Circle Image

Dr Shahid Siddique

@Shahid

ہیں کھیل کچھ عجیب سے خانہ خراب کے
دیتے ہیں اک دغا جو سمندر سراب کے
ہے عشق کے نگر میں کہانی نصیب کی
ملتے ہیں جام درد میں کڑوی شراب کے
اک خون آرزو سے ملیں کس کو ہمتیں
چلتے ہیں سلسلے یوں سوال و جواب کے

0
1
درد دل کی بھی کوئی بات نہیں کی جاتی
ڈوبتی آنکھوں سے برسات نہیں کی جاتی
بوند پلکوں پہ نمی کی بھی سنبھالو یارو
روز اشکوں کی یہ خیرات نہیں کی جاتی
آرزو دل کی نکالی نہیں جاتی من سے
سسکیوں میں بھی بسر رات نہیں کی جاتی

0
2
دل سے نکلی صدا سے ڈرتے ہیں
ہم تری بد دعا سے ڈرتے ہیں
فیصلہ کس کا کب ، کہاں ہو گا
قسمتوں کے خدا سے ڈرتے ہیں
امتحاں زندگی ہے اک لیکن
روز پر ہم قضا سے ڈرتے ہیں

0
3
دل جو تنہائی میں اک دل کو ملا کرتا ہے
پھول من میں کوئی ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
رقص کرتا ہے سجا چاند ، ستاروں میں بھی
شور موجوں کا سمندر میں ہوا کرتا ہے
چپکے ، چپکے سے جواں ہوتا ہے شب کا جوبن
جیسے چلمن سے اسے کوئی تکا کرتا ہے

0
5
بوند کو ترسا ہو جیسے کوئی صحراؤں میں
چاہتے ہم ہیں تجھے ایسے تمناؤں میں
ڈوبتے لال سے سورج میں کبھی شاموں میں
تکتے ہیں روز تجھے اجنبی دنیاؤں میں
عشق کی بھول کے تاریخ سبھی عاشق بھی
ڈھونڈتے ہیں وہ گئے یار کو ریکھاؤں میں

0
4