Circle Image

Dr Shahid Siddique

@Shahid

ہجر کا چابک لگانا چھوڑ دے
آج جانے کا بہانہ چھوڑ دے
دنیا الفت کے سوا کچھ بھی نہیں
تو نئی دنیا بسانا چھوڑ دے
یاد تڑپاتی ہے یاروں کی بہت
تو انہیں یوں آزمانا چھوڑ دے

0
2
ہم نے دنیا میں نہیں دیکھا کوئی
ہو جو اپنا نہیں ایسا کوئی
پیار سے اک جو بلاتا ہو ہمیں
سامنے وہ نہیں رستہ کوئی
یار کے سرد ہوئے لہجے میں تو
راکھ ہو کے نہیں جلتا کوئی

0
3
تیرے گیسو میں گرفتار رہے ہیں صاحب
ہم تو مقتل میں بھی تیار رہے ہیں صاحب
اپنی رگ ، رگ میں ہیں گھنگور اندھیرے لیکن
سحر کو ہم تری درکار رہے ہیں صاحب
بزم میں اب دے گا کیا ، کوئی گواہی اپنی
لوگ سب تیرے طرف دار رہے ہیں صاحب

0
45
سحر کے پردے میں چمک دیکھیں
کاش ہم تیری اک جھلک دیکھیں
سر جھکا کے جو اپنے سینے میں
مکھ کو تیرے پلک ، پلک دیکھیں
لکھیں جب بھی نزاکتیں تیری
بادہ عشرت کی ہم چھلک دیکھیں

0
7
جاں کا ملبہ اٹھا لیا میں نے
دل کا دیپک جلا لیا میں نے
درمیاں کی گرا کے ہر چلمن
یار کا غم چرا لیا میں نے
دھوپ میں زندگی بسر کر کے
من میں اسکو چھپا لیا میں نے

0
6
روز اک سلسلہ نکلتا ہے
روز دل راستہ بدلتا ہے
زندگی روز لوٹ آتی ہے
روز یہ کارواں بچھڑتا ہے
روز بنتا ہے اک نیا پیکر
روز من پتھروں میں ڈھلتا ہے

0
12
بن کے اپنا رہا گماں میں وہ
ایک ہی شخص تھا جہاں میں وہ
میری ہر بات کا تھا وہ محور
اک اثر تھا مرے بیاں میں وہ
جو ستارا تھا میرے دامن کا
دور رہتا ہے آسماں میں وہ

0
8
تیری زلفوں کے ہیں اسیر سبھی
در کے تیرے ہیں اک فقیر سبھی
دید کو دشت ہیں ترستے تری
گل و بلبل ہیں آب گیر سبھی
ربط کس کا جنوں سے ہے کوئی
رت بہاراں کے ہیں سفیر سبھی

0
10
یادوں کے کیسے سلسلے ہیں
جو پھول خزاں میں کھل رہے ہیں
خوشبو کوئی تتلی، بھنورے ، گلشن
سب عشق میں پھر سے جل رہے ہیں
اڑتے پتے کچھ صدائیں دیتے
دھیرے سے رہ اپنی چل رہے ہیں

0
9
کون کہتا ہے جوانی نہیں جاتی
شکل مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
ہے مقابل مرے آئینہ سا لیکن
دل سے تصویر پرانی نہیں جاتی
گل مہکتا ہے بدن میں کوئی اپنے
سانس سے رات کی رانی نہیں جاتی

0
9
یادیں ، لگا زخم ہے ، دیا ہے
الفت کا یہ تحفہ رت جگا ہے
دل آج بھی سوچتا ہے یہ ہی
کیوں مجھ سے کوئی مرا خفا ہے
میں کوئی قید میں ہوں اس کی
وہ جو کب کا بچھڑ گیا ہے

0
6
آنکھیں دے کے اشک بار ہم نے
دی گلوں کو اک بہار ہم نے
سب دھول اڑا کے ہم نے اپنی
تن ، من کیا ہے نثار ہم نے
ہوتی نہیں ہے کسے جاں پیاری
رکھا ہے مگر وقار ہم نے

0
9
اس سے پہلا سا نہیں ہے واسطہ
اب محبت کا یہی ہے راستہ
ہے بگولوں میں مرا یہ دشت اور
بحر دریا اور کوئی ہے مانگتا
لے گیا آنکھوں سے جو نیندیں مری
ڈوبتا ہے دل خدا نا خواستہ

0
5