جاں کی بازی لگا کے نکلا ہوں
زندگی میں لٹا کے نکلا ہوں
میں جھکا ہوں نہ جھکی ہے گردن
سر میں سولی چڑھا کے نکلا ہوں
چوما ہے پتھروں نے ماتھے کو
میں تو یوں سج سجا کے نکلا ہوں
آس تھی دل کو وفا کی جن سے
آنکھ میں ان سے بچا کے نکلا ہوں
ہے کسک کتنی جہاں میں رب کے
تیر میں سارے کھا کے نکلا ہوں
زخم دل کا لا دوا ہے لیکن
چارہ گر کو دکھا کے نکلا ہوں
شہر میں غم کی فضا ہے طاری
اور میں مسکرا کے نکلا ہوں
قد بزرگوں کے رہے ہیں چھوٹے
قد میں اپنا بڑھا کے نکلا ہوں
چاند اترا ہے فلک سے تارے
اس میں شاہد ادا کے نکلا ہوں

0
3