Circle Image

Abu umama Shah arariawy

@1999

غالب ثانی ؔ ١٩٩٩

اہلِ نصیب تھے وہ، تھا جن میں عشق و مستی
دم سے تھا جن کے مولی آباد تیری بستی
کرلے مجھے بھی یارب ان قدسیوں میں شامل
مانا کہ خاک ہوں میں خاکی ہے میری ہستی
حالات ہیں شکستہ ہرسو ہے خستہ حالی
ہم پر ہے طنزِ دوراں چھائی ہے کیسی پستی

7
تاریخ بھی حیراں ہے اس شخص کی فرقت میں
دنیا نے کبھی جس کو خاطر میں نہیں لائی
یہ بات بھی لکھ دی ہے تاریخ کے پنّوں میں
اس جیسی کوئی ہستی دوبارہ نہیں آئی
شکوہ ہے مجھے تم سے اے عالم کے نگہبابوں
وہ ہستی تری کیا ہے جو دنیا پہ نہیں چھائی

1
8
ہستی
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
تاریخ بھی حیراں ہے اس شخص کی فرقت میں
دنیا نے کبھی جس کو خاطر میں نہیں لائی
یہ بات بھی لکھ دی ہے تاریخ کے پنّوں میں
اس جیسی کوئی ہستی دوبارہ نہیں آئی

3
ہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
نیا ہردن زمانے کو نئی اک رہ دکھاتا ہے
غبارِ رہ گزر کو منزل ِ پیما دکھاتا ہے
سراپا گند ہو جس کی حقیقت اس کو یہ دنیا
زمیں پر رہ گزر لیکن فلک پر مہ دکھاتا ہے

0
2
ہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
نیا ہردن زمانے کو نئی اک رہ دکھاتا ہے
غبارِ رہ گزر کو منزل ِ پیما دکھاتا ہے
سراپا گند ہو جس کی حقیقت اس کو یہ دنیا
زمیں پر رہ گزر لیکن فلک پر مہ دکھاتا ہے

3
مرے دل کو کتنا ستایا گیا
مجھے بھی نہ آخر بتایا گیا
خبر تجھ کو پہلے بتائی گئی
جنازہ مرا پھر اٹھایا گیا
ہزاروں تمنا چھپی رہ گئ
ستم گہ مجھے ہی بنایا گیا

1
9
کہتا ہے مجھ سے ناصح اے عاشقِ زماں
کرتا ہے عشق کیوں تو پھرتا ہے در بدر
بھٹکا ہوا تو راہی نا آشنا سفر
منزل ہے دور تیری کھویا ہے رہ گزر
مجھ کو ہی دیکھ لے تو کتنا شریف ہوں
خلوت میں حور کو بھی دیکھوں نہ اک نظر

1
4
ہوتے ہیں شب و روز یہاں چشمہ سمندر
اٹھتے ہیں یہاں راکھ سے چقماق قلندر
ذروں سے بھی بنتے ہیں یہ خورشید و مہ انجم
صدیوں میں کبھی آتے ہیں اک آدھ سکندر
غالب ثانی ؔ
ابو اُمامـه شــؔاہ ارریاوی

1
5