ہم سوچتے ہیں آج بھی عمریں گزار کے
برسوں گزر گئے یونہی لیل و نہار کے
لوگوں کے اژدہام میں کھو سی گئی وفا
معنی بدل گئے سبھی قول و قرار کے
ہر جام بھر گئی مرا بہکی ہوئی ہوا
دیکھا جو زہر یاد کا غم میں اتار کے
خوشبو اداس رات کی من میں اتر گئی
خاموش ہو گئے ہیں سمندر پکار کے
جھانکا ہے آنکھ کی کھلی روزن سے بار ہا
عادی ہیں کتنے آج بھی ہم انتظار کے
بننے لگے ہیں داغ ستارے فلک کے بھی
ٹھہرے ہیں جب سے دوست کسی بادہ خوار کے
ایسے لکھے ہیں درد نصیبوں میں یار نے
قابل کہاں رہے ہیں ، بھلا اعتبار کے
شاہد نے ہجر میں ترے کیا آہ اک بھری
لوٹے نہیں ہیں مڑ کے کبھی دن بہار کے

0
4