Circle Image

Dr Shahid Siddique

@Shahid

کرم مجھ پر بھی ہو کچھ آپ کا سرکار اگر
مجھ کو حاصل ہو کوئی آپ کا دیدار اگر
میری جھک جائے جبیں یہ قدموں میں تیرے
اک سکوں دل کو ملے رکھ دوں میں رخسار اگر
اک ہو شفقت تری مجھ پر ، ہو عنایت تیری
مہربانی ہو تری مجھ پہ یہ ہر بار اگر

0
3
لال آنکھوں میں شفق کی نم ہے
آسمانوں پہ اسے کیا غم ہے
کیوں زمیں بھی ہے کوئی روئی سی
رنگ پھولوں کا بھی کیوں مدھم ہے
ہر طرف کالا دھواں ہے پھیلا
یار کی زلف بھی کیوں برہم ہے

0
3
تیری یادوں کے لئے لمحے گزارے نکلے
چاند کے ساتھ شگوفوں سے ستارے نکلے
بدلا موسم ، رتیں پھر آئیں محبت والی
پھول بھی ساتھ مرے زلف سنوارے نکلے
ہجر ان کا ہمیں لے آیا اسی ساحل پر
با رہا ڈوب کے ہم جس کے کنارے نکلے

0
2
13
چھیڑنا اک فسانہ چاہتا ہے
چھوڑنے کا بہانہ چاہتا ہے
عشق آساں نہیں ہے جھیلنا پر
روگ پھر بھی لگانا چاہتا ہے
آج بھی چاہتا ہوں میں اسے بس
وہ مگر اک زمانہ چاہتا ہے

0
6
ہم سفر میں ، نہ سفر جانتا ہوں
سو گیا ہے جہاں میں جاگتا ہوں
یار میں ڈھونڈتا ہوں دامن میں
جس کی خوشبو کو میں پہچانتا ہوں
اتنا میں اجنبی ہوں خود سے بھی
دیکھ کے آئینہ میں کانپتا ہوں

0
3
دور ہم شہر بساتے ہیں یوں انسانوں سے
کوچ کرتے ہیں چلو آج ہی زندانوں سے
مانگتی توبہ خدائی ہے خرد سے دیکھو
ہیں بھلے صحرا اسے کچھ بھرے دیوانوں سے
بن کے بیٹھے ہیں محبت کے پجاری خود میں
خار کھاتے ہیں جلی شمع جو پروانوں سے

0
7
آنکھ کے تیری سب اشارے ہیں
پھیلے جلوے سبھی پیارے ہیں
سب ہیں تحریر لالہ و گل پر
جن سے فردوس میں نظارے ہیں
تجھ سے ہیں زندگی کی خوشیاں بھی
تجھ سے ہی سارے استعارے ہیں

0
10
وفا کے سلسلے سب یاد رکھنا
ہوئے پھر تذکرے سب یاد رکھنا
رہ کھوئی یاد رکھنا الفتوں کی
بڑھے جو فاصلے سب یاد رکھنا
زمانے سے ملی ساری صعوبت
شکایت تم ، گلے سب یاد رکھنا

6
دل سے اپنے کبھی اس یار کی یاری نہ گئی
زلف جس کی بھی کبھی ہم سے سنواری نہ گئی
پوجتے ہم رہے تاروں میں بسی وہ رانی
آسماں سے جو زمینوں پہ اتاری نہ گئی
اک جنوں تھا جو محبت کا سمایا سر میں
جب ضرورت پڑی جاں اس میں ہماری نہ گئی

0
6
اک ذرا تجھ سے شناسائی کا
ذکر ہے پھر مری رسوائی کا
بات ہے مات کی میری لب پر
خوب چرچا ہے یوں پسپائی کا
شہر اپنا ہوا ہے مہماں سب
حال ایسا ہے پذیرائی کا

0
1
16
وفا کے سلسلے سب یاد رکھنا
ہوئے پھر تذکرے سب یاد رکھنا
رہ کھوئی یاد رکھنا الفتوں کی
بڑھے جو فاصلے سب یاد رکھنا
زمانے سے ملی ساری صعوبت
شکایت تم ، گلے سب یاد رکھنا

0
4
الفتوں سے بھری کہانی کی
بات ہے پھر اسی جوانی کی
ہیں کئی اور حکایتیں اس کی
اک حکایت ہے پیاس پانی کی
ہم سمجھتے تھے جس کو آساں سا
اک کہانی ہے خوں فشانی کی

0
9
پھولوں کی ادائیں دیکھتا جا
خاموش نگاہیں دیکھتا جا
ہر روز بلاتیں اپنی جانب
زلفوں کی گھٹائیں دیکھتا جا
پھیلا ہوا پیاسا دشت و صحرا
بے ربط صدائیں دیکھتا جا

0
7
پھولوں کی ادائیں دیکھتا جا
خاموش نگاہیں دیکھتا جا
ہر روز بلاتیں اپنی جانب
زلفوں کی گھٹائیں دیکھتا جا
پھیلا ہوا پیاسا دشت و صحرا
بے ربط صدائیں دیکھتا جا

8
اک دن جو رہا گردش ایام میں کوئی
وہ ڈوب گیا ہے اس ابہام میں کوئی
حل کوئی تو ہو گا ان آفات کا ایسا
ہر لمحہ ہے کیوں کثرت آلام میں کوئی
اک رب کا خلیفہ ہے انسان جو اس کا
پھر کیوں نہیں آدم ہی آرام میں کوئی

12
ستم دیکھتے ہیں ، الم دیکھتے ہیں
جہاں پر بھی تیرے کرم دیکھتے ہیں
جو ڈستے ہیں وہ ہم نشینوں کو اپنے
تری آستیں میں صنم دیکھتے ہیں
بدن پر سجے ہیں جو خوں سے ہمارے
بکے ایسے لوح و قلم دیکھتے ہیں

13