Circle Image

محمد عثمان

@MUsman8Hanif

یار تجھ سے تو مَیں بیزار نہیں ہوسکتا
تیرے رستے کی مَیں دیوار نہیں ہو سکتا
لوگ کہتے ہیں کہ دیدار نہیں ہو سکتا
پر زمانہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا
اس کا عاشق تو نکما ہے وہ بیکار سا شخص
پر وہ عاشق ہے تو بے کار نہیں ہو سکتا

0
3
عجب آج ان کے کرم ہو رہے ہیں
کہ مَیں اور وہ آج ہم ہو رہے ہیں
وہ جلوہ دکھاتے ہیں پلکیں جھکا کر
یہ کیسے ستم اے صنم ہو رہے ہیں
ترے ساتھ گزرے تھے لمحے جو خوش خوش
ترے بعد وہ سب الَم ہو رہے ہیں

0
3
تم اس کے ہو حبیب مقدر کی بات ہے
ہم تم ہوئے رقیب مقدر کی بات ہے
وہ مجھ سے ایسے روٹھی کہ پھر نا منا سکا
وہ نا ہوئے نصیب مقدر کی بات ہے
پلّے مرے نہیں ہے کوئی دولت و زمیں
پیدا ہوا غریب مقدر کی بات ہے

0
4
قاصد کے اُس کلام کے خنجر ہی لے چلیں
ان سے چھپا کے غم کے سمندر ہی لے چلیں
اب وہ کہاں پلائے گی چائے مجھے کبھی
چل ذہن میں بس ایک یہ منظر ہی لے چلیں
بیٹھے رہے ہیں برسوں اسی در کے سامنے
شاید وہ ایک دن کو مجھے گھر ہی لے چلیں

0
3
سب کو ہنس ہنس کے دئے جاتے ہیں پیغام
اور مری صدا کو ہی روک لیا جاتا ہے
اس کی سہیلی سے ملا تو یہ پوچھوں گا
اس سے ملانے میں تیرا کیا جاتا ہے

0
1
شُشش ایسے نا پکارو یوں نام نا لو ان کا
نام لینے سے عبادت میں خلل پڑتا ہے
میں ہوں خود دور ہوا اس سے بہ حکمِ دل و جاں
کیوں ہوا سوچ کے اب یار مَلل پڑتا ہے

0
2
سب دیکھتے واں میری روانی و بلاغت
گر سامنے وہ صاحبِ تقریر نا ہوتا
جو سنتا ہے میرا غم، ہے رونے وہ لگتا
اے کاش کہ یہ عشق جہاں گیر نا ہوتا

0
1
چہرے پر ہے یہ جو مسکان سجی سی عثماں
خواب میں آئی! وہی شور مچانے والی
آج کا جاگنا بےکار نہیں ہو پایا
اس کی تصویر ملی یار پرانے والی

0
2
سب رسم و راہ رسمی
ہر شاہ و جاہ چشمی
یہ عشق ہے دِوانہ
ہے یہ فیصلۂ حتمی

0
1
ہم خراب حالوں کو نسبت اُس گلی سے ہے
بے وجہ سی اک ہم کو رغبت اُس گلی سے ہے
پھر سے چل پڑے ہیں ہم کوئے یار کی جانب
ہے قبول وہ سب جو، تہمت اُس گلی سے ہے

0
6
ہم جو ہنستے ہیں، مسکراتے ہیں
سب ہی حیرت میں ڈوب جاتے ہیں
اُس شبِ غم کے لمحے جب مجھکو
یاد آتے ہیں، پھر ستاتے ہیں
ہم حسیں خوشگوار لمحوں میں
وسوسوں کے شجر بوئے جاتے ہیں

0
8
اب میں سونا چاہوں گا ماں
اچھے سے رونا چاہوں گا۔
ایک غبار ہے جسم و جاں میں
گھائل کرتا جاتا ہے جو،
آنسو چیخ رہے ہیں اندر
کوئی قلق ہے کھائے جائے

4
کون ہے آشنا ملنگوں کا
درد ہے لادوا ملنگوں کا
ہے محبت کا اک بھکاری یہی
تیشۂ التجا ملنگوں کا
ہر کوئی ہے مِرے یہ زخم بتائے
بس خدا آسرا ملنگوں کا

0
13
مجھے تم سے محبت ہو چکی تھی
تمہیں مجھ سے عداوت ہو چکی تھی
یہ قصہ جب مکمل ہو چکا تو
تری جانب خیانت ہو چکی تھی
یہ دل ہے چیخ کر رویا بہت سا
خبر تک سب شرارت ہو چکی تھی

0
6
اس شخص کے افسانے سناؤ نا کچھ تم
کیوں مر میَں مٹا وجۂ غَدر پوچھ رہا ہوں
میں خود بھی تو احسنِ تقویم ہوں تو پھر
وہ کون ہے میں جس کی خبر پوچھ رہا ہوں

0
7
سَڈے ہَتھ جو یار سَکُوٹَر آئے
اُکوں شہر لہُور گھما آئے
اساں پیسہ دی نئی فکر کِتی
بس یار کوں P.C رَلا آئے
اُندی نِکڑی نِکڑی خوشیاں تے
اساں پُھل دے ہار پَوا آئے

1
15
جب ماں پوچھتی ہے "تم ٹھیک ہو بیٹا""آنکھیں ایسی کیوں ہو گئی ہیں"اور الوداع کرتے ہوئے کہتی ہے "اپنی صحت کا خیال رکھنا""زیتون لیتے جاؤ، سر پہ مالش کرنا روز ۔"ان باتوں کی شدت اور محبت کی گہرائی سامنے کھڑے بیٹے کو( جو کسی لڑکی کے لیے آنسو بہاتا ہے ) زندہ درگور کر دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ انساں مرا ہوا ہو۔ یہ کشمکش آخر خود کیفیتی کی ایک ایسی زندگی سے روشناس کراتی جو بس خود اذیتی کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ بھلا کیوں!کیوں اس کرب کے باوجود وہ اپنے سامنے موجود مقدس ہستی کو اگنور کرتے ہوئے مسلسل اسی کے بارے سوچا جا رہا ہوتا ہے جس کے ہجر کی سوچ اسے شب کو جاگنے پہ مجبور کیے دیتی ہے۔ وہ ماں تو نہیں، پھر ماں سے زیادہ توجہ کی مستحق کیونکر ہو گئی!

0
16
تم نے پہلے مجھے غلط تولا
پھر مری سوچ کے الٹ بولا
خود سُپردی تو لاکھ ہے جانم
حق مہر تو فقط ہے اک تولہ
مل سہی آ کے چاند راتوں میں
پھر سنوں گا کہ "میں ترا ڈھولا"

0
9
کر لیے اب جو رابطے ان سے
بڑھ گئے یار سلسلے ان سے
اپنوں کی چشمِ نم کا پردہ رہا
سو ہوئے ختم سابقے ان سے
ان کے ملتے ہی بات جانے کی
کیسے رکھتا میں لاحقے ان سے

0
7
تھا میں اڑنے لگا اک اڑان
سے جو تھی وقت کی گود میں
گود میں دلنشیں سی لگی
پھر حقیقت عیاں ہو گئی
اور ذلت کی پرچھائیاں
چھا گئیں تب پتہ یہ چلا

0
10
تھا میں اڑنے لگا اک اڑان
سے جو تھی وقت کی گود میں
گود میں دلنشیں سی لگی
پھر حقیقت عیاں ہو گئی
اور ذلت کی پرچھائیاں
چھا گئیں تب پتہ یہ چلا

0
8
میں ترے دشت میں برساؤں گا ابرِ ٹھنڈک
تو مرے دشت میں آ کے مجھے سینے سے لگا
دونوں مل بیٹھ کے روئیں گے برابر جاناں
پھر جو مسکائیں گے اتنا کہ لگے سب ہے بچا

0
13
مجھ کو ملی ہے کیسی یہ بے کیف زندگی
کس سے کروں میں پیار، نہیں کوئی آدمی
اب تو ہے یار مجھ سے محبت بھی چِھن گئی
اب میں کہاں سے لاؤں وہ پہلی سی تازگی
بیٹھی ہے سامنے جو دغا باز چھوکری
ہاں یار غمزدہ ہے وہ، دکھ ہے مجھے یہی

0
12
یہ قرار آئے گا آہستہ سے
بس ذرا یاد سنبھالے رکھنا
وہ ہے نظروں میں سمایا سا بت
سانچہ انسان کا ڈھالے رکھنا

0
12
تری یادیں جو آتی ہیں ،محبت اب بھی باقی ہے
تری فرقت ستاتی ہے، محبت اب بھی باقی ہے
زمانے کے بہت دردوںں ،سبھی غمزوں کا مارا ہوں
میں پھر بھی لَو لگاتا ہوں، محبت اب بھی باقی ہے
سبھی الفاظ سوچوں میں بہت ہی خوبصورت ہیں
حقیقت سب بھیانک ہے ،محبت اب بھی باقی ہے

9
میرے احساس کی دنیا پہ تمسخر نہ کرو
میں تو الفاظ کو جذبوں کی سِپر دیتا ہوں
اپنے افکار کی وسعت کو بڑھانے کےلیے
ساری شب جاگ کے میں خونِ جگر دیتا ہوں

0
12
ملا اس سے میں جب جا کے
تو ایسا ہے لگا مجھ کو
کہ وہ میری شناسا ہے
کئی صدیوں کی پیاسی ہے
وہ مجھ کو ڈھونڈتی بھی ہے
مگر یہ تو عیاں ہے نا

0
10
ابھی تم سے محبت ہو رہی ہے
تجھے بھی میری عادت ہو رہی ہے
لڑیں گے پھر کبھی مانندِ دشمن
ابھی تجھ سے عقیدت ہو رہی ہے
ہواؤں میں بسی ہے اک اداسی
یہاں لیکن سیاست ہو رہی ہے

0
16
میں گاؤں کا اک غریب لڑکا
وہ اونچی p.u کی پڑھنے والی
مری حکایات کیا سنے گی
مری محبت پہ کیا کہے گی

0
9
کہا بھی تھا تجھ سے، ہٹ گیا ہے فوکس آخر!
سچ ہی کہتے تھے محبت سے ذرا دور رہو
اب جاؤ، غزل لکھو اور اردو پڑھاؤ سب کو
A.F.C ہوا ختم ہے اب تو،گھر کو ہی پھڑکو

0
9
ریت سے بت تو بنایا ہے حمایت کے لیے
اس سے نفرت کا بھی تھا شوق چرایا لیکن
ہم کو معلوم تھا خوابوں کا شجر جھوٹا ہے
اک دیا موم کا ہے پھر بھی جلایا لیکن

12
ریت سے بت تو بنایا تھا حمایت کے لیے
اس سے نفرت کا بھی تھا شوق چرایا لیکن
ہم کو معلوم تھا خوابوں کا شجر جھوٹا ہے
اک دیا موم کا ہے پھر بھی جلایا لیکن

0
13
سِگرٹوں کے پجاریوں کو وداع
اب میں تنہا بھی پی نہ پاؤں گا
زندگی لاکھ یہ اجیرن ہو
دھونکنی سے دھواں نہیں دوں گا
ساتھ پشتوں سے ایک وعدہ ہے
میں نشے کی اماں نہیں لوں گا

15
تم وہ پہلی لڑکی تھی
جس کو میں نے پہلے دن
راز اک بتایا تھا
خواب اک سنایا تھا
اب اگرچہ چرچا ہے
پھر بھی یاد رکھنا تم

0
14
میں اک خبیث شخص کو فنکار مان لوں
یار اس سے قبل جان خدا کھینچ لے مری
کوئی ہماری چاہ کا پروردہ تو بنے
تصویر اپنے دل میں کوئی کھنیچ لے مری

0
18
رکاوٹ مت بنو یونہی نہ کیدو بن کے آجاؤ
عداوت مت نکالو تم محبت کو سمجھ جاؤ
ابھی ہے قیس فارن میں ابھی پُنّوں بھی دفتر میں
اگر ملنا ہے سسّی سے تو جاؤ یار مل آؤ
ابھی فرہاد نے توڑے ہیں پتھر چار من ہی بس
اگر ہے داستاں لمبی ذرا جلدی سے بتلاؤ

0
11
یارِ صبا اٹھلاتے تھے
سب کتنا اچھا ہنستے تھے
دیر گئے ہم ساتھ میں تھے
جس شب بادل برسے تھے

0
13
ک----ع کے لیے
اک لڑکی ہے پنجاب کی
اک لڑکا پاکستان کا
سب کھاتے ہیں عثمان کے
اور ٹک ہے اُس گل جان کی
وہ بولے تو پھر چپ نہ ہو

0
10
اک لڑکی ہے پنجاب کی
اک لڑکا پاکستان کا
سب کھاتے ہیں عثمان کے
اور Tech ہے اُس گل جان کی
وہ بولے تو پھر چپ نہ ہو
اور لڑکا ہے بیزار سا

0
11
یہی ماہ تھا یہی وقت تھے
تو تھا ساتھ جب مرے جاں فزا
میں وفورِ غم سے تو چور ہوں
تو پلٹ کے آ مرے دل نوا

12
وہ سامنے اس کی کھڑکی ہے ان آنکھوں میں اک عکس بھی ہے
کشمیر سے لے کر منرو تک ہر ایک تصور پاتا ہوں
دنیا کے ہر اک سبزہ میں دلدار کا منظر ہوتا ہے
وہ گلگت ہو یا سکردو ہو بس تیرا تغیر پاتا ہوں

0
7
وہ سامنے اس کی کھڑکی ہے ان آنکھوں میں اک عکس بھی ہے
کشمیر سے لے کر منرو تک ہر ایک تصور پاتا ہوں

8
اپنی آنکھیں تو ملاؤ مجھ کو مے پینے دو
نظریں نہ جھکاؤ تم مجھ کو شرمانے دو

0
11
گرا ہر طرف خوں ہے لاشہ تڑپتی ہوئی ہے
ظلم کی آگ ابھی تک سُلگتی ہوئی ہے

0
9
جس دن سے میں آیا ہوں محبت پہ نظر ہے
لیکن میں کبھی ہجر میں ایسے نہ تھا رویا
بے وقت اگر سوؤں گا سب چونک پڑیں گے
اک عمر سے میں رات کو جلدی نہیں سویا

0
17
ایسی خاموش سحر تھی کہ ستارے بھی تھے چپ
ہم نے ظلمت کو بھی اِس طور بدلتے دیکھا
ہم بھی ٹکرائے تھے روما سے عقابوں کی طرح
ہم نے خندق میں محلات کو ڈھلتے دیکھا

0
6
کیوں دادِ حسن پائی ہے ہم سے کسی نے قبل
اب تو بتا کہ اس پہ بھی جھگڑا کرے گا کون
اس کی دلہن نئی ہے ،مری بھی تو ہے دعو*
اب باپ کی جگہ پہ خلیفہ بنے گا کون؟؟
*اصل لفظ فارسی زبان کا "دعوا" ہے جس کے معنی "جھگڑالو" کے ہیں

0
21
زمانے کے الم فرصت نہیں دیتے مری جاناں
ترا شکوہ بجا ہے جو میں ملنے کو نہیں آتا
مگر کچھ عارضے ہیں سابقے ہیںلاحقے ہیں سو
پتنگا تو نہیں ہوں میں کہ جلنے کو نہیں آتا

0
11
تری خوشبو سے نہ کیوں سب یہ گلستان ہوا
تو گیا چھوڑ مگر کچھ بھی نہ ویران ہوا
میں محبت میں عداوت کا نہیں ہوں قائل
میرا گلشن بھی تو نفرت سے بیابان ہوا
ایک دریا تھا جو چپکے سے بہا جاتا تھا
تو نے اک گھونٹ اچھالا تو یہ طوفان ہوا

0
27
ذہنی آواز آ رہی ہے ابھی
نبض جاں پھر سے چل پڑی ہے ابھی
اپنی الفت سمجھ نہیں آئی
بس اک آسودگی ملی ہے ابھی
چند نظریں مری طرف پلٹیں
ایک خیرات سی بٹی ہے ابھی

0
70