| راحتیں آپ کی رکھیل میاں |
| قسمتوں میں ہے اپنی جیل میاں |
| طوق فولاد کا ہے گردن میں |
| ناک میں رسی و نکیل میاں |
| ہم کو آتی ہے عقل لاٹھی سے |
| سوچ لینے گئی جو تیل میاں |
| ہوں نہتا میں ، بولا یہ طائر |
| ہاتھ میں تیرے ہے غلیل میاں |
| تجھ سے کیا شکوہ میرا اے حاکم |
| جاں گئی میری ، تیرا کھیل میاں |
| قیمتیں آپ نے لگا کے سب |
| خوب ڈالی ہے داغ بیل میاں |
| موڈ بنتا ہے سب کا پیسے سے |
| ہے زباں جگ کی فار سیل میاں |
| رانی شاہد پلی ہے نازوں کی |
| بن کے دکھ فاختہ، تو جھیل میاں |
معلومات