| جنموں جنموں سے جو یخ بستہ پڑا تھا، وہ بدن |
| ایک دم پگھلا گئی تیرے چھون کی یہ تپن |
| . |
| رات بھر گرتی رہی تیرے خیالوں کی برف |
| رات بھر جلتا رہا تیرے دوانے کا بدن |
| . |
| جب ستانے لگی یہ دشت کی سفاک ہوا |
| یاد آئی بہت اپنی گلی وہ اپنا چمن |
| ۔ |
| تم نے جب چھوڑ ہی جانا تھا بھلانا تھا ہمیں |
| دل میں پھر کاہے کو بڑکائی تھی یہ پریم اگن |
| . |
| یہ محبت تو شرارت تھی بس اُن لمحوں کی |
| بے وفا کس کو کہوں، کس کو کہوں عہد شکن |
| ۔ |
| دل کو پھسلاتی رہی دنیا کی رنگینی مگر |
| دل کو راس آیا یہی دشت کا دیوانہ پن |
معلومات