی سیڑی کے پہلے گام پر ہوں
میں ابھی بس اپنے گھر کے بام پر ہوں
تو نے اپنی
ذات پہیلی سلجھاتے سلجھاتے
خود کو کتنا الجھایا ہے
دیکھ زرا تو ۔۔۔ایک نظر دیکھ
اپنے آپ کا کیسا حال بنایا ہے
۔۔۔
کس سے باتیں کرتا ہے تو
کس کی باتیں کرتا ہے تو
کس کی غزلیں کہتا ہے تو
کس کی نظمیں لکھتا ہے تو
یہ کمرے کی دیواروں پر
کس کے چتر بنائے ہیں
جی، یہ، وہ، اُس
یہ سب اس کے ہیں ،،ہاں اس کے
جس کو میں نے
اتنا یاد کیا ہے
شاید اب میں اس کو بھول گیا ہوں
لیکن وہ ہے۔۔۔کوئی تو ہے۔۔۔کوئی تو تھا
تجھ کو زمیں اچھی نہیں لگتی کیا؟
یہ دنیا، یہ آبادی، یہ ویرانی ، یہ صحرا یہ جنگل
یہ وادی، یہ پربت, یہ دریا، یہ باغ یہ کھیت
یہ گل، یہ خوشبو یہ رنگ اچھے نہیں لگتے کیا؟
جی لگتے ہیں۔۔ کیوں نہیں لگتے۔۔
پھر یہ تنہائی؟ یہ خلوت؟
مانا یہ سب با معنی ہیں اس لایعنی عالم میں
پر اس عالم میں ہر شے کی فطرت تنہائی ہے
میں بھی یہیں کا ہوں سو مجھ کو بھی بھائی ہے
میری سہیلی میری تنہائی ہے۔۔۔
میں نے جہاں خود کو بھی نہیں پایا ہے
ایسے خلا میں بھی تنہائی پائی ہے،،،
اچھا ۔۔۔
تجھ کو یاد نہیں سب؟
کون ہے تو؟
تو کس سیارے سے آیا تھا
کس کے قبیلے سے ہے تو، بول
شہرِ وجود اپنا تو بھول گیا ہے؟
جی ۔۔۔میں ۔۔۔ نہیں تو
اچھا یہ تو
کیسے کیسے پاگلوں کو پڑھتا ہے؟
جی، پاگل نہیں یہ سب۔۔
سب پاگل ہیں ، ان میں پاگل کون نہیں ہے
سب کا نہیں معلموم مجھے پر جون نہیں ہے
اب یہ جون میاں ہے کون؟
کیسے جانتاہے تو اس کو
جی، وہ، آپ نے پوچھا تھا نا
کس کے قبیلے سے ہوں؟
جون کے قبیلے سے ہوں
اور میں بھولا کچھ بھی نہیں ہوں
میں جو تھا میں اب بھی وہیں ہوں
،،،
اس نے کہا پھر
سن
میں بھی اسی قید میں رہا ہوں
قید ابھی جو کاٹ رہا ہے تو وہ
صدیوں پہلے ہی کاٹ چکا ہوں
یہ بنباس میں کاٹ چکا ہوں
جو تو ابھی خود سے دنیا سے
وہم و گماں سے
سارے جہاں سے
دنیا والوں سے
مکڑی کے جالوں سے
دھرتی، اور فلک سے
بے معنی سوچوں سے
الجھے الجھے خیالوں سے
جنگ لڑ رہا ہے
میں یہ جنگ بہت پہلے
لڑ چکا ہوں
میں یہ کتابیں سب پڑھ چکا ہوں
تب سارتر نہیں تھا سُقراط تھا کوئی
جو دریا تو تیر رہا ہے
وہ دریا میں تیر چکا ہوں
میں بھی تیری طرح کا خالی پن تھا
اک جنگل تھا اک ایسا ہی بن تھا
میں بھی اسی کھنڈر سے گزر چکا ہوں
جو خالی پن بھر رہا ہے تو
وہ خالی پن اتنا بھر چکا ہوں
بھرتے بھرتے مر چکا ہوں
۔۔۔
چل اب اپنے سیارے چل
درد کے اس گرداب سے نکل
اپنا سیارا تُجھ کو کیا یاد نہیں؟
وہ جنت ، وہ باغِ وحدت
درد کی نگری ہے یہ دنیا
چاروں جانب اندھیارا ہے
۔
کیسے نکلوں
وقت کا قیدی ہوں میں
اک بے نام سی الجھن کا میں
عادی ہوں
جاؤں تو جاؤں کیسے
آپ کے میں ساتھ آؤں کیسے
خود کشی کر لوں کیا؟
جو جی رہا ہے تو وہ زندگی ہے کیا؟
کیا یہ خود کشی نہیں ہے
جی یہ خود کشی ہی ہے جو میں ٹال رہا ہوں
یہ جیون جیون ہے
ایک غلط فہمی پال رہا ہوں
اس نگری میں
آپ رہے کیا جو میں رہوں گا
جی میں آؤں گا
سانسوں کا بندھن ٹوٹ تو جائے
یہ بے چینی ٹھہر تو جائے
اس کمرے کا
کوئی دروازہ تو نظر آئے
آپ چلیں میں آتا ہوں
ساری الجھنیں سلجھا کر میں
آپ کی طرف لوٹ آؤں گا
ایک ہی دریا کے قطرے ہیں ہم
ہم نے آخر مل جانا ہے
جانتا ہوں میں ایک گلاب ہوں میں
جس نے آخر کھل جانا ہے
آپ مگر یہ بات میری یاد رکھیے گا
ہاں میں کچھ بھی بھولا نہیں ہوں
میں جو تھا میں اب بھی وہیں ہوں

0
31