میری آل ٹائم ٹاپ لسٹ آف ادبی ناولسٹ /مصنفین یہ ہے ۔

١- نمرہ احمد 

میں نے نمرہ کے چند ناولز پر ( مصحف ، گمان ، حد ، جنت کے پتے )  تیز مرچوں والی کھٹی میٹھی تنقید متشرع مصالحے کی طرح چھڑکی ۔ تو ساتھ ساتھ ( بیلی راجپوتان کی ملکہ ، قراقرم کا تاج محل ، پہاڑی کا قیدی ) پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برساۓ ۔ تنقید کا نمک اور تعریف کی شیرینی ایسے ہے جیسے نمکین چاولوں کے ساتھ میٹھا زردہ مزے لے لے کر کھایا جاتا ہے ۔وہ نمبر ون اس لئے ہے کہ اس کے ہر ناول کا موضوع مختلف ہے ۔جدت بھی ہے ندرت بھی اور لکھنے کی قدرت بھی ۔ریڈر کیسے بچے ؟ آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے ۔تو کیا دیکھیں گے ۔

جہاں ایک طرف نمرہ نے ایک bumpy یا اوبر کھابڑ قسم کا طویل نا ہموار ادبی سفر طے کیا ہے ۔جس میں ناکامی و کامیابی باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔اور چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ۔تو آہستہ ہی سہی ان کی تحریر میں نکھار آتا رہا ۔دوسری طرف ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔ادبی چمار خانوں کے اہل زبان ( ایم -اردو یا پی ایچ ڈی طلبہ و طالبات  ) سے میری اکثر لارنس گارڈن میں اس بات پر بحث ہو جاتی تھی اور اب بھی قائد اعظم لائبرری ( جہاں روز جاتا ہوں ) میں بیٹھے ان ادبی ٹھیکے داروں سے نمرہ کی ادبی حیثیت پر توں ترا ں ہو جاتی ہے ۔

وہ نمرہ کو پاپولر فکشن میں یعنی ڈائجسٹ رائٹر ہی کہتے ہیں ۔ان کے نزدیک نمرہ ادبی محاسن ، زبان کی چاشنی ، اغلاط اور کلاسیکل اردو ادب اور اردو زبان کی مروجہ تکنیکی چیزوں اور ناول نگاری کے اردو ادب کے رائج مسلمہ اصولوں سے نا آشنا و نا بلد ہے ۔تو ادب کے زمرے میں نہیں آتی ۔ میرا جواب صرف ایک ہوتا ہے ۔جو میں سگرٹ کا طویل کش لگاتے ، زیر لب مسکراتے ، دھواں ان پر ، ان کے ادبی چہروں پر چھوڑتے کہتا ہوں ۔جواب یہ دیتا ہوں " پاپولر فکشن کو کیوں اردو ادب سے علیحدہ کرتے ہو میری جان؟ادب تو ادب ہے ، کسی غیرملکی ادب میں ایسی تقسیم نہیں ہے ۔جو بھی لکھا جاتا ہے اسی ادب کا حصہ ہوتا ہے چاہے معیاری ہو یا نہیں " اس پر جب وہ گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کچھ لاجواب ہو جاتے ہیں تو میں ریڈ بل ڈرنک کا گھونٹ بھر کر ، جیسے منٹو وسکی کا اور جوش رم کا بھرتے ہوں گے ، مسکرا کر عرض کرتا ہوں کہ اے اردو ادب کے چمچو ! اے خود کو اہل زبان کہنے والو ! تھوڑی گنجائش تو رکھو پلیز ۔۔۔مانا کہ جو مقام غلام عبّاس یا منٹو یا کرشن چندر کا ہے ویسا ان کے بعد کوئی افسانہ نگار نہیں آیا ۔جو مقام بیدی ، پریم چند ، سجاد یلدرم ، رشید صدیقی یا شوکت تھانوی کا ہے ویسی ادبی جلا پھر نظر نہیں آتی ۔ اسی طرح ناول نگاری میں اردو ادب میں کیسے با کمال لوگ ہیں ، مفتی، تارڑ ، رسوا اور ایک لمبی لسٹ ہے ۔ویسی نثر بعد میں نہیں لکھی گئی ۔مگر دوسرے درجے پر ہی سہی ، ان novice یا نیو رائٹرز کو اتنی جگہہ تو دو ۔ان کو کان پکڑ کر اردو ادب سے باہر تو نا نکالو جیسے انگریزی ادب میں بھی major اور minor ورکس ہیں ۔مگر ہیں دونو انگریزی ادب کا حصہ ۔اس تقریر کے دوران چند سو جاتے ہیں ، باقی افمیوں کی طرح او نگھتے ہیں ۔کچھ بونگا بن جاتے ہیں ۔کچھ پھٹی پھٹی آنکھوں سے نظریں گاڑھے مجھے کچا چبا جانے کا عندیہ دیتے ہیں ۔سالے ناٹک کرتے ہیں ۔وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں صحیح کہ رہا ہوں بس لکیر کے فقیر ہیں اپنے استاد کی اردو ادب کی کلاس میں سیکھی بات مجھ جیسے مخدوش کردار کے بندے کی جس نے انگریزی اور فزکس میں ماسٹرز کیا ہے ، کیوں بات توجہ سے سنیں گے ۔ان کے دل مرے ساتھ مگر زبان اسی فرسودہ اور بے انصاف پاپولر فکشن اور اردو ادب کی تقسیم کے حق میں ہوتی ہے ۔تو میں یہ نمرہ جنگ ہار جاتا ہوں مگر اخلاقی طور پر ان کی لاجوابی بتاتی ہے کہ میں نمرہ جنگ جیت چکا ہوں ۔

اجکل نمرہ کا سلسلے وار ناول مالا چل رہا ہے ۔جسے سن کر میں بے اختیار بالا ا و بالا ۔بالا شیطان کا سالا سانگ پر تھرکنے لگتا ہوں ناچ مست ناچنا چاہتا ہوں ۔خیر مذاق برطرف ، ناول میں کرداروں کی اچھی ٹریل ہے ۔ماھر فرید تو جہان سکندر ، سوری چ سے چیہان سکندر کا دوسرا جنم ہے ۔وہی محبوبہ کی انٹلیجنس اور مخبری والا کام ۔بیربل اکبری نو رتن نہیں بلکہ مالا کا بیربل سب سے بہتر لکھا گیا کردار  ہے ۔اس کے مکالمے بڑے crispy اور تفریح طبع کا سببب ہیں ۔اچھا خاصا جوکر آدمی ہے ۔ کالا جادو تھیم ہے ۔پلاٹ چابکدستی سے بنا ہے ۔کہانی سست روی کا شکار ہے ۔ٹمپو تیز ہونا چاہے ۔ کشمالہ بی بی نمرہ کے پچھلے نسوانی کرداروں جیسی ہی ہے ۔کچھ الگ نہیں، مگر black magic theme اور لاسٹ قسط میں ماں بیٹی کی محبت اور ماں کی موت پر بیٹی کا ماتم متاثر کن تھے۔ ماھر فرید کو ذرا کم ڈرامائی پیش ہونا چاہیے جب پٹرول ٢٣٥ روپے لیٹر ہو تو اتنی فرصت کسے کہ ایک بندہ لاکھوں پر کسی شخص کو  ہائر کرے صرف اس لئے کہ وہ اس کی محبوبہ کے گھر نوکر یا باڈی گارڈ بنے اور ماھر خود باڈی گارڈ بن کر  چلا جائے ۔اور صرف اس لئے کہ محبوبہ کے ذہن رسا تک رسائی ہو اور کہانی میں وہ شہزادی فیر وی نہیں مندی ( پھر بھی نہیں مانتی )۔کچھ غیر حقیقی سی کہانی ہے، یہ جھول سمجھ لیں ۔مگر تھیم کی وجہہ سے پھر بھی ایک اچھا ناول ہے ۔اور بیربل کا کردار شاندار ہے۔میرے جیسا Casanova  کسنووا اگر ماھر کی جگہ ہوتا تو ایک بار کشمالہ بی بی سے پوچھتا وہ بھی واٹس ایپ پر اور انکار پر آگے بڑھ جاتا تین یا چار شادیاں کرتا ( عامر لیاقت کی طرح نہیں ، دیکھ بھال کر کرتا ) اور ہر شادی کا کارڈ کشمالہ کو بھجتا اور بعد میں بچوں وغیرہ کی تصویریں بھی دکھاتا  ۔سارا عشق سیٹ ہو جاتا بی بی کا ۔تو اصل زندگی کچھ ایسے ہوتی ہے ۔

نمرہ ایک ٹاپ رائٹر ہے ۔ان کے قلم سے مزید شاہکار ناولز لکھے جانے کی سب کو توقع ہے ۔مگر ان کو کلاسکل اردو ادب ضرور پڑھنا ہو گا تاکہ جو کہانی وغیرہ کی خامی ہے ۔پلاٹ کا تانا بانا کیسا ہو بہتر ہو سکے ۔ابن صفی کے عمران سیریز پلاٹس ایک اچھی مثال ہیں ۔کلاسکل میں لمبی لسٹ ہے جو سب کو پتا ہے ۔اردو ادب والوں کو تو صاحب بہت کچھ پتا ہے ۔ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

(اس کے بعد دوسرے رائٹرز بھی لسٹ میں شامل ہوں گے )

تحریر : کاشف علی عبّاس Like my page


0
27