| سوچ میں سود و زیاں رہتا ہے |
| فکر اک شور سگاں رہتا ہے |
| ختم ہوتا نہیں ڈر دنیا کا |
| خوف آنکھوں سے عیاں رہتا ہے |
| روز لگتا ہے زمیں پر میلہ |
| روز گردش میں زماں رہتا ہے |
| مشت خاکی ہے مگر انساں کو |
| رب بھی ہونے کا گماں رہتا ہے |
| رت محبت کی کہاں رہتی ہے |
| عمر بھر کون جواں رہتا ہے |
| کب جڑا کرتا ہے ٹوٹا شیشہ |
| زخم مٹ جائے نشاں رہتا ہے |
| صورتیں ہیں کہ بدل جاتی ہیں |
| عشق کا دیپ تپاں رہتا ہے |
| دکھ کی رہتی ہیں فضائیں شاہد |
| شہر میں دل کے دھواں رہتا ہے |
معلومات