آج کل ایک نیا دھوکا دینے کا طریقہ سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ چند چرب زبان نوسرباز قسم کے لوگ آپ کو آن لائن سکلز سکھانے کا کہ کر رجسٹریشن  فیس لیتے ہیں اور انسٹا یا فیس بک یا زوم پر یہ نوسر باز وہ کورسز آن لائن کروانے کا کہتے ہیں جو کہ نا صرف پیسے کا ضیاع ہے بلکہ ان کو اس کورس کی الف بے بھی پتا نہیں ہوتی کسی مستند ادارے کی ڈگری بھی نہیں ہوتی کوئی ٹریک رکارڈ اپنی کامیابی کا بھی نہیں ہوتا بس چرب زبانی ، ظاہری شو شا اور بے تکے قسم کے جھوٹے خواب کہ آپ گھر بیٹھے خود مختار بن جائیں اتنے پیسے کمائیں اپنا کیرئیر بنا لیں ۔سب بکواس ! اس میں لڑکیاں سب سے آگے ہیں خود ابھی تعلیم مکمل کر رہی ہیں اور یہاں بھانت بھانت کے کورسز کا بتا کر خوب کما رہی ہیں ہر کوئی الن مسک بن چکی ہے کتنی تو گھر بیٹھے بل گیٹس بن چکی ہیں ۔ان سوشل میڈیا کی چڑیلوں سے بچیں ۔ اگر کوئی بھی کورس کرنا ہی ہے تو اس کا keyword گوگل پر سرچ کریں پھر ٹاپ کے رزلٹس میں سے اپنی مرضی کی ویب سائٹ یا ٹرینر منتخب کریں وہاں پر گوگل ان کی credibility rating بھی بتا دیتا ہے اس طرح آپ ان نیم حکیموں سے بھی بچ جاؤ گے اور پیسا اور گمراہ کن قسم کی ٹریننگ سے بھی بچ جائیں گے۔ یہ طریقہ سب پر لاگو ہوتا ہے مگر مذہبی کورسس کو نکال کر ۔یعنی اگر کوئی قرآن یا حدیث یا دینی باتیں سکھا رہا یا رہی ہے تو اس کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا ، بہتر تو یہی ہے کہ اپنے فرقہ کےکسی مستند عالم یا جید کتاب سے راہ نمائی لیں مگر دین کی بات تو صدقہ جاریہ ہے کہیں سے بھی (مفت ) ملے تو لے لیں کیوں اجر تبلیغ کسی بھی مبلغ یا صوفی یا دین دار نے پوری مسلم تاریخ میں نہیں لیا دین کی بات بتانے کا  کوئی پیسا نہیں لیا کیوں اجر تبلیغ فی سبیل اللّه ہوتا ہے اگرچہ قاری یا قاریہ  اس سے مستثنیٰ ہے کیوں کہ ان کی یہ روزی ہے ۔اور ہاں یہ پھلجھڑیوں فل فلوٹوں سوشل میڈیا کی چڑیلوں سے بچیں 

تحریر : کاشف علی عبّاس 


22