جنموں جنموں سے جو یخ بستہ پڑا تھا، وہ بدن
ایک دم پگھلا گئی تیرے چھون کی یہ تپن
.
رات بھر گرتی رہی تیرے خیالوں کی برف
رات بھر جلتا رہا تیرے دوانے کا بدن
.
جب ستانے لگی یہ دشت کی سفاک ہوا
یاد آئی بہت اپنی گلی وہ اپنا چمن
۔
تم نے جب چھوڑ ہی جانا تھا بھلانا تھا ہمیں
دل میں پھر کاہے کو بڑکائی تھی یہ پریم اگن
.
یہ محبت تو شرارت تھی بس اُن لمحوں کی
بے وفا کس کو کہوں، کس کو کہوں عہد شکن
۔
دل کو پھسلاتی رہی دنیا کی رنگینی مگر
دل کو راس آیا یہی دشت کا دیوانہ پن

0
13