ٹوٹے خوابوں کے کچھ نگر دیکھیں
الفتوں کے جو ہم سفر دیکھیں
روز و شب دیکھیں اشک کی باراں
کشت ویراں میں چشم تر دیکھیں
چھوڑ کے زندگی کو قسمت پر
شہر میں تنہا ہر بشر دیکھیں
داستاں ہے طویل بھنورے کی
عمر پر گل کی مختصر دیکھیں
بہتے دریا کی مستیوں میں ہم
ایک جلتا ہوا شجر دیکھیں
چوک میں دیکھیں ہم اگر ساغر
چاک دامن ، پھٹا جگر دیکھیں
عشق شاید خطا ہے دنیا میں
یار یہ کہتا در بدر دیکھیں
کیوں نہ شاہد اداس ہو جگ میں
رہ کٹھن دور ، اپنا گھر دیکھیں

0
2