| کیسے رو رہے ہیں دیوار و در دیکھ |
| اے منہ پھیر کے جانے والے ادھر دیکھ |
| / |
| ایک اشارے پر کہاں سے آیا ہوں |
| مجھ کو زمانے کا نہیں کوئی ڈر دیکھ |
| / |
| تجھ کو تو اپنی منزل مل گئی آخر |
| کوئی یہاں ہے اب تک محوِ سفر دیکھ |
| / |
| اور کیا چاہیے تجھ کو اے بتِ پندار |
| اپنے پاؤں میں پڑا میرا سر دیکھ |
معلومات