Circle Image

Abu umama Shah arariawy

@1999

شاہی ؔ ١٩٩٩

ھَیَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ قَوْلِیْ إسْمَعْ
فَغَیْرَ دِیْنِ مُحَمَّدٍؐ لَاْ تَتْبَعْ
فَخَالِدُ ابْنُ وَلِیْدٍ وَابْنُ خَطَّابْ
لَأُسْوَۃٌ لَکَ فِیھِمَا اَیُّه‍َا الشَّابْ
لَحَاصِلٌ لَکَ قُوَّۃُ الْحَیْدَرْ
وَ عَزْمُ أبِی بَکَرٍ وَ نَظْمُ عُمَرْ

2
7
مضطرب دل ہے، پریشاں ہوں،جگر ہے زخمی
تیز دھڑکن ہے مری سانس ہے سہمی سہمی
ملتِ ختمِ رُسلؐ کیسے سہارا پاۓ
اب ہے اسلام روایاتی مسلماں رسمی
بزمِ فاروقؔ و علیؔ خالدؔ و ضرّارؔ نہیں
رزم گاہیں بھی نہیں اور نہ مومن رزمی

1
6
آ تجھ کو دکھاؤں، دلِ بیتابِ نظارا
اس قوم کو تسخیر کیا جس نے جہاں را
اب بحرِ مسلماں میں نہیں جوش و تلاطم
آشوبِ قیامت سے ہے محروم کنارا
نہ ان کے جوانوں میں ہی اب عزم و جنوں ہے
پِیروں میں بھی باقی نہ رہا جوہرِ دارا

1
16
توڑ ڈالی تھی غلامیت کی زنجیریں تمام
ان کے ذوقِ حریت کو ان کی جرأت کو سلام
مدنیؒ و محمودؒ و سندھیؒ،ضامؒن و قاسمؒ، رشیدؒ
جنگِ آزادی کے قائد ملک و ملت کے امام
ہیں سعیدؒ و احمؒد و امداؒد و جوؒہر ،فضلِ حقؒ
شہ ولیؒ اللّٰه، کفایؒت، شاہ اسمؒاعل، کلاؒم

1
16
ملک و ملت کی بقا ممکن نہیں اے نوجواں
جب تلک پیدا نہ ہو تجھ میں اداۓ جانفشاں
جانفشانی سے ہی باغِ دہر میں فصلِ بہار
جانفشانی سے ہی گلشن میں ہے شاہیں شادماں
لذتِ صحرا نوردی قیس سے پوچھے کوئی
پھرتا ہے کیوں مضطرب پروانوں سا بیتاب جاں

1
13
جس دل میں عزم و جنوں نہ ہو وہ دل بھی اے دل کیا دل ہے
جو دریا تلاطم خیز نہ ہو بہتر تو اس سے ساحل ہے
محفل میں جیالوں کے چرچے ہر آن تو ہوتے ہیں لیکن
دیکھو کہ جیالوں سے یکسر محروم تری یہ محفل ہے
وہ دشتِ جنوں پرور مجنوں کیوں پھرتا رہے شوریدہ سر
وہ قیس کہاں سے پیدا ہو لیلی سے تہی جب محمل ہے

1
12
سنو ! اے قوم کے لیڈر ! سیاست کیوں ضروری ہے
مدارس خانقاہیں تو فقط ایماں کا قلعہ ہے
جہاں میں اہلِ ایماں کی بقا کا راز کس میں ہے
مسلماں کی جہاں میں قوتِ پرواز کس میں ہے
کہ غیر از ایں ہاں ، شاید محفلِ ہستی ادھوری ہے
سنو ! اے قوم کے لیڈر ! سیاست کیوں ضروری ہے

1
13
دریا میں تو رہتا ہوں پلتا ہوں بھنور میں میں
نایاب سا گوہر ہوں یوں اہلِ نظر میں میں
خوشبو میں مری مالی ! گلشن کو نہا ڈالو
وہ گل ہوں کہ کھلتا ہوں اک بار شجر میں میں
معلوم نہیں مجھ کو منزل ہے کہاں میری
سو اس لیے رہتا ہوں ہر آن سفر میں میں

1
20
دم بخود حیران و ششدر تھے فرشتے چار سو
عرش کی جانب ہے کیسا شور و غوغا ہاۓ ہو
سوچتے ہیں آخرش کس دل کی ہے آہ و فغاں
ہوتے ہیں سارے فرشتے عرش کی جانب رواں
دیکھتے ہیں صورتِ سیماب قلبِ ناتواں
جل رہا ہے سوزشِ غم سے وہاں کوئی جواں

1
12
*ایک نوجوان کی دعا*
کیوں ریاضِ دہر میں پژمردہ رُو اک گل ہوں میں
گلشنِ ہستی میں کیوں آشفتہ سر بلبل ہوں میں
اک طرف روتی ہیں آنکھیں غارتِ دیں دیکھ کر
اک طرف نالاں ہے دل کہ ہوں میں اُس سے بے خبر
اک طرف محبوب سے محبوب تر محبوب دیں

1
17
آنکھوں سے مری پردۂ اسرار اٹھادے
کیا کیا ہیں نہاں عالمِ امکاں میں دکھادے
جیتے ہیں زمانے میں مگر کیسے جیالے
انداز و شیم طرزِ امم مجھ کو سکھادے
آ لے جا مجھے گوشۂ طیبہ میں تصور
دیدارِ شہِ دیں سے نگاہوں کو جِلادے

1
8
آسماں خاموش ہے خاموش ہے ارضِ حرم
ہے مسلمانوں کی دنیا آج محرومِ کرم
جو جفاکش تھے جہاں سے وہ تو رخصت ہو گئے
عیش و آسائش کے خوگر ، رہ گئے اہلِ نعم
خانہ ویرانی مگر کہ اپنے ہاتھوں ہی ہوئی
کر گیا خاکسترِ در اک چراغِ صبحدم

3
23
اے نازشِ محبت ! خوش شکل خوبرو
جس کے نگاہ و دل کے چرچے ہیں چارسو
مجنوں تری حقیقت بن جاۓ نہ فسانہ
پھرتا ہے جابجا کیوں رہتا ہے جو بجو
کہتا ہے اک خردمند اے سرفروشِ دیں
بزدل صفت جواں ہی ہوتے ہیں صلحجو

12
ہے شاعرانہ فطرت ہر سو ہو واہ واہ
تصدیق ہر طرف ہو خوب و جیاد کی
ہر شعر پر ہو داد و تحسین بے شمار
لاکھوں ہزاروں خواہش ہے مستزاد کی
اک پیر زادہ مجھ سے ہوتے ہیں ہم کلام
کرتے ہیں بات فتنۂ واہِ بباد کی

0
1
17
جو ظلمتِ شب کا چیر دے دل وہ نورِ قمر تو پیدا کر
تاریک جہاں تابندہ ہو جس سے وہ سحر تو پیدا کر
گلشن میں بہت مل جائیں گے کنجشک و فرومایہ کرگس
بیباک جفاکش مت والے شاہیں کا جگر تو پیدا کر
جو سرد لہو کو گرما دے ، خاکسترِ دل کو دہکا دے
کہ سوزِ جگر کی گرمی سے وہ شعلہ، شرر تو پیدا کر

1
23
نہ آیا آج وہ ، محفل نے جس کی حسرت کی
کہ تاب لاتی نہیں بزم جس کی صورت کی
ہوا ہوں اب کہ پریشان اس کی فرقت سے
مگر مجال ہے ملنے کی کچھ بھی جرأت کی
ہوں دربدر میں اسیروں سی زندگی اپنی
جفا یہ کیسی بلا کی ہے اس نزاکت کی

1
22
صفت آزاد خاکی ہوں رہوں کیوں کر میں بندش میں
میں شاہؔی ہوں روایاتِ اسیری توڑ جاؤں گا
دلِ کوہِ ہمالہ کو بھی دہلادے جو ہیبت سے
بنا کر ذرۂ خاکی کو میں شہ زور جاؤں گا
مرے بپھرے ہوئے موجوں کی طغیانی ذرا دیکھو
کہ تند و تیز دریا کا بھی میں رخ موڑ جاؤں گا

1
15
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھ اے پاسباں
نوجوانانِ امم کو پھر صفت اجداد کر
طفلِ شاہیں کو سکھا دے پھر سے شاہیں کا سبق
خوف و دہشت کی فضا سے گلستاں آزاد کر
عظمتِ رفتہ سنا دے، دے انہیں دیرینہ خو
دے عقابی روح ان کو ہمسرِ صیاد کر

17
آ تجھ کو میں بتاؤں اے قلبِ عاشقانہ
اک جاں گسل حقیقت اندازِ شاعرانہ
کیوں کر ہو تجھ میں پیدا افکارِ قائدانہ
اقبالؔ سے گریزاں ، غالبؔ کا ہو دیوانہ
الزامِ طرفداری مجھ پر تو ہوں گے لیکن
پوچھو کسی خرد سے ہے کون جاودانہ

1
18
آہ شیخ الہنؒد تیری روح کو پہونچے قرار
آج تیرے جانشینوں میں نہیں وہ دل فگار
ڈھونڈتی ہے آنکھ میری سرفروشوں کو ترے
کون ہے جانباز تیرا ملک و ملت پر نثار
اولاً تو قعرِ دریا میں نہیں کوئی گہر
ہوں بھی گر تو کون ہے غواص اور گوہر نگار

1
29
دیکھ ناداں اندلسؔ، بغدادؔ کا انجام دیکھ
دے رہا ہے ہندؔ بھی تجھ کو وہی پیغام دیکھ
آگہی تاریخ سے کچھ بھی نہیں واللہ تجھے
ہے سرِ فہرست تیرا اے مسلماں نام دیکھ
کل تلک تو عالمِ بالا میں تیری دھوم تھی
آج اپنی نا گہی کا ہاۓ تو انعام دیکھ

1
34
اک نوجواں ہے میرے تخیل پہ جانثار
پڑھتا ہے شعر میرا ہوتا ہے اشک بار
کہتا ہے شاہؔ صاحب کچھ کیجیے ذرا
فریاد دردِ دل کی لایا ہے خاکسار
تحریر کی کشش سے پتھر بھی موم ہے
اشعار بھی ہیں تیرے دلکش وہ دل نگار

2
18
تو زینتِ عالم ہے بلندی کا ہے اختر
پھر کیوں ہے پڑا پستیٔ ارضی کے تو اندر
کس دور میں جیتے ہو خبر کچھ بھی ہے تجھ کو
ہوتے ہیں کہاں تیری نگاہوں پہ اجاگر
ڈر جاتا ہے تو ہلکی سی دریا کی لہر سے
ہوتا تھا کبھی تو بھی تو طوفان کا پیکر

1
18
یہ داستاں ہے میری ان غمزدہ دنوں کی
آئی تھی جب مصیبت مجھ پر منوں ٹنوں کی
ویران تھا مرا دل خانہ خراب تھا میں
کہتے ہیں جب اسیرِ عہدِ شباب تھا میں
اس وقت میں جہاں سے کچھ آشنا نہیں تھا
میرے لئے جہاں میں کوئی اماں نہیں تھا

1
14
جلا کر شمعِ ہستی گلستاں کو خاک کر دوں گا
گلوں کو پھول پتوں کو خس و خاشاک کر دوں گا
مجھے روکو نہ اے بزمِ جہاں اس جانفشانی سے
میں اپنی سوزِ پنہا سے جہاں کو راکھ کر دوں گا
مجھے رہنے دے اپنے آپ میں اے ہم نشیں ورنہ
جنونِ عشق میں آکر میں سینا چاک کردوں گا

1
30
توڑ ڈالے تھے غلامیت کی زنجیریں تمام
ان کے ذوقِ حریت کو ان کی جرأت کو سلام
مدنیؒ و محمودؒ و سندھیؒ،ضامؒن و قاسمؒ، رشیدؒ
جنگِ آزادی کے قائد ملک و ملت کے امام
ہیں سعیدؒ و احمؒد و امداؒد و جوؒہر ،فضلِ حقؒ
شاہ ولیؒ الله، کفایؒت، شاہ اسمؒاعل، کلاؒم

12
ناداں ہے تری قوم کا وہ صاحبِ تدبیر
خنداں ہے تمسخر کی زباں جس پہ بھی تقدیر
کہنے کو ہیں قائد کہ مگر دیکھ ذرا تو
قائد کو ترے خود کی بھی آتی نہیں تعمیر
وہ کیسے کسی قوم کو بیدار کرے گا
جس سے کہ بھری بزم میں ہوتی نہیں تقریر

1
31
یہ جرأتِ رندانہ ، اندازِ ملوکانہ
بے خوف و خطر جینا ہے طرزِ مسلمانہ
اس موت سے ملنے میں کیا وصل کی راحت ہے
جس موت کی منزل ہو معشوقۂ مستانہ
کیا قلب و جگر تو نے اے رند کہ پایا ہے
جاں سوز صبوحی سے لبریز ہے پیمانہ

1
45
کیا نہیں میرے لیے کوئی وطن کوئی زمیں
میں پہیلی تو نہیں ہوں جو نہ سمجھے ہم نشیں
کس جہاں آباد میں پیدا ہوا ہوں اے خدا
کیوں سمجھتی ہے یہ دنیا "میری ہستؔی" کچھ نہیں
محوِ گردش مہر و انجم ہیں مرے افلاک میں
کہکشاں ہے مجھ پہ شیدا ہے فدائی مہ جبیں

13
آہ ، حسرت ، بزمِ ہستی ! داستاں کیسے کہوں
دل پہ جو گزری قیامت اس کو میں کیسے لکھوں
دربدر کی ٹھوکریں ہیں، زخمِ دل بھرتا نہیں
کر گیا برباد مجھ کو آخرش میرا جنوں
مضطرب ،بے چین فطرت ،ہوگئی ہے زندگی
کوئی ہے غمخوار میرا مجھ کو جو لا دے سکوں

0
9
ہے جوانوں کے لئے بس کہ یہی دورِ شباب
آ کے گردش میں محبت کا یہ کرتے ہیں طواف
آگہی جب بھی ہوئی دین و شریعت سے انہیں
آرزوؤں کا امیدوں کا یہ بن بیٹھے مطاف
جب بھی ہوتا ہے جنوں مست ، دلِ مومن میں
توڑ آتے ہیں زمانے کے ھبل ، لات و مناف

1
17
اے وارثِ پیغمبرِ محمود و محمد ﷺ
سوچا ہے کہ کیوں قوم تری سب سے ہے نیچے
ملت کی حفاظت کے لئے پاس بھی کچھ ہے
تدبیرِ سیاست میں تجارت میں ہو پیچھے
تقلید میں اندھے ہو یا محرومِ خرد ہو
یا شوق ہے تا عمر رہو غیر کے چمچے

18
حیف ہے وارثِ قرآن و فقیہانِ امم
ملک و ملت کی حفاظت میں جو پیچھے ہیں
یاد کر امتِ مرحوم پہ کیا گزری ہے
دہر میں اٰلِ سلاطین پہ کیا بیتے ہیں
چھوڑ کر راہِ سیاست کو مسلمانِ عجم
کیسے محرومِ تماشائی بنے بیٹھے ہیں

24
ہونٹوں پہ ہنسی دل میں یہ رکھتے ہیں کدورت
آرا بھی دیے جاتے ہیں کرتے ہیں نصیحت
اے نغمہ سرا ذکرِ حسینہ ہو غزل میں
کہتی ہے مجھے آکے یہ یاروں کی جماعت
اس دور میں مجنوں کی محبت کے ہیں چرچے
دل شوخ حسینوں سے لگا چھوڑو حکومت

13
افکار و خیالات و خرد کے نظریات
اسرار کے پردے میں چھپاتی ہیں روایات
آتے ہیں خردمند بتاتے ہیں روایات
بچوں کو جوانوں کو سکھاتے ہیں روایات
گو دین و شریعت کا ہو نقصان و لیکن
ماضی کے تسلسل کو یہ کہتے ہیں روایات

2
29
ہمیشہ ہر گھڑی ہر لمحہ فکرِ آرزو رہنا
بہت مشکل ہے دے کے دل کسی کو سرخرو رہنا
عجب لذت ہے اے دل ! وصل سے بیزار رہنے میں
فراقِ یار میں ہردم سراپا جستجو رہنا
کبھی تو رنگ لاۓ گا تجھے پانے کی چاہت میں
مرا یوں دربدر پھرنا مرا یوں کوبکو رہنا

14
دل چیخ اٹھا سوز و تب و تاب سے آخر
میں کیوں نہ ہوا خالدؓ و حیدرؓ کا معاصر
جس راہ کا رخ شوکتِ اسلام فقط تھا
اس راہ کا میں کیوں نہ ہوا رہرو، مسافر
یہ حسرتِ دیرینہ مری بر نہیں آئی
میں ہو نہ سکا دینِ محمدﷺ کا مہاجر

1
15
آتی ہے ندا مجھ کو یہی کوہ و کمر سے
تہ خانۂ ہستی سے یہی قلب و جگر سے
جو دردِ محبت میں چلے آتے ہیں آنسوں
اک سیلِ رواں بن کے گزر جاتے ہیں در سے
میں بندہ سیاسی ہوں سیاست میرا مذہب
مت دیکھو مجھے فرقہ و مسلک کی نظر سے

9
. زیـب تن کر کے یہ اجـداد کا انـدازِ کہـن
. شیر و شاہین کی صورت بھی دکھاتی ہے یہ
. تـصـویـر
( انظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال)
درسِ آئینِ جہابانی سکھاتی ہے یہ
اپنا گزرا ہوا کل یاد دلاتی ہے یہ

20
لئے آزردہ دل جب میں مزارِ یار پر پہنچا
نگاہیں اشک ریزاں تھیں تھا دل بیتاب سینے میں
صدا رک رک کے آتی تھی مری مضطر سی دھڑکن سے
بنا تیرے مرے ہمدم مزہ کیا میرے جینے میں
ترے دل کش تصور سے چھلک جاتا ہے پیمانہ
پیوں کیا میں اے ساقی ! کیا بچا ہے میرے مینے میں

13
سفر نامہ
سجی تھی محفلِ شاہی تھا بیٹھا اپنے یاروں میں
ہو جیسے چاند روشن آسماں کے بیچ تاروں میں
سکوتِ شب کو توڑا چھیڑ کر کے داستاں ایسی
تھا چرچہ جس کا شب کے قصہ گو کے تاجداروں میں
وہ نظارہ مگر کیسے بیاں تجھ سے کروں سامر!

1
11
باقی ہے بھلے جسم مگر جان نہیں ہے
یہ زندہ و جاوید کی پہچان نہیں ہے
جو دل کہ شناسائے غم و رنج نہیں ہے
وہ سنگ مگر ہے دلِ انسان نہیں ہے
سوچو تو ذرا قوم کے غیور جیالو
کیا ہے کہ خدا کے یہاں کچھ مان نہیں ہے

1
17
ہستی میں اپنی جو تم کچھ بھی کمال رکھتے
پتھر دلوں میں بھی تم شوقِ وصال رکھتے
کچھ مصلحت پسندی سے تم بھی کام لیتے
اپنی روایتوں کا کچھ تو خیال رکھتے
اپنی ہی لاج رکھتے اے قوم کے لٹیرو !
چہرے کی سرخیوں میں کچھ تو جلال رکھتے

1
17
عالَم کی قیادت سے جو مومن ہے کنارا
ہے اس میں سراسر تری دنیا کا خسارا
ہے بس کہ یہی غیرتِ ایماں کا تقاضہ
کافر کی اطاعت نہ ہو مومن کو گوارا
ہاں ، مردِ جہاں گیر و جہاں بان و جہاں دار
یورپ کی غلامی پہ نہیں کرتا گزارا

2
23
لَــوْلَاكَ لَـــمَا خَـــلَقْـتُ الأفْــــلَاكَ
کہنے کو تو کہتے ہیں یہ سبھی کہ عشق حسین تماشا ہے
لیکن کہ وجودِ عالم ہی سمجھو تو عشق سراپا ہے
محبوب کے قدموں میں قرباں کرنے کو کہیں سے کیا لاؤں
خورشید و قمر تارے یہ سبھی یہ بزمِ جہاں بھی ذرا سا ہے
رندوں کو پلانا خونِ جگر یہ خاص صفت ہے شبیری

1
43
اے شمس و قمر کوکب و انجم کے محافظ !
ہر ذرہ تجھے دیتا ہے تعلیمِ خلافت
چھوڑو بھی اسے جانے دو اے حسن کے طالب!
کب تک ترے جلووں میں پلے ناز و نزاکت
اے مردِ جواں! خود کو ہلاکت سے بچاؤ
ہے شاہیں جوانوں کے لئے حسن ہلاکت

1
19
اٹھو بزم کے شہسوارِ قلم
جہالت کے سب توڑ ڈالو صنم
لے آ ذوقِ تحریر سے انقلاب
گئی صبحِ غفلت گئی شامِ غم
صحافت نگاری، مضامیں، مقالہ
یہ ہے تیری منزل اٹھاؤ قدم

1
37
میں شوخیِ گل بہار ہوتا اگر اسے مجھ سے پیار ہوتا
خزاں کے رت میں گلاب لہجہ بناۓ میں استوار ہوتا
فضاۓ محرومِ گلستاں ہوں مرا نشیمن کہیں نہیں ہے
جو ریگزاروں میں نہ بھٹکتا چمن میں بادِ بہار ہوتا
میں بلبلِ نغمہ ساز نے ہوں ؟ چمن میں جانے سے روک ڈالا
برا مگر اس پہ کیا گزرتا چمن سے گر ہم کنار ہوتا

1
24
علم کے اس چمن میں ہے اور اک چمن
جس کو کہتے ہیں ہم آپ سب انجمن
جس کی آغوش کے تشنگانِ علوم
آسمانوں کو چھوتے ہیں مثلِ نجوم
جس طرح ماں کے آغوش میں ہم پلے
جس طرح ماں کے ساۓ تلے ہم بڑھے

1
34
خمیرِ زاغ و کرگس سے تنِ شہباز پیدا کر
صفوں میں اپنے بلبل ! بے خطر جانباز پیدا کر
نہیں کچھ بھی ترے آگے فلک کی رفعت و وسعت
اے شاہیں! بال و پر میں قوّتِ پرواز پیدا کر
بہت انداز دیکھیں ہیں زمانے کی نگاہوں نے
نگاہیں جس پہ جم جائیں تو وہ انداز پیدا کر

1
38
یونہی خاموشیوں کی ادا کب تلک
یوں تماشائیوں کی صدا کب تلک
ہاتھ شمشیر سے ہیں تہی اور ہم
ہر گھڑی ہوں بدستِ دعا کب تلک
ظلم کی انتہا ہوگئی ہے یہاں
ظلم سہتے رہیں گے خدا کب تلک

2
38
آشناۓ رنج و غم ہے زخم سے دل چور ہے
بزمِ ہستی بھی خدایا ! درد سے معمور ہے
ہستیِ نوخیز ہے یہ دردِ دل کس سے کہے
خلوت و جلوت ہو یہ دل غمزدہ رنجور ہے
دفترِ ہستی کو گرچہ اک عمل حاصل نہیں
قلبِ محرومِ عبادت کو امیدِ حور ہے

1
22
میں جواں ہوں میرے سینے میں حسیں تصویر ہے
پر مگر محبوب مجھ کو قوم کی تعمیر ہے
یہ ذرا سا ہند میرے شوق کو بھاتا نہیں
میرے آگے منتظر تو عالمی تسخیر ہے
ہو اگر مرشد کوئی تو ذرہ بھی خورشید ہے
خطۂ دوزخ نما بھی وادیِ کشمیر ہے

1
17
میں جواں ہوں میرے سینے میں حسیں تصویر ہے
پر مگر محبوب مجھ کو قوم کی تعمیر ہے
یہ ذرا سا ہند میرے شوق کو بھاتا نہیں
میرے آگے منتظر تو عالمی تسخیر ہے
ہو اگر مرشد کوئی تو ذرہ بھی خورشید ہے
خطۂ دوزخ نما بھی وادیِ کشمیر ہے

1
14
مسلسل جڑ کے کڑیوں سے صفت زنجیر پاتا ہے
مصائب ہی سے انساں صورتِ شمشیر پاتا ہے
رفیقِ راہ ہوجائے سفر میں نا شناسا جب
تو راہی ایسے لمحوں میں ہی خود میں ویر پاتا ہے
امیدِ غیر سے چلتا نہیں ہے کاروانِ زیست
بھروسہ جب خودی پر ہو خرد تدبیر پاتا ہے

1
37
اٹھ کے محفل سے مری وہ شخص جاۓ
دردِ ملت جس کے دل کو نہ رلاۓ
کوئی ہے ملت کی خاطر جو جواں
صبحِ گاہی میں اٹھے آنسوں بہاۓ
جس کے فردوسِ تخیل میں بہار
فکرِ گلشن ہر گھڑی جس کو ستاۓ

2
23
ساری مشکل امتِ مرحوم کی آساں کرے
آسماں پر مثلِ انجم قوم کو تاباں کرے
ہے کوئی مردِ مجاہد سینۂ عالم میں جو
پوری دنیا ملتِ مظلوم پر قرباں کرے
بنجر و ویران صحرا میں کھلاۓ پھول جو
قحط سالی کے زماں میں رحمتِ باراں کرے

2
16
انجم کا ہم نشیں اب کوئی جواں نہیں
ہو بھی تو فکرِ ملت سے جاوداں نہیں
وہ قوم آسماں پر کیوں کر کہ جگمگاۓ
قسمت کے جس کے تارے کچھ ضو فشاں نہیں
اے دل! اگر گلہ ہو تو کیا کہوں تجھے
ملت کا، قوم کا تو کیوں پاسباں نہیں

3
37
عطا تجھ کو جنت ہو اے پیارے دادا
عطا تجھ کو جنت ہو اے پیارے دادا
خدا تجھ پہ رحمت کرے اور زیادہ
عطا تجھ کو جنت ہو اے پیارے دادا
.
سفر آخرت کا ہو آسان تجھ پر

1
51
نگاہیں کیوں مگر کرتی مری گوہر فشانی ہے
دلِ فولاد لیکن آج محوِ خوں چکانی ہے
دلِ غیور کہتا ہے غموں کے بھیڑ میں مجھ سے
نہ ٹپکے آنکھ سے آنسوں اگر تو خاندانی ہے
سبھی کو اس جہانِ بے ثباتِ کن سے جانا ہے
یہ آنا جانا تو اے دل ! زمانے کی نشانی ہے

1
30
سسکتا دل مرے سینے میں، کب سے جان مضطر ہے
امید و حسرت و افسوس و ارماں کا یہ پیکر ہے
ہوا بھی ننگ و عریاں ہے تصور کے گلستاں میں
ہیں سایے ، دھوپ ،بارش اور عجب پر کیف منظر ہے
شکوہِ کفر دیکھے تو بہاتا ہے یہ خونیں اشک
دلِ سیماب لیکن آج حیراں اور ششدر ہے

2
40
نہیں ہے کارگر ظلمت میں تاروں کی تنک تابی
شبِ تاریک روشن ہے وہ جس سے نورِ مہتابی
نہ ہو محبوب گر ملت تو کیا حاصل زمانے میں
جوانوں کی نگہبانی سے ہے مذہب کی شادابی
مسلماں کب شعورِ آگہی سے آشنا ہونگے
دلِ رنجور کو لیکن ستاتی ہے یہ بیتابی

2
34
آنکھوں میں اشک باری ہونٹوں پہ تشنگی تھی
مکہ سے جب مدینہ ان کی روانگی تھی
کعبہ نگاہ میں تھا اور دور جارہے تھے
دل میں ہزار حسرت ، رنجور جا رہے تھے
لیکن کسے خبر تھی جو دور جارہے ہیں
وہ شہسوار پوری دنیا پہ چھا رہے ہیں

1
22
صفاتِ خالدؔؓ و حیدؔؓر ہو کر خوۓ عمرؔ ؓپیدا
ہو زورِ بحر و بر تجھ میں سلاطینی نظر پیدا
جو جل کر راکھ ہو جائے ترے شعلوں کی گرمی سے
کہ شعلہ بار چنگاری ہو کر آہِ سحر پیدا
یہودِ ہندؔ سے ہرگز مسلماں بچ نہیں سکتے
نہ ہو جب تک مسلماں میں فلسطینیؔ جگر پیدا

1
37
ایسا بھی نہیں قوتِ تسخیر نہیں ہے
مانا کہ مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہے
اے کفر پرستاروں! کیوں دندناتے ہو
دنیا یہ ترے باپ کی جاگیر نہیں ہے
کٹتے ہیں شب و روز یہاں ہنؔد میں مسلم
کیا ان میں کوئی صاحبِ تدبیر نہیں ہے

1
28
ہے کائنات جس کی آمد سے سرخرو
اک روز سرورِ دیںﷺ تھے محوِ گفتگو
وہ شہسوارِ فردا وہ مردِ با شعور٘
آخر ہوا ہے کیا جو ایماں سے وہ ہے دور٘
مکّہ سے چل کے آیا وہ نوجواں مدینہ
دربارِ مصطفیٰﷺ میں رکھا دلِ نگینہ

2
27
کِیا پیدا جو آدم کو تو ہنگامہ ہوا یکدم
فرشتے کہہ رہے تھے پھر چلو دربار میں ہمدم
جو دیکھا خاکِ آدم کو زبانِ یک سے سب بولے
عبادت کو تو ہم کافی ہیں یہ کہہ کر وہ پر تو لے
خدایا پھر وہی مخلوق ، کرتی ہیں جو خوں ریزی
نہیں جن کے دلوں میں اک ذرا بھی درد و دل سوزی

2
36
اٹھو اب اے جوانوں ہندؔ میں وقتِ جہاد آیا
اٹھو اب لیس خنجر میں زمانے میں فساد آیا
غلامی سے تو بہتر ہے شہادت مردِ میداں کی
کچل ڈالو ، مسل ڈالو ، مقابل بد نہاد آیا
زمانہ چاہتا ہے دیکھنا پھر سے وہی منظر
وہی شمشیر و سیف اللہ وہی خالؓد وہی حیؓدر

1
26
میں دور ہوں جو آپ سے تو ہوں سراپا اضطراب
ہوں روبروئے مصطفؐیٰ، شکستہ دل میں ایک خواب
جو شوق مجھ کو گر نہ ہو حضور ﷺ تیری دید کا
ہو زندگی مری حجاب ، آخرت مری حجاب
ہے شوقِ دیدِ مصطفیٰ میں دل سراپا آرزو
جگر جگر لہو لہو ہے خون جیسے ہو سراب

1
39
آ تجھ کو زمانہ میں بتاتا چلوں اک بات
جو بات مرے ذہن میں آئی تھی کسی رات
بیچین و پریشاں ہو ،جو مضطر ہو اگر دل
بیتاب نگاہوں پہ نے کٹتی ہے کبھی رات
ایامِ خوشی میں تو گذر جاتے ہیں اوقات
ایامِ مصیبت میں گذرتے نہیں لمحات

1
23
اک خاک کا ہوں ذرہ، خورشید کا جگر ہوں
رہتا زمیں پہ لیکن، گردوں کا ہم سفر ہوں
تارے ہوں کہکشاں ہوں، جاگیر ہیں یہ اپنی
اس گلستانِ نو کا، اکلوتا تاج ور ہوں
روشن ہیں میرے اندر لاکھوں ہزاروں انجم
شمس و قمر ہیں دھاریں، میں نور کی نہر ہوں

1
14
شکم پرور! ترا کیوں آج بھی مطبخ میں پیشی ہے
زمانِ امتحاں میں بھی خیالِ خورد و نوشی ہے
سراپا جستجوۓ نان و بریانی بنے بیٹھے
یہ کہتے ہیں تلاشِ آب و دانہ عذرِ خویشی ہے
رواں ہے قافلہ تیرا دمادم جانبِ منزل
شکم "ھل من مزیدی" اور تو بھی اس کا دوشی ہے

23
ہوا مشکل مرا جینا کہ پیدا کردے آسانی
رلاتی ہے مسلماں کی جہاں میں تنگ دامانی
تباہی کے دہانے پر مسلماں خوابِ غفلت میں
پڑے ہیں جو بڑھاتے ہیں مری دلگیر حیرانی
ادائے مصطفٰی سے بحرِ ایماں کو مرے بھر دے
لبالب جام چھلکائے جہاں میں جوشِ ایمانی

1
18
یہی فکرِ مسلسل ہے، دعاۓ درد و دل سوزی
کہ مل جائے مسلماں کو وہی اسرارِ فیروزی
ستارے ظلم کے خونِ شفق میں ڈوبنے کو ہو
طلوعِ صبح روشن ہو شبِ ظلمت کی خوں ریزی
تلاش و جستجو میں آج بھی ہے گردشِ دوراں
خضؔر جو راہ میں مل جائے، موسؑی کی ہو پیروزی

1
18
دیارِ ہند
سکوتِ قلب میں ہنگامہ و کہرام پیدا کر
تلاطم آشنا لہریں ہو، موجِ بام پیدا کر
تخیل میں چلے آندھی ترے شام و سحر طوفاں
جہانِ دل میں پیارے! گردشِ ایّام پیدا کر
ترے جام و سبو سے کچھ نہیں حاصل سکوں مجھ کو

2
21
شکایت مجھے ان جوانوں سے ہے
جو شوقِ سیاست سے آزاد ہیں
جہاں بانی جن کی تھی دیرینہ خو
حسینوں کی الفت میں برباد ہیں
ادائے حسیں کے گرفتار ہیں
یہ فرہاد و مجنوں کے ہم زاد ہیں

1
28
جواں ہنؔد میں جس سے بیزار ہے
وہی ثمرۂ جملہ گفتار ہے
جہابانی ہے بس اسی سے یہاں
وہ بیدار قوموں کی یلغار ہے
سیاست، جوانوں کی للکار ہے
سیاست، ہی دستِ جہاں دار ہے

1
43
بزمِ پنجم تجھے الوداع الوداع
بزمِ پنجم تجھے الوداع الوداع
تونے کلیوں کو وجہِ تبسم دیا
تونے غنچوں کو طرزِ تکلم دیا
موجِ ہستی کو شوقِ تلاطم دیا
نغمۂ سازِ گل کو ترنم دیا

3
56
ہو کیوں آزاد وہ جسکو نہیں آتی ہے تدبیریں
کہ ہوتی مہرباں کب ہیں غلاموں پر بھی تقدیریں
فرازِ کوہ سے یکدم اتر جاتے ہیں دامن میں
نہ ہو تعمیرِ دل میں گر کئی مضبوط شہتیریں
ہزاروں داستاں دل پر لکھے ہیں اس کے ٹیپؔؒو کے
مگر دیکھی نہیں اس نے کبھی دلکش وہ تحریریں

3
39
نظر ہو جھکی پر نگہ ہو بلند
یہی خوۓ خاکی ہے فطرت پسند
فلک اک نمونہ ہے مانندِ صید
فلک سے بھی اوپر تری ہو کمند
ستارہ تری راہ کا ہے غبار
نہ مایوس ہو اے دلِ ارجمند

1
35
اس بزم کے آرا کا میں راج دلارا ہوں
مہر و مہ و انجم کی میں آنکھ کا تارا ہوں
دنیائے حقیقی میں میں کچھ بھی نہیں لیکن
دنیائے مجازی میں میں سب سے ہی پیارا ہوں
اس عالمِ امکاں میں موجود کی دنیا میں
میں کوہ و بیاباں ہوں میں چاند ستارا ہوں

1
20
نہیں تجھ کو فرصت غلامِ رُباب
تو خاموش بیٹھے ہو کیوں اے نواب
نہیں زورِ بازو تجھے آج کیوں
جو مسلم شریعت ہوئی بے حجاب
تجھے فکر کیوں ہو اے ابنِ صلاحؔؒ
رہو مست خود میں پیو تم شراب

2
61
سلطانِ کل جہاں ہے لیکن خبر نہیں
واعظ کے وعظ میں اب بالکل اثر نہیں
مجنوں کی طرح تو بھی صحرا میں جا نکل
تیری نواۓ دل میں سوزِ جگر نہیں
نقشِ قدم پے والد کی جو نہ چل سکے
گو پیرِ کل جہاں ہو قابل پسر نہیں

1
24
شب کی تنہائی میں چپکے سے میں رو لیتا ہوں
جب مجھے ٹوٹے ہوئے دل کا خیال آتا ہے
خشک ہونٹوں پہ تبسم کی کلی کھلتی ہے
چشمِ مضطر میں جو اس جاں کا جمال آتا ہے
،
دل یہ ویراں ہے کہ آباد کروں میں کیسے

1
47
عروجِ جواں ہی عروجِ امم ہے
شبابِ نوی ہی دوات و قلم ہے
عقابی نشیمن ہماری ہے منزل
کہ خونِ رگِ جاں ہمارا علم ہے
.
نہ تا تا ری حملے نہ غیروں کی سازش

1
53
تو شہسوارِ یثرب، تو ترک تازِ ترک
تو فکرِ احمدؐی ہے، عثمانؒ کی روِش
آئینِ گلسِتاں تو، عالم کا حکمراں
تو عشقِ غزنوی ہے ،تو یاز کی تپِش
یہ کاروانِ گردوں ،قدموں میں آ گرے
پیدا کرے تو کوئی، وہ لذتِ کشِش

2
40
کسی شوخ مسکاں سے مانوس ہوکر
مجھے یہ لگا تھا میں مجنوں بنوں گا
میں مغرب کی لیلی کی ظلمت کدہ کو
مٹاکر رہوں گا میں جگنوں بنوں گا
تمامِ حدودِ جنوں توڑ کر میں
حدودِ محبت کو افزوں کروں گا

1
55
تو شوقِ گفتگو ہے ،تو عشقِ ابتدائی
تو محوِ جستجو ہے، تو حسنِ آشنائی
.
آہ، دھو دیا یکایک، ساری ہی میری کاوش
اک جرمِ عاشقی نے، برسوں کی پارسائی
.

2
48
پھول کلیوں کی بے بسی ہوگی
لب پہ جاناں کے جب ہنسی ہوگی
کہکشاں دیکھ اسے یہ کہتی ہے
جانے کس نور سے بنی ہوگی
غم کی آہیں بھی کتنی میٹھی ہیں
اسکے ہونٹوں کی چاشنی ہوگی

1
30
احبابِ بزم کو ہے یہ شکوۂ دوام
بھاتا نہیں ہے تجھ کو بے سیف یہ نیام
نا آشنا ہو شاید سوزِ جہانِ غم سے
بنتے کہاں ہیں تجھ سے غالؔب سا اک کلام
اک ذرہ بھی نہیں ہے گردِ رہِ سخن داں
مرزاؔ کی شعر گوئی، نہ رباعئی خؔیام

2
35
آج کیا ہو گیا ہے تجھے جنوری
آج کیا ہو گیا ہے تجھے جنوری
کتنا بے تاب و مضطر تھا تو جنوری
اتنا ظالم نہ تھا تو کبھی جنوری
آج کیا ہو گیا ہے تجھے جنوری
آج کیا ہو گیا ہے تجھے جنوری

1
23
بندہ :
مولی کرم تو کردے ناداں کی لغزِشوں پر
آیا ہے شوق و ڈر میں لپٹا یہ تیرے در پر
ہے سسکیوں سے خالی آہیں زبان اسکی
سوزِ دروں میں تپتی ہردم ہے جان اسکی
فریاد کیا میں لاؤں اپنی زبانِ دل میں

1
27
روزِ ازل کہا تھا شیطاں سے بچ کے رہنا
عیار ہے وہ دشمن محتاط و چست رہنا
دشمن کو جو کبھی بھی خاطر میں ہی نہ لاتے
گرتے ہیں ناک کے بل رسوائی ہی وہ پاتے
ہاں یاد تھا ذرا بھی وعدہ الست تجھ کو
پیغامِ حق کا ذرہ احساس بھی تھا تجھ کو

1
54
مولی کرم تو کردے ناداں کی لغزِشوں پر
آیا ہے شوق و ڈر میں لپٹا یہ تیرے در پر
ہے سسکیوں سے خالی آہیں زبان اسکی
سوزِ دروں میں تپتی ہردم ہے جان اسکی
فریاد کیا میں لاؤں اپنی زبانِ دل میں
معلوم ہے حقیقت میری ہے آب و گِل میں

1
22
کہتے ہیں لوگ روٹی پُر مغز یہ غذا ہے
بچوں کو یوں لبھانے کی خوب یہ ادا ہے
کھائی تھی ناشتے میں کچی سی ایک روٹی
اس دن سے پیٹ میں اف بھگدڑ سی اک فضا ہے
آسام کے ہمارے جتنے بھی ہم نشیں ہیں
چاول پسند ہیں سب روٹی سے سب خفا ہیں

1
43
بھولے بھالے وہ بچے کہاں سو گئے
تھے انوکھے وہ دن اب کہاں کھو گۓ
فکرِ گلشن نہ تھی آشنائی نہ تھی
خواہ مخواہ یار اب ہم جواں ہو گۓ
باغ میں تتلیوں کو پریشاں کریں
پھول شبنم کلی کو ہراساں کریں

2
51
یہ خود رو نہیں ہے اگایا گیا ہے
اسے اس چمن میں بلایا گیا ہے
مرے دل کے گلشن کو ہر بار مالیؔ!
لہو سینچ کر پھر سجایا گیا ہے
مرے خونِ رگ سے جو رسمِ حنا ہے
مرے سامنے ہی منایا گیا ہے

1
87
مہر و مہ و انجم کو ہو کیونکر یہ گوارہ
اس خستہ زمیں پر ہو کوئی چاند کا پارہ
کیا کیا تری آنکھوں پہ لکھوں روپ کی رانی
کالی سی گھٹا میں کوئی روشن سا ستارہ
رخسار ہیں ابھرے جیسے موتی تہہ و بالا
اس پر یہ ترے آتِشیں ہونٹوں کا شرارہ

1
48
دل کی زباں پہ میرے بس اک سوال ہے
دیکھو ذرا پلٹ کر عاشق بے حال ہے
شام و سحر پریشاں ہوں ہجرِ یار میں
دردِ جگر کو میرے شوقِ وصال ہے
شاہیں کا بچّہ اب تو کرگس کا یار ہے
وہ فتنہ گر حسینہ شیطاں کا جال ہے

1
43
دہقاں ہے کھیت ہے اور علمی شعار ہے
مجھ کو ہے فخر اس پر میرا بہار ہے
ہوں میں سمان چل سے باشندۂ اَرَریہ
رینوں کے شہرِ جاں میں میرا شمار ہے
ہر یا لِیاں یہ میرے شہرِ نوی کی دیکھ
ہے دھان گیہوں مکاَّ اک سو سَہار ہے

20
150
تمہیں بھی خدا کوئی بیزار دے گا
جو ہر پل تجھے صرف آزار دے گا
ترس جاؤ گے تم کلی چومنے کو
وہ جھولی میں بس خار ہی خار دے گا
محبت کہ تجھ کو نہیں ہوتی ہم سے
کہ وہ تجھ کو دولت کا انبار دے گا

1
39
سسکتی ہوئی ایک شامِ غریباں
یہ پوچھے ہے مجھ سے کہ مایوس ہو تم؟
ہزاروں خوشی منتظر ہیں تمہاری
ستمگر کے غم میں کہ محبوس ہو تم ؟
چمن میں حسیں تتلیاں اور بھی ہے
اسی جاں گسل سے کہ مانوس ہو تم؟

1
37
اہلِ وطن ہمارے سارے اداس ہیں
غربت کے پیرہن سب اب بے لباس ہیں
کارندۂ تجارت سارے نراس ہیں
بامِ عروج کی اف جس پر اساس ہیں
کیوں بے خبر ہیں ہم سے دانشورانِ ہند
ہم بھی تو اس چمن میں جوہر شناس ہیں

0
111
داڑھی بھی خوب ہے ہے گیسو بھی میرے کالے
پھر کیوں وہ مہ جبیں رہتی ہے ہم سے نالے
کنجی بھی لے اڑی ہے وہ پیاری بنتِ حوّا
دل پر لگائے بیٹھی نفرت کے سارے تالے
جامِ شباب یوں تو چھلکاۓ جا رہی ہے
خالی مگر رہا ہے خوابوں کے میرے پیالے

39
صحرا میں بے خودی کا وہ ذرّہ داغ ِ ہستی
گرداب سے جو اٹھ کر مجھ میں سما گئی ہے
پانی کی تیز لہریں تاروں کی نیم خوابی
شب کی اداۓ دلکش مجھ کو لبھا گئی ہے
یہ جھلملاتے انجم یہ بادِ ننگ و عریاں
دریائے بے خودی میں مجھ کو ڈبا گئی ہے

27
جیتے ہیں وصلِ یار کی حسرت لۓ ہوے
ورنہ جہاں میں ہے نہیں سامانِ زندگی
لیتا ہوں روز درس زمانے کے ڈھنگ سے
ہے وجہِ دوست داری کمالاتِ بندگی
خوبی ہے میرے یار میں غیروں پہ مہرباں
آتے ہیں پیش مجھ سے صفت صد درندگی

27
سسکتی ہوئی ایک شامِ غریباں
یہ پوچھے ہے مجھ سے کہ مایوس ہو تم؟
ہزاروں خوشی منتظر ہیں تمہاری
ستمگر کے غم میں کہ محبوس ہو تم ؟
چمن میں حسیں تتلیاں اور بھی ہے
اسی جاں گسل سے کہ مانوس ہو تم؟

1
28
اشکِ بیباک نے فریاد کیا
جب گناہوں نے مجھے یاد کیا
برق رفتار ندامت نے مرے
غمزدہ دل کو سدا شاد کیا
بند مدت سے نگاہوں نے مری
گھر یہ ویران کو آباد کیا

39
شاعر کے کسی نازک نظموں میں اتر آتی
ابیات غزل مصرع دیوان میں جڑ آتی
الفاظ کے جھرمٹ میں اک لفظ محبت ہے
اردو جو اسے آتی شاید کہ وہ کر آتی
ہاں تم سے محبت ہے کہتی وہ مجھے آکر
اک حرفِ تمنا ہے اے کاش یہ بر آتی

1
65
غالب ثانی ؔ
دلِ بےتاب کو جینے کی سزا دی جائے
یہ اگر ہنستا ہے رونے کی دعا دی جائے
بے وفائی جو مری ذات کو چھو بھی جاۓ
بحرِ نفرت میں مری راکھ بہا دی جائے
زندگی تھک سا گیا ہوں تجھے پانے میں میںؔ

1
34
جاں گسل حسن کا دل میں جو مرا بسنا تھا
سوزِ دل درد میں ہر لمحہ مرا تپنا تھا
چھائی ہر سو یہ روشن سی فضا کیسی ہے
رخ سے اس چاند کا پردہ جو ذرا ہٹنا تھا
آئینہ دیکھ کے حیران و پریشان ہوا
بن سنوارے ہی ترے حسن کا یوں سجنا تھا

0
28
انجان ہو مجھ سے کوئی جانی تو نہیں ہو
اس دل کے کسی آہ کے بانی تو نہیں ہو
قدرت نے نوازا ہے تو جھکتا ہی چلا جا
ناپاک کوئی تم بھی تو پانی تو نہیں ہو
ہر وقت ہی دنیا ترے دل میں ہی بسی ہے
سوچوں تو ذرا تم کوئی فانی تو نہیں ہو

1
75
اہلِ نصیب تھے وہ، تھا جن میں عشق و مستی
دم سے تھا جن کے مولی آباد تیری بستی
کرلے مجھے بھی یارب ان قدسیوں میں شامل
مانا کہ خاک ہوں میں خاکی ہے میری ہستی
حالات ہیں شکستہ ہرسو ہے خستہ حالی
ہم پر ہے طنزِ دوراں چھائی ہے کیسی پستی

30
تاریخ بھی حیراں ہے اس شخص کی فرقت میں
دنیا نے کبھی جس کو خاطر میں نہیں لائی
یہ بات بھی لکھ دی ہے تاریخ کے پنّوں میں
اس جیسی کوئی ہستی دوبارہ نہیں آئی
شکوہ ہے مجھے تم سے اقبال ؒ کے شاہینوں
ہستی ہے تری کیسی دنیا پہ نہیں چھائی

1
37
ہستی
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
تاریخ بھی حیراں ہے اس شخص کی فرقت میں
دنیا نے کبھی جس کو خاطر میں نہیں لائی
یہ بات بھی لکھ دی ہے تاریخ کے پنّوں میں
اس جیسی کوئی ہستی دوبارہ نہیں آئی

31
ہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
نیا ہردن زمانے کو نئی اک رہ دکھاتا ہے
غبارِ رہ گزر کو منزل ِ پیما دکھاتا ہے
سراپا گند ہو جس کی حقیقت اس کو یہ دنیا
زمیں پر رہ گزر لیکن فلک پر مہ دکھاتا ہے

0
21
ہزج مثمن سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
نیا ہردن زمانے کو نئی اک رہ دکھاتا ہے
غبارِ رہ گزر کو منزل ِ پیما دکھاتا ہے
سراپا گند ہو جس کی حقیقت اس کو یہ دنیا
زمیں پر رہ گزر لیکن فلک پر مہ دکھاتا ہے

24
مرے دل کو کتنا ستایا گیا
مجھے بھی نہ آخر بتایا گیا
خبر تجھ کو پہلے بتائی گئی
جنازہ مرا پھر اٹھایا گیا
ہزاروں تمنا چھپی رہ گئ
ستم گہ مجھے ہی بنایا گیا

1
39
کہتا ہے مجھ سے ناصح اے عاشقِ زماں
کرتا ہے عشق کیوں تو پھرتا ہے در بدر
بھٹکا ہوا تو راہی نا آشنا سفر
منزل ہے دور تیری کھویا ہے رہ گزر
مجھ کو ہی دیکھ لے تو کتنا شریف ہوں
خلوت میں حور کو بھی دیکھوں نہ اک نظر

1
29
ہوتے ہیں شب و روز یہاں چشمہ سمندر
اٹھتے ہیں یہاں راکھ سے چقماق قلندر
ذروں سے بھی بنتے ہیں یہ خورشید و مہ انجم
صدیوں میں کبھی آتے ہیں اک آدھ سکندر
غالب ثانی ؔ
ابو اُمامـه شــؔاہ ارریاوی

1
40