Circle Image

Kashif Ali Abbas

@KashifAA

Search me on google

کیا کیا کچھ تو بتا چکا ہوں میں
سارا خطرہ اٹھا چکا ہوں میں
جانب منزل راستہ نظر میں ہے
چلتے چلتے بھلا چکا ہوں میں
اس کا آیا بلاوہ تو بھاگا
ایسے خود کو تھکا چکا ہوں میں

0
8
میرا خدا سے ایک سوال ہے ؟یہ جو دو منظر ہیں جو رنگ بدلتے ہیں ۔۔۔ایک دوزخ جیسی گرمی میں تپتا وہ موچی ہے جو پسینے میں شرابور لکشمی چوک لاہور میں اور لو اور حدت میں میری جوتی گانٹھتا ہے ۔اور مجھ سے صرف بیس روپے کا تقاضا کرتا ہے ۔ اور پسینہ پونچھتا خوش اور آسودہ دکھتا ہے ۔ایک منظر ہے لکشمی چوک طباق کے خنک آمیز ٹھنڈے ٹھار ماحول میں سجی میز پر دیگی چرغا میری بھوک میں اضافہ کرتا ہے ۔اس جنت جیسے یخ ماحول میں لوگ سردی سے ٹھٹر رہے ہیں ۔اور میں مری جیسی سردی میں لزیز مگر مہنگا  کھانا نوش جان کر رہا ہوں۔۔ مگر چند فٹ دور،شیشے کےدروازے کے  اس پار،جھلسا دینے والی گرمی میں وہی موچی بیٹھا ہے ۔اور ادھر چند فٹ دور شیشے کے دروازے کے اس طرف ، یخ آلود موسم میں بمعہ راحت  میں بیٹھا ہوں ۔تو میرا خدا سے سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ یہ تفریق کیوں ہے ؟تحریر : کاشف علی عبّاس

0
5
آدمی عشق کر گزرتا تھا
جاں بلب تھا مگر گزرتا تھا
عادتِ خاص تھی، چُھٹی کب تھی
اپنی خود جاں سے پھرگزرتا تھا
راستے تو کٹھن نظر آئے
ضد میں تھا، ہاں، میں پر گزرتا تھا

0
15
کیا سنو گی کہ ہم کہیں گے کیا
چپ رہے تھے ،تو چپ رہیں گے کیا
یہ مسائل بڑھے ہی جاتے ہیں
موت کے بعد جی اٹھیں گے کیا؟
متنفر کہ عشق سے ہوں میں
عشق دو بارہ کیوں کریں گے کیا؟

0
40
تیرے چلے جانے کا خلا اب کبھی پورا نہ ہو پاۓ  گا من کو چیرتی یادیں رہ جایئں گی تیری تصویر دیکھ کر آنکھیں بھر آیئں گی تیری گمشدہ شفقت بہت رلاۓ گی وہ زندہ دلی اب کدھر نظر آۓ گی ؟ان بدگمانیوں پر افسوس رہ جاۓ گا  ان کہی باتوں کو کون کہلواۓ گا ؟اب بھی کبھی اگر پاؤں پھسل جاتے ہیں بے ساختہ تیرے کلمات یاد آتے ہیں تم نے راہبر بن کر ، چراغ راہ بن کر دکھایا زندگی کا راستہ بادشاہ بن کر اس دل کو ڈھارس نہیں، کوئی جنون نہیں کدھر چلے گیے ہو ؟ اب کوئی سکون نہیں بس اک امید ہے کہ بہتر زمانہ  پایا تم نے  عارضی دنیا کو چھوڑ جنت ٹھکانہ پایا تم نے  اب وہاں کوئی کلفت غم نہ ہو گی، وبال نہ ہوں گے مصائب درہم برہم نہیں، دنیاوی جنجال نہ ہوں گے مگر دل مضطر کو پھر قرار ملتا نہیں یاد آتے ہو بے پناہ ، فرار ملتا نہیں یہ لوگ جھوٹے دوغلے مکار ۔۔۔سب لے اڑے کوئی تہمت لگانے لگا کسی کو قربت قرابت یاد آ گیئی کوئی دشنام اندازی پر اتر آیا کسی نے آپ کی ذات کو میزان بنا دیا ان کی چالاکیوں جھوٹ عیاریوں کو جانتے ہوۓ بھ

0
5
آج کہ میرا موڈ بہت خراب ہے
غصہ ہے اور دل میرا کباب ہے
یہ منفی لوگ جو بھونکتے رهتے ہیں
اپنی پیدائش کو بھی بھولتے رهتے ہیں
ہر بات پر جہالت ہر بات پر بکواس
ان کی الٹی کھوپڑی میں بس خناس

0
16
میری آل ٹائم ٹاپ لسٹ آف ادبی ناولسٹ /مصنفین یہ ہے ۔١- نمرہ احمد میں نے نمرہ کے چند ناولز پر ( مصحف ، گمان ، حد ، جنت کے پتے )  تیز مرچوں والی کھٹی میٹھی تنقید متشرع مصالحے کی طرح چھڑکی ۔ تو ساتھ ساتھ ( بیلی راجپوتان کی ملکہ ، قراقرم کا تاج محل ، پہاڑی کا قیدی ) پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برساۓ ۔ تنقید کا نمک اور تعریف کی شیرینی ایسے ہے جیسے نمکین چاولوں کے ساتھ میٹھا زردہ مزے لے لے کر کھایا جاتا ہے ۔وہ نمبر ون اس لئے ہے کہ اس کے ہر ناول کا موضوع مختلف ہے ۔جدت بھی ہے ندرت بھی اور لکھنے کی قدرت بھی ۔ریڈر کیسے بچے ؟ آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے ۔تو کیا دیکھیں گے ۔جہاں ایک طرف نمرہ نے ایک bumpy یا اوبر کھابڑ قسم کا طویل نا ہموار ادبی سفر طے کیا ہے ۔جس میں ناکامی و کامیابی باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔اور چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ۔تو آہستہ ہی سہی ان کی تحریر میں نکھار آتا رہا ۔دوسری طرف ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔ادبی چمار خانوں کے اہل زبان ( ایم -اردو یا پی ایچ ڈی طلبہ و طالبات  ) سے میری اکثر لارنس گارڈن میں اس بات پر بحث ہو جاتی تھی اور اب بھی قائد اعظم لائبرری ( جہاں ر

0
27
تھی گرمی کی شدت حد سےبھی زیادہ
تکتے تھے سب اوپر جدھر فلک پیادہ
عشق تپ چکا تھا، لاہور بھی چپ تھا
پسینہ تھا بےپناہ ، اندھیرا گھپ تھا
پھر رحمت خداوندی کو جوش آیا
جھنڈ بادلوں کا صبح در دوش آیا

0
9
اک عرصہ پہلے، صدیوں پہلے، کتنی مدت قبل ، وقت کی قید سے پرے ۔۔۔زمان و مکان سے آگے ۔۔۔اس نے پہلی بار بڑے لاڈ سے اور محبت سے کہا تھا ۔میرے اظہار محبت کے جواب میں کہا تھا ۔۔۔بے اختیار اس خاص لمحے میں کہا تھا ۔
" اگر کبھی مجہے زندگی میں تمہاری ضرورت پڑی تو تمھیں یاد کر لوں گی ۔تمھیں اس دن بلاؤں گی ۔۔تو دروازہ کھلا رکھنا "
میرے دل کا دروازہ تب سے روز ازل تا ابد تک اس کے لئے کھل چکا ہے ۔آج بھی کھلا ہے مگر شاید تلخ زمانہ اور زیست کی الجھنوں میں وہ بھول چکی ہے ۔مگر میرا دروازہ آج بھی کھلا ہے اور میں نہیں بُھولا اور میں نہیں بھولتا ۔
(کاشف )

0
3
Like and Share my page on FacebookPart 1 (پہلی قسط ۔ یہ ٢٠١٢ میں شرو ع کیا تھا مصروفیت کو وجہہ سے اب جا کر مکمل ہوا ہے ۔)وہ اکیلی بیٹھی تھی اور رات کافی گہری ہو چکی  تھی ... ایک  شب سیاہ جیسی  ناگن زلف تھر تھرا کر تاریک لبادے میں ملبوس کالی رات کا حصہ بن چکی تھی - وہ پر فسوں نیلی آنکھیں ، جن کی گہرائی حسن کا کوئی آلہ نہ ماپ سکے ، ایسی نیلو نیل شاندار بناوٹ والے نین اس کے تھے- جیسے  تنہا اور ویرانے میں ایک حسین شوخ گل کھلا ہو جو اپنے نور سے اس تنہائی کو آباد کر دے؛ اس کی آنکھیں ایسے ہی دو پھول تھیں جو وجود چمن میں بہار حسن کی موجودگی  کی  دو روشن نشانیاں تھیں - وہ دراز کالے بال جن کی چمک اور لشک ناقابل بیان تھی، بل کھاتے خوبصورت بال، جنھیں ایک ادا سے وہ جھٹکتی تھی - ایک سپیدہ سحر سا ہالہ اس کے کتابی چہرے کے گرد طواف سا کر تا تھا - جیسے کوئی شاخ سبز اپنے وجود سے نمو پانے والی ایک چٹختی کلی  کو مزید نکھار دیتی ہے ،جلا بخش دیتی ہے تو ایسے ہی سراپا سیاہ میں وہ سفید و سرخ چہرہ ایک خوشگوار تاثر چھوڑتا تھا ، جوانی کی تمازت سے بھرپور چہرہ جو چہروں میں خاص تھا، چند لمحے پیشتر وہ اس جن

0
36
 نوٹ : کمزور دل حضرات اس کو ہرگز ہرگز نہ پڑھیں، اور مضبوط دل افراد بھی رات کو پڑھنے سے گریز کریں ...شکریہ ...منجانب مصنف  یہ ایک سچا واقعہ ہے، عام طور پر کسی آپ بیتی یا قصّے کو محض زیب داستان کے لیے ، مزید سنسنی خیز بنانے کے لیے یہ فقرہ کہا جاتا ہے ، مگر اس واقیۓ کے مندرجات بلا کم و کاست بیان کر دیے گیے ہیں ... میں بلواسطہ طور پر اس کا چشمدید گواہ ہوں، بات چند مہینے پیشتر کی ہے جب مرے قریبی دوست ، شہاب احمد کو ٹیو شن کی ضرورت پڑھی... میں ان دنوں ایک سرکاری یو نیورسٹی  میں لیکچرر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ، تو جب اس نے مجھ سے نکر کیا، تو مجھے وہ سرخ رنگت بالوں اور گہری کالی آنکھوں والی لڑکی یاد آی، جس نے کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ٹیو ٹر لگوانے کی بات کی تھی، یو نیورسٹی میں روز ہی تقریباً سینکڑوں ایسے لوگ ملتے ہیں ، جو آپ کی مدد چاہتے ہیں ... مگر وہ لڑکی مرے ذھن کے کسی خانے میں بیٹھ گیئ تھی، جس کی  وجہہ میں خود نہیں جانتا ... بس یہ تھا کے میری چھٹی حس کچھ زیادہ ہی تیز تھی، کچھ تو گڑ بڑ تھی، مگر میں ادارک نہ کر سکا، اور یہ تو بہت بعد میں کھلا...تب تک بہت دیر ہو چکی تھی... اس لڑکی کا نا

0
8
انتقام 

0
7
منظر ہے خوابناک ، تنہائی بھی ہے
سوچ رہا ہوں تمھیں، جدائی بھی ہے
تم میرے بے چین دل کی دوا ہو
تم میری تمنا، خاهش اور لب دعا ہو
تم سے ملکر ایسا لگتا ہے جی اٹھا ہوں میں
بس جشن ہی لگتا ہے اور غم سی چکا ہوں میں

0
15
عرض یہ ہے مجھ پر اچا نک  حملہ ہو گیا ہے ۔ یکایک چاروں طرف سے بھیانک اور  خوفناک ٹرولرز اور خطرناک میمرز نے مجھ پر سوشل یلغار کر دی ہے ۔میرے انباکس پر چڑ ہائی کر دی ہے ۔تنقیدی پیغامات کا تانتا بندھ گیا ہے ۔جیسے یہ کیا ہے جی ؟ یہ کیوں ہے جی ؟ مریں ہمارے دشمن ہم کیوں مریں ۔تم مرو ۔۔۔وجھہ صرف یہ تھی کہ میری پچھلی تحریر کا عنوان تھا * کمال کی پانچ کتابیں جو مرنے سے پہلے پڑ ھیں * تو شاید انھیں مرنے سے ڈر لگتا ہے یا شاید جہنم کا خوف ہے تو بہرحال اب اس نئی لسٹ کا عنوان ہے "وہ پانچ کتابیں جو آپ جنت جانے سے پہلے پڑھ لیں " اب خوش ہو رذیل ٹرولرز ؟ ہاں ہاں خوش ہی ہوں گے ۔تو پہلی کتاب ہے علی پور کا ایلی اور جھونگے میں "لبیک " بھی شامل ہے ۔ممتاز مفتی جیسا کوئی نہیں لکھ سکتا ۔ شہزاد کا کردار ایک رنگین دلنشیں ادبی معرکہ ہے ۔ مرزا رسوا کی امراؤ جان ادا اور ڈپٹی نظیر احمد کی اکبری اصغری سے کسی طور کم نہیں۔ منشی پریم چند کے افسانوں  اور خاص طور پر ان کے شہرہ آفاق ناول *شطرنج * میں جو ٹکسالی قسم کا انداز بیان ہے اسی میں تھوڑا سا منٹو اور کرشن چندر کا مکسچر ہو تو نتیجہ علی پور کا ایلی اور ٹین کا آدمی

10
١۔  جنگ اور امن ( ٹالسٹائی ) اس کتاب کا سحر آج بھی مجھ پر روز اول یعنی دس سال سے طاری ہے 🔆۔پرنس نکولائی پسندیدہ کردار  اور نفسیاتی پرت جو ٹالسٹائی نے لا تعداد کردار لکھ کر بنا دی ہے وہ بھی کمال ہے ۔ میں روسی نہیں جانتا تو انگریزی اور اردو ادب کا ورزن پڑھا ۔ ہر صفحے پر ایک نیا کردار ملتا ہے ۔امن کی حالت میں جنگ کا خوف ایک اچھوتی تخلیقی کاوش ہے ۔2- (کاونٹ آف مانٹی کرسٹو ) جو ڈوما نے لکھا ہے ۔ہسپانوی ادب میں ایک ڈان کے خھوتے ( اسے کھوتے نا پڑھا جائیے ) اپنے مریل گدھے پر مہم جوئی کو نکلتا ہے تو دوسری طرف ڈوما اور تھری مسکیٹرز اور کاونٹ ہے ۔ اس ناول میں ایک شریف بھولے سے بندے کو دھوکہ دہی سے ایک جرم میں پھنسا دیا جاتا ہے ۔ نپولین بذات خود اس سازش میں شامل ہے ۔قید خانہ ایک جزیرے پر ہے جسے chaitu'if کہا جاتا ہے ۔وہاں اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں ۔آخر وہاں اسے ایک استاد ملتا ہے ۔جو اسے خزانے کا پتا دیتا ہے (نقشہ )اور یہ بھولا بندہ وہاں سے بھاگ کر خزانہ تلاش کر کے ایک فیک پہچان یعنی کاؤنٹ بن کر واپس آتا ہے اور اپنا انتقام اپنی محبوبہ اور بہترین دوست اور ایک جج سے لیتا ہے ۔ اعلیٰ ناول اور شاندار تحر

0
12
دعا زہرہ کیس میں حقیقت کیا ہے ؟اس وقت ( جب یہ تحریر لکھی جارہی ہے ) ٹاپ ٹرینڈز میں پٹرول ، ڈالر ، امپورٹڈ حکومت اور دعا زہرا کیس شامل ہیں ۔ٹائم لائن ایسے ہے 1- سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ اس کو اغوا کیا ہے گینگ ہے پورا اور نکاح جعلی ہے اسے نشہ آور انجیکشن لگے ہیں تو اسے بلیک میل کیا جا رہا ہے 2- پھر مس دعا بازیاب ہو جاتی ہے عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان رکارڈ کرواتی ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور بھاگ کر کی ہے اور وہ اغوا نہیں ہوئی ۔جج کے پاس شریعت اور قانون کے تحت یہی آپشن تھا کہ دعا زہرا کے حق میں فیصلہ دے تو اس نے یہی کیا ۔3- اب تصویر کا دوسرا رخ اس کے وا لدین ہیں جو کہ رہے ہیں کہ دعا کی عمر کم ہے یا وہ تو گھر جانا چاہتی ہے ۔اور جب دعا اور اس کے مبینہ طور پر شوہر زھیر کی پارٹی ویڈیوز آتی ہیں تو اس کے پیرنٹس اس کو بھی گینگ کی نظر کر دیتے ہیں ۔ وہ مختلف جگہوں per احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں خدا معلوم کس چیز پر۔  پوری عوام اپنا قیمتی وقت ٹرولنگ میں برباد کر رہی ہے اور کچھ لوگ دعا کے حق میں ہیں اور کچھ ان کے والد کے حق میں بول رہے ہیں۔میں اس صورتحال کو صرف ایک جملے سے کور کرتا ہوں " جب میں م

0
10
سنو مجھے کچھ خاص کہنا ہے
ایک سوال پوچھنا ہے
آخر تم ہر وقت میرے سامنے کیوں آ جاتی ہو
دل میں دماغ میں ہر پل پر کیوں چھا جاتی ہو
میں کوئی کام بھی کروں ذہن بھٹک جاتا ہے
کام چھوڑ تیرے حسین ہاتھ میں کھٹک جاتا ہے

0
8
جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ایک حسین صبح ملاقات

0
20
دو گھڑ ی ہی سہی میرا ساتھ تو دو
شکار عشق ہوں میں ذرا ہاتھ تو دو
سیاروں کی چالیں ستاروں کی راہیں
سب بتاتا ہوں جی، ذرا ہاتھ تو دو
ننھے منھے کومل نازک کہ دل آ گیا
بس چومنا چاہتا ہوں ذرا ہاتھ تو دو

0
14
میں ان ٹھنڈے سبز زاروں کو ان دمکتے گلزاروں کو
ان بچتے راہ گزاروں کو ان اچھلتے آبشاروں کو
جسم محبوب کے ہاتھوں پیروں رخساروں کو
اپنی دیرینہ جانوں کو جان سے پیارے یاروں کو
کچھ میر جون غالب اور قصہ محلہ بلی ماروں کو
چند حسین مرغزاروں کو ، کتبوں کو بلند میناروں کو

0
17
لاہور لاہور ہے ...قسط نمبر دو  تبصرہ آن لاہور آوارگی ۔مستنصر حسین تارڑچشم براہ ہوں معذرت خواہ کہ جب تارڑ اپنے حواریوں (جن کا تعارف بعد میں ) کے ہمراہ قدیم لاہور کی گلیوں ، کوچوں میں عہد رفتہ کو یاد کرنے اور یاد ماضی کو تازہ کرتے گزرتے ہیں - تو قاری ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے -وہ  نیم پخت سوٹا لگاتے ہیں اور کش کا مزہ مجھے آتا ہے - پھجے کے پاۓ  وہ نوش جان کرتے ہیں اور لذت تراہٹ کے رسیلے چشمے  یہاں میری زبان پر پھوٹتے ہیں - لسی کو ایک ڈیک میں وہ ختم کرتے ہیں اور  سفید جھاگ سی بانچھیں میں یہاں محسوس کرتا ہوں - حلوہ پوڑی ادھر کھائی جاتی ہے اور خمار پوڑی یہاں چڑھتا ہے - یعنی  لازم و ملزوم ہیں قاری و تارڑ اور یہی انداز بیان تارڑ کا سب سے  شاندار  ادبی امتزاجی حسن ہے -لاہور کے قدیمی کوہے ہوں، تارڑ سا ادبی جادوگر بیان کر رہا ہو، تو حشر ہے ، سامان غدر ہے - ان کوچوں، محلوں اور گلیوں میں کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کی طرح حویلی نونہال سنگھ کی شان و شوکت کا تذکرہ کرتے ہیں - ابھی کھڑک سنگھ کی حویلی بھی منتظر نگاہ ہے - اگرچہ سکھوں کے دور کی حویلیاں آج بھی لائق تماشا خاص ہیں مگر

0
15
آنکھ میں چھپی مے آب چھلک جا
اس دل کو ہلکا کر، آج تو بہک جا
تیرا یار پاس نہیں، ملن کی آس نہیں
چمن میں سوگ ہے غم کی کلی چٹک جا
نظریں جما کر راہ یار میں صدیاں بیٹھے
وہ آیا نہیں، رستہ بھول گیا، تو بھٹک جا

0
18
پچھلی لسٹ کے بعد کچھ میسجز ملے کہ فلاں کا نام نہیں تو اس کا نام نہیں ۔ تو بھائی یہ میری لسٹ ہے کوئی حرف آخر نہیں ہے آپ کو جو پسند ہے اس کو نمبر ون رکھیں اور اپنی لسٹ جاری کریں کوئی محنت بھی کریں troll پر ہی زندگی ختم نہیں ہوتی۔ تو لسٹ نمبر ٢ یہ ہے ١- نمرہ احمد : قراقرم کا تاج محل پہلا مقبول ناول ۔پھر مصحف ، جنت کے پتے ہٹ ہوۓ ۔ پھر نمل اور حا لم میرے نزدیک ایورج تھے ۔جو قلم کی کاٹ مصحف اور جنت کے پتے میں تھی وہ باقی بعد والے ناولز میں نظر نہیں آتی ۔چارلس ڈکنز کی طرح نمرہ کی خاصیت ان کے non - flat characters  ہیں یعنی کچھ بھی کبھی بھی ہو سکتا ہے ۔ سسپنس اور ہلکی سی نوک جھوک والی رومانوی چھینٹ بھی ان کا خاصہ ہے ۔مجھے ان میں اور شارلٹ برانتے (jane eyre ) میں کافی مماثلت محسوس ہوتی ہے ۔ مذہبی حوالے سے بھی نسیم حجازی اور عمیرہ کے بعد یہ نمرہ ہی ہیں جنہوں نے audiance کو کیپچر کیا ہے اس میں یہ چیز قابل ذکر ہے کہ میں مذہب اور رومانس فیکشن کے اختلاط کو صحیح نہیں سمجھتا اور آج بھی اس موقف پر قائم ہوں اور اس کا سخت ناقد بھی رہاہوں کیوں کہ جو انداز نسیم حجازی کا تھا ویسا انداز بیان اور caliber بہت

0
9
کیا تم نے دیکھا؟ کیا تم نے سمجھا؟
کہ تمھارے چاہنے والوں نے تم سے کیا سلوک کیا؟
کیا تم نے دیکھا؟ ان گمنام لوگوں کو تم نے پہچان دی
ان کو کوئی نا جانتا تھا۔ تمہارے کندھے کے سہارے یہ نامور بنے -
آج یہ تمہارا ذکر تک نہیں کرتے ۔ تمہاری بات تک نہیں کرتے ۔ تمہارا احسان نہیں مانتے۔ کیا تم نے دیکھا ؟
کیسے اب یہ تمھارے مقابلے میں ہیں ۔

0
8
میرا دل کھنچا سا ہے دھڑکنیں بیتاب سی
من مائل ہو نہیں رہا ، افسردہ ہوں اداس بھی
آخر ایسا کیوں ہے ۔مجہے چین کیوں نہیں ۔میں دنیا سے بیزار کیوں ہوں آج ؟ آخر ایسا کیا صدمہ لگا آج ؟
ایسے تڑپ رہا ہوں اس کی یاد میں
جیسے مینڈک بارش کو یاد کر کے تڑپے
ہاں ، میں نہیں رہ سکتا اس کے بنا

0
9
یہ فیس بک ٹرولرز کون ہوتے ہیں ؟ بڑے حرامی ہوتے ہیں ۔ ان کا کیا کام ہوتا ہے ؟ کتا کام ہوتا ہے ۔ یہ لوگ ہر پیج کی ہر پوسٹ پر منفی یا گھٹیا یا سرے سے ہٹ کر کمنٹس کرتے ہیں ۔ ان کو میں جراثیم سے بھی کم سمجھتا ہوں ۔ان کا جراثیم کش علاج ہے ۔ Ban and Delete  ہی ان کا اصل علاج ہے ۔ میں نے اب تک اپنے پیجز اور گروپس سے کوئی لاکھوں ٹرولرز کو ایسے کھڈیہڑ کر رکھا ہے کہ چس آ چکی ہے ۔ منفی لوگوں سے یا جاہل سے کبھی بحث نا کریں ۔ فیس بک پر ان کمینوں کو تو سیدھا بلاک یا بین کریں اور اصل زندگی میں اس محفل سے اٹھ جائیں یا ان کو دور سے ہی سلام کریں ۔ شکریہ 

0
14
میری دانست میں فی زمانہ یہ پاکستان کے پانچ سب سے بہترین لکھاری ہیں۔١۔  مستنصر حسین تارڑ المعروف چا چا جی پورا پاکستان بشمول مجھ نا چیز کے ان پر فدا ہے ۔ ان کی بزلہ سنج شخصیت ، اچھوتے سفر نامے اور شاندار گفتگو کا کون مداح نہیں۔ان کا رومانوی ناول " پیار کا پہلا شہر " ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔پچھلے پچاس سال سے یہ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بیسٹ سیلر ادیب ہیں ۔میں نے ٢٠٠٩ میں ان پر فیس بک پر پہلا پیج بنایا جس پر آج 85 ہزار لایکس ہیں ۔یوں تو تارڑ کے سب سفرنامے ہی کمال ہیں مگر k-2 کہانی ، نکلے تیری تلاش میں ، امریکہ کے سو رنگ ، سندھ بہتا رہا ، خس و خاشاک زمانے میرے پسندیدہ ہیں۔ پچھلے سال ماڈل ٹاون پارک لاہور میں ان سے ملاقات کی سعادت ملی۔ ساتھ سیلفی بھی لی۔ یہ جتنے اچھے ادیب ہیں اس سے بڑھ کر ایک با اخلاق اور بہترین انسان ہیں۔اللّه ان کو صحت و تندرستی عطاء کرے ۔ تو چا چا جی نمبر ون رائٹر ہیں ۔٢- بابا یحییٰ خان : آج کل " ساری گڈ ی لال ہے " بہت وائرل ہو رہا ہے تو بابا جی کے لئے ساری گڈی کال ہے یعنی کالی ہے ۔ کالا رنگ ان کا پسندیدہ رنگ ہے، کتابوں کا رنگ بھی کالا ہے اور کوے پسندیدہ پرندے

0
22
Bigo live ایک آن لائن گپ شپ کی بیحد مقبول  سوشل ایپ ہے۔ جہاں لڑکیاں لڑکے بچے اور بزرگ  بن ٹھن کر فل میک اپ میں ویڈیو آن کر کے بیٹھتے ہیں اور صارفین یعنی غریب عوام اسی ونڈ و میں بات یا text کر سکتی ہے ۔ ہر طرف " بلے جانی " بلے راجہ " ویلکم ہو گیا اور ڈریگن مارو یا چلو pk لگائیں جیسی آوازیں آتی رہتی  ہیں ۔ punishment pk میں دو لوگ براڈ پر pk لگاتے ہیں مقابلہ ہوتا ہے اور دونوں طرف کے حمایتی اپنی اپنی براڈ کاسٹر (سجی سجائی لڑکیوں ) کو sending یعنی گفٹس اور پوائنٹس دے کر جتواتے ہیں ۔ جو جیت جاتا یا جاتی ہے وہ دوسرے کو سزا دیتا ہے اور اگلی کو وہ سزا live ہی کرنی پڑتی ہے۔ یہ انتہائی واہیات اور فحش قسم کے کام کرواتے ہیں جیسے اپنی شرٹ میں ٹھنڈا پانی ڈالو اور یہ کہو ۔۔۔۔۔گھسیٹی مارو ۔۔۔دیوار سے خود کو رگڑو ۔۔۔یا فحش پوز میں push up مطلب بیٹھکیں لگاؤ ۔ منہ کو اس رنگ سے رنگ لو ۔ سيكسی آوازیں نکالو وغیرہ وغیرہ تو نیچے پاکستانی عوام جو جیتنے والی یا والے کو سپورٹ کرتے ہیں وہ سچی مچی کے پیسے لگا کر یہ گفٹس دیتے ہیں جیسے ایک dragon قریب 32000 روپوں کا آتا ہے ۔تو ایک بڑے مقابلے میں ١٠٠ ڈریگن تک مار دئیے جا

0
11
آج کل کچھ اس طرح کے لوگ ہیں کہ شیخی بازی اور show off کے چیمپین سمجھ لو۔ جو سہولت یا دولت یا چیز انھیں ملتی ہے شعبدہ  بازی بلکہ شودہ بازی شروع ہو جاتے ہیں۔ اقسام کچھ یوں ہیں نو دو لتیے : تازہ تازہ امیر ہوۓ یہ حضرات ہر بات پر اپنے بینک بلینس کا ذکر ضرور کرتے ہیں سننے والا تنگ آ جاتا ہے ۔میں نے کل ٤ کروڑ کا پلاٹ لیا آج بیچ دیا کل پھر لوں گا تم کراے کے گھر رهتے ہو تم کیا سمجھو !نو دو کار : ہر بات میں اپنی کار کا ذکر ۔ یار یہ اس کی اسپیڈ تو چیک کر ۔ کیا رنگ و روغن ہے ۔کیا ماڈل ہے ۔ وغیرہ وغیرہ نو دو آفس لوگ : قسمت نے یاوری کی اور آفس مل گیا تو دماغ آپے سے باہر ۔ یعنی ان سے پہلے کبھی کوئی آفس کسی کو نہیں ملا تھا ۔ ٹرمپ کا بیحد سادہ آفس دیکھ لو یا بل گیٹس جو آفس میں صوفے پر سو جاتا تھا حقیقی کامیاب لوگ چھچھورے  اور شوخے نہیں ہوتے ۔نو دو سیاح : یہ سب سے مزیدار قسم کے شوخے ہوتے ہیں ۔اگر کسی طرح باہر کسی ملک جیسے امریکہ یا کینیڈا ایویں وزیتر ویزا پر گرتے پڑتے پہنچ گیئے تو لگے شیخیا ں مارنے ۔ یہ نیاگرا فالز ہے آپ دیکھ رہے ہو نا کہ یہ ایک آبشار ہے جو کہ نیاگرا فالز کہلاتی ہے ۔ جیسے ان سے پہ

0
15
شیکسپیئر نے کہا تھا 'Lend me your ears ' یعنی  دھیان لگا کر میری بات سنو اور پھر کہا " There is something rotten in the state of Denmark"  کچھ تو گڑ بڑ ہے ڈنمارک کی ریاست میں ۔کوئی گھمبیر اور پیچیدہ قسم کی خرابی ہے ریاست میں- پاکستان میں یہی نو عیت کا ڈرامہ چل رہا ہے ۔آج پٹرول ٢١٠ روپے فی لیٹر تک جا پہنچا۔بجلی صاحبہ تو  عید کا چاند ہو چکی ہیں۔ نظر ہی نہیں آتیں۔ میں نے ایک فلم دیکھنے کے دوران امپوریم میں یہ خوش خبری سنی تو سر پکڑ لیا۔ پٹرول بابا اور بجلی باجی کی پھرتیاں غریب عوام پر بجلیاں بن کر ٹوٹ چکی ہیں۔ میں نے ردعمل کے طور پر اپنی ہیوی بائیک سوزوکی ١٥٠ پر گھر سے نکلنے کی پابندی لگائی اور مفت داد عیش دیتی cd 70 کو اپنی سواری بنا لیا ہے ۔اسی رفتار سے اگر پیٹرول بڑھتا رہا تو سائیکل چلانا ہی پڑے گی ۔IMF کی سخت شرط کے تحت پیٹرول اور بجلی مہنگی تو کر دی ہے مگر حکومت ٢٣ % gdp جو حکومتی خرچہ ہے اسے بھی کم کر کے پٹرول اضافہ کے غیر مقبول اقدام سے بچ سکتی تھی۔ کاش غریب عوام (جس میں ہم بھی شامل ہیں ) کا کچھ تو خیال اور مداوا کیا جاۓ  اب ہر طرف مہنگائی کا نیا دور ہو گا تو اس کو سنجیدگی سے حل ک

0
15
کل قسمت شومئی تھی زحمت کے لمبے سائے تھے یونہی اورنج لائن جو میاں حکومت کا ایک خوبصورت تحفہ ہے تو اس پر سیر کا دل چاہا۔تو علی ٹاون اسٹیشن سے سفر کا ٹھنڈا آغاز کیا chiller اے سی نے بلکل چل کر دیا uet اترا اور شالا مار باغ کی طرف رخ کیا ۔ وہاں بیرونی دیوار کے ساتھ ایل ہاکر ڈائجسٹ فروخت کر رہا تھا میں نے جلتا سیگریٹ بھجایا اور اسے وقت گزاری کی خاطر خرید لیا ۔ مگر صاحب جونہی اسے کھولا مجھے 440 وولٹ کا جھٹکا سا لگا آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیئیں پورس کا ہاتھی بھی ایسے بگٹٹ نا بھاگا ہو گا جیسے میرا بھاگنے کا من ہوا ۔۔۔حلق خشک ہو چکا تھا کیوں کہ سامنے وہ تھی ۔۔۔جی ہاں وہی ۔۔۔یعنی میری پسندیدہ مصنفہ عمرہ احمد ۔۔۔۔پیر کامل سے مات کیا کیا اچھے ناول انھوں نے لکھے تو اس سمے من باغ باغ ہو کر شالا مار باغ ہو گیا۔ چند صفحات پڑھے پھر سوچا عمیرہ احمد کی کہانی آرام سے پڑھنی چاہیے تو اس دوران میں  ٹکٹ لیکر باغ میں شاہ جہاں کے اس خوبصورت گارڈن میں پرویش کر چکا تھا ایک رومانوی درخت کے نیچے ریڈ بل اور گولڈ لیف کے کش لگاتا چھاؤں میں سکون سے اگلے صفحے پلٹا ہی رہا تھا کہ دوسرا حادثہ ہو گیا اب وہ بھی سامنے تھی جی ہاں میری دوسری

0
18
تازہ بتازہ ملکی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھا یعنی قریب چار سال ، تو جب چاہتا اسمبلی توڑ کر انتخابات کرا سکتا تھا پورے آئین کی کوئی شق اسے نا روکتی تھی بس ایک شق تھی کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد پیش ہو تب یہ حق استمعال نہیں ہو سکتا تو خان صاحب نے چار سال حکومت فرمائی اور جب یہ حق نا رہا یعنی تحریک پیش ہوئی تب انہوں نے اسمبلی توڑ دی اور انتخابات کا اعلان کروایا حد ہے معصومیت کی ۔۔۔پھر سپریم کورٹ نے آئین کی اسی شق پر اسمبلی بحال کر دی نیا وزیر اعظم آیا اور اب خان صاحب سڑکوں پر تشریف لے آئے اور احتجاج اور لانگ مارچ پر اتر آئے۔کہ جی پلیز الیکشن یعنی انتخابات کی تاریخ دے دو ۔۔کتنی مزاحیہ صورتحال ہے ۔اور حکومت ایک سال کی بچی ہے یعنی پورے ایک سال بعد انتخابات ہو جانے ہیں مگر نہیں جی ہمیں تو ابھی تاریخ دو کہ ایک سال بعد انتخاب ہوں گے نہیں تو یہ کر دوں گا ملک غلام ہو گا خون کی ندیاں خونی انقلاب خونی نیازی ۔۔۔۔اب پھر سپریم کورٹ کے کندھے پر بندوق چلانے نکلے ہیں کہ ہمیں تحفظ دیں کہ لانگ مارچ کو کچھ نہیں کہا جائے گا تاکہ ہم جو مرضی کریں، جتنے درخت جلائیں جتنا مرضی موج مستی کریں اور لانگ مارچ نمبر ایک

0
15
آج کل ایک نیا دھوکا دینے کا طریقہ سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ چند چرب زبان نوسرباز قسم کے لوگ آپ کو آن لائن سکلز سکھانے کا کہ کر رجسٹریشن  فیس لیتے ہیں اور انسٹا یا فیس بک یا زوم پر یہ نوسر باز وہ کورسز آن لائن کروانے کا کہتے ہیں جو کہ نا صرف پیسے کا ضیاع ہے بلکہ ان کو اس کورس کی الف بے بھی پتا نہیں ہوتی کسی مستند ادارے کی ڈگری بھی نہیں ہوتی کوئی ٹریک رکارڈ اپنی کامیابی کا بھی نہیں ہوتا بس چرب زبانی ، ظاہری شو شا اور بے تکے قسم کے جھوٹے خواب کہ آپ گھر بیٹھے خود مختار بن جائیں اتنے پیسے کمائیں اپنا کیرئیر بنا لیں ۔سب بکواس ! اس میں لڑکیاں سب سے آگے ہیں خود ابھی تعلیم مکمل کر رہی ہیں اور یہاں بھانت بھانت کے کورسز کا بتا کر خوب کما رہی ہیں ہر کوئی الن مسک بن چکی ہے کتنی تو گھر بیٹھے بل گیٹس بن چکی ہیں ۔ان سوشل میڈیا کی چڑیلوں سے بچیں ۔ اگر کوئی بھی کورس کرنا ہی ہے تو اس کا keyword گوگل پر سرچ کریں پھر ٹاپ کے رزلٹس میں سے اپنی مرضی کی ویب سائٹ یا ٹرینر منتخب کریں وہاں پر گوگل ان کی credibility rating بھی بتا دیتا ہے اس طرح آپ ان نیم حکیموں سے بھی بچ جاؤ گے اور پیسا اور گمراہ کن قسم کی ٹریننگ سے بھی بچ جائیں گے۔ یہ طریقہ سب پر لاگو ہوتا ہے مگر مذہبی کورسس کو نکال کر ۔یعنی اگر کوئی قرآن یا حدیث یا دینی باتیں سکھا رہا یا رہی ہے تو اس کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا ، بہتر تو یہی ہے کہ اپنے فرقہ کےکسی مستند عالم یا جید کتاب سے راہ نمائی لیں مگر دین کی بات تو صدقہ جاریہ ہے کہیں سے بھی (مفت ) ملے تو لے لیں کیوں اجر تبلیغ کسی بھی مبلغ یا صوفی یا دین دار نے پوری مسلم تاریخ میں نہیں لیا دین کی بات بتانے کا  کوئی پیسا نہیں لیا کیوں اجر تبلیغ فی سبیل اللّه ہوتا ہے اگرچہ قاری یا قاریہ  اس سے مستثنیٰ ہے کیوں کہ ان کی یہ روزی ہے ۔اور ہاں یہ پھلجھڑیوں فل فلوٹوں سوشل میڈیا کی چڑیلوں سے بچیں 

14
اے میری گزر چکی زندگی سن ،اب دن حساب کے آئے ہیں
تیرے دامن میں تلخ راز ہیں، پے در پے غموں کے سائےہیں
کبھی طنزو تشنیع کے سامنےرہے ، کبھی گردش ایام میں جا گرے
کبھی غیروں نے چھلنی کر دیا ، کبھی اپنوں کے تیر کھائے ہیں
جو اگر سکون ملا تو وہ لے لیا ، کچھ رند و مستی میں بھی کھیل لیا
مگر کیسے کیسے کوہ گراں ملے ، جو گونہ بیخودی میں چلائے ہیں

0
13
کسی پرستان میں ایک حسین دن
بہتے پانیوں تلے ، نورستہ سبزہ زاروں میں
فلک شگاف بلند شجر ہیں جن کے پتے محو رقص ہیں
ایک کانوں کو بھلی تان پر جھومتے ہیں
دودھیا شفاف سفیدی ہے چاندی کے جام میں
وہ سنہری سیال چھلکتا ہے جب جام مخمور ہوتا ہے

0
18
دیکھی ہے میں نے اک آڑی ترچھی مورت
اس اپسرا کی ہر ادا میں مقید ان چھوئی لذت
کیسے قابو میں رہیں ہم، کیسے خود میں رہیں ہم
ان گنت ترنگیں ہیں امنگیں ہیں اور کچھ شہوت
دل اب چھوٹ گیا ہے حواس باختہ ہو کر ہم
کیسے رکیں ؟ ان لبوں پر مچل اٹھی پھر تراوت

0
15
دیکھی ہے میں نے اک آڑی ترچھی مورت اس اپسرا کی ہر ادا میں مقید ان چھوئی  لذت کیسے قابو میں رہیں ہم، کیسے خود  میں رہیں ہم ان گنت ترنگیں ہیں امگنیں ہیں اور کچھ شہوت دل اب چھوٹ گیا ہے حواس باختہ ہو کر ہم کیسے رکیں ؟ ان لبوں پر مچل اٹھی پھر تراوت بے ساختہ ہی سہی چوم نا  لے کہیں اے وجود یہ دعوت نظارہ ہاتھ، یہ سرمگیں پاؤں پھر یکلخت جان جو تھی باقی کہاں رہی؟ اس ٹخنہ کے تل پہ یہ حشر سامان ابھی ہے آگے مزہ بہ درجہ غایت کاشف یہ حسن جاناں سم قاتل سے نہیں  کم ہرگز بن گیا اک اک لمحہ قیامت ، گھل گئی ہر جگہ حلاوت 

0
7
 معین اختر : سوری میں غصے میں اِدھر اُدھر نکل جاتا ہوں کاشف :  سوری میں عشق میں اِدھر اُدھر نکل جاتا ہوں 

0
24
جب بے خودی چھا گئی ہو عالم فقیری میں
تو خاک مزہ رہ گیا یارو امیری میں
میری داستان حیات دو پلوں کا ہی قصہ تھی
اک محبت میں کٹا، دوجا تیری اسیری میں
گزرتے وقت سے گر ہو جاتے جذبے ناپید
یہ کیسی نئی آگ بھڑک اٹھی ضعف پیری میں

0
12
آج عید کے مبارک روز
پھول کھل اٹھے نو روز
میرے تہی دامن میں محفوظ ہیں چند جذبات
ہیں با برکت تمناؤں میں لکھے خاص لمحات
جیو سکھ سکھ نا لگے کبھی دکھ
شاد آباد رہو ہر لمحہ و ہر رخ

0
25
سرکار ایک نہایت بری خبر ہے ۔۔ابھی ابھی سماجی طائر یعنی انسٹا چول گرام نے بتایا ہے کہ  یہ رشتہ نہیں ہو سکتا ۔ تیرے منہ سر پیر ہر جگہ خاک اور مرچیں ، مگر ہوا کیا اور کیوں ؟ٹیکنیکل فالٹ آ گیا ہے ۔۔۔ابے کیا مطلب ، کیسا فالٹ ؟یار بھولے سرکار جی وہ لڑکی نے صرف اپنے ہاتھ کی تصویر بھیجی ہے اور کہا ہے کہ اسی کو دیکھ کر اندازہ لگا کر فیصلہ کر لیں ۔ہیں ؟ یہ کیا بات ہوئی ؟ مذاق تو نہیں کر رہے ؟پی تو  نہیں لی وسکی رم وغیرہ ؟ توبہ توبہ ایک پیگ بھی اگر لگایا ہو تو آپ کنوارے مریں اور آپ کی قبر میں یہ لمبے لمبے کیڑے پڑیں لعنت تیری سوچ پر ۔۔۔مریں مرے سارے دشمن بَثہمول۔ تم بھی سوری سر مگر آپ کو تو پتا ہے  ایسی باتوں میں کون مذاق کرتا ہے ۔اش ۔۔۔اش ۔۔۔عشق  ۔۔۔کتنی تنگ نظری ہے کتنا عجیب پاگل پن ہے ۔۔اب سرکنڈوں میں دے ہی دیا ہے سر تو موصلی یا مصلی یا کسی  بلی کا کیاڈر ،یہ بتاؤ  ہاں پھر کیا جواب دوں محترمہ کو ۔۔۔یہ تو مشکل ہے بات ، کریں کیا ہم ، ایسا کرو میری انگلی کی تصویر بھیج دو اسے ۔۔۔سمجھ گیے نا کونسی انگلی کی تصویر بھیجو گے وہی درمیانی تیر کمانی والی چشم آسمانی ظل سبح

0
18
یہ بہکی بہکی باتیں یہ الٹے پلٹے ارادے
یہ بچگانہ سوچیں یہ احمقوں والے وعدے
لگتا ہے جیسے آوارہ سی بادل ہو گئی ہے
اللّه اللّه سچ ہے وہ تو بلکل پاگل ہو گئی ہے
کاشف بھاگ چلو اس سے پہلے کہ خبر ہو
حملہ ہو ایسا کہ الوہاب پہ بنی تیری قبر ہو

0
20
اچھا آج کچھ خاص رات ہے
اچھا چلو رب سے سب مانگیں
میں بھی اسی سے بھیک مانگتا ہوں
اچھی صحت کی اور جائز رزق کی
پیاروں اور اپنوں کی فلاح کی
اوررحم کا کاسہ و دعا کا کشکول رکھتا ہوں

0
33
آگ کی تپش بھی، برف کی ٹھنڈک بھی
اک طرف عشق بھی ،تو رسوائی کا ڈر بھی
جاؤ بچوں سے کھیلو، تیرے بس کی بات نہیں
اک طرف دل دیا، نہیں کہنے کاحوصلہ بھی؟
صد افسوس اے بھگوڑے میدان عشق کے
تیرا نصیب کہاں کہ مزہ محبت و بھرم بھی

0
17
اے راہ حق کے مجاہد آج تیری تربت پر کوئی تو ہے جو نوحہ خواں ہے ذکر وفا ہے آج یہاں حسن گفتگو کے پھول نچھاور ہیں تیرا مرقد کتنا معطر ہے اور چار سو پھیلی خوشبو ہے اے وکیل حق زہرہ اے وکیل ولایت علیتیری مجلس بپا ہیں فردوس میں ابھی بھی اور سنتے ہیں سب جنتی سب مومنین بلند سدا ہے پرچم ذکر اہل البیت الین  سپاس گزار کاشف ، قبول سلام ہو اے شہید ملت، ترا   ذکر دوام ہو تحریر : کاشف علی عبّاس 

0
16
اب الفاظ کہاں ہیں کیا کہیں ہم
تمہی دل تمہی جان اور کیا کہیں ہم
تمھیں سوچ کر ہی تو مسکراتے ہیں ہم
تمھیں دیکھ کر چھپ کر کھل جاتے ہیں ہم
ہاں تم سے بیحد محبت مگر ہے، رہے گی
دنیا جدھر مڑ جاۓ، تم پر نظر ہے، رہے گی

0
12
افطاری کا وقت قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا ...میرا دل بلیوں اچھل رہا تھا اور میں ملکوتی سی، آفاقی سی مسرت محسوس کر رہا تھا - اس مسجد کی افطاری کی بہت تعریف سنی تھی کہ یہاں کھجور میں اجوا، کیئ قسم کے پکوڑے، سموسے ، فروٹ و چنا چاٹ ، دودھ روح افزا تو صرف شروعات تھے ...راوی کہتا ہے (یہاں راوی سے مراد میرا دوست کمال ہے جس کویہاں افطاری کا شرف حاصل ہو چکا تھا اور کل ہی افطاری نوش جان کر چکا تھا اور اسی کی حوصلہ افزائی پر میں یہاں مفت افطاری کو موجود تھا...یہ لا ہور کے پوش علاقے ڈیفنس کی جامع مسجد تھی -)چکن، مٹن اور بعد میں فیرنی بھی مینو میں شامل تھیں ...اب آپ حساب لگا لیں کہ اتنا زیادہ مینو توعام سےعام اور سستے سے سستے ہوٹل میں بھی ٩٠٠ روپے تک تو کم از کم چلا ہی جاتا ہے-(عوامی  کے ریٹس کے مطابق) مہنگائی کو تو پر ہی لگ گیے ہیں - نئی حکومت کے آتے ہی موبائل ٹیکس کا تحفہ تو آپ سب کو مبارک ہو ہی چکا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ تواتنا سب کچھ مفت میں ملنے کا سوچ کر ہی میری تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی ویسے داتا صاحب سے مفت دیگوں سے ہر لاہوری کی طرح میں بھی فیضیاب بلکے پیٹ یاب ہو چکا تھا مگر افطاری وہ بھی ایسی مفت او

0
18
چلو فیصلہ کرتے ہیں ہاں جی کیا پرابلم ہے آپ کو ؟ تم مجہے حلف دو کس بات کا حلف ؟ایسے ہی حلف دو نہیں دیتا، جو کرنا ہے کر لو ۔۔۔اچھا پھر دیکھو کیا کرتی ہوں ارے ڈراؤ نہیں یار ، بتاؤ حلف کس بات کا ؟پوسٹ ڈیلیٹ کرو پیج سے ہیں ؟:ہیں ؟ یہ پوسٹ کہاں سے آ گئی؟جہاں سےبھی آئی ہو مری سے آ رہی ہو یا مکہ سے ۔تم پوسٹ ہٹاؤ نہیں ہٹاتا پوسٹ ۔۔جاؤ جو کرنا ہے کر لوآہم، دیکھو پھر میں کیا کرتی ہو اف مذاق کر رہا تھا چلو ہٹا دیتے ہیں جان تمیز سے بات کرو جان وان میں کسی کی نہیں اچھا ایک بات تو بتاؤ یہ تم چھوٹتے ہی مجہے بلاک کیوں کر دیتی ہو میری مرضی ۔۔۔عجیب ڈھوکسلا ہے چلو صلح کر لو صلح کرتی ہے میری جوتی واہ جی وہ نخرے تو دیکھو جناب کے ۔۔۔رسی جل گئی پر بل نہ گیا جائے گا بھی نہیں ، چنگیزی خون ہے میری رگوں میں اچھا میں چلی ارے کہاں چلی ابھی نا جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں۔(خاموشی )تحریر کاشف علی عبّاس  

0
10
حضرت عمر نے فرات کنارے مرتے بھوکے کتے تک کی ذمہ داری کو ریاست و حکومت پر ڈالا تھا ۔ تو اگر پاکستان کے مجبور  عوام بھوکے مر رہے ہوں، تو اس کی سیدھی سیدھی ذمہ داری سابقہ حکومت پر جاتی ہے، جب ملک ناکام ہو چکا ہو  تو خود اری، غیرت اور حریت پسندی کی بین ہر گز نہیں بجانی چاہیے ۔ٹیپو سلطان کی مثال تو دیتے ہو یہ بھی بتاؤ کہ اس کے دور میں عوام کتنی خوشحال تھی، امام حسین کا نام تو لیتے ہو مگر کیا ان کے کردار کا پانچ فیصد بھی اتنے سالوں میں نظر آیا ؟بلا شبہ یہ پاکستان کی ناکام ترین حکومت تھی، جس کے دور میں ہوشربا مہنگائی ، ناکام معشیت ، بیروزگاری اور عوامی زبوں حالی عروج پر رہی۔ خارجہ پالسی میں یک مشت روس کی جانب جھکاؤ احمقانہ فیصلہ تھا- خاص کر جب روس نے جارحیت پسندی کا ثبوت دیا ۔ گداگری اور عالمی کشکول نے ملکی سیاست و سالمیت کے وقار کی دھجیاں اڑا دیں - سونے پر سہاگہ یہ حکومت اپنے ہی وعدے پورے نا کر سکی، نا گھر بنے نا مفت کی نوکریاں ، بلکہ ملک میں کسی طرح کی ترقی نہیں ہوئی (جس پر عوام کا دم گھٹ گیا ) میں سمجھتا ہوں کہ میاں برادران کی حکومت یا کوئی بھی حکومت کم از کم اس تنزلی اور ناکامی کے چوں چوں کا مربہ

0
18
میں اکثر تنہائی میں پہروں اس گنجل خیال پر  سوچتا ہوں کہ آخر انسانی مقصد حیات کیا ہے ؟ ہے کیا یہ آخر؟ یہ زندہ مردہ کا کھیل کیوں ہے کس لئے ہے ۔دنیا میں عزت یا دولت یا شہرت یا امیر بن کر یا داد و  عیش دے کر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔کامیاب آخر ہے کون؟ وہ جسے دنیا والے کامیاب سمجھیں؟ تو جس کے پاس اقتدار و حکومت ہو، دنیا اسے کامیاب سمجھتی ہے مگر اقتدار و طاقت تو اکثر ناجائز دولت خرچ کر کے ، دوسروں کو ڈرا دھمکا کر، جھوٹ بول کر غرض کہ سیاست کا ہر جرم کر کے حاصل کیا جاتا ہے تو کیا اتنی برائی کی چیز کو دنیا کامیابی سمجھتی ہے ؟ تو کیا یہ آپ کے نزدیک کامیابی ہے ؟؟؟ ہر گز نہیں، غیر اخلاقی حرکتوں پر کامیاب ہونا کامیابی نہیں ہے۔اچھا تو پھر جس کے پاس عزت ہے وہ کامیاب ہے، لوگ جسے حاجی صاحب حاجی صاحب کہیں، دوسروں کو اس کی مثال دیں، بچوں کو اس کی روش پر چلنے کی تلقین کریں ۔۔۔مگر میں نے ان سو کالڈ عزت دار لوگوں کے بھی بہتیرے سکینڈلز دیکھے ہیں، یعنی منافقت سے، مکاری سے اور عیاری سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نام نہاد دو نمبر قسم کی عزت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔اور دنیا اسے کامیاب سمجھتی ہے، جب تک کہ اس کا بھ

0
10
عشق گر یکطرفہ ہو، ذلت نفس ہے
عشق گر دو طرفہ ہو، علّت قفس ہے
عشق مجازی عارضی ہے،زوال انجام ہے
عشق حقیقی ہے دائمی، اسی کو دوام ہے
اے کاشف اب باعث ذلت کو خیر آباد کہو
جتنا ساتھ تھا، دیا تھا، اس جہت کو آزاد کہو

0
22
دیکھ تجھے سب ہوش جاتا گیا
اور دل تیری ہی طرف کھنچتا گیا
اگرچہ ترا وجود نہیں ہاتھ تھا
میں کس خیال میں بہکتا گیا
سالوں پرانی عشقیہ واردات ہے
تبھی خمار اس زہر کا بڑھتا گیا

14
میری بیٹی حور العین کے نام
کاتب تقدیر نے قسمت جگانے کی بات کر دی
بھیج کر یہ تحفہ انمول خزانے کی بات کر دی
تجھ کو دیکھ کر جیا ہوں، تم سے ابھی ابھی ملا ہوں
دل ابھی بھرا نہیں، تم نے جانے کی بات کر دی؟
بچپن اپنا بھی یاد ہے،میری دادی کا پیار تھا مسلسل

25
اوروں کو ہو گی کب مجھے پروا ہے
مجھے نا ہی کوئی حاجت دعا ہے
میں ہوں من چلا میں ہوں گمشدہ
بے نیاز ہوں کہاں غرض دنیا ہے
میرا راستہ ہے پرخار اس قدر کہ
نجات بھول چکا میرا راہنما ہے

0
21
کب بدلے گی نیا رنگ
تیری میری یہ جنگ
عجب ہے یہ رشتہ
مدت رہے ہم سنگ
تم سے نفرت ہے اب
تجھ سے کب ملے آہنگ

0
17
کیی سو برس پہلے جاپانی  بمریری کے عہد حکومت میں ایک نوجوان سمورائی یعنی جنگجو جس کا نام تمودا تھا  ، ایکدن لارڈ آف نوٹو کے دربار میں ملازمت کے لیے آیا- وہ قوی ہیکل جسامت کا  مالک  بیحد خو شرو پر صنعت نوجوان تھا -خوبصورتی کیی سو برس پہلے جاپانی بمریری کے عہد حکومت میں ایک نوجوان سمورائی یعنی جنگجو جس کا نام تمودا تھا ، ایکدن لارڈ آف نوٹو کے دربار میں ملازمت کے لیے آیا- وہ قوی ہیکل جسامت کا مالک بیحد خو شرو پر صنعت نوجوان تھا -خوبصورتی کے ساتھ ساتھ وہ بیحد بہادر اور وفا دار بھی تھا - لارڈ آف نوٹو اس سے بیحد متاثر ہوا اور اسے اپنے دربار میں ملازمت دے دی - چند ہی مہینوں میں تمودا نے اپنی قابلیت اور ہنر کا سکا ہر ایک بَثمول لارڈ آف نوٹو پر جما دیا - وہ جنگی میدان کے ساتھ ساتھ صاحب علم کا ماہر بھی ثابت ہوا - پھر ایک دن لارڈ آف نوٹو نے اسے ایک اہم مہم پر بھیجا ہماری کہانی اسی مہم سے شروع ہوتی ہے ...یہ مہم اسے لارڈ آف کیٹو جو ملحقہ ریاست کا بادشاہ تھا ، کی طرف پیغام رسانی پر لے جاتی ہے - تمودا کو یہ خبر نا تھی کہ بظاھر انتہائی سادہ لگنے والی یہ مہم اس کی آخری مہم ثابت ہو گی، موت کی وادیوں س

0
50
لکھتے جاتے ہیں
چلو کچھ لکھتے جاتے ہیں
زندگی کے فلسفے کو
من میں الجھتے جلسے کو
کسی اور رخ پلٹتے جاتے ہیں
چلو کچھ لکھتے جاتے ہیں

0
18
ارے اک طلاق پر کیوں پریشان ہو
دیکھو جو جوانی کا دبستان ہے
زندگی ایک غلط فیصلے سے ختم بھئی؟
کیا مچا رکھا شادیوں کا طوفان ہے
مجھ کو یقین ہے اسے سمجھ تو آتی ہے
بڑھاپا آ رہا، کتنی بھولی میری جان ہے!

0
25
آؤ تو پھر جاؤ کہاں تک
دل کہ دے ہی آؤ وہاں تک
اک عمر ہے بیتی چکر میں
تم پتا بتاؤ وہاں تک
اس قدر ترا انتظار
بس گلے لگاؤ وہاں تک

0
15
یہ تو ذکر حیدرؑ کا ہے،
یہ داستاں علیؑ کی ہے
اونچی ہے ذات مولا کی،
بحرِ بے کراں علیؑ کی ہے
جب حق دبا تھا باطل سے
سچی زُباں علیؑ کی ہے

0
30
دھیرے ملتی ہے آسانی مگر کیوں
جلدی بیتی ہے جوانی مگر کیوں
تم جو کہتے رہے، ہم جو سنا کیے
بنتی ہے وہ پریشانی مگر کیوں
اوروں کی آگ سے جلنا عجب سہی
ہر باری کی یہ نادانی مگر کیوں

0
21
تمہاری غلط فہمی کا بس کیا کہنا
کہ ہم تم پر مر مٹے او خدا کیا کہنا
وہم کا علاج نا تھا حکیم لقمان کے پاس
گر تم اکیلی بچی تب بھی ہم نا آئیں گے پاس
جاؤ کسی ڈاکٹر کے پاس جلدی کرو
مرض فتور عقل سپاس جلدی کرو

0
8
یہ بوریت ترکیب بنی بیزاری کی
کیا پتا کیسے کٹی شب خماری کی
جب بھی تنہا ہوں،یا شریک محفل
یونہی بات بڑھ گئی تری یاری کی
قافلہ گو رواں دواں ہے سانسوں کا
تن آسانی یا مہربانی ہوئی بیماری کی

0
18
وہ منظر اُف وہ کتنا اندوہناک تھا
بلکتے بچوں کا چپ ہونا خوفناک تھا
وہ حسین برفوں کا قاتل بن جانا پھر
قاتل برفیں، ہاں، یہ سب افسوسناک تھا
ایسی گہری نیند لی کہ پھر نا اٹھ سکے
موت آورد ہوئی، مانو مرگ خوابناک تھا

0
11
تعلیم حاصل کرو اگرچہ
کام لگتا ہے ذرا مشکل یہ
مگر دولت علم ہے ایسی کہ
خرچو گے جتنا کم نہ ہو یہ
اگر مل رہا ہے کوئی موقع تو
پرچم علم کا اٹھا لو، معلم بنو

0
24
جو پھر آ گئی گر مشکل
پڑھو ناد علیؑ کرو یاعلیؑ
ہر جنگ کا اغلب سورما
صداۓ مقتولین بپا یاعلیؑ
نان جویں خاصہ مسجد
رہے فقر و استغنا یاعلیؑ

0
60
آواز جو سنی رب کعبہ کی
پھر جستجو کی راہ عشق تری
صداے حق گونجی عالم میں گونجی
قضا پھر اٹھی لحد میں اٹھی
آیت جو پڑھی دل میں پڑھی
وہ قرات داودی وہ سنت ابراھیمی

0
11
تم نے  بے وجہہ کسی سے  رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟ یہ درد اب کیوں ہے یہ کیا ہے اس کا سبب اب کیا ہے کیوں ہے تو سچ سچ بتاؤ ۔۔۔تم نے  بے وجہہ کسی پر شک  کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب یہ دل عجب انداز میں بنا وجھہ کے ایسے ہی کوئی نام پڑھ کر دھڑکے بری طرح کھڑکے ۔۔تو سمجھ لینا کہ یہ عشق کی گہری چال ہے جو واپس نہیں ہوتی جتنا انکار کر لو ۔۔۔یہ ہو کر رہتا ہے ۔۔۔تبھی رومانوی  تباہی ہوتی ہے سچ سچ بتاؤ ۔۔۔کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟عشق ؟؟؟تحریر : کاشف علی عبّاس

0
27
تم نے بے وجہہ کسی سے رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے عشق کیا ہے؟
جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔
اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔
تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر
کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو
کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟

0
30
تم نے بے وجہہ کسی سے رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے عشق کیا ہے؟
جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔
اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔
تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر
کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو
کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟

0
10
ترا کھیلنا کیا نظر آ رہا ہے
مجھے تو تماشا نظر آ رہا ہے
کئی لوگ ایسے، جُڑے داستاں میں
کہ محض اک دکھاوا نظر آ رہا ہے
تعجُب کروں حال پر یا رہوں چپ
برابر مداوا نظر آ رہا ہے

0
51
یہ جو ناقدری ہم پر گزری
اب کیا کہیں کس قدر گزری
تمہاری راہ تکتے، یاد کرتے
ہر ہر لمحہ مثل قہر گزری
تم کہ بنے ہودعویدار مسیحائی
کیا تصور میں یہ خبر گزری؟

0
60
اب کے سال پونم میں جب توآئے گی ملنے، ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گےشوخ تیرے قدموں پہ، ہم نگاہوں سے تیر ی آرتی اتاریں گے
تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے، زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو
پست حوصلے والے تیرا ساتھ کیا دیں گے، زندگی ادھر آجا ہم تجھے گزاریں گے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہے، انگلیوں سے جو ٹپکے اس لہو کی حاجت ہے
آپ زلف جاناں کے خم سنوارئیےصاحب، زندگی کی زلفوں کو آپ کیا سنواریں گے

0
63
چلو مان لیا کہ دم میری محبت کا نہیں بھر سکتی
مگر ایسی بھی کیا عداوت کہ بات نہیں کر سکتی
وفا کا صلہ جفا سے دینے والے سن لے
کہ اپنی خوشیوں کے دن تو بھی گن لے
یہ نارسائی پیچھا نا چھوڑے گی تیرا
یہ تنہائی اب بسیرا نا چھوڑے گی تیرا

0
19
اس سب کا سبب کیا ہے؟
یہ سب کچھ اب کیا ہے ؟
کیا ہو گیا ہے؟ کیا ارادہ ہے؟
چپ رہوں گا ؟ میرا وعدہ ہے!
مگر فکر یار میں حیراں ہوں آج
شوخی کردار پہ پریشاں ہوں آج

0
75
کیا کہو گے کیا سوچ کر میں نے ہار مان لی
کہ جب کھوکھلے رشتوں کی حقیقت جان لی
منافق چہرو! یہ کھیل ختم ہوا چاہتا ہے
قرب قضا جب ہر زیست نے یہ بات جان لی
مکر و فریب ، جھوٹ و دھوکہ یہی دنیا ہے
سچ بکتا رہا، سچ تنہا رہا، سچ کی بھی جان لی

0
20
وہ فصل رحمت عشق تھی جسے
لوگوں نے اک نیا عذاب مان لیا
ہاں تم سے کبھی عشق تھا، اب ہے نہیں
عشق سے بہتر اک جام شراب مان لیا
وہ راہ جس پر کوئی منزل ہی نا تھی
اچھا کیا کہ تمھیں اک سراب مان لیا

0
94
اے چھپی اٹل حقیقت کی گھڑی
جس کا آنا حق ہے،
جس کا چھا جانا بے شک ہے
تم نے سب لذت کھا لینی ہے
تم نے ہر اجرت پا لینی ہے
مہیب پردوں میں مدفن بھی نہ بچ سکے گا

0
39
یہ عید کہاں گزرے گی ؟
ٹرین پر محو سفرِ منزلِ نا معلوم کی طرف، سمٹتے کم ہوتے ان ادھ بدھ فاصلوں میں گزرے گی؟
یا لہلہاتے پتوں پر چھن چھن گرتی روشنی کی رقصاں کرنوں کی اداؤں پر فریفتہ گزرے گی؟
شاید لب سڑک ایستادہ مال روڈ کے میوزیم کنارے نصب بھنگیوں والی توپ کے آتشیں گولوں سے بچتے گزرے گی؟
یا مسجد علی اکبر بحریہ ٹاون کے دیدہ کش زیر تعمیر آسمان میں چھید کرتے میناروں کی بلندیوں کو ماپتے گزرے گی ؟
یا پائن اونیو ویلنشیا کی لاکھوں بھیڑ بکریوں اونٹوں اور قربانی کے دیگر جانوروں سے سجی وسیع و عریض کئ کلو میٹر پر پھیلی اس مارکیٹ میں بکرا پسند کرتے گزر جائے گی ؟

0
23
جب تیری داستان سنانے کا سوچتا ہوں
قلم کانپتا ہے ،دل لرزتا ہے،غم جاگتا ہے
پڑھنے والے کیا سمجھیں گے کیا قیامت گزری
کس طرح جدا ہوۓ تھے ہم، چوٹ لگی کتنی گہری
کچھ تو ہنسیں گے چند نظرانداز کر دیں گے
دنوں میں ہمیں، اور داستان بھول جائیں گے

0
76
اک دل کی فقط آشنائی کو ترسے
کبھی ملن کبھی جدائی کو ترسے
تم مل کر بھی نہیں ملتے ہو اب
اور ہم تو اس لب کشائی کو ترسے
کاشف برا سہی نہ کر بھروسہ مگر
یہ کیا کہ اسی ظالم کی گواہی کو ترسے

0
53
مجھے اس قدر تنہا کر گیا
جب وہ شخص بچھڑ گیا
فضا میں یادوں کی خوشبو
چھوڑ کر وہ آخر کدھر گیا ؟
دل ثبات کو سکون کہاں
قضا نام تھی، حقیقت بھر گیا

0
56
ابھی نماز پڑھی عید کی
تو یاد آئے گزر چکے لوگ
شفقت باپ کی، نیابت یار بھی
رفاقت دوست کی، عنایت پیار بھی
اس گلی میں آج کی گیلی عید پر وہ پہلی عیدی بھی منتظر تھی
دریچہ دل پر نقش کچھ نام بھی

0
42
رات کے کسی خاموش لمحے میں پھیلی اُداسی ہے
جو تاریکی کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے
صبح خوشی میں، آنکھوں کی نمی میں
تیری غمی میں، تیری اب کمی میں
کچھ وقت ہی بچا ہے
تھوڑا سمے ہی باقی ہے

35
【افطاری】 【داستان】 【قبل】 【از】 【کرونا】 【2019】
افطاری کا وقت قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا ...میرا دل بلیوں اچھل رہا تھا اور میں ملکوتی سی، آفاقی سی مسرت محسوس کر رہا تھا - اس مسجد کی افطاری کی بہت تعریف سنی تھی کہ یہاں کھجور میں اجوا، کیئ قسم کے پکوڑے، سموسے ، فروٹ و چنا چاٹ ، دودھ روح افزا تو صرف شروعات تھے ...راوی کہتا ہے (یہاں راوی سے مراد میرا دوست کمال ہے جس کویہاں افطاری کا شرف حاصل ہو چکا تھا اور کل ہی افطاری نوش جان کر چکا تھا اور اسی کی حوصلہ افزائی پر میں یہاں مفت افطاری کو موجود تھا...یہ لا ہور کے پوش علاقے ڈیفنس کی جامع مسجد تھی -)چکن، مٹن اور بعد میں فیرنی بھی مینو میں شامل تھیں ...اب آپ حساب لگا لیں کہ اتنا زیادہ مینو توعام سےعام اور سستے سے سستے ہوٹل میں بھی ٩٠٠ روپے تک تو کم از کم چلا ہی جاتا ہے-(عوامی کے ریٹس کے مطابق) مہنگائی کو تو پر ہی لگ گیے ہیں - نئی حکومت کے آتے ہی موبائل ٹیکس کا تحفہ تو آپ سب کو مبارک ہو ہی چکا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ تواتنا سب کچھ مفت میں ملنے کا سوچ کر ہی میری تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی ویسے داتا صاحب سے مفت دیگوں سے ہر لاہوری کی طرح میں بھی فیضیاب بلکے پیٹ یاب ہو چکا تھا مگر افطاری وہ بھی ایسی مفت اور اتنی لذیذ کا پہلا چانس تھا .میں بار بار مسکراتا اور خود سے کہتا کہ .بس اب کچھ دیر کی بات تھی اور پھر ہم ہوں گے اور یہ مقامات آرام و طعام !!! میں بڑی کمال فرحت محسوس کر رہا تھا
تبھی باجو میں بیٹھے ایک با ریش صاحب نے میرا کندھا ہلا یا ...اچھے خاصے مذہبی بزرگ لگتے تھے مگر جس بےتکلفی سے اس ناچیز کا کندھا جکڑا اور ہلایا میں کافی کچھ خفا سا ہوگیا - شرافت بھی کسی چڑیا یا کبوتر کا نام ہے - شرارتی بزرگ کہیں کا !
' جی فرمایے؟' میں نے ہر ممکن حد تک لہجے کو پرسکون اور مہذبانہ رکھتے ہوے ان سے پوچھا
'اس شرارتی بزرگ نے کوئی جواب نہ دیا ،جیسے مراقبے کی حالت میں چلے گیے تھے--ان کے کندھے ڈھلک سے گیے تھے ، زندہ لاش کا گمان ہوتا تھا - ...میں حیران تھا کے اب کیا کروں کے اچانک انھوں نےبند آنکھیں کھولیں ایک فلک شگاف نعرہ مستانہ بلند کیا اور نعرہ اللہ ھو قسم کا تھا -پھر لوگوں کی گودوں کو ٹاپتے ، دھکے دیتے ، ٹکریں مارتے ، وہاں سےرفو چکر ہو گیۓ - اچانک ہی بھاگ کھڑے ہوے - میں تو اس اچانک حرکت سے بھونچکا ہو گیا اور میرے رونگھٹے ہی کھڑے ہو گیے کہ اے خدا یہ کیا چیز تھی اور کیا چاہتی تھی؟ سب لوگ پہلے تو یہ سمجھے کہ کوئی دہشت گرد حملہ ہو گیا ہے اور چپلوں، جوتوں کو پیچھے چور کر بھاگ نکلے ...یہاں بھی پولیس والے سب سے آگے تھے ..پولیس ایسے موقوں پر بھاگنے میں آگے ہی ہوتی ہے ، جی ہاں بھاگنے میں !!! خیر خالی پنڈال میں چند گجراتیوں کو جوتوں پر اور لاہوریوں کو رنگ بازی کا موقعہ مل گیا...خدا خدا کر کے صورت حال پھر نارمل ہوئی اور سب کو یقین دلایا گیا کے اطمینان سے تشریف رکھیں کوئی پاگل مزاق کر گیا ہے کوئی حملہ وملا نہیں ہوا ...تو سب کی جان میں جان آی ورنہ حالت روزہ میں شہادت قریب تھی - سب پھر سے امید افطار مفت میں سکون سے بیٹھ گیے ...پاؤں پسار کر، حالات حاضرہ پر گفتگو کرنے لگے ... تبھی دوسرا وقوعہ ہو گیا !!!
انسانی نفسیات میں یہ چیز شامل ہے کے اگر کسی چیز سے بندا ڈر جایے تو وہ ہرچیز میں میں اس کا کوئی نہ کوئی پہلو تلاش کر ہی لیتا ہے ، ظاہر ہے اس سے خائف جو ہوتا ہے ...شہر کے حالات ، ملک کے حالات ویسے ہی دہشت گردی کے حملوں سے سجے تھے ...نہ مسجد محفوظ نہ امام بارگاہ نہ افطاری محفوظ نہ سحری..لوگ تو یہی سمجھتے تھے کہیں بھی ، کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا تھا ...مسلمان ہونے کے لحاظ سے ہم موت کو اٹل سمجھتے ہیں مگر جناب کون کمبخت بھری جوانی میں مرنا چاہتا ہے؟ اورخاص طور پر مجھ جیسے تھڑ دلے اور بزدل قسم اور رنگ باز لاہوریے تو ایسی لسٹ میں شامل ہی نہ ہوں - ہمارا بس چلے تو موت کےفرشتے سے بھی مذاکرات کر کے کچھ وقت درازی عمرمانگ لیں وہ جو بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا

0
42
آمد ہے شب غم ، شب ضربت علی
شرف ہے ماتم ، شب رخصت علی
راہ میں حائل ، بے زبان وہ مائل
مولا کا تبسم ، فجر شہادت علی
نبی کا ہے فرمان، علی کو پہچان
شیر خدا، ید الہی حق امامت علی

0
96
لاہور سے ایک لڑکی کا کرونا ٹیسٹ پازیٹیو آیا
تو لڑکی اور اس کے بوائے فرینڈ کے خاندان کو قرنطینہ کردیا گیا
بعد میں پتہ چلا کہ لڑکی کے 3 بوائے فرینڈز اور بھی ہیں لہذا اب ان 5 خاندانوں کے 37 ارکان کو بھی قرنطینہ میں ڈال دیا مزید تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے
کہ اس کے بوائے فرینڈ کی دو مزید گرل فرینڈز بھی ہیں اور ان گرل فرینڈز کے مزید آگے دو دو بوائے فرینڈز بھی ہیں اور ان میں سے ایک شادی شدہ ہے
کمبختو ریاضی دی وی مت مار دتی نے حساب وچ ہی نہیں آ رہے

0
54
اپنی محبوبہ کے نام
کاش میں کرونا ہوتا اور تجھے ہو جاتا
تو بڑے چاؤ سے ویکسین لگاتی خود کو
اور میں تیری سانسوں پر قابض ہوتا
اور پھیپھڑوں میں ٹک کر بیٹھ جاتا
تب سانس نا آتی تجھ کو، کھانسی آتی

0
66
جاہل نقاد ذرا ادھر آ
یہ کونسا کیڑا تجھے بے چین کرتا ہے
جدھر کوئی دخل نہیں وہاں
کیوں اپنی طو طے جیسی ناک گھسیڑتا ہے
پھر تیری اک چیلی ہے جو چربی دماغ رکھتی ہے
بونگیوں میں بہت آگے ہے ظرف زوال رکھتی ہے

10
163
پہلا حصہ غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“عبد الرحمان بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی ش

410
بیویوں کی تعداد کا چار ہونا اس کے ناموں کے
حروف کی تعداد سے ہی اشارہ ملتا ہے:
شادی کے چار حروف-----ش--ا--د--ی
نکاح کے چار حروف-----ن--ک--ا--ح
شوہر کے چار حروف-----ش--و--ہ--ر
بیگم میں چار حروف___ب_ی_گ_م

122
مجھے ہو گیا کرونا عشق کا
جیسے مچھر محبت کا لڑ گیا ہو
ویکسین وصل کی لگا دو یارو
ایک ٹیکہ ملن خاص لگا دو یارو
ہجر و جدائی کی موت سے ڈر لگتا ہے
پیار کے ونٹیلیٹر پر رکھو مجھے

44
At times, I know not what I do
The things that embarrass ego
Saying words, that I should never say
Doing things that are stupid today
Ah I feel such pity and pure helpless
Why do I go there, where no lift dress

3
46
شکریہ ادا کر دیا ہے
یہ تم نے کیا کر دیا ہے
سورج نکلا کس طرف سے
ملّا کو میں نے آگاہ کر دیا ہے
اس جہالت نے مرے ملک کو
اب تو بلکل تباہ کر دیا ہے

109
غصے میں ہوں، تنگ نہ کر ،پھر سہی اب جانے دے
کس کی تھی غلطی، ہمیں کیا؟مجھے گھر آنے دے
چپ لگی، غم بھی بڑھا، ضبط کیا، ڈر بھی لگا
زندگی خاموش ہے، چھیڑ کے سُر، گانے دے
چاہتا ہوں میں ابھی کیا؟ سکوں کا واسطہ
گھونٹ بھر تو پینے دے، مے خماری لانے دے

40
اب کیا کہوں میں، میرے لئے کیا ہو تم ؟
کالی شب میں جلتا اک نور کا دیا ہو تم
دور ہو، مگر دوری ہے کہاں، مری جاں میں
رچتی بستی کھلتی خوشبو بنی ادا ہو تم
کرتا ہوں میں پروا تیری اگر کبھی سمجھو
ہوں قدیم عاشق تیرا، بنے پیا ہو تم

0
38
کیسے چڑھا ہے بخارِ مے بام کر
مانا چلو عشق ہے پھر جا کام کر
جو بھی ہے کرتی رہ کیا ہو گا فائدہ؟
ضد کہاں ہے؟ یار خود میرے نام کر
کیا اگر عشقِ حقیقی تو غم ہے کیا؟
بن محبت کا دیا ، اس کو عام کر

0
38
ثباتِ ہستی منظورِ خدا گر مدعا ہوتا
فرشتہ پھرعبادت کیا مسلسل کر رہا ہوتا
قضا ہوتی بقا ہوتی عجب دنیا بنی ہوتی
یہ انساں پر مگر وقتِ بلا سا گِر پڑا ہوتا
حقیر و ادنی باطن ظاہری خوبی ترا چہرا
وہ چہرہ جو نظر آتا، میں زندہ ہو رہا ہوتا

0
1
219
تم کو ہی دیکھ کر ٹھنڈک ملتی ہے سکوں بھی
آخر کہ میری بیٹی ہو، اپنی ہو، کہ خوں بھی
بابا کہ کر بلانا تیرا ،مجھے بتا دے!
دنیا پہ اک نشانی میری سدا کہ یوں بھی
ننھے یہ ہاتھوں کو جب، حیرانی میں ہو کر گم
تکتے مجھے، اٹھاتی ہو، کیا کہوں؟ فسوں بھی

120
لت سے ہی اب بھری ہے مشکل میں جا گری ہے
کب سہل تھی کٹی ، اور کیسی یہ زندگی ہے
کیا لوگ کرتے ہیں باتیں اور کیا سنیں ہم؟
لوگوں کا کیا بھروسہ چپ سادھ ایسی لی ہے
رستے پہ ہے مسافر، منزل کا کیا پتہ ہے؟
منزل نہ بھی ملی تو کیا؟جستجو تو کی ہے

0
98
ماتم و گریہ کہاں،غم خواری کہاں
اک فقط دنیا سے ہی بیزاری کہاں
جسم بکتے ،رات دن، کوچہ میں بہت
شب کدھر سویا، کہوں کیا باری کہاں
بچھڑا وہ تھا جب گھڑی ٹھہری تھی مری
کیا وہ صحبت تھی ، رہی وہ یاری کہاں

0
55
آتش تمنا سرد ہُو چکی ہے اب کیا فائدہ ؟
گھنٹی کلیسا کی جو یوں بجتی ہے اب کیا فائدہ؟
میں نے رکھا تھا دل کو کب سے، واسطے تیرے کھُلا
وہ دل رہا نا در بچا ، اندر ہے اب کیا فائدہ؟
مجھ کو ملے کیا لوگ ہیں، کس کا مناتے سوگ ہیں؟
زندہ تھا جب ،پوُچھا کہاں ، پوُچھا ہے اب کیا فائدہ؟

0
17
150
جیسی ہو مشکل یا علی کہوں گا
میں حیدری تھا، حیدری رہوں گا
باب العلم کے نام کا ہے صدقہ
حق بات لب پر لاتا ہی رہوں گا
فاتح بنا، خیبر شکن، علی کن
ہر لحضہ گن سب گاتا میں رہوں گا

0
74
مرے دل میں اک بے رخی بن گئی ہے
کبھی تشنگی زندگی بن گئی ہے
میں خود کیا بدلتا، پہنتا میں اور کیا
نمائش فقیری ہی کیوں بن گئی ہے
کھلا کر مٹا بھوک بھر پیٹ چل اب
غریبی امیری ہی کیوں بن گئی ہے

94
عشق تم ہو ، مشک تم ہو عجب تم ہو
میری اس شاعری کا اک سبب تم ہو
انتہا ، ابتدا تم اور وفا تم ہو
اب کہوں کیا، ادا تم ہو، ادب تم ہو
شام دن رات سب ہے فکرِِِِ یاََری میں
جان تم ہو، جہاں تم ہو، محب تم ہو

0
5
176
یہ ہنگامہ شام اگر کھل جائے
بچتی کہاں ہے جان اگر دل جائے
آتش لگی جب عشق،خرابی قسمت
بجھتی کہاں ہے آگ اگر جل جائے
کھویا اسے' احساس ہوا، سب چھوٹا
اب تو جہاں بھی یار اگر مل جائے

0
59
کسی عشق میں ہوں سر تلک ڈوب چکا ہوں
لگی ضرب تازہ یوں تبھی اوب چکا ہوں
کسی کا نہیں سگا ، یہ کمبخت عشق ہے،
مزہ کیا، میں جان اب اسے خوب چکا ہوں
قرائن جو کشمکش کریں پیدا وہ سہی
ابھی حسن یار سے، ہو مرعوب چکا ہوں

121