| سچ سے رشتہ کوئی جوڑا جائے |
| شہر اب جھوٹ کا چھوڑا جائے |
| کر کے ہمت کہیں بھانڈا اپنا |
| بیچ چوراہے کے پھوڑا جائے |
| بیڑیاں پاؤں کی جائیں کاٹی |
| ربط ہر بت سے بھی توڑا جائے |
| مان لی جائیں خطائیں ساری |
| خون دامن سے نچوڑا جائے |
| سامنے جگ کے جھکا کے گردن |
| یا بنا کاٹھ کا گھوڑا جائے |
| بند سب کر کے دریچے دل کے |
| پیچھے لمحوں کے نہ دوڑا جائے |
| عشق کو گر نہ گراں ہو شاہد |
| گل کلائی سے مروڑا جائے |
معلومات