Circle Image

Dr Shahid Siddique

@Shahid

جب خود سے ہی اپنا کوئی جھگڑا نہیں ہوتا
دہلیز پہ پھر گھر کی تماشا نہیں ہوتا
وہ درد بھی دروازے پہ ملتا ہے گلے سے
قسمت کی لکیروں میں جو لکھا نہیں ہوتا
ہوتی ہیں کہیں خاک پہ بکھری ہوئی بوندیں
آنکھوں سے مگر اشکوں کا رشتہ نہیں ہوتا

0
6
محبتوں میں ہمیں خود سے بے نیاز کرے
نگہ ء یار کبھی یوں بھی سرفراز کرے
رگ جاں سے وہ ہماری قریب ہو کے کبھی
بلند ہم کو کرے ، آشنائے راز کرے
سکوں دلوں کا ملے بھیگتی رتوں میں کوئی
عطا ہمیں جو ادائیں وہ دل نواز کرے

0
6
مجبور ہے انساں کہیں آقا میں خدا ہے
مغموم ہے دل اور کہیں نوحہ سرا ہے
ہے خاک کے پیکر کا لگا جگ میں تماشا
ہاتھوں پہ سجی خون سے مہکی سی حنا ہے
سورج کی ہتھیلی پہ جلی دل کی تمنا
جسموں پہ کوئی لپٹی ہوئی سرخ قبا ہے

0
7
زندہ ہیں محبت میں کسی دار سے لگ کے
زخمی ہیں بڑے ہاتھ چبھے خار سے لگ کے
اٹھتا ہے دھواں من سے ، لہو ایک جگر سے
بے بس ہے زلیخا کہیں دیوار سے لگ کے
الفت ہے کہیں غم کہیں ہے جنموں کا ماتم
کہتی ہے صبا کان میں دلدار سے لگ کے

0
5
یار میرے جو اگر تیری نظر ہو جاتی
داستاں اپنی ، کہانی بھی امر ہو جاتی
ہونے کا اپنے ہمیں کوئی یقیں ہو جاتا
قرب حاصل جو ترا ہم پہ نظر ہو جاتی
ہم کو آ جاتا سلیقہ جہاں میں جینے کا
تیری دہلیز سکوں اپنا جو گھر ہو جاتی

0
7
زخموں سے جہاں کی دکھن جھانک رہی ہے
پاؤں سے لہو ، آج چبھن جھانک رہی ہے
پوشیدہ ہے سینے میں کہانی کوئی لیکن
صفحات سے رو داد کہن جھانک رہی ہے
گرتے ہوئے اشکوں کی روانی سے ہماری
ہر بوند میں خوشبوئے چمن جھانک رہی ہے

0
15
اپنے ہی ہم قدم نہیں ہوتے
یوں کبھی ہم میں ہم نہیں ہوتے
حادثے ایسے ہو گزرتے ہیں
زخم جن کے رقم نہیں ہوتے
سب مکر جاتے ہیں قسم دے کے
جیسے دیر و حرم نہیں ہوتے

0
16
دل میں عالم بسائے پھرتے ہیں
پھر بھی دیپک بجھائے پھرتے ہیں
لے نہ کروٹ کوئی بھی چنگاری
اپنا دامن بچائے پھرتے ہیں
چور تھک کے ہوئے گناہوں سے
آنکھ خود سے چرائے پھرتے ہیں

0
11
ہم وہ پیاسے ہیں کہ صحرا نہ سمندر پائیں
ٹھوکریں کھائیں مگر راہیں نہ میسر پائیں
پہلو میں اپنے زمانے بھی ہیں موتی لیکن
ہم مگر ساتھ کہیں ان سا نہ ہمسر پائیں
آنکھوں پر چھائی ہے تاریک سی چادر ایسے
صبح اب ہم نہ کبھی اپنی منور پائیں

0
6
پیار ، لطف و کرم کہاں ہیں اب
ہم سفر ، ہم قدم کہاں ہیں اب
ہر حقیقت سے ہر کہانی تک
آگ ، پانی بہم کہاں ہیں اب
حکمت و خرد کی کتابوں میں
الفتوں کے بھرم کہاں ہیں اب

0
6
بلبل و گل و ثمر جلتے رہے
سامنے اپنے نگر جلتے رہے
آپ کا حکم سفر تھا جو ہمیں
بے خبر شام و سحر جلتے رہے
محو پرواز گرے ایسے کہیں
دور تک شہر بدر جلتے رہے

0
6
میں رات بھی انداز سحر کاٹ گیا ہوں
میں اپنی تمناؤں کے پر کاٹ گیا ہوں
ہر آس میں من کی مٹا کے صبر کا موسم
چپ چاپ کوئی دکھ کا پہر کاٹ گیا ہوں
اک تیرے خیالوں سے سجا کے میں تخیل
بے چہرگی میں رخت نظر کاٹ گیا ہوں

0
9
اپنوں کی الفتوں کو بھی بسمل بنا دیا
آسائشوں نے زیست کو مشکل بنا دیا
لے کے یہ زندگی ہمیں دی ہیں جو راحتیں
بستی کو وحشتوں نے بھی جنگل بنا دیا
بن کے کوئی تمنا جو برسی ہے بوند میں
اس نے بھی چشم گریاں کو پاگل بنا دیا

8
سوچ کے تو مرے انداز بدل
ذوق میرا ، مری پرواز بدل
جام جم کا کوئی جمشید نہیں
اپنی قدرت کا تو اعجاز بدل
بھر صدا میں مری تو برق نوا
حوصلوں کا مرے سر ساز بدل

0
4
اک کہا جس نے کبھی جگنو ، اجالا تجھ کو
چھوڑ دے گا وہ کہیں راہوں میں اپنا تجھ کو
جھونک کے دھول سی کرنوں کی تری آنکھوں میں
روشنی لے کے تری ، دے گا اندھیرا تجھ کو
تو بنے گا کوئی دیوانہ یوں مجنوں اے دل
زندگی سمجھے گی بس خاک کا پتلا تجھ کو

0
6
طنز ، دشنام کو بھی ایک لطیفہ جانیں
ہم تو اب اپنے ہی قاتل کو مسیحا جانیں
درد ہے دل کا ، دھواں ہے یہ محبت لیکن
اس لگے زخم کو ہم خواب سہانا جانیں
ایسا کیا تو نے کیا ہے کہ گئی شب کو بھی
سحر ہم روز ، اندھیروں کو اجالا جانیں

0
4
خون دل کا ہوا ، لفظوں میں روانی آئی
کاٹ لی عمر تو پھر ، ہم پہ جوانی آئی
جو گزر رات گئی ہجر کی بھاری غم کی
بات کہنے کو ہمیں مرثیہ خوانی آئی
شام افسردہ رہی من بھی رہا بوجھل سا
یاد جب بھی تری ، تصویر پرانی آئی

0
6
اک نئی آگ میں جلنا چاہے
موم پھر بن کے پگھلنا چاہے
اس سے پہلے ہو جگر بھی زخمی
دل قبا اپنی بدلنا چاہے
منزلیں کھوئی ہیں اسکی ساری
اب حوادث سے نہ لڑنا چاہے

0
5
ساتھ تیرے ہے ہر خوشی اب تو
مرنا تجھ پر ہے زندگی اب تو
اے وطن تو ہے راحتیں من کی
نسبتیں سب ہیں دائمی اب تو
دور تجھ سے میں یوں رہوں کیسے
پیار تیرا ہے بندگی اب تو

0
8
چلو محبتوں کا گھونسلا بناتے ہیں
سجانے کو سبھی سپنے جگہ بناتے ہیں
ملا کے پیار سے رکھتے ہیں تنکے اکٹھے پھر
چہکتی چڑیوں کا گھر ہم نیا بناتے ہیں
بدن کے درد سے کرتے ہیں ہر جدا دکھ کو
جلا کے من کا دیا غم عصا بناتے ہیں

0
5
بتا پائے نہ دل ، کیسے پڑی ہے
محبت بندھی ایسی ہتھکڑی ہے
بہت مشکل ہے اس میں سںنبھلنا
سفر ہے ہجر کا ، منزل کڑی ہے
مسافت ہے گماں کی روز یارو
انا سے جنگ ہر پل ، ہر گھڑی ہے

0
5
بتا پائے نہ دل ، کیسے پڑی ہے
محبت کی بھی کیا اک ہتھکڑی ہے
بہت مشکل ہے اس میں سںنبھلنا
سفر ہے ہجر کا ، منزل کڑی ہے
مسافت ہے گماں کی روز یارو
انا سے جنگ ہر لمحہ ، گھڑی ہے

0
12
جب جگ کی الفتوں کے ہمیں تجربے ہوئے
آنکھوں سے بہہ گئے کئی دریا رکے ہوئے
اک یاد ان کی دل کو کیا آج آ گئی
بھولی سی داستاں کے سبھی دکھ ہرے ہوئے
کاغذ پہ جل رہا تھا تھکا چاند رات کا
جیسے تھی صبح شام کے غم میں ڈھلے ہوئے

0
10
آخری ہچکی میرا لے گا دل
غم کہاں تیرا اب سہے گا دل
سوچتا ہوں کبھی میں تنہا سا
کب تلک کرچیاں گنے گا دل
چپ رہوں گا مگر حقیقت میں
میرا افسانہ سب کہے گا دل

0
7
آخری ہچکی میرا لے گا دل
غم کہاں تیرا اب سہے گا دل
سوچتا ہوں کبھی میں تنہا سا
کب تلک کرچیاں گنے گا دل
چپ رہوں گا مگر حقیقت میں
میرا افسانہ سب کہے گا دل

0
7
آخری ہچکی میرا لے گا دل
غم کہاں تیرا اب سہے گا دل
سوچتا ہوں کبھی میں تنہا سا
کب تلک کرچیاں گنے گا دل
چپ رہوں گا مگر حقیقت میں
میرا افسانہ سب کہے گا دل

0
12
بدلی ہے نگہ اپنی تو ، تیور بھی بدلتے
بدلے ہیں اگر ہاتھ تو ، پتھر بھی بدلتے
کیسے مرے حالات ہیں دنیا کے اے مالک
سپنے مرے کچھ خواب کے منظر بھی بدلتے
جھیلوں کے کناروں پہ لرزتا ہے کوئی دل
تم چاند پرانا ، نیا پیکر بھی بدلتے

0
10
میری پلکوں پہ ہو رہی ہے شب
میری آنکھیں بھگو رہی ہے شب
مجھ کو سپنے بہار کے دے کے
خود خزاؤں میں رو رہی ہے شب
رکھ کے تصویر سامنے گل کی
اشک اپنے پرو رہی ہے شب

0
14
لوگ کہتے ہیں کہ ہم گر کے سنبھل جاتے ہیں
یار کے کوچے میں آ کے جو بہل جاتے ہیں
کچھ جمے سے ہیں بہے آنکھ میں آنسو لیکن
وصل کی آس میں سارے ہی پگھل جاتے ہیں
من کو گوشہ یہی مانوس سا اک لگتا ہے
سامنے درد کے چہرے بھی بدل جاتے ہیں

0
5
لوگ کہتے ہیں کہ ہم گر کے سنبھل جاتے ہیں
یار کے کوچے میں آ کے جو بہل جاتے ہیں
کچھ جمے سے ہیں بہے آنکھ میں آنسو لیکن
وصل کی آس میں سارے ہی پگھل جاتے ہیں
من کو گوشہ یہی مانوس سا اک لگتا ہے
سامنے درد کے چہرے بھی بدل جاتے ہیں

0
8
پھونک دے ہستی میں میرے بھی اجالے آ کے
پھر مجھے اک موج کناروں پہ اچھالے آ کے
ہجر کے کالے اندھیرے ہیں محبت میں سب
اس پریشانی میں کوئی تو سنبھالے آ کے
رنج میں اس کو بنائیں کیا ساتھی اپنا
غم وہ تنہائی کا میری نہ بٹا لے آ کے

0
6
پاؤں میں زمیں ، سر پر آسمان رہنے دو
الفتوں کے کچھ رشتے درمیان رہنے دو
پھیلتی ہوئی وحشت میں زمانے کی دیکھو
اپنی ، آنکھوں میں صورت مہربان رہنے دو
ساتھ میرے چینخ اٹھتی ہیں گھر کی دیواریں
سنگ میرے غم اپنا بے زبان رہنے دو

0
6
بزم میں بکھرے ربابوں کی طرح
ہے خلش دل کی گلابوں کی طرح
اک بسی دل میں ہے گو دنیا مگر
ہوں میں خاموش کتابوں کی طرح
سانس اک بن کے وہ نس نس میں کبھی
جاگ اٹھتا ہے عذابوں کی طرح

0
2
اس نے پکڑ کے ہاتھ یونہی چھوڑ کیا دیا
بجھ سے گئے ستارے ، مرا بجھ گیا دیا
دل کی تمام رونقیں پل میں اجڑ گئیں
اک خواب تھا کہ جس نے ڈرا کے جگا دیا
ہم نے تراشا بت کوئی ہاتھوں سے جب کبھی
اک فیصلہ جہاں نے گنہ کا سنا دیا

0
17
اس نے پکڑ کے ہاتھ مرا ، چھوڑ کیا دیا
بجھ سے گئے ستارے ، مرا بجھ گیا دیا
دل کی تمام رونقیں پل میں اجڑ گئیں
اک خواب تھا کہ جس نے ڈرا کے جگا دیا
ہم نے تراشا بت کوئی ہاتھوں سے جب کبھی
اک فیصلہ جہاں نے گنہ کا سنا دیا

0
10
اس نے پکڑ کے ہاتھ مرا ، چھوڑ کیا دیا
بجھ سے گئے ستارے ، مرا بجھ گیا دیا
دل کی تمام رونقیں پل میں اجڑ گئیں
اک خواب تھا کہ جس نے ڈرا کے جگا دیا
ہم نے تراشا بت کوئی ہاتھوں سے جب کبھی
اک فیصلہ جہاں نے گنہ کا سنا دیا

0
19
مشکلوں میں مجھے جینا سکھا دیتے ہو تم
کچھ یوں مضبوط مجھے اور بنا دیتے ہو تم
میں کبھی ہار کے ہارا نہیں جگ میں تیرے
حوصلے میرے پہاڑوں سے بڑھا دیتے ہو تم
راستے خود ہی بچھے جاتے ہیں سب قدموں میں
اپنی شفقت کا درس ان کو پڑھا دیتے ہو تم

0
3
درد مجھ میں سمائے جاتے ہیں
زندگی سے نبھائے جاتے ہیں
دلکشی ہے بہت اداسی میں
اس کو رنگیں بنائے جاتے ہیں
لاکھ دنیا ہے بے وفا لیکن
پھر بھی ہم مسکرائے جاتے ہیں

0
16
ٹوٹے خوابوں کے ہم نگر دیکھیں
الفتوں کے کبھی سفر دیکھیں
کیسے ہر حال میں رہے ہیں خوش
گل و بلبل کی چشم تر دیکھیں
کر کے آغاز پھر سے دن کا ہم
دھوپ میں جلتا پر شجر دیکھیں

0
10
راہ گھر کا بھلائے بیٹھے ہیں
اپنا سب کچھ لٹائے بیٹھے ہیں
جانے والوں کے انتظار میں ہم
دیکھ آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں
پھول کھلتے ہیں جب بہاروں کے
ہم خزاں کو سجائے بیٹھے ہیں

0
11
ہجر ہم کو نڈھال رکھتے ہیں
پھر بھی خود کو سنبھال رکھتے ہیں
پھیلے خوشبو نہ تیرے آنچل کی
اس کا بھی ہم خیال رکھتے ہیں
الفتوں کے چراغ سے شب بھر
وحشتوں کو اجال رکھتے ہیں

0
24
دکھوں کو اپنے سخن میں اتار لیتے ہیں
یوں بھی کبھی انہیں چھپ کے پکار لیتے ہیں
یقین دیتے ہیں کھو جب کبھی بھی ہم خود پر
دعائیں مانگ کے چہرہ سنوار لیتے ہیں
گئے دنوں کی تھکن ہے ہمارے لہجے میں
کہاں سے جانے اداسی ادھار لیتے ہیں

0
8
نگر دل کا لٹا بستا نہیں ہے
سفر تنہا بھی اب کٹتا نہیں ہے
چلیں تو خوف آتا ہے جہاں سے
ہوا پر زور کچھ چلتا نہیں ہے
لگی ہر ٹوٹتی ہے آس دل کی
زمیں آکاش سب ملتا نہیں ہے

0
9
زندگی تیرے امتحان میں ہیں
جو سفر ٹوٹے بادبان میں ہیں
ہیں جواں حوصلے مثال کے سب
پر کٹا کے بھی ہم اڑان میں ہیں
بھولی ہیں کچھ پتے محبتیں پر
ہم مکیں اب بھی اس مکان میں ہیں

0
7
نکلے تھے ڈھونڈنے جسے وہ بھی ملا نہیں
واپس پلٹ ہی جائیں مگر در کھلا نہیں
مانو برا نہ بات کا ہے یہ مثال اک
ہو مہرباں زمیں پہ جو اس کو فنا نہیں
دنیا کی بھیڑ میں ہیں کئی راستے مگر
اے چشم پر ملال ، بچا حوصلہ نہیں

0
9
ہر درد دل کا اپنے سنایا نہیں مجھے
برباد ہو گیا وہ بتایا نہیں مجھے
رہ دیکھنے کو اس نے دیے منتظر سے پل
پر کہہ کے داستاں کو رلایا نہیں مجھے
تارے سے گن رہا ہوں سیہ آسماں کے میں
نا حق جدائیوں میں ستایا نہیں مجھے

0
18
تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہیں
رتیں پل عاشقانہ ڈھونڈتی ہیں
ادائیں دلبرانہ مستیوں میں
وہی موسم ، فسانہ ڈھونڈتی ہیں
اٹھے جو دل کے تاروں سے محبت
وہ سر پھر والہانہ ڈھونڈتی ہیں

0
11
ہے حکومت ، کام سب سرکاری انٹر نیٹ پر
ہیں کتابیں بھی منے کی پیاری انٹر نیٹ پر
کچھ پکاتی اب نہیں ہے دیکھ بیگم نام کا
پڑ گئی ہے گھر کو ہی بیماری انٹر نیٹ پر
لڑ لڑائی سب رہے ہیں وائی ، فائی پر یہاں
اب ہے سالے کی سبھی سرداری انٹر نیٹ پر

0
11
یاد میں کھو کے تری ہم کیا سے کیا ہو جاتے ہیں
سوچ کے تجھ کو کبھی صحرا نما ہو جاتے ہیں
دنیا میں ملتا ہے کیا ، کس کو وفاؤں کا صلہ
دیکھتے سب رنگ ہم اس کے فنا ہو جاتے ہیں
خوں گنوا کے بھی جگر کا اشکوں میں اپنا سدا
قید میں الفت کی اک دیکھو سزا ہو جاتے ہیں

0
26
کیسا ہے اضطراب آنکھوں میں
کیوں ہیں مہکے گلاب آنکھوں میں
گم ہیں آنکھیں کبھی کتابوں میں
ہے کبھی گم کتاب آنکھوں میں
چاند آتا ہے دیکھنے چھت پر
ڈھونڈتا ہے جواب آنکھوں میں

0
14
کیسا ہے اضطراب آنکھوں میں
کیوں ہیں مہکے گلاب آنکھوں میں
گم ہیں آنکھیں کبھی کتابوں میں
ہے کبھی گم کتاب آنکھوں میں
چاند آتا ہے دیکھنے چھت پر
ڈھونڈتا ہے جواب آنکھوں میں

0
3
آنکھ میں یار کی کہاں ہوں میں
اک چبھن آنکھ کی دھواں ہوں میں
خار راہوں میں ہیں بچھے جس کے
ایسی منزل کا کارواں ہوں میں
میرے چہرے پہ ہے تھکن جگ کی
ہر طرف گونجتی فغاں ہوں میں

0
26
خوشبو کی مثال آ گیا تھا
یوں تیرا خیال آ گیا تھا
آئیں جو محبتیں مقابل
اک جیسے جمال آ گیا تھا
کی آرزو یا تلاش ان کی
لب پر یہ سوال آ گیا تھا

0
21
جدائی کی وہ کوئی شب گزارنے آئی
ہمیں دریچہ ء دل سے پکارنے آئی
وہ ہم سفر ہے کسی گلستاں میں خوشبو کی
گلاب یادوں کے سارے وہ وارنے آئی
جگر کے رستے ہوئے زخموں پر ہے کیا گزری
جنوں میں عشق کا وہ روپ دھارنے آئی

0
13
کسی بھی شہر وفا سے صدا نہیں آتی
گل و چمن سے ہمیں اب صبا نہیں آتی
دیار درد میں آمد نہیں مسیحا کی
جو بڑھ کے ہجر سے پھر ابتلا نہیں آتی
حیات نام ہے دنیا میں اس حقیقت کا
گئے دنوں کی جو آواز پا نہیں آتی

0
10
محبتوں میں زخم ، درد زندگی میں بھر گیا
وہ خواب اک بنا رہا جو پلکوں میں ٹھہر گیا
بدن کی اڑ گئی جو خاک دور ، دور تک مری
نگل گئی زمیں مجھے ، غبار اک بکھر گیا
لبوں سے گر نکل گئی دعا بھی بے اثر گئی
میں دیکھ کے خضر کوئی کبھی رہ ہی سے ڈر گیا

0
22
ہجر کی آتش کو جھرنا چاہیے
آج بارش کو برسنا چاہیے
اس محبت کے سمندر میں ہمیں
ڈوب کے پھر سے ابھرنا چاہیے
الفتیں بھی ہیں ضروری زندگی
تیر اک دل میں اترنا چاہیے

0
22
شام جب دور ڈھلی ہوتی ہے
مجھ کو محسوس کمی ہوتی ہے
شمع جلتی ہے کوئی یادوں کی
دل کو جب تیری لگی ہوتی ہے
آن بستی ہے خیالوں میں وہ
دھوم اک جسکی مچی ہوتی ہے

0
16
کیسا یہ حسرتوں بھرا اپنا نصیب تھا
جب جل رہے تھے خواب سمندر قریب تھا
اپنی صدائیں تھیں بسی کانوں میں سب مرے
کتنا وفاؤں کا یہ سفر بھی عجیب تھا
دل میں مرے نہ تھی کوئی جاگی سی کشمکش
سب سے بڑا ہی جیسے میں اپنا رقیب تھا

0
17
دانستہ جبر کی وہ سفارت بھی کرتے ہیں
کچھ الفتوں کی آج تجارت بھی کرتے ہیں
جب دیکھتے نہیں ہیں عداوت کے کچھ سوا
سو نام ان کے اپنی بصارت بھی کرتے ہیں
محفوظ ہیں بساط پہ مہرے اسی طرح
جو روز بڑھ کے آگے شرارت بھی کرتے ہیں

0
31
ہے کرم تیرا ، مہرباں ہے تو
تو صدا دل کی ، سر گراں ہے تو
گل کی خوشبو ، بہار گلشن کی
عرش کا پھیلا ، اک دھواں ہے تو
مجھ پہ کھولے جو در عقیدت کا
اک وفا کا وہ ، امتحاں ہے تو

13
جگ میں خلوص کی کوئی عادت نہیں رہی
منزل سے آشنا بھی قیادت نہیں رہی
ایسا نہیں وفا کا ہی سودا نہیں رہا
اس جنس کی نگہ میں بھی قیمت نہیں رہی
حاصل اسے نہیں ہے قدر کی جگہ کوئی
اس کی دلوں پہ دیکھ حکومت نہیں رہی

0
8
سامنے جب بھی کبھی اپنے جوانی آئی
یاد بیتی ہمیں پھر شام سہانی آئی
نیند جب بھی نہ کبھی آئی مری آنکھوں میں
سینے پر اپنے ابھر چوٹ پرانی آئی
زندگی کی ہے بسر رنج و الم میں اپنی
بات ہم کو نہ کوئی پھر بھی بنانی آئی

0
13
کچھ لے گئے ہیں دور ہواؤں کے سلسلے
ہیں درمیاں ہمارے خلاؤں کے سلسلے
رستہ بدل کے چلنے کی عادت نہیں ہمیں
سو آ کھڑے ہیں بیچ جفاؤں کے سلسلے
جینا محال ہے ہمیں دنیا کی بھیڑ میں
دشمن ہیں راہ میں کئی دریاؤں کے سلسلے

0
23
میری قسمت کو اندھیروں سے بھری شام نہ دو
دل کے رشتوں کو مرے آج کوئی نام نہ دو
تم نہ پھر باندھو مجھے اپنی محبت میں یونہی
زندگی کو مری راہیں ، نیا کہرام نہ دو
نغمہ و نور کی محفل میں کسی ، دوست مرے
تشنگی کو کوئی مینا ، بھرا اب جام نہ دو

0
21
بن گئی بات نہ جانے کیا ، کیا
کر دیا شوخ ادا نے کیا ، کیا
میری آنکھوں میں سمٹ آئے ہیں
پھر محبت کے زمانے کیا ، کیا
بیش قیمت ہیں وفا کی گھڑیاں
ان میں مدفن ہیں خزانے کیا کیا

0
21
دن سے ملنے چلی ہے غم کی شب
آج پھر ڈھل گئی ہے غم کی شب
ٹوٹتی چاند کسی تارے پر
آن مجھ میں چھپی ہے غم کی شب
رات کے بھیگتے سے لمحوں میں
بام پر پھر سجی ہے غم کی شب

0
23
مقدر میں ہی گر اپنے زیاں ہے
بہاروں میں بھی پھر اپنی خزاں ہے
اجل بھی مہرباں ہم پر نہیں جو
کہاں پھر وہ نسیمے بوستاں ہے
ہے کتنا تلخ دنیا کا یہ لہجہ
محبت کا کہاں اس میں بیاں ہے

0
33
پکارتا ہے خون تازہ پھولوں کا
پڑھا ہے گلوں نے جنازہ پھولوں کا
رلا کے جو ہوئے ہیں گم فضاؤں میں
بنے ہوئے ہیں وہ سراپا پھولوں کا
بدن ہے چھلنی سارا ان کا گولی سے
مگر کھلا ہوا ہے چہرا پھولوں کا

0
25
تھمتا نہیں دل وقت بھی جنبش نہیں کرتا
بجھتے نہیں تارے ، میں سفارش نہیں کرتا
دیتا نہیں میں ترک تعلق کی وجہ بھی
رہتا ہوں میں خاموش ، گزارش نہیں کرتا
کہتے ہیں مجھے غیر میں سنتا نہیں جن کی
اجڑے کوئی اور اسکی میں خواہش نہیں کرتا

0
7
اک چاند آنکھ کا کوئی تارا نہیں ہوا
پھر عشق بھی ہمیں تو دوبارہ نہیں ہوا
سچ ہے عذاب زندگی تھی یہ بنا ترے
سچ ہے ترے بغیر گزارا نہیں ہوا
تنہائی سے ہی دوستی اپنی رہی سدا
اس کو بھی ساتھ اور گوارا نہیں ہوا

0
11
اک تعارف ہے لکھا اپنی میں نے تحریر کا
مجھ کو اندازہ ہے اپنے جرم کی تعذیر کا
اک محبت کی خطا مجھ سے ہوئی ہے زندگی
رخ بدل تو نے دیا ہے ہر مری تصویر کا
اپنی بربادی کا مجھکو غم نہیں دیکھو کوئی
درد ہے مجھ کو گئی ہر آہ بے تاثیر کا

0
8
آ بسی جو دھنک چار سو آپ کی
جاگ دل میں اٹھی آرزو آپ کی
چاند چہرہ مقابل ہے اب آپ کا
منتظر ہے نظر کو بہ کو آ پ کی
ہے خیالوں میں خوشبو کئی رنگ کی
اشک ہیں آپ کے ، آب جو آپ کی

0
19
رہ گزر میری ، ہر سحر تو ہے
ڈھونڈتی ہے جسے نظر تو ہے
روشنی تجھ سے ہے مرے دل کی
جس کو سوچا ہے رات بھر تو ہے
اور کچھ بھی نظر نہیں آتا
جس کو چاہا ہے اس قدر تو ہے

0
16
کہتے ہیں جہاں مے کش و بادہ نہیں ہوتا
خوش رنگ وہاں رت کا لبادہ نہیں ہوتا
چہروں پہ ضیا ہوتی ہے ساقی کے ہی دم سے
دستور وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا
لب تک بھی کبھی آتا نہیں حرف تمنا
اس درد میں کچھ شور زیادہ نہیں ہوتا

13
شب کے بجھتے سے چراغوں میں جلایا ہوا دل
منتظر پلکوں کی چوکھٹ پہ بٹھایا ہوا دل
میری آنکھوں میں بسایا ہوا اک چہرہ ہے وہ
شہر الفت کی فصیلوں پہ سجایا ہوا دل
لوگ محفل میں جسے شوق سے سنتے ہیں غزل
سوز کی تان پہ ، ہر گیت میں گایا ہوا دل

1
18
دل مرا سال ، وہی گزرے زمانے چاہے
پھر وہی یار ، وہی کھیل پرانے چاہے
مانگے دن ، رات رتیں وہ گئے موسم سارے
نیند ، وہ خواب مرے دیکھے سہانے چاہے
سانس جن سے رکی جاتی تھی مرے سینے میں
آج کہنے کو وہی بات ، فسانے چاہے

0
24
بے بسی میں ہوئے لاچار سے کیا ٹکرائے
بن گئی بات ذرا یار سے کیا ٹکرائے
دیکھتے ہیں ہمیں سب کھول کے کھڑکی گھر کی
پی کے پیمانہ سا دیوار سے کیا ٹکرائے
انکشافات ہوئے مجھ پہ حقیقت کے بھی
لوگ مجھ سے ، مری تکرار سے کیا ٹکرائے

0
14
دل عجب سا کوئی جھروکا ہے
جس کا منظر بڑا انوکھا ہے
جو مقابل دکھائی دیتا ہے
وہ حقیقت کہاں سے ہوتا ہے
آگہی مجھ کو دے تو بینائی
مجھ کو آنکھوں پہ کب بھروسہ ہے

0
16
اشک بن کے مری پلکوں پہ اٹک جو گیا ہے
میں نے کب نام وہ لب پر کبھی آنے دیا ہے
جب ذکر بھی کبھی آیا ہے ترا باتوں میں تو
انگلیاں بھینچی ہیں زخمی سا گریباں سیا ہے
مجھ سے کیوں آج چھڑاتی ہے تو دامن اپنا
زندگی تیرے لئے زہر بھی ہنس کے پیا ہے

0
6
گلوں سے باتیں کبھی ہم بھی رو برو کرتے
نذر یہ لمحے یوں گیسوئے مشک و بو کرتے
چراغ شب میں جلانے کو حسرتیں من کی
جبیں ، جگر سبھی اپنا لہو ، لہو کرتے
لٹا کے تجھ پہ دل و جاں خوشی سے سب اپنا
کسی حبیب کی اور ہم نہ آرزو کرتے

0
25
ہر شام تن پہ سرمئی پوشاک پہنی ہے
میرے لہو نے غم کی قبا ، خاک پہنی ہے
ہر پھول کی پتی پہ ہے بکھری ہوئی خزاں
تربت نے میری یہ ردا سفاک پہنی ہے
غم کر رہے ہیں چاند ستارے بھی میرا یوں
دیکھو فنا نے وسعتے افلاک پہنی ہے

0
16