| اک اسی بات کی شکایت ہے |
| دور آدم سے کیوں ہدایت ہے |
| کب پشیماں ہے وہ گناہوں سے |
| کب رضا تیری اس کی چاہت ہے |
| خود خدا ہے وہ زمینوں پر |
| سجدہ گر ہو اسے عبادت ہے |
| سر صلیبوں پہ ہیں جوانوں کے |
| کلمۂ حق بڑی مصیبت ہے |
| بڑھ گیا ہے ستم غریبوں پر |
| آج پھر موسیٰ کی ضرورت ہے |
| کتنے دنیا میں ہیں وہ خوش قسمت |
| جن کو مر جانے کی سہولت ہے |
| خود کشی ہے حرام شاہد پر |
| زندگی جینا بھی تو وحشت ہے |
معلومات