چاند کی نگری ، فسوں ہو شاید
موڑ پر اگلے ، سکوں ہو شاید
آسرا تیز ہوا میں ہو کچھ
بیچ طوفاں کے ستوں ہو شاید
چاک دامن نہ ، سلامت ہو سر
پا بہ زنجیر جنوں ہو شاید
پھر سے بدلے کوئی قسمت اپنی
اک بپا رسم نگوں ہو شاید
ہو عمل ٹوٹ کے بننے کا بھی
سلسلہ کن فیکوں ہو شاید
دیکھ کے دشت وفا کا لکھا
من یہ کہتا ہے کہ یوں ہو شاید
ہو نہیں سکتا رفو یہ گھاؤ
زخم یہ دل کا دروں ہو شاید
صبح اترے جو صحن میں شاہد
لاکھ اختر کا بھی خوں ہو شاید

0
6