Circle Image

Kashif Ali Abbas

@KashifAA

لت سے ہی اب بھری ہے مشکل میں جا گری ہے
کب سہل تھی کٹی ، اور کیسی یہ زندگی ہے
کیا لوگ کرتے ہیں باتیں اور کیا سنیں ہم؟
لوگوں کا کیا بھروسہ چپ سادھ ایسی لی ہے
رستے پہ ہے مسافر، منزل کا کیا پتہ ہے؟
منزل نہ بھی ملی تو کیا؟جستجو تو کی ہے

0
1
ماتم و گریہ کہاں،غم خواری کہاں
اک فقط دنیا سے ہی بیزاری کہاں
جسم بکتے ،رات دن، کوچہ میں بہت
شب کدھر سویا، کہوں کیا باری کہاں
بچھڑا وہ تھا جب گھڑی ٹھہری تھی مری
کیا وہ صحبت تھی ، رہی وہ یاری کہاں

0
6
ثباتِ ہستی منظورِ خدا گر مدعا ہوتا
فرشتہ پھرعبادت کیا مسلسل کر رہا ہوتا
قضا ہوتی بقا ہوتی عجب دنیا بنی ہوتی
یہ انساں پر مگر وقتِ بلا سا گِر پڑا ہوتا
حقیر و ادنی باطن ظاہری خوبی ترا چہرا
وہ چہرہ جو نظر آتا، میں زندہ ہو رہا ہوتا

0
51
آتش تمنا سرد ہُو چکی ہے اب کیا فائدہ ؟
گھنٹی کلیسا کی جو یوں بجتی ہے اب کیا فائدہ؟
میں نے رکھا تھا دل کو کب سے، واسطے تیرے کھُلا
وہ دل رہا نا در بچا ، اندر ہے اب کیا فائدہ؟
مجھ کو ملے کیا لوگ ہیں، کس کا مناتے سوگ ہیں؟
زندہ تھا جب ،پوُچھا کہاں ، پوُچھا ہے اب کیا فائدہ؟

0
17
66
جیسی ہو مشکل یا علی کہوں گا
میں حیدری تھا، حیدری رہوں گا
باب العلم کے نام کا ہے صدقہ
حق بات لب پر لاتا ہی رہوں گا
فاتح بنا، خیبر شکن، علی کن
ہر لحضہ گن سب گاتا میں رہوں گا

0
4
مرے دل میں اک بے رخی بن گئی ہے
کبھی تشنگی زندگی بن گئی ہے
میں خود کیا بدلتا، پہنتا میں اور کیا
نمائش فقیری ہی کیوں بن گئی ہے
کھلا کر مٹا بھوک بھر پیٹ چل اب
غریبی امیری ہی کیوں بن گئی ہے

56
عشق تم ہو ، مشک تم ہو عجب تم ہو
میری اس شاعری کا اک سبب تم ہو
انتہا ، ابتدا تم اور وفا تم ہو
اب کہوں کیا، ادا تم ہو، ادب تم ہو
شام دن رات سب ہے فکرِِِِ یاََری میں
جان تم ہو، جہاں تم ہو، محب تم ہو

0
5
49
یہ ہنگامہ شام اگر کھل جائے
بچتی کہاں ہے جان اگر دل جائے
آتش لگی جب عشق،خرابی قسمت
بجھتی کہاں ہے آگ اگر جل جائے
کھویا اسے' احساس ہوا، سب چھوٹا
اب تو جہاں بھی یار اگر مل جائے

0
11
کسی عشق میں ہوں سر تلک ڈوب چکا ہوں
لگی ضرب تازہ یوں تبھی اوب چکا ہوں
کسی کا نہیں سگا ، یہ کمبخت عشق ہے،
مزہ کیا، میں جان اب اسے خوب چکا ہوں
قرائن جو کشمکش کریں پیدا وہ سہی
ابھی حسن یار سے، ہو مرعوب چکا ہوں

13