Circle Image

Kashif Ali Abbas

@KashifAA

Search me on google

یہ بوریت ترکیب بنی بیزاری کی
کیا پتا کیسے کٹی شب خماری کی
جب بھی تنہا ہوں،یا شریک محفل
یونہی بات بڑھ گئی تری یاری کی
قافلہ گو رواں دواں ہے سانسوں کا
تن آسانی یا مہربانی ہوئی بیماری کی

0
6
وہ منظر اُف وہ کتنا اندوہناک تھا
بلکتے بچوں کا چپ ہونا خوفناک تھا
وہ حسین برفوں کا قاتل بن جانا پھر
قاتل برفیں، ہاں، یہ سب افسوسناک تھا
ایسی گہری نیند لی کہ پھر نا اٹھ سکے
موت آورد ہوئی، مانو مرگ خوابناک تھا

0
4
تعلیم حاصل کرو اگرچہ
کام لگتا ہے ذرا مشکل یہ
مگر دولت علم ہے ایسی کہ
خرچو گے جتنا کم نہ ہو یہ
اگر مل رہا ہے کوئی موقع تو
پرچم علم کا اٹھا لو، معلم بنو

0
5
جو پھر آ گئی گر مشکل
پڑھو ناد علیؑ کرو یاعلیؑ
ہر جنگ کا اغلب سورما
صداۓ مقتولین بپا یاعلیؑ
نان جویں خاصہ مسجد
رہے فقر و استغنا یاعلیؑ

0
20
آواز جو سنی رب کعبہ کی
پھر جستجو کی راہ عشق تری
صداے حق گونجی عالم میں گونجی
قضا پھر اٹھی لحد میں اٹھی
آیت جو پڑھی دل میں پڑھی
وہ قرات داودی وہ سنت ابراھیمی

0
3
تم نے  بے وجہہ کسی سے  رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟ یہ درد اب کیوں ہے یہ کیا ہے اس کا سبب اب کیا ہے کیوں ہے تو سچ سچ بتاؤ ۔۔۔تم نے  بے وجہہ کسی پر شک  کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب یہ دل عجب انداز میں بنا وجھہ کے ایسے ہی کوئی نام پڑھ کر دھڑکے بری طرح کھڑکے ۔۔تو سمجھ لینا کہ یہ عشق کی گہری چال ہے جو واپس نہیں ہوتی جتنا انکار کر لو ۔۔۔یہ ہو کر رہتا ہے ۔۔۔تبھی رومانوی  تباہی ہوتی ہے سچ سچ بتاؤ ۔۔۔کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟عشق ؟؟؟تحریر : کاشف علی عبّاس

0
9
تم نے بے وجہہ کسی سے رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے عشق کیا ہے؟
جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔
اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔
تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر
کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو
کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟

0
14
تم نے بے وجہہ کسی سے رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے عشق کیا ہے؟
جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔
اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔
تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر
کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو
کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟

0
4
ترا کھیلنا کیا نظر آ رہا ہے
مجھے تو تماشا نظر آ رہا ہے
کئی لوگ ایسے، جُڑے داستاں میں
کہ محض اک دکھاوا نظر آ رہا ہے
تعجُب کروں حال پر یا رہوں چپ
برابر مداوا نظر آ رہا ہے

0
15
یہ جو ناقدری ہم پر گزری
اب کیا کہیں کس قدر گزری
تمہاری راہ تکتے، یاد کرتے
ہر ہر لمحہ مثل قہر گزری
تم کہ بنے ہودعویدار مسیحائی
کیا تصور میں یہ خبر گزری؟

0
6
اب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گےشوخ تیرے قدموں پہ، ہم نگاہوں سے تیر ی آرتی اتاریں گے
تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے، زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو
پست حوصلے والے تیرا ساتھ کیا دیں گے، زندگی ادھر آجا ہم تجھے گزاریں گے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہے، انگلیوں سے جو ٹپکے اس لہو کی حاجت ہے
آپ زلف جاناں کے خم سنوارئیےصاحب، زندگی کی زلفوں کو آپ کیا سنواریں گے

0
42
چلو مان لیا کہ دم میری محبت کا نہیں بھر سکتی
مگر ایسی بھی کیا عداوت کہ بات نہیں کر سکتی
وفا کا صلہ جفا سے دینے والے سن لے
کہ اپنی خوشیوں کے دن تو بھی گن لے
یہ نارسائی پیچھا نا چھوڑے گی تیرا
یہ تنہائی اب بسیرا نا چھوڑے گی تیرا

0
9
اس سب کا سبب کیا ہے؟
یہ سب کچھ اب کیا ہے ؟
کیا ہو گیا ہے؟ کیا ارادہ ہے؟
چپ رہوں گا ؟ میرا وعدہ ہے!
مگر فکر یار میں حیراں ہوں آج
شوخی کردار پہ پریشاں ہوں آج

0
44
کیا کہو گے کیا سوچ کر میں نے ہار مان لی
کہ جب کھوکھلے رشتوں کی حقیقت جان لی
منافق چہرو! یہ کھیل ختم ہوا چاہتا ہے
قرب قضا جب ہر زیست نے یہ بات جان لی
مکر و فریب ، جھوٹ و دھوکہ یہی دنیا ہے
سچ بکتا رہا، سچ تنہا رہا، سچ کی بھی جان لی

0
13
وہ فصل رحمت عشق تھی جسے
لوگوں نے اک نیا عذاب مان لیا
ہاں تم سے کبھی عشق تھا، اب ہے نہیں
عشق سے بہتر اک جام شراب مان لیا
وہ راہ جس پر کوئی منزل ہی نا تھی
اچھا کیا کہ تمھیں اک سراب مان لیا

0
66
اے چھپی اٹل حقیقت کی گھڑی
جس کا آنا حق ہے،
جس کا چھا جانا بے شک ہے
تم نے سب لذت کھا لینی ہے
تم نے ہر اجرت پا لینی ہے
مہیب پردوں میں مدفن بھی نہ بچ سکے گا

0
20
یہ عید کہاں گزرے گی ؟
ٹرین پر محو سفرِ منزلِ نا معلوم کی طرف، سمٹتے کم ہوتے ان ادھ بدھ فاصلوں میں گزرے گی؟
یا لہلہاتے پتوں پر چھن چھن گرتی روشنی کی رقصاں کرنوں کی اداؤں پر فریفتہ گزرے گی؟
شاید لب سڑک ایستادہ مال روڈ کے میوزیم کنارے نصب بھنگیوں والی توپ کے آتشیں گولوں سے بچتے گزرے گی؟
یا مسجد علی اکبر بحریہ ٹاون کے دیدہ کش زیر تعمیر آسمان میں چھید کرتے میناروں کی بلندیوں کو ماپتے گزرے گی ؟
یا پائن اونیو ویلنشیا کی لاکھوں بھیڑ بکریوں اونٹوں اور قربانی کے دیگر جانوروں سے سجی وسیع و عریض کئ کلو میٹر پر پھیلی اس مارکیٹ میں بکرا پسند کرتے گزر جائے گی ؟

0
13
جب تیری داستان سنانے کا سوچتا ہوں
قلم کانپتا ہے ،دل لرزتا ہے،غم جاگتا ہے
پڑھنے والے کیا سمجھیں گے کیا قیامت گزری
کس طرح جدا ہوۓ تھے ہم، چوٹ لگی کتنی گہری
کچھ تو ہنسیں گے چند نظرانداز کر دیں گے
دنوں میں ہمیں، اور داستان بھول جائیں گے

0
35
اک دل کی فقط آشنائی کو ترسے
کبھی ملن کبھی جدائی کو ترسے
تم مل کر بھی نہیں ملتے ہو اب
اور ہم تو اس لب کشائی کو ترسے
کاشف برا سہی نہ کر بھروسہ مگر
یہ کیا کہ اسی ظالم کی گواہی کو ترسے

0
18
مجھے اس قدر تنہا کر گیا
جب وہ شخص بچھڑ گیا
فضا میں یادوں کی خوشبو
چھوڑ کر وہ آخر کدھر گیا ؟
دل ثبات کو سکون کہاں
قضا نام تھی، حقیقت بھر گیا

0
29
ابھی نماز پڑھی عید کی
تو یاد آئے گزر چکے لوگ
شفقت باپ کی، نیابت یار بھی
رفاقت دوست کی، عنایت پیار بھی
اس گلی میں آج کی گیلی عید پر وہ پہلی عیدی بھی منتظر تھی
دریچہ دل پر نقش کچھ نام بھی

0
32
رات کے کسی خاموش لمحے میں پھیلی اُداسی ہے
جو تاریکی کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے
صبح خوشی میں، آنکھوں کی نمی میں
تیری غمی میں، تیری اب کمی میں
کچھ وقت ہی بچا ہے
تھوڑا سمے ہی باقی ہے

19
【افطاری】 【داستان】 【قبل】 【از】 【کرونا】 【2019】
افطاری کا وقت قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا ...میرا دل بلیوں اچھل رہا تھا اور میں ملکوتی سی، آفاقی سی مسرت محسوس کر رہا تھا - اس مسجد کی افطاری کی بہت تعریف سنی تھی کہ یہاں کھجور میں اجوا، کیئ قسم کے پکوڑے، سموسے ، فروٹ و چنا چاٹ ، دودھ روح افزا تو صرف شروعات تھے ...راوی کہتا ہے (یہاں راوی سے مراد میرا دوست کمال ہے جس کویہاں افطاری کا شرف حاصل ہو چکا تھا اور کل ہی افطاری نوش جان کر چکا تھا اور اسی کی حوصلہ افزائی پر میں یہاں مفت افطاری کو موجود تھا...یہ لا ہور کے پوش علاقے ڈیفنس کی جامع مسجد تھی -)چکن، مٹن اور بعد میں فیرنی بھی مینو میں شامل تھیں ...اب آپ حساب لگا لیں کہ اتنا زیادہ مینو توعام سےعام اور سستے سے سستے ہوٹل میں بھی ٩٠٠ روپے تک تو کم از کم چلا ہی جاتا ہے-(عوامی کے ریٹس کے مطابق) مہنگائی کو تو پر ہی لگ گیے ہیں - نئی حکومت کے آتے ہی موبائل ٹیکس کا تحفہ تو آپ سب کو مبارک ہو ہی چکا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ تواتنا سب کچھ مفت میں ملنے کا سوچ کر ہی میری تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی ویسے داتا صاحب سے مفت دیگوں سے ہر لاہوری کی طرح میں بھی فیضیاب بلکے پیٹ یاب ہو چکا تھا مگر افطاری وہ بھی ایسی مفت اور اتنی لذیذ کا پہلا چانس تھا .میں بار بار مسکراتا اور خود سے کہتا کہ .بس اب کچھ دیر کی بات تھی اور پھر ہم ہوں گے اور یہ مقامات آرام و طعام !!! میں بڑی کمال فرحت محسوس کر رہا تھا
تبھی باجو میں بیٹھے ایک با ریش صاحب نے میرا کندھا ہلا یا ...اچھے خاصے مذہبی بزرگ لگتے تھے مگر جس بےتکلفی سے اس ناچیز کا کندھا جکڑا اور ہلایا میں کافی کچھ خفا سا ہوگیا - شرافت بھی کسی چڑیا یا کبوتر کا نام ہے - شرارتی بزرگ کہیں کا !
' جی فرمایے؟' میں نے ہر ممکن حد تک لہجے کو پرسکون اور مہذبانہ رکھتے ہوے ان سے پوچھا
'اس شرارتی بزرگ نے کوئی جواب نہ دیا ،جیسے مراقبے کی حالت میں چلے گیے تھے--ان کے کندھے ڈھلک سے گیے تھے ، زندہ لاش کا گمان ہوتا تھا - ...میں حیران تھا کے اب کیا کروں کے اچانک انھوں نےبند آنکھیں کھولیں ایک فلک شگاف نعرہ مستانہ بلند کیا اور نعرہ اللہ ھو قسم کا تھا -پھر لوگوں کی گودوں کو ٹاپتے ، دھکے دیتے ، ٹکریں مارتے ، وہاں سےرفو چکر ہو گیۓ - اچانک ہی بھاگ کھڑے ہوے - میں تو اس اچانک حرکت سے بھونچکا ہو گیا اور میرے رونگھٹے ہی کھڑے ہو گیے کہ اے خدا یہ کیا چیز تھی اور کیا چاہتی تھی؟ سب لوگ پہلے تو یہ سمجھے کہ کوئی دہشت گرد حملہ ہو گیا ہے اور چپلوں، جوتوں کو پیچھے چور کر بھاگ نکلے ...یہاں بھی پولیس والے سب سے آگے تھے ..پولیس ایسے موقوں پر بھاگنے میں آگے ہی ہوتی ہے ، جی ہاں بھاگنے میں !!! خیر خالی پنڈال میں چند گجراتیوں کو جوتوں پر اور لاہوریوں کو رنگ بازی کا موقعہ مل گیا...خدا خدا کر کے صورت حال پھر نارمل ہوئی اور سب کو یقین دلایا گیا کے اطمینان سے تشریف رکھیں کوئی پاگل مزاق کر گیا ہے کوئی حملہ وملا نہیں ہوا ...تو سب کی جان میں جان آی ورنہ حالت روزہ میں شہادت قریب تھی - سب پھر سے امید افطار مفت میں سکون سے بیٹھ گیے ...پاؤں پسار کر، حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے لگے ... تبھی دوسرا وقوعہ ہو گیا !!!
انسانی نفسیات میں یہ چیز شامل ہے کے اگر کسی چیز سے بندا ڈر جایے تو وہ ہرچیز میں میں اس کا کوئی نہ کوئی پہلو تلاش کر ہی لیتا ہے ، ظاہر ہے اس سے خائف جو ہوتا ہے ...شہر کے حالات ، ملک کے حالات ویسے ہی دہشت گردی کے حملوں سے سجے تھے ...نہ مسجد محفوظ نہ امام بارگاہ نہ افطاری محفوظ نہ سحری..لوگ تو یہی سمجھتے تھے کہیں بھی ، کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا تھا ...مسلمان ہونے کے لحاظ سے ہم موت کو اٹل سمجھتے ہیں مگر جناب کون کمبخت بھری جوانی میں مرنا چاہتا ہے؟ اورخاص طور پر مجھ جیسے تھڑ دلے اور بزدل قسم اور رنگ باز لاہوریے تو ایسی لسٹ میں شامل ہی نہ ہوں - ہمارا بس چلے تو موت کےفرشتے سے بھی مذاکرات کر کے کچھ وقت درازی عمرمانگ لیں وہ جو بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا

0
32
آمد ہے شب غم ، شب ضربت علی
شرف ہے ماتم ، شب رخصت علی
راہ میں حائل ، بے زبان وہ مائل
مولا کا تبسم ، فجر شہادت علی
نبی کا ہے فرمان، علی کو پہچان
شیر خدا، ید الہی حق امامت علی

0
56
لاہور سے ایک لڑکی کا کرونا ٹیسٹ پازیٹیو آیا
تو لڑکی اور اس کے بوائے فرینڈ کے خاندان کو قرنطینہ کردیا گیا
بعد میں پتہ چلا کہ لڑکی کے 3 بوائے فرینڈز اور بھی ہیں لہذا اب ان 5 خاندانوں کے 37 ارکان کو بھی قرنطینہ میں ڈال دیا مزید تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے
کہ اس کے بوائے فرینڈ کی دو مزید گرل فرینڈز بھی ہیں اور ان گرل فرینڈز کے مزید آگے دو دو بوائے فرینڈز بھی ہیں اور ان میں سے ایک شادی شدہ ہے
کمبختو ریاضی دی وی مت مار دتی نے حساب وچ ہی نہیں آ رہے

0
33
اپنی محبوبہ کے نام
کاش میں کرونا ہوتا اور تجھے ہو جاتا
تو بڑے چاؤ سے ویکسین لگاتی خود کو
اور میں تیری سانسوں پر قابض ہوتا
اور پھیپھڑوں میں ٹک کر بیٹھ جاتا
تب سانس نا آتی تجھ کو، کھانسی آتی

0
43
جاہل نقاد ذرا ادھر آ
یہ کونسا کیڑا تجھے بے چین کرتا ہے
جدھر کوئی دخل نہیں وہاں
کیوں اپنی طو طے جیسی ناک گھسیڑتا ہے
پھر تیری اک چیلی ہے جو چربی دماغ رکھتی ہے
بونگیوں میں بہت آگے ہے ظرف زوال رکھتی ہے

10
142
پہلا حصہ غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“عبد الرحمان بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی ش

349
بیویوں کی تعداد کا چار ہونا اس کے ناموں کے
حروف کی تعداد سے ہی اشارہ ملتا ہے:
شادی کے چار حروف-----ش--ا--د--ی
نکاح کے چار حروف-----ن--ک--ا--ح
شوہر کے چار حروف-----ش--و--ہ--ر
بیگم میں چار حروف___ب_ی_گ_م

98
مجھے ہو گیا کرونا عشق کا
جیسے مچھر محبت کا لڑ گیا ہو
ویکسین وصل کی لگا دو یارو
ایک ٹیکہ ملن خاص لگا دو یارو
ہجر و جدائی کی موت سے ڈر لگتا ہے
پیار کے ونٹیلیٹر پر رکھو مجھے

25
At times, I know not what I do
The things that embarrass ego
Saying words, that I should never say
Doing things that are stupid today
Ah I feel such pity and pure helpless
Why do I go there, where no lift dress

3
37
شکریہ ادا کر دیا ہے
یہ تم نے کیا کر دیا ہے
سورج نکلا کس طرف سے
ملّا کو میں نے آگاہ کر دیا ہے
اس جہالت نے مرے ملک کو
اب تو بلکل تباہ کر دیا ہے

81
غصے میں ہوں، تنگ نہ کر ،پھر سہی اب جانے دے
کس کی تھی غلطی، ہمیں کیا؟مجھے گھر آنے دے
چپ لگی، غم بھی بڑھا، ضبط کیا، ڈر بھی لگا
زندگی خاموش ہے، چھیڑ کے سُر، گانے دے
چاہتا ہوں میں ابھی کیا؟ سکوں کا واسطہ
گھونٹ بھر تو پینے دے، مے خماری لانے دے

27
اب کیا کہوں میں، میرے لئے کیا ہو تم ؟
کالی شب میں جلتا اک نور کا دیا ہو تم
دور ہو، مگر دوری ہے کہاں، مری جاں میں
رچتی بستی کھلتی خوشبو بنی ادا ہو تم
کرتا ہوں میں پروا تیری اگر کبھی سمجھو
ہوں قدیم عاشق تیرا، بنے پیا ہو تم

0
26
کیسے چڑھا ہے بخارِ مے بام کر
مانا چلو عشق ہے پھر جا کام کر
جو بھی ہے کرتی رہ کیا ہو گا فائدہ؟
ضد کہاں ہے؟ یار خود میرے نام کر
کیا اگر عشقِ حقیقی تو غم ہے کیا؟
بن محبت کا دیا ، اس کو عام کر

0
28
ثباتِ ہستی منظورِ خدا گر مدعا ہوتا
فرشتہ پھرعبادت کیا مسلسل کر رہا ہوتا
قضا ہوتی بقا ہوتی عجب دنیا بنی ہوتی
یہ انساں پر مگر وقتِ بلا سا گِر پڑا ہوتا
حقیر و ادنی باطن ظاہری خوبی ترا چہرا
وہ چہرہ جو نظر آتا، میں زندہ ہو رہا ہوتا

0
1
164
تم کو ہی دیکھ کر ٹھنڈک ملتی ہے سکوں بھی
آخر کہ میری بیٹی ہو، اپنی ہو، کہ خوں بھی
بابا کہ کر بلانا تیرا ،مجھے بتا دے!
دنیا پہ اک نشانی میری سدا کہ یوں بھی
ننھے یہ ہاتھوں کو جب، حیرانی میں ہو کر گم
تکتے مجھے، اٹھاتی ہو، کیا کہوں؟ فسوں بھی

79
لت سے ہی اب بھری ہے مشکل میں جا گری ہے
کب سہل تھی کٹی ، اور کیسی یہ زندگی ہے
کیا لوگ کرتے ہیں باتیں اور کیا سنیں ہم؟
لوگوں کا کیا بھروسہ چپ سادھ ایسی لی ہے
رستے پہ ہے مسافر، منزل کا کیا پتہ ہے؟
منزل نہ بھی ملی تو کیا؟جستجو تو کی ہے

0
70
ماتم و گریہ کہاں،غم خواری کہاں
اک فقط دنیا سے ہی بیزاری کہاں
جسم بکتے ،رات دن، کوچہ میں بہت
شب کدھر سویا، کہوں کیا باری کہاں
بچھڑا وہ تھا جب گھڑی ٹھہری تھی مری
کیا وہ صحبت تھی ، رہی وہ یاری کہاں

0
45
آتش تمنا سرد ہُو چکی ہے اب کیا فائدہ ؟
گھنٹی کلیسا کی جو یوں بجتی ہے اب کیا فائدہ؟
میں نے رکھا تھا دل کو کب سے، واسطے تیرے کھُلا
وہ دل رہا نا در بچا ، اندر ہے اب کیا فائدہ؟
مجھ کو ملے کیا لوگ ہیں، کس کا مناتے سوگ ہیں؟
زندہ تھا جب ،پوُچھا کہاں ، پوُچھا ہے اب کیا فائدہ؟

0
17
126
جیسی ہو مشکل یا علی کہوں گا
میں حیدری تھا، حیدری رہوں گا
باب العلم کے نام کا ہے صدقہ
حق بات لب پر لاتا ہی رہوں گا
فاتح بنا، خیبر شکن، علی کن
ہر لحضہ گن سب گاتا میں رہوں گا

0
56
مرے دل میں اک بے رخی بن گئی ہے
کبھی تشنگی زندگی بن گئی ہے
میں خود کیا بدلتا، پہنتا میں اور کیا
نمائش فقیری ہی کیوں بن گئی ہے
کھلا کر مٹا بھوک بھر پیٹ چل اب
غریبی امیری ہی کیوں بن گئی ہے

72
عشق تم ہو ، مشک تم ہو عجب تم ہو
میری اس شاعری کا اک سبب تم ہو
انتہا ، ابتدا تم اور وفا تم ہو
اب کہوں کیا، ادا تم ہو، ادب تم ہو
شام دن رات سب ہے فکرِِِِ یاََری میں
جان تم ہو، جہاں تم ہو، محب تم ہو

0
5
129
یہ ہنگامہ شام اگر کھل جائے
بچتی کہاں ہے جان اگر دل جائے
آتش لگی جب عشق،خرابی قسمت
بجھتی کہاں ہے آگ اگر جل جائے
کھویا اسے' احساس ہوا، سب چھوٹا
اب تو جہاں بھی یار اگر مل جائے

0
36
کسی عشق میں ہوں سر تلک ڈوب چکا ہوں
لگی ضرب تازہ یوں تبھی اوب چکا ہوں
کسی کا نہیں سگا ، یہ کمبخت عشق ہے،
مزہ کیا، میں جان اب اسے خوب چکا ہوں
قرائن جو کشمکش کریں پیدا وہ سہی
ابھی حسن یار سے، ہو مرعوب چکا ہوں

90