| جاں کی بازی لگا کے نکلا ہوں |
| زندگی میں لٹا کے نکلا ہوں |
| میں جھکا ہوں نہ جھکی ہے گردن |
| سر میں سولی چڑھا کے نکلا ہوں |
| چوما ہے پتھروں نے ماتھے کو |
| میں تو یوں سج سجا کے نکلا ہوں |
| آس تھی دل کو وفا کی جن سے |
| آنکھ میں ان سے بچا کے نکلا ہوں |
| ہے کسک کتنی جہاں میں رب کے |
| تیر میں سارے کھا کے نکلا ہوں |
| زخم دل کا لا دوا ہے لیکن |
| چارہ گر کو دکھا کے نکلا ہوں |
| شہر میں غم کی فضا ہے طاری |
| اور میں مسکرا کے نکلا ہوں |
| قد بزرگوں کے رہے ہیں چھوٹے |
| قد میں اپنا بڑھا کے نکلا ہوں |
| چاند اترا ہے فلک سے تارے |
| اس میں شاہد ادا کے نکلا ہوں |
معلومات