Circle Image

Abu umama Shah arariawy

@1999

شاہی ؔ ١٩٩٩

پھر ہوئی بارشِ آتشِ گل صنم
جل اٹھا دل مرا بھر گئی چشمِ نم
یوں ستم در ستم سے گئے آج ہم
آگ ہی آگ ہے جانِ جاں تن بدن
ریشمی زلف و رخسار شیریں دہن
حسن کی بارشوں میں وہ بھیگا بدن

1
10
شاعر ہوں کسی دیس کا شہزادہ نہیں ہوں
کھاتا ہوں وہی میں بھی جو کھاتے ہیں یہاں سب
کرتا ہوں اپنا کام بصد شوق اے شاہؔی
لاتا ہوں اپنا کھانا کہ لاتے ہیں یہاں سب

8
اے گلستانِ دل کے گل و لالہ نسترن
آ بھی کہ تجھ کو روتی ہے اب نرگسِ چمن
کیا خوش ادا کہ چھیڑ گئے یار سازِ دل
کیا خوش بدن کہ مہکا گئے ہیں وہ جان و تن
کس نازکی سے ہونے لگے ہم سے ہم کلام
کس بے رخی سے چھوڑ گئے ہم کو گل بدن

1
10
یونہی خوابوں و خیالوں میں کٹی ہے رات اے ساقی
وصال و ہجر کی باتیں دیارِ دل کے افسانے
اسی امید پر کہِ وعدۂ دیدار پورے ہوں
شبِ مہتاب نے اے دل جگاۓ کتنے دیوانے
تھکی آنکھوں سے کیا کرتے مگر دیدار بیچارے
فضائیں تھم گئیں یکسر ، یکایک بجھ گئیں شمعیں

1
7
گاہے کعبہ گاہے بت خانہ صنم
مست و رقصاں دست افشاں دیر و حرم
دل ، گو الفت سے ہے بیزار ترا
کوۓ جانہ سے ہے مانوس قدم
تیرے مے خانے میں ساقی کیا ہے ؟
جام و مینا ہے یا محبوب کا غم

1
7
ہوا ہے مجھ پہ کیا ستم میں کیا تھا اور کیا ہوا
یہ سوچ کر ہیں آنکھیں نم میں کیا تھا اور کیا ہوا
نہ دل کی کچھ خبر رہی ، نہ رنگ و بو سے آگہی
یوں رفتہ رفتہ دم بدم میں کیا تھا اور کیا ہوا
نہ جذبۂ جنوں رہا ، نہ ایک پل سکوں رہا
ترے فراق میں صنم میں کیا تھا اور کیا ہوا

0
12
ہوا ہے مجھ پہ کیا ستم میں کیا تھا اور کیا ہوا
یہ سوچ کر ہے چشم نم میں کیا تھا اور کیا ہوا
نہ دل کی کچھ خبر رہی ، نہ رنگ و بو سے آگہی
یوں رفتہ رفتہ دم بدم میں کیا تھا اور کیا ہوا
نہ جذبۂ جنوں رہا ، نہ ایک پل سکوں رہا
ترے فراق میں صنم میں کیا تھا اور کیا ہوا

1
11
چمکے گا کبھی میرے مقدر کا ستارا
پاۓ گا سکوں لذتِ دیدار کا مارا
اے جانِ غزل آ کہ تجھے دل نے پکارا
مدت سے ہوں بے خواب شبِ ہجر کی مانند
آۓ کوئی آغوشِ محبت میں سمالے
اک عمر مری شوقِ شبِ وصل میں گزری

1
14
چمکے گا کبھی میرے مقدر کا ستارا
پاۓ گا سکوں لذتِ دیدار کا مارا
اے جانِ غزل آ کہ تجھے دل نے پکارا
مدت سے ہوں بے خواب شبِ ہجر کی مانند
آۓ کوئی آغوشِ محبت میں سلاۓ
اک عمر مری شوقِ شبِ وصل میں گزری

0
5
لالہ و گل ، گل و بلبل کو قرار آۓ
آ بھی جاؤ چمنِ دل میں بہار آۓ
جرمِ امیدِ وفا کی یہ سزا پائی ہے
منصفِ دل کی عدالت سے سرِ دار آۓ
راحتِ جاں ! غمِ دوراں کا ستم ایک طرف
جب بھی آۓ ترے در سے بے قرار آۓ

1
8
پھر وہی دشت وہی قیس وہی لیلیٔ دل
پھر وہی چاک گریباں وہی دیوانۂ دل
پھر وہی شوخ نظارہ وہی کاشانۂ دل
پھر وہی شورشِ جاں پھر وہی ہنگامۂ دل
پھر وہی درد وہی ٹیس وہی داغِ جگر
پھر وہی شوخ ادا ، طرزِ جفا ، تیرِ نظر

3
22
یہ بارش یہ قطرے یہ دریا یہ دھاریں
یوں لگتا ہے جیسے کسی کی طلب میں
یہ چشمِ فلک سے اتر کر زمیں پر
میری ہی طرح عیش و مستی سے روٹھے
کسی سنگ دل کی محبت کے مارے
غم و رنج و دکھ ، درد دل سے لگائے

1
10
یاد آ جاۓ جہاں کو پھر ترا عہدِ کہن
اٹھ کہ ہے پھر گرم میداں غزنویٔ بت شکن
زخم خوردہ جان و تن ہے ، دل سراپا ہے خلش
سومناتی فتنہ گر اپنائے پھر کہنہ روش
پھر اسی دریا کی رو میں بہہ رہے ہیں برہمن
اٹھ کہ ہے پھر گرم میداں غزنویٔ بت شکن

1
32
رنج و غم ، درد و الم ، آہ و فغاں ہے زندگی
ہم سمجھتے تھے کہ اک رنگیں جہاں ہے زندگی
حسن کی بیزاریاں ہے عشق کی بیتابیاں
دل نشیں گمراہیاں ، رسوائیاں ہے زندگی
رہزنِ دل ، دشمنِ جاں ، کارِ عالم " الاماں "
عمر کے اس دور میں کوہِ گراں ہے زندگی

1
9
کہیں جو خود کی زبانی تو ہو گلہ ہم سے
کہے جو غیر تو پھر بھی ہمیں سے تم کو گلہ
ہر ایک شکل میں رسوائی جب مقدر ہے
تو کس سے شکوہ ہو کس سے رکھیں امیدِ صلہ

1
11
آ کہ اب آجا نظر اے جان و دل
جس سے پاتا ہے سکوں یہ مضمحل
جس کے عارض پر ہے پہرے دار تل
جس پہ شیدا ہے جہانِ آب و گل
کتنے ارماں دل میں سنبھالے ہوۓ
شہر میں آیا ہے دیوانہ ترا

1
13
یہ حقیقت ہے یہ سراب نہیں
رنگِ رخسار ہے گلاب نہیں
جس میں صورت تری نظر آۓ
اب میسر مجھے کتاب نہیں
گرمیٔ عشق اور رخِ زیبا
حال پھر کیوں مرا خراب نہیں

11
زباں خموش ، جگر خوں ، نگاہ شرمندہ
خدایا ! جرأتِ گفتار اب نہیں ہم میں
رہے جو غازیٔ یرموک و فاتحِ خیبر
وہ مردِ خالدؔ و کرّارؔ اب نہیں ہم میں
بھلے ہی رزم میں ان کے بھی دست و بازو ہیں
مگر کہ بزمِ مسلماں کو اب نہیں یارا

1
16
یہ دن تو گزر جائیں گے مرے
پر یاد بہت وہ آئیں گے
جو شرم کے مارے کل مجھ سے
منھ اپنا چھپائے جائیں گے
وہ جن کو دلِ بیتاب نے کل
حالات کی زد میں پکارا تھا

1
17
کئی رسوائیاں ہیں زندگی میں
بڑی دشواریاں ہیں زندگی میں
بہت سے آشنا چہرے ہیں اپنے
مگر تنہائیاں ہیں زندگی میں

1
18
شکریہ
شکریہ آپ کا
بزم آراؤں کا
شکریہ
شکریہ آنے والی ہر ایک ذات کا
شکریہ اہل دل کی اس بارات کا

1
34
خود کو آزاد کہوں یا غمِ دوراں کا شکار
کس سے فریاد کروں کس سے اندیشۂ دار
کس کی دہلیز پہ سر رکھوں کسے اپنا کہوں
کس سے امید رکھوں کس پہ ہو جاؤں نثار
آج کچھ یوں شبِ مہتاب کی رسوائی ہوئی
صبحِ خورشید قیامت بھی ہے ظلمت کا شکار

1
23
جب آنکھوں ہی میں دکھ جائے تو کیا اقرار کی حاجت
مگر یہ رسمِ الفت ہے کہ ہے اظہار کی حاجت
بھری محفل میں جو رسوا کرے پگڑی اچھلواۓ
نہیں منظور مجھ کو یوں کسی گفتار کی حاجت
سرِ محشر مجھے اندیشہء رسوائی ہو جس سے
نہیں رہ جاتی پھر ایسے کسی کردار کی حاجت

0
11
لو آج سے میں نے توبہ کی
دنیا کے حسیں نظاروں سے
عیار فریبی یاروں سے
مطلب کے ان بیو پاروں سے
کچھ غیروں سے کچھ پیاروں سے
لو آج سے میں نے توبہ کی

1
28
وہ دن کہ جب کہ میں کبھی سولہ برس کا تھا
جوشیلہ نوجواں تھا امنگیں جوان تھیں
ہر شوخ کی تھی خواہش ہر شنگ کی طلب
عشق و جنوں کا مارا تھا سیماب سی تڑپ
محروم تھا شرابِ محبت سے میں ابھی
شفاف آئینے سی جوانی تھی اب تلک

1
20
فراغِ عیش و مسرت کی جستجو رکھ لے
ذرا اداس طبیعت ہے کچھ سبو رکھ لے
ترے خمیر میں گرچہ جہان گردی ہے
ذرا سی صحرا نوردی بھی قیس خُو رکھ لے
عجب نہیں کہ زمانہ اسے غلط رخ دے
مرے رقیب ذرا میری آبرو رکھ لے

1
13
وہ دن کہ جب کہ میں کبھی سولہ برس کا تھا
جوشیلہ نوجواں تھا امنگیں جوان تھیں
ہر شوخ کی تھی خواہش ہر شنگ کی طلب
عشق و جنوں کا مارا تھا سیماب سی تڑپ
محروم تھا شرابِ محبت سے میں ابھی
شفاف آئینے سی جوانی تھی اب تلک

1
14
خیالِ نرگسِ مستانہ روز لاؤں میں
کہاں ہے وقت کہ تجھ پر نثار جاؤں میں
نظر ہے شوق سراپا دل و جگر مشتاق
زباں خموش لب و دہن کشمکش میں ہے
قلم اٹھا بھی لبِ تر سے آشنا بھی ہوا
مگر کہاں سے لکھوں ذہن کشمکش میں ہے

1
13
کھلا یہ راز جو مجھ پر تو مجھ کو آیا یقیں
گذر متاع کا الفت میں ہے کہیں نہ کہیں
غرورِ مہر و وفا کو حضور کیا کہیے
سراپا فخر و نخوت ہمالہ دوش حسیں
یہی ہے صورتِ مہرِ جہانِ عشق و جنوں
فریب کار نگاہیں کہ فتنہ خیز جبیں

1
18
یہ عید ہو مبارک اہلِ جہان کو
ظلم و ستم کی ماری ہر ایک جان کو
کڑھتے ہوۓ دلوں کو دکھتی زبان کو
بیتاب ماؤں و بہنوں کے آہ و فغان کو
ہر درد مند دل کو ہر مہربان کو
یہ عید ہو مبارک اہلِ جہان کو

1
27
اے ارومہ ، رخِ تاباں ، چمن آراۓ دل
تجھ سے مہکی مرے جذبات کی سونی محفل
اے مرے ضبط و سکوں صبر و رضا کے قاتل
سرمگیں آنکھ ، نظر تشنۂ رخسار پہ تل
.
کیوں عطا کی دلِ معصوم کو بسمل کی تڑپ

1
16
جانے کس پر جان و دل وارا ہوا اک شخص ہوں
رنج و غم ، حسرت سے دل پارا ہوا اک شخص ہوں
آرزوۓ زیست سے ہارا ہوا اک شخص ہوں
گردشِ ایّام کا مارا ہوا اک شخص ہوں
دردِ دل کس سے کہوں میں ، کون کرتا ہے یقیں
زخمِ دل کے واسطے یاں ابنِ مریم بھی نہیں

0
1
18
عجب ہے قدرت کی پردہ داری جو ذکر تیرا ہے بعد تیرے
بڑھی ہے پھر آج بے قراری جو ذکر تیرا ہے بعد تیرے
نہ شورشِ دل سکوں طلب ہے ، نہ راحتِ جاں جنوں طلب ہے
ہوا ہے مجھ پر کیا رمز طاری جو ذکر تیرا ہے بعد تیرے
ہے سونا سونا سا گلشنِ دل ، نہ چڑیا چہکے ، نہ پھول مہکے
خزاں رسیدہ ہے کیاری کیاری جو ذکر تیرا ہے بعد تیرے

1
16
شعلہ صفات عارض ، توبہ شکن جبیں
ناگاہ ! نظر میں آئی مغرور اک حسیں
دلکش ، حسین صورت ، شہزادہ رُو ، جواں
دیوانہ وار کہتا ہے مجھ سے اے ہم نشیں !
معراجِ عشق تو یہی فردوسِ حسن ہے
دوشیزۂ چمن سے ہے جنت نشاں ، زمیں

1
25
شعلہ صفات عارض ، توبہ شکن جبیں
ناگاہ ! نظر میں آئی مغرور اک حسیں
دلکش ، حسین صورت ، شہزادہ رُو ، جوان
دیوانہ وار کہتا ہے مجھ سے اے ہم نشیں !
معراجِ عشق تو یہی فردوسِ حسن ہے
دوشیزۂ بریں سے ہے جنت نشاں ، زمیں

1
18
تیرا ہر عیب زمانے سے چھپاۓ رکھا
تیری ہر بات کو سینے سے لگاۓ رکھا
تجھ سے روٹھا بھی ، مگر خود کو مناۓ رکھا
تیری یادوں سے شبِ ہجر سجاۓ رکھا
.
اب نہیں باقی مگر مجھ میں تغافل کی سکت

1
19
اب کہ مے خانۂ الفت سے صنم جاتا ہوں
پیکرِ ناز سے پھر کھا کے ستم جاتا ہوں
اپنے سینے میں چھپائے ہوۓ غم جاتا ہوں
اٹھ کہ مے خانے سے اب سوۓ حرم جاتا ہوں
.
نشۂ عشق میں مخمور نگاہوں کی قسم

18
تجھ سے امید بھی اندیشۂ رسوائی بھی
ہیبت و دہشت و وحشت سے شناسائی بھی
صبحِ امید بھی بارات کی شہنائی بھی
غمِ فرقت میں شبِ ہجر کی تنہائی بھی
.
خود کو دنیا کے رواجوں سے جدا بھی کر لے

0
20
اے ارومہ ، یعنی خوشبو یعنی اے گلشنِ دل
جس سے مہکی مرے جذبات کی سونی محفل
اے مرے ضبط و سکوں صبر و رضا کے قاتل
سرمگیں آنکھ ، نظر تشنۂ رخسار پہ تل
.
کیوں عطا کی دلِ معصوم کو بسمل کی تڑپ

1
14
اے ارومہ ، یعنی خوشبو یعنی اے گلشنِ دل
جس سے مہکی مرے جذبات کی سونی محفل
اے مرے ضبط و سکوں صبر و رضا کے قاتل
سرمگیں آنکھ ، نظر تشنۂ رخسار پہ تل
.
کیوں دیا تھا دلِ معصوم کو بسمل کی تڑپ

1
31
کانپ اٹھے مری روداد سے افلاک آخر
تیری حسرت نے کیا میرا جگر چاک آخر
شدّتِ کرب سے آنکھیں ہوئی نمناک آخر
جرمِ الفت نے کیا مجھ کو بھی بے باک آخر
.
اب نہیں خوف زمانے کے خداؤں سے مجھے

1
20
محبت ہمیں ہے ارومہ صنم سے
مگر دور ہیں ہم نگاہِ کرم سے
قسم سے قسم سے قسم سے قسم سے
بتائیں گے کیا کیا ستمگر کے بارے
نہ جانے کیوں کرتی ہے نفرت وہ ہم سے
قسم سے قسم سے قسم سے قسم سے

1
30
میں کہ خود پر نہ پھر رہا قادر
جرم آنکھوں سے جب ہوا صادر
کچھ تو جادو ہے اس کی آنکھوں میں
مجھ کو مسحور کر گیا ساحر
اک نظر ہی کی یہ کرامت تھی
آنکھ فاسق ہے دل ہوا فاجر

1
22
اک قدس کا سپاہی کہتا ہے مجھ سے شاہیؔ
جا دیکھ خونِ مسلم دجلہ و فرات میں
مدت سے کی ہے میں نے تدبیر پھر بھی آج
بیٹھا ہوں رزم گاہِ حیات و ممات میں
رہبر ہمارے سارے رہزن کے آشنا ہیں
کس سے امید رکھیں راہِ حیات میں

1
21
کسی دن پھر ستم گر ! دوست داری کو میں آؤں گا
قسم ، واللہ ! نبھانے رسمِ یاری کو میں آؤں گا
ہوئی مدت کہ ہیں محروم آنکھیں لطفِ گریہ سے
کوئی دم تیرے در پر آہ و زاری کو میں آؤں گا
میسر گر ہوا مجھ کو کبھی فرصت کا اک پل بھی
ترے عشرت کدے پر جاں سپاری کو میں آؤں گا

1
27
میں محبت کا مارا ہوا شخص ہوں
اپنی چاہت میں ہارا ہوا شخص ہوں
.
مجھ سے پوچھو نہ تم میری بیتابیاں
میری بیتاب راتوں کی تنہائیاں
لب سے مانوس ہوتی ہوئی سسکیاں

1
36
اے ! تری امید میں ، میں کھا رہا ہوں پیچ و تاب
روز و شب تیرے تصور میں سراپا اضطراب
دل کے آئینے میں تیری اک حسیں تصویر ہے
جس کی شوخی پر ہے شیدا اہل دل کا انتخاب
ہر نفس بیدار رکھتی ہے تری یہ جستجو
لحظہ لحظہ یہ مرے اعصاب پر ہے اب عذاب

1
29
خوف کھاتا ہے جہاں جس سے وہ انداز ہے تو
میرے معصوم سپاہی مرا اعزاز ہے تو
تیرے سینے میں نہاں آتش و انگار و دھواں
تیری آنکھوں میں اترتا ہوا بے باک لہو
عہدِ طفلی میں ہے جو صورتِ پُر جوش جواں
یوں گماں ہوتا ہے دنیا کے لیے آگ ہے تو

1
28
یاد آ جاۓ جہاں کو پھر ترا عہدِ کہن
اٹھ کہ ہے پھر گرم میداں غزنویٔ بت شکن
زخم خوردہ جان و تن ہے ، دل سراپا ہے خلش
سومناتی فتنہ گر اپنائے پھر کہنہ روش
پھر اسی دریا کی رو میں بہہ رہے ہیں برہمن
اٹھ کہ ہے پھر گرم میداں غزنویٔ بت شکن

1
27
بلند افکار ہیں ترے سب ، ہے شاعری بے مثال شاہیؔ
خدا نے بخشا ہے ذوق تجھ کو ہے شخصیت باکمال شاہیؔ
ترے تخیّل پے رشک کرتے ہیں ماہرانِ سخن یہاں پر
عظیم رتبہ تجھے ملا ہے اگر چہ ہے نو نہال شاہیؔ
تو عکسِ اقبال ہے یقیناً ہماری اس محفلِ سخن میں
کہ نوجوانوں کو ہے ضرورت عمل بہ روۓ خیالِ شاہیؔ

0
21
درد سے کس کو ہے چارہ ، دردِ ملت ہو کہ دل
درد کا مرہم ، پہ یہ ہے ، دردمندوں کی سنیں
رفعتِ اسلام ہی مقصود ہے گر اے حضور !
میں بھی ایوبیؔ بنوں ، پر ، آپ بھی زنگیؔ بنیں

29
درد سے کس کو ہے چارہ ، دردِ ملت ہو کہ دل
درد کا مرہم ، پہ یہ ہے ، دردمندوں کی سنیں
رفعتِ اسلام ہی مقصود ہے گر اے حضور !
میں بھی ایوبیؔ بنوں ، پر ، آپ بھی زنگیؔ بنیں

1
28
جہاں تخریب کی بدعت سے پاکیزہ ہو رقصندہ
جہاں مدہوشی کے عالم میں رہتا ہو نہ باشندہ
جہاں ساغر کی لذت سے نہ ہو مے کش پراگندہ
جہاں عقل و خرد سے کچھ بھی بے گانہ نہ ہو بندہ
وہی ہے مے کدہ ساقی ! جہاں تعمیرِ ہستی ہو
جہاں شام و سحر آباد ساقی ! دل کی بستی ہو

1
33
یاد می آید آں شیرِ خوارزم
پیشِ او ہم سرنگوں خاقانِؔ چین
جذبہ را بغدادیاں نابود کرد
شیر کہ گویم جلالؔ الدین

1
27
یاد می آید آں شیرِ خوارزم
پیشِ او ہم سرنگوں خاقانِؔ چین
جذبہ را بغدادیاں نابود کرد
شیر کہ گویم جلالؔ الدین

0
15
کہیں ہے فرقہ کہیں جماعت کہیں ہے مسلک کا دور دورہ
کہیں وہابی کہیں ہے سلفی یہ کیا ہے اسلامیوں کا جھگڑا
عرب کی آنکھوں میں کھٹکے ایراں ، شیعہ کو سنی نہیں گوارا
انہیں خرافاتِ مسلکی نے کیا ہے ملت کا غرق بیڑا
نگاہِ عالم میں ایک ہیں ہم، ہے دشمنِ جاں جہاں ہمارا
ہو " ما أنا " پر اساسِ ملت، ہلالی پرچم نشاں ہمارا

5
36
حاصل ہو تجھ کو کیوں سربراہی
میداں کا غازی نہ خانقاہی
کیسے بنے گا دیں کا سپاہی
گفتار شاہی ، کردار واہی
گلزارِ ہستی میں ایک ہوجا
یا آئینہ دل ، یا روسیاہی

1
33
زخمِ ملت ہو یا دل ہو ڈھونڈ خود اس کا علاج
پوچھ اے مردِ مسلماں ! خود ہی اب اپنا مزاج
ایک ہیں دیر و حرم ، دیر و حرم کے سجدہ ریز
کفر و ایماں کا ہوا ہے کیا حسیں یہ امتزاج
ظاہری صورت مسلماں ، باطنی صورت یہود
کیا بتائیں گے یہ مسلم کو شریعت کا مزاج

1
20
زخمِ ملت ہو یا دل ہو ڈھونڈ خود اس کا علاج
پوچھ اے مردِ مسلماں ! خود ہی اب اپنا مزاج
ایک ہیں دیر و حرم ، دیر و حرم کے سجدہ ریز
کفر و ایماں کا ہوا ہے کیا حسیں یہ امتزاج
ظاہری صورت مسلماں ، باطنی صورت یہود
کیا بتائیں گے یہ مسلم کو شریعت کا مزاج

0
17
اے عبیدہ ! دید تیری ہو نہ پھر کیوں جانفزا
جانثاروں کا جگر تو سرفروشوں کی ادا
اے فلسطیں کے محافظ ! اے قدس کے پاسباں
اے صلاح الدین ثانیؔ اعلی ہے رتبہ ترا
ایک مدت سے فلسطیں کو تھا جس کا انتظار
تو ہے وہ مردِ مجاہد بے کسوں کا آسرا

1
29
اے عبیدہ ! دید تیری ہو نہ پھر کیوں جانفزا
جانثاروں کا جگر تو سرفروشوں کی ادا
اے فلسطیں کے محافظ ! اے قدس کے پاسباں
اے صلاح الدین ثانیؔ اعلی ہے رتبہ ترا
ایک مدت سے فلسطیں کو تھا جس کا انتظار
تو ہے وہ مردِ مجاہد بے کسوں کا آسرا

0
18
سنا ہے ان کا بھی اک خدا ہے
یہ پیارے پیارے یہ بھولے بھالے
یہ ننھے معصوم رب دلارے
کسی کی دھڑکن کسی کے پیارے
کسی کی آنگن کے چاند تارے
ستم گروں کے ستم کو بھایا

1
31
دل و جان مضطرب ہے نہ یوں مجھ کو دے اذیت
نہیں مجھ میں تابِ منظر مری چھین لے بصارت
ہے حجاز اپنا مرکز کہوں کس زباں سے شاہؔی !
یہاں خاک و خوں میں ملت وہاں خوب عیش و عشرت
یہ یہودیت نوازی مجھے کر گئی ہے رسوا
ہے حرم کی پیشوائی مجھے باعثِ ملامت

1
30
گونج اٹھی ہے جہاں میں پھر اذاں " أن لا الہ"
بحر و بر ، دشت و جبل سارا جہاں " أن لا الہ"
چاہتا ہے بحرِ قلزم پھر کوئی ضربِ کلیم
طور پھر سے مضطرب ہے ہم زباں " أن لا الہ"
پھر یدِ بیضاء لیے ظلمت کدۂ بزم میں
پھر کوئی موسی ہے پیدا ، رازداں " أن لا الہ"

1
35
آہ اے ارضِ فلسطیں سر زمینِ انبیاء
تیری حرمت کی نگہبانی کہاں ہم سے ہوئی
تیری آزادی کی خاطر ہم کہاں کوشاں رہے
مست ہیں ہم اور تیری آبرو جاتی رہی
دیکھ کر تیری تباہی ہم کہاں لرزاں ہوۓ
بے حسی بے غیرتی کی چھاؤ میں بیٹھے ہوئے

1
25
ہزاروں چیخیں ، ہزاروں آہیں ، اِدھر اذیت ، اُدھر کراہیں
دیے ہیں بچوں نے بھی خدایا ! وہ امتحانات بندگی کے
جدھر بھی جاۓ یہ روحِ مضطر ہر ایک عالم میں ہائے و ہو ہے
اِدھر قیامت ، اُدھر قیامت ، بڑے مسائل ہیں زندگی کے

1
33
اک شب کہ پریشاں تھا میں ہنگامۂ دل سے
خاموش و ہراساں تھا میں محرومِ جسارت
قابوں نہ تھا مجھ کو مرے اندازِ سخن پر
کی طاقتِ گفتار نے تھی مجھ سے بغاوت
تھا بحرِ تخیل میں بھی طوفاں کوئی برپا
اس پر مرے جذبات کی موجوں کی شرارت

1
34
چھلک رہے ہیں دل و نگہ کے تمام ریشوں سے اشک پیہم
یہی صداۓ دلِ شکستہ کوئی مسیحاؑ ہو ابنِ مریم
پیامِ امن و امان ہیں یہ مگر عجب ہے ستم ظریفی
کہ بے سکوں ہیں حرم کے بیٹے ہے دیریوں کو سکون پیہم
ہو قدسیانِ قُدُس کے رخ سے تغافلِ نظرِ یار کب تک
ادھر بھی ہو اب کہ نظرِ رحمت بلک رہی ہے یہ قومِ خاتم

1
30
یوں جذبۂ جنوں سے اٹھ کہ پھر اے ابنِ بو ترابؔ
قریب ہو کہ پھر سے ہو ان خیبروں کا سدِ باب
"آں عہدِ رفتہ باز گشت ایں زمانہ زود تر "
کہ کہہ رہی ہے اب یہی مری زبانِ اضطراب
کہ جذبۂ جنوں سے ہی ہے یہ جہانِ ہست و بُود
اسی سے شرق و غرب کا طلوع صفت ہے آفتاب

1
37
پیمانہ و ساغر و مینا کا اتمام ہمارے حق میں ہے
مدہوش ہوں جس سے مے خانے وہ جام ہمارے حق میں ہے
رندانِ عرب کے مے خانے ، کیا جام و سبو ، کیا دیوانے
ہیں جراتِ رندانہ سے تہی بس نام ہمارے حق میں ہے
پھر بادہ کشانِ یثرب کو کر نابِ حمیت سے لبریز
اے ساقی ! ذرا ان کو یہ بتا ، کیا کام ہمارے حق میں ہے

1
34
ہے یہ سچ کہ میرا مقصد نرے دہر کی قیادت
پہ نہیں ہے مجھ میں کچھ بھی وہ شکوہ و شان و شوکت
نہ مؤیِّد و موثِّق نہ متابع و شواہد
کہ ہے حال میرا پنہاں مَجَہول ہے ثقاہت
نہ ہی تقوی و مروت نہ ہی ضبط ہی ہے مجھ میں
نہ شذوذ و علتوں سے میری پاک ہے روایت

1
42
عجب ہے درویش خو شہنشاہ ، لباسِ شاہی میں پارسائی
ہیں شان اس کے فلک نشیں سے طریق اس کے ہیں مصطفائی
ہے کس روایت کے پاسباں کا یہ نام " اورنگزیب " شاہؔی
ہزاروں گردوں رکاب جس کے قدم گہِ محوِ جبہ سائی
کیا شان و شوکت جلال وعظمت کیا جاہ و حشمت شکوہ وسطوت
کہ ہیبتِ جنبشِ نظر سے ہے صحرا ، ذرہ ، پہاڑ ، رائی

1
37
آہ ! اے میری کتاب ! آہ ! اے میری کتاب
اے تری امید میں ، میں کھا رہا ہوں پیچ و تاب
رات و دن تیرے تصور میں سراپا اضطراب
آہ ! اے میری کتاب
اے مری تقدیر کا روشن ستارہ جگمگا
ہیں بہت امید تجھ سے اک جہاں کا انقلاب

9
71
ہم حاملِ قرآن ہیں ہم نازشِ سرورؐ
ہم دیں کے نگہبان ہیں ہم خالدؓ و حیدرؓ
اللہ کا احساں ہے مسلمان بنایا
توحید کے انوار سے سینوں کو سجایا
آقا کے وسیلے سے پھر اسلام سکھایا
ایمان کی دولت سے ہمیں نیک بنایا

1
50
کافی نہیں شاہوں کے خیالات ہی شاہؔی
ہر آن ہو اوصافِ سلاطیں کا فدائی
خودداری و غیرت بھی ہو انعام و قناعت
ہے "شاہی عناصر" کے لیے چاروں ضروری

1
34
ہے تفاخر کا مرض خونِ عرب میں بھی برا
یہ جراثیم ہے اب خونِ عجم میں بے شمار
ان بے چاروں کو بھلا کون بتائے یہ مرض
کس بنا پر ہیں یہ خوش فہم تفاخر کے شکار
وہ عرب ہے کہ ہوا قرآں بھی نازل اس میں
تو عجم ہے کہ نہیں زیب تجھے ایسا شعار

1
52
ہے زندگی کا کارواں رواں دواں رواں دواں
نئی ڈگر نیا نشاں رواں دواں رواں دواں
ز ابتداءِ کائناتِ رنگ و بو فلک نشیں
یہ مہر و مہ یہ کہکشاں رواں دواں رواں دواں
کہیں رکا نہ ایک پل کسی کے انتظار میں
ہے دم بدم کشاں کشاں رواں دواں رواں دواں

1
37
آہ ! مسلم ! گلستانِ ہند کے اے نسترن
خون سے رنگین ہے کیوں تیرا گُل گوں پیرہن
جبر و استبداد کا کیسا سماں ہے ہندؔ میں
ظلم کی دہشت سے لرزاں ہے وہاں کوہ و دمن
شاہراہوں کی ہے زینت طفلِ گہوارہ وہاں
کیا قیامت آئی ہے بے گھر ہوئے ہیں مرد و زن

1
46
گو محفلِ ہستی میں یہ ناکام بہت ہے
مومن کے تخیل میں ابھی دام بہت ہے
صیاد کی قسمت ہے کہ وہ گھات میں بیٹھا
فہرست میں میرے بھی ابھی نام بہت ہے
ہے شوقِ شہادت بھی بہت خوب و لیکن
اس دور میں جینے کا بھی انعام بہت ہے

1
38
روز و شب کے اس قیامت پر ہے حیراں آسماں
ہر طرف بکھری ہیں لاشیں بحر و بر ماتم کناں
ہندؔ میں بھی پھٹ رہا ہے مذہبی آتش فشاں
جل رہا ہے جس میں تیرے مسلموں کا آستاں
. .
بہہ رہا ہے بحرِ بے پایاں کی صورت میں لہو

2
45
اٹھ چکے وہ شمعِ محفل کے جو پروانے رہے
مے کشوں کے شوق میں بیتاب پیمانے رہے
وہ صنم خانے کی لیلی سے بھی بے گانے رہے
قیس کے صحرا میں بھی جو تیرے دیوانے رہے
. .
کیا جلے گی خونِ دل سے شمعِ محفل بھی مری

35
آہ ! جس کا ہر جواں کل پیکرِ کردار تھا
خالدِؔ جانباز کوئی حیدرِؔ کرار تھا
تھا مثنّٰیؔ ہم نشیں ہم پہلوۓ ضرّارؔ تھا
رزم گاہِ ہند میں بھی ٹیبوؔ کی تلوار تھا
. .
عالمِ اسلام میں اب کوئی ایوبیؔ نہیں

1
33
کسی کے عشق کا مجھ پر بھی یہ خمار رہا
جو ایک بار نہیں مجھ پہ بار بار رہا
کسی کی سیرت و صورت کسی کی ناز و ادا
کسی کے حسنِ تخیل پہ جاں نثار رہا
جوانی بچ نہ سکی اپنی بھی حسینوں سے
شباب اپنا بھی ہرچند داغدار رہا

4
62
اس بزمِ رنگ و بو میں وہی جاوداں رہا
روزِ ازل سے جو خودی کا رازداں رہا
عالم ہے خاکِ پاۓ مسافر اے رہ نشیں
اس تیز گامِ رہ کے جو منزل نشاں رہا
دنیا کی محفلیں تو اسی شمع رو کی ہیں
رہ کر زمین پر جو سدا آسماں رہا

1
38
مِنَ المُلوکِ الذینَ العُلٰی
و ذاکَ ذَا بِاالَّذی فاخِرا
ولستُ مَن ذا الَّذی یُمْلَکُ
أنا الَّذی یُقالُ لہ شَـاھِیا

1
35
ماضی کا سہانہ موسمِ گل اس دورِ خزاں میں پھر لے آ
کہ کیف و سرور و مستی میں پھر جھوم اٹھے بد مست صبا
ہر سمت سکوت و خاموشی چھائی ہے فضا پر یہ کیسی
جو توڑ دے لمحوں کی بندش وہ جذبِ دروں کر پھر پیدا
فریاد کرے ہیں مے خانے یہ ٹوٹے سبو یہ پیمانے
اے ساقی ! ذرا فریاد بھی سن ان بادہ کشوں کو ڈھونڈ کے لا

1
44
شکستہ لہجے میں کہنے لگے یہ اہلِ جنوں
ہے کوئی دہر میں توڑے جو دہریوں کا فسوں
لبِ خموش پہ یک لخت یہ سوال آیا
رہے کیوں دہر میں مسلم ہی محوِ خوار و زبوں
سو اس فراق میں رہتا ہوں میں بھی سرگرداں
کہ پاسکے یہ مسلماں بھی ایک دم کا سکوں

1
114
ہزار عمر ملے پھر بھی اے شکستہ دل
نبھانا رسم محبت کی ہے بڑی مشکل
ملا نہ زیست کی کشتی کو ناخدا کوئی
ہنوز دور ہے دریا کے شور سے ساحل
سکونِ قلب میسر کبھی نہیں اس کو
تمام عمر تڑپتا رہا ہے یہ بسمل

1
46
ہنگامۂ قیامت ، ہر سو ہو ہاہاکاری
ہے وقت کا تقاضا دنیا کے رخ کو موڑوں
ان چھوٹی چھوٹی جھڑپوں سے تنگ آ چکا ہوں
جی چاہتا ہے میرا جنگِ عظیم چھیڑوں

1
35
عزت ہے مجھے پیاری رسوائی سے ڈرتا ہوں
پھر بھی اے رخِ تاباں تجھ پر ہی میں مرتا ہوں
شاید کہ اٹھا دے پھر مے خانے سے اے ساقی
سو آنے کی چاہت سے سو بار میں ڈرتا ہوں
کیا خوب محبت رنگ لائی ہے تری لیلی
انجان سی بستی میں بے گانہ سا پھرتا ہوں

0
39
منزل کی راہ پالوں تو اور کچھ کہوں
اس گم شدہ کو جا لوں تو اور کچھ کہوں
الجھا ہوا ہوں شورِ دنیا میں آج کل
جو اس بھنور سے نکلوں تو اور کچھ کہوں

47
اے عاشقِ مستانہ ترے ذوق پہ شیدا
ہے ہند کے مے خانے میں ساقی کوئی بیٹھا
اب تک نہ ہوا کوئی تقاضا مرے دل سے
گو جامِ محبت لیے در در کو یہ بھٹکا
ہے نازشِ اربابِ نظر میری صبوحی
پر میری صراحی سے یہاں کون ہے پیتا

2
39
کوئی غریب الدیار ٹھہرا،کسی کی قسمت میں دھن لکھا تھا
مگر مرا یہ نصیب دیکھو کہ جس میں ایسا وطن لکھا تھا
ہے خوب شاہ و گدا کا چکر یہ تیری فرماںروائی یارب !
کسی کے حصے میں تخت آیا،کسی کے حق میں کڑھن لکھا تھا
کسی نے زیبِ بہار دیکھا ، کسی نے گلشن کی لالہ زاری
مگر مقدر مرا یہی تھا جو خشک کوہ و دمن لکھا تھا

1
46
کوئی غریب الدیار ٹھہرا،کسی کی قسمت میں دھن لکھا تھا
مگر مرا یہ نصیب دیکھو کہ جس میں ایسا وطن لکھا تھا
ہے خوب شاہ و گدا کا چکر یہ تیری فرماںروائی یارب !
کسی کے حصے میں تخت آیا،کسی کے حق میں کڑھن لکھا تھا
کسی نے زیبِ بہار دیکھا ، کسی نے گلشن کی لالہ زاری
مگر مقدر مرا یہی تھا جو خشک کوہ و دمن لکھا تھا

0
193
کوئی غریب الدیار ٹھہرا،کسی کی قسمت میں دھن لکھا تھا
مگر مرا یہ نصیب دیکھو کہ جس میں ایسا وطن لکھا تھا
ہے خوب شاہ و گدا کا چکر یہ تیری فرماںروائی یارب !
کسی کے حصے میں تخت آیا،کسی کے حق میں کڑھن لکھا تھا
کسی نے زیبِ بہار دیکھا ، کسی نے گلشن کی لالہ زاری
مگر مقدر مرا یہی تھا جو خشک کوہ و دمن لکھا تھا

0
23
آپ کیوں رنجور ہوتے ہیں میاں
ہم ابھی زندہ ہیں زیرِ آسماں
عصرِ حاضر گو کہر آلود ہے
ہے نہاں اس میں ہزاروں کہکشاں
آۓ گی اپنی حکومت بھی کبھی
دیکھ لے گا وہ بھی دن ہندوستاں

1
49
نقش و صورت گرِ عاطفؔ کے پرستار ہیں ہم
جنبشِ دستِ مصور کے طلبگار ہیں ہم
رنگِ تصویر میں شامل ہے مصور کا لہو
کچھ تو انداز ہے جو شوخ و سزاوار ہیں ہم

43
دکھا کے خود کو چھپانا تو کوئی بات نہیں
کسی پہ ظلم یوں ڈھانا تو کوئی بات نہیں
ملی ہے رفعتِ پرواز تو مبارک ہو
کسی کو پاؤں پہ رکھنا تو کوئی بات نہیں
اگر بلندی ہو مقصود خود بڑھو آگے
کسی کو نیچے گرانا تو کوئی بات نہیں

0
34
مقامِ ملتِ بیضا ہنوز پنہاں است
ز کور چشمکِ تو بے خبر اے بو العجبی است
تو چہ می دانی اے غافل ! رموزِ شرعِ مبیں
گو گفت شاعرِ مشرق، حسین بو العجمی است
بگو ایں بر سرِ منبر تو برملا شاہؔی !
نے ایں طریقہ و انداز مصطفائی است

1
81
یہ ساحرانِ قلم ہی ہیں جن کے جادو پر
نقوشِ دستِ مصور بھی ناز کرتے ہیں
کیا خوب تر ہیں یہ کاتب کے خوشخطی اسلوب
نگار خانۂ عالم میں رنگ بھرتے ہیں
کلی ہو غنچہ و گل ہو کہ پھول ،پتے ہوں
ہزارہاۓ گلستاں کو شوخ کرتے ہیں

52
جلوے کیا دکھائے مجھے نایاب گہر نے
کی انجمن آرائی تھی گویا کہ سحر نے
تابانی جو تاروں کی ہے چھائی مری شب میں
دیکھا بھی کبھی ایسا کہیں شمس و قمر نے
ہر موڑ پہ رہزن ہے مگر چلتے ہی جانا
یہ ذوق کہ بخشا ہے مجھے عزمِ سفر نے

1
51
گلشنِ عالم میں ہے وہ سر زمیں رشکِ عدن
جس جگہ بھی صاحبِ اسرار ہیں جلوہ فگن
کیا تجلی ہوگی ان کے طورِ سینا پر کلیم
جن کے جلووں سے ہے روشن آج تک کوہ و دمن
ہیں ہزاروں گل مرے گلدستۂ اسلاف میں
چند ہی گل سے معطر ہے مرا سارا چمن

1
52
اسے نقش کر رہِ لیلاۓ سفرِ جنوں کے نصاب میں
یہ جو داستاں ہے سرِ ورق مری زندگی کی کتاب میں
کوئی مجنوۓ رہِ گم شدہ ، کوئی کہہ گیا مجھے سرپھرا
مرے عزم کا یہ کمال تھا میں نے دریا ڈھونڈا سراب میں
مرا دل تو تھا صنم آشنا مری بے خودی کی تھی انتہا
کبھی خاروخس سے چُنا ، چمن ، کبھی کانٹے ڈھونڈے گلاب میں

2
74
اوروں کی عیب جوئی ہے پرلطف مشغلہ
کچھ لوگ اپنے آپ سے رہتے ہیں بے خبر
پردے کے پیچھے رہ کے وہ کرتے ہیں ساز باز
کچھ لوگ ہراک بزم میں ہوتے ہیں فتنہ گر

46
اے گلستانِ غالب ، اے شہرِ سخن
چھوڑ کر اب تجھے ہم چلے دیوبند
اب نہیں آرزو، شوقِ دیدِ صنم
الوداع الوداع چل دیے دیوبند

1
37
امید بھی ٹوٹی مری حسرت پہ بھی رویا
یوں محفلِ عالم میں مجھے کیا نہیں بھایا
شرمندۂ تعبیر نہ وہ خواب ہو پایا
جس خواب کی تعبیر کو روتا ہوا سویا
وہ بزمِ جنوں پرور و آور کہ جہاں میں
جس بزم کے چرچے تھے ہوں میں اس کا ہی جویا

1
46
ہلالِ عید کو دیکھا جو اشک ریز ہوا
شکستہ حال کی آنکھوں کا دریا تیز ہوا
الہیٰ تیری مشیت سے ہم کو بیر نہیں
مگر ہے شکوہ کہ لیتا ہماری خیر نہیں
سبھی کے بچے سحر سے ہی خوش خبر ہونگے
ہمارے بچے مگر گھر سے دربدر ہوں گے

1
58
چھل ، کپٹ یا مکر ہو ، کر تو بھی اس کے ساتھ چھل
ہے فساد و یورشِ اغیار کا واحد یہ حل
مات دے شطرنج کے اس بازی گر کو اے رقیب !
حکمت و دانائی سے بھر پور کوئی چال چل

1
43
نعرۂ مستانہ پھر سے اے کہ عالم گیر کر
گونج اٹھے ساری دنیا یوں بلند تکبیر کر
پھر سے ہوجا مضطرب جاں، اے صفت سیلِ رواں
پھر گزر جا دشت و دریا کے دلوں کو چیر کر
خاک و خوں ہے ملتِ اسلامیہ اے چارہ گر !
جذبۂ ایثار سے پھر قوم کی تعمیر کر

1
65
کوئی کارواں ، کوئی قافلہ ، کوئی جادہ پیما نہ ہم سفر
وہ جو گامزن سرِ راہ تھے انہیں ڈھونڈتا ہے یہ رہ گزر
مرے کاروانِ حیات کو کسی خضرِ رہ کی تلاش تھی
جو ملا یوں منزلِ دہر میں ، کہ میں رہ گیا وہی دربدر
ترےہجرکی یہ ستم کشی مرےدل سےپوچھ اےچارہ گر
ابھی آشنا ہی ہوا تھا میں،تو کیوں چل دیا منھ موڑ کر

1
45
کیوں کر دلِ مضطر لیے بیتاب تھا شاہؔی
یہ بات مری فہم میں اب تک نہ تھی آئی
لیکن مرے مولیٰ کا یہ کرنا ہوا اک دن
سرکار کے یاروں کی سنی میں نے کہانی
پھر کیا تھا کہ دل سے مرے جاتی رہی تشویش
عاصی پہ کھلے جیسے ہی اسرارِ خدائی

1
40
اللّٰه ، بچائے مجھے اس دورِ فتن سے
جس دور پہ چھائی ہے فقط عورت و دولت
مقصود کہ اس دور کے لوگوں کا یہی ہے
ہوں میں بھی جواں ، ہے مجھے معلوم حقیقت
اس دور میں دو " فتنۂ اعظم " میں نے دیکھے
اک حبِّ نساء جس سے کہ مٹتی ہے حکوت

1
51
دل ڈھونڈتاہےجس کوسارےجہاں میں اب کی
معمورۂ جہاں میں معدوم ہے وہ ہستی
عزم و جنوں کا پیکر ، ہو آپ سا بھی کوئی
اے پاسبانِ ملت ، اسلام کے سپاہی
سید ! ہزاروں حسرت دل میں لیے ہوئے ہوں
اے کاش ! آپ ہوتے کیا خوب اپنی بنتی

1
78
اے دل و نگہ کے مرکز ! کوئی کر کرشمہ سازی
کہ رہے تو شاہِ غزنی اور سکھا مجھے ایازی
سرِ راہ کب سے بیٹھا تری دید کو ہوں مضطر
یہ ستم ظریفی کیسی ، یہ کہاں کی دل نوازی
کوئی کیوں کسی کی خاطر دل و جان کو لٹائے
کیا یہی نہیں ہے الفت ، کیا نہیں ہے چارہ سازی

7
118
خوش گفتگو کی عادت شاید بری لگی
بھاتی نہیں جہاں کو میری شگفتگی
کہتے ہیں دل فگاری جچتی ہے آپ پر
خاموش آپ اچھے لگتے ہیں شاہؔ جی
ہو جاتے ہیں کلی سے کیوں کھل کے آپ پھول
کیا ذوقِ خار کو بھی ہے لطفِ دل لگی

1
83
اشک ریزاں ہیں نگاہیں سینہ ہے آتش فشاں
مضطرب ہے روح میری لڑکھڑاتی ہے زباں
دردِ دل کیسے لکھوں کیسے کروں تجھ سے بیاں
کیا یہ ممکن ہے کہ ہو مسطور بھی آہ و فغاں
جرأتِ گفتاری پر آمادہ کرتا ہے مگر
میں جو اک حساس دل سینے میں رکھتا ہوں نڈر

2
60
آہ ! یہ نظارۂ دل سوز محشر کی گھڑی
کیسی کیسی شان و شوکت خاک میں یوں مل گئی
آبروئے دینِ احمدؔ آج خاکستر ہوئی
یہ بلند و بام قامت کیسے یکسر گر پڑی
تھا کبھی آباد انہیں سے یہ جہان رنگ و بو
آج لیکن ہرطرف ہے شور و غوغا ہاۓ و ہو

0
66
جو حسنِ لیاقت پہ وراثت کو ہے ترجیح
پھر کیوں مری ملت کا ستارہ ہو منور
قابل ہے پسر گر تو وراثت ہی ہے بہتر
ورنہ تو حکومت کی تباہی ہے مقدر

56
ہو تختِ حکومت یا کوئی قومی ادارہ
بہتر ہے کہ معیارِ مراتب ہو لیاقت
اس قوم کی تنظیم و جماعت ہوئی غارت
جس قوم میں چلتی ہیں روایاتِ وراثت

1
76
اک ضبطِ مسلسل ہے اذیت کی کہانی
ہے مجھ پہ گراں بار ہر اک لمحہ جوانی
یہ عمرِ رواں شاق ہے کس طور پہ مجھ پر
کس کس پہ ہویدا میں کروں دردِ نہانی
یہ دورِ جنوں مہر و وفا کا متلاشی
ہر پل یہ گذرتا ہے مری جاں پہ گرانی

1
114
کہتا ہوں وہی بات سکھاتی ہے جو فطرت
کچھ خودسےکہوں مجھ کو نہیں اتنی جسارت
کہنے کو تو کافر کی اطاعت نہیں منظور
سچ ہے کہ یہی تجھ کو ہے منظور اطاعت
خود کو تو سیاست سے بھلے جتنا بچا لے
حق بات یہی ہے کہ یہ ہے دورِ سیاست

73
*؁ غلامی؁*
خوف سے تو لڑکھڑاتی ہے غلاموں کی زباں
میں تو ہوں آزاد بندہ ، ہر نفس ، ہردم ، رواں
ایک صاحب کہہ رہے تھے بر سرِ منبر ، سنو !
اے مسلماں ! ہند میں جب تک ہے رہنا ، تم رہو
ہاں مگر اپنے تمندن سے رہو بیگانے تم

1
79
. شیــخُ الہنؒــد
. حضرتِ محمودؒ کی لحد پر
آیا میں آج حضرت محمودؒ کی لحد پہ
پھر کیا تھا اشکِ مضطر آنکھوں سے بہ گیا
بیتاب قلب و جاں میں ، کب سے تھا دہر میں
ساری ہی دل کی رنجش پل بھر میں کہ گیا

53
؛ ؂؁مکالمہ؁؛
؂ایک حضرتؔ اور لیڈرؔ؂
حضرت:
اے شوخ جواں ! اہلِ جنوں ، عزم کی صورت
کہتے ہیں مجھے گوشۂ تنہائی میں حضرت
تو شیخِ حرم ، پیرِ عجم ، اہلِ قلم ہے

91
زہر کی خوشبو اگر مخلوط ہے مشکِ ختن میں
رہ گیا پھر کیا اے آہو ! اب ترے کوہ و دمن میں
ایک بجلی سارے گلشن کو فنا کر دیتی ہے
کیاسےکیاہوجاتا ہے پیارے! یہاں چشمِ زدن میں
ایسا بھی ہوتا ہے صاحب ! زندگانی میں کبھی
بےوطن ہوتےہیں انساں اپنے شہر،اپنے وطن میں

1
82
زمیں رہی زماں رہا مکیں رہا مکاں رہے
مگر نہ مل سکا مجھے جو زیرِ آسماں رہے
کہاں سے لاؤں میں وہ دل جو دردِ عشق میں دکھے
جو ہجر و وصل سے جدا کہیں شرر فغاں رہے
نہ دل ، نگہ، نہ عشق ہے، نہ ذوق و شوق و آرزو
اے درد ! مجھ کو لے بھی چل کہ یہ کشاں کشاں رہے

53
وہ مردِ جواں عزم ، جواں سال، جواں دل
ہوتا ہے کبھی صدیوں میں پیدا کوئی قابل
وہ ذات یگانہ تھی زمانے میں نمونہ
تنہا ہی بھری بزم تھی تنہا بھری محفل
وہ اہلِ خرد اہلِ جنوں اہلِ نظارہ
وہ عزم و جنوں پیکرِ اوصاف کے حامل

1
65
چاک دامن کر گئے ہیں پارہ پارہ ہے قبا
چھین کر سلطاں گری وہ دے گئے خوۓ گدا
ہاتھ میں لیکر ہیں بیٹھے کاسۂ دریوزہ گر
دیکھ تو اے تاج گر ! ان رہ نشینوں کی ادا
ہیں غلامیت پہ راضی غیر کے محکوم ہیں
حکمرانوں کی نسل ہیں آہ ! کہ دیکھو ذرا

1
83
جس قدر ہے شوخی تجھ میں جس قدر گفتار ہے
اس سے بڑھ کر تیری ہستی پیکرِ کردار ہے
رشک تجھ پر آج بھی ہے اے "بہارستاں" کے پھول
تیری خوشبو سے معطر اب تلک گلزار ہے
ہے خزاں دیدہ تری ہستی کے بن باغِ بہار
تجھ سے ہے حسنِ بہاراں شوخیٔ گلزار ہے

1
91
اَلْقِ عَلَیَّ رَبِّی حُبَّکْ
نَحْوَ الْعَالَمِ أَعْلُوَ إِسْمَکْ
رَبِّ اجْعَلْنِی أَحَبَّ عَبْدِکْ
أَعْطِ الْمَوْلٰی أیْضأً قُرْبَکْ
رَبِّ ارْحَمْنِی رَبِّ اغْفِرْلِی
وَسِّعْ دَارِی بَارِکْ رِزْقَکْ

45
روشن انہیں کے دم سے ہرسو ہیں ضوفشاں
شمس و قمر ستارے پر نور کہکشاں
خونِ جگر سے ان کے ہرسو بہار ہے
باغِ جہاں میں رنگت عالم میں شوخیاں
غنچوں میں خوشنمائی کلیوں میں رنگ و بو
ہے ان کے دم سے اب تک آباد گلستاں

1
66
ھَیَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ قَوْلِیْ إسْمَعْ
فَغَیْرَ دِیْنِ مُحَمَّدٍؐ لَاْ تَتْبَعْ
فَخَالِدُ ابْنُ وَلِیْدٍ وَابْنُ خَطَّابْ
لَأُسْوَۃٌ لَکَ فِیھِمَا اَیُّه‍َا الشَّابْ
لَحَاصِلٌ لَکَ قُوَّۃُ الْحَیْدَرْ
وَ عَزْمُ أبِی بَکَرٍ وَ نَظْمُ عُمَرْ

2
98
مضطرب دل ہے، پریشاں ہوں،جگر ہے زخمی
تیز دھڑکن ہے مری سانس ہے سہمی سہمی
ملتِ ختمِ رُسلؐ کیسے سہارا پاۓ
اب ہے اسلام روایاتی مسلماں رسمی
بزمِ فاروقؔ و علیؔ خالدؔ و ضرّارؔ نہیں
رزم گاہیں بھی نہیں اور نہ مومن رزمی

1
86
آ تجھ کو دکھاؤں، دلِ بیتابِ نظارا
اس قوم کو تسخیر کیا جس نے جہاں را
اب بحرِ مسلماں میں نہیں جوش و تلاطم
آشوبِ قیامت سے ہے محروم کنارا
نہ ان کے جوانوں میں ہی اب عزم و جنوں ہے
پِیروں میں بھی باقی نہ رہا جوہرِ دارا

1
82
توڑ ڈالی تھی غلامیت کی زنجیریں تمام
ان کے ذوقِ حریت کو ان کی جرأت کو سلام
مدنیؒ و محمودؒ و سندھیؒ،ضامؒن و قاسمؒ، رشیدؒ
جنگِ آزادی کے قائد ملک و ملت کے امام
ہیں سعیدؒ و احمؒد و امداؒد و جوؒہر ،فضلِ حقؒ
شہ ولیؒ اللّٰه، کفایؒت، شاہ اسمؒاعل، کلاؒم

1
57
ملک و ملت کی بقا ممکن نہیں اے نوجواں
جب تلک پیدا نہ ہو تجھ میں اداۓ جانفشاں
جانفشانی سے ہی باغِ دہر میں فصلِ بہار
جانفشانی سے ہی گلشن میں ہے شاہیں شادماں
لذتِ صحرا نوردی قیس سے پوچھے کوئی
پھرتا ہے کیوں مضطرب پروانوں سا بیتاب جاں

1
67
جس دل میں عزم و جنوں نہ ہو وہ دل بھی اے دل کیا دل ہے
جو دریا تلاطم خیز نہ ہو بہتر تو اس سے ساحل ہے
محفل میں جیالوں کے چرچے ہر آن تو ہوتے ہیں لیکن
دیکھو کہ جیالوں سے یکسر محروم تری یہ محفل ہے
وہ دشتِ جنوں پرور مجنوں کیوں پھرتا رہے شوریدہ سر
وہ قیس کہاں سے پیدا ہو لیلی سے تہی جب محمل ہے

1
57
سنو ! اے قوم کے لیڈر ! سیاست کیوں ضروری ہے
مدارس خانقاہیں تو فقط ایماں کا قلعہ ہے
جہاں میں اہلِ ایماں کی بقا کا راز کس میں ہے
مسلماں کی جہاں میں قوتِ پرواز کس میں ہے
کہ غیر از ایں ہاں ، شاید محفلِ ہستی ادھوری ہے
سنو ! اے قوم کے لیڈر ! سیاست کیوں ضروری ہے

1
126
دریا میں تو رہتا ہوں پلتا ہوں بھنور میں میں
نایاب سا گوہر ہوں یوں اہلِ نظر میں میں
خوشبو میں مری مالی ! گلشن کو نہا ڈالو
وہ گل ہوں کہ کھلتا ہوں اک بار شجر میں میں
معلوم نہیں مجھ کو منزل ہے کہاں میری
سو اس لیے رہتا ہوں ہر آن سفر میں میں

1
69
دم بخود حیران و ششدر تھے فرشتے چار سو
عرش کی جانب ہے کیسا شور و غوغا ہاۓ ہو
سوچتے ہیں آخرش کس دل کی ہے آہ و فغاں
ہوتے ہیں سارے فرشتے عرش کی جانب رواں
دیکھتے ہیں صورتِ سیماب قلبِ ناتواں
جل رہا ہے سوزشِ غم سے وہاں کوئی جواں

1
40
*ایک نوجوان کی دعا*
کیوں ریاضِ دہر میں پژمردہ رُو اک گل ہوں میں
گلشنِ ہستی میں کیوں آشفتہ سر بلبل ہوں میں
اک طرف روتی ہیں آنکھیں غارتِ دیں دیکھ کر
اک طرف نالاں ہے دل کہ ہوں میں اُس سے بے خبر
اک طرف محبوب سے محبوب تر محبوب دیں

1
54
آنکھوں سے مری پردۂ اسرار اٹھادے
کیا کیا ہیں نہاں عالمِ امکاں میں دکھادے
جیتے ہیں زمانے میں مگر کیسے جیالے
انداز و شیم طرزِ امم مجھ کو سکھادے
آ لے جا مجھے گوشۂ طیبہ میں تصور
دیدارِ شہِ دیں سے نگاہوں کو جِلادے

1
62
آسماں خاموش ہے خاموش ہے ارضِ حرم
ہے مسلمانوں کی دنیا آج محرومِ کرم
جو جفاکش تھے جہاں سے وہ تو رخصت ہو گئے
عیش و آسائش کے خوگر ، رہ گئے اہلِ نعم
خانہ ویرانی مگر کہ اپنے ہاتھوں ہی ہوئی
کر گیا خاکسترِ در اک چراغِ صبحدم

3
84
اے نازشِ محبت ! خوش شکل خوبرو
جس کے نگاہ و دل کے چرچے ہیں چارسو
مجنوں تری حقیقت بن جاۓ نہ فسانہ
پھرتا ہے جابجا کیوں رہتا ہے جو بجو
کہتا ہے اک خردمند اے سرفروشِ دیں
بزدل صفت جواں ہی ہوتے ہیں صلحجو

42
ہے شاعرانہ فطرت ہر سو ہو واہ واہ
تصدیق ہر طرف ہو خوب و جیاد کی
ہر شعر پر ہو داد و تحسین بے شمار
لاکھوں ہزاروں خواہش ہے مستزاد کی
اک پیر زادہ مجھ سے ہوتے ہیں ہم کلام
کرتے ہیں بات فتنۂ واہِ بباد کی

0
1
94
جو ظلمتِ شب کا چیر دے دل وہ نورِ قمر تو پیدا کر
تاریک جہاں تابندہ ہو جس سے وہ سحر تو پیدا کر
گلشن میں بہت مل جائیں گے کنجشک و فرومایہ کرگس
بیباک جفاکش مت والے شاہیں کا جگر تو پیدا کر
جو سرد لہو کو گرما دے ، خاکسترِ دل کو دہکا دے
کہ سوزِ جگر کی گرمی سے وہ شعلہ، شرر تو پیدا کر

1
74
نہ آیا آج وہ ، محفل نے جس کی حسرت کی
کہ تاب لاتی نہیں بزم جس کی صورت کی
ہوا ہوں اب کہ پریشان اس کی فرقت سے
مگر مجال ہے ملنے کی کچھ بھی جرأت کی
ہوں دربدر میں اسیروں سی زندگی اپنی
جفا یہ کیسی بلا کی ہے اس نزاکت کی

1
90
صفت آزاد خاکی ہوں رہوں کیوں کر میں بندش میں
میں شاہؔی ہوں روایاتِ اسیری توڑ جاؤں گا
دلِ کوہِ ہمالہ کو بھی دہلادے جو ہیبت سے
بنا کر ذرۂ خاکی کو میں شہ زور جاؤں گا
مرے بپھرے ہوئے موجوں کی طغیانی ذرا دیکھو
کہ تند و تیز دریا کا بھی میں رخ موڑ جاؤں گا

1
63
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھ اے پاسباں
نوجوانانِ امم کو پھر صفت اجداد کر
طفلِ شاہیں کو سکھا دے پھر سے شاہیں کا سبق
خوف و دہشت کی فضا سے گلستاں آزاد کر
عظمتِ رفتہ سنا دے، دے انہیں دیرینہ خو
دے عقابی روح ان کو ہمسرِ صیاد کر

48
آ تجھ کو میں بتاؤں اے قلبِ عاشقانہ
اک جاں گسل حقیقت اندازِ شاعرانہ
کیوں کر ہو تجھ میں پیدا افکارِ قائدانہ
اقبالؔ سے گریزاں ، غالبؔ کا ہو دیوانہ
الزامِ طرفداری مجھ پر تو ہوں گے لیکن
پوچھو کسی خرد سے ہے کون جاودانہ

1
173
آہ شیخ الہنؒد تیری روح کو پہونچے قرار
آج تیرے جانشینوں میں نہیں وہ دل فگار
ڈھونڈتی ہے آنکھ میری سرفروشوں کو ترے
کون ہے جانباز تیرا ملک و ملت پر نثار
اولاً تو قعرِ دریا میں نہیں کوئی گہر
ہوں بھی گر تو کون ہے غواص اور گوہر نگار

1
104
دیکھ ناداں اندلسؔ، بغدادؔ کا انجام دیکھ
دے رہا ہے ہندؔ بھی تجھ کو وہی پیغام دیکھ
آگہی تاریخ سے کچھ بھی نہیں واللہ تجھے
ہے سرِ فہرست تیرا اے مسلماں نام دیکھ
کل تلک تو عالمِ بالا میں تیری دھوم تھی
آج اپنی نا گہی کا ہاۓ تو انعام دیکھ

1
113
اک نوجواں ہے میرے تخیل پہ جانثار
پڑھتا ہے شعر میرا ہوتا ہے اشک بار
کہتا ہے شاہؔ صاحب کچھ کیجیے ذرا
فریاد دردِ دل کی لایا ہے خاکسار
تحریر کی کشش سے پتھر بھی موم ہے
اشعار بھی ہیں تیرے دلکش وہ دل نگار

2
59
تو زینتِ عالم ہے بلندی کا ہے اختر
پھر کیوں ہے پڑا پستیٔ ارضی کے تو اندر
کس دور میں جیتے ہو خبر کچھ بھی ہے تجھ کو
ہوتے ہیں کہاں تیری نگاہوں پہ اجاگر
ڈر جاتا ہے تو ہلکی سی دریا کی لہر سے
ہوتا تھا کبھی تو بھی تو طوفان کا پیکر

1
85
یہ داستاں ہے میری ان غمزدہ دنوں کی
آئی تھی جب مصیبت مجھ پر منوں ٹنوں کی
ویران تھا مرا دل خانہ خراب تھا میں
کہتے ہیں جب اسیرِ عہدِ شباب تھا میں
اس وقت میں جہاں سے کچھ آشنا نہیں تھا
میرے لئے جہاں میں کوئی اماں نہیں تھا

1
50
جلا کر شمعِ ہستی گلستاں کو خاک کر دوں گا
گلوں کو پھول پتوں کو خس و خاشاک کر دوں گا
مجھے روکو نہ اے بزمِ جہاں اس جانفشانی سے
میں اپنی سوزِ پنہا سے جہاں کو راکھ کر دوں گا
مجھے رہنے دے اپنے آپ میں اے ہم نشیں ورنہ
جنونِ عشق میں آکر میں سینا چاک کردوں گا

1
101
توڑ ڈالے تھے غلامیت کی زنجیریں تمام
ان کے ذوقِ حریت کو ان کی جرأت کو سلام
مدنیؒ و محمودؒ و سندھیؒ،ضامؒن و قاسمؒ، رشیدؒ
جنگِ آزادی کے قائد ملک و ملت کے امام
ہیں سعیدؒ و احمؒد و امداؒد و جوؒہر ،فضلِ حقؒ
شاہ ولیؒ الله، کفایؒت، شاہ اسمؒاعل، کلاؒم

56
ناداں ہے تری قوم کا وہ صاحبِ تدبیر
خنداں ہے تمسخر کی زباں جس پہ بھی تقدیر
کہنے کو ہیں قائد کہ مگر دیکھ ذرا تو
قائد کو ترے خود کی بھی آتی نہیں تعمیر
وہ کیسے کسی قوم کو بیدار کرے گا
جس سے کہ بھری بزم میں ہوتی نہیں تقریر

1
111
یہ جرأتِ رندانہ ، اندازِ ملوکانہ
بے خوف و خطر جینا ہے طرزِ مسلمانہ
اس موت سے ملنے میں کیا وصل کی راحت ہے
جس موت کی منزل ہو معشوقۂ مستانہ
کیا قلب و جگر تو نے اے رند کہ پایا ہے
جاں سوز صبوحی سے لبریز ہے پیمانہ

1
97
کیا نہیں میرے لیے کوئی وطن کوئی زمیں
میں پہیلی تو نہیں ہوں جو نہ سمجھے ہم نشیں
کس جہاں آباد میں پیدا ہوا ہوں اے خدا
کیوں سمجھتی ہے یہ دنیا "میری ہستؔی" کچھ نہیں
محوِ گردش مہر و انجم ہیں مرے افلاک میں
کہکشاں ہے مجھ پہ شیدا ہے فدائی مہ جبیں

46
آہ ، حسرت ، بزمِ ہستی ! داستاں کیسے کہوں
دل پہ جو گزری قیامت اس کو میں کیسے لکھوں
دربدر کی ٹھوکریں ہیں، زخمِ دل بھرتا نہیں
کر گیا برباد مجھ کو آخرش میرا جنوں
مضطرب ،بے چین فطرت ،ہوگئی ہے زندگی
کوئی ہے غمخوار میرا مجھ کو جو لا دے سکوں

0
43
ہے جوانوں کے لئے بس کہ یہی دورِ شباب
آ کے گردش میں محبت کا یہ کرتے ہیں طواف
آگہی جب بھی ہوئی دین و شریعت سے انہیں
آرزوؤں کا امیدوں کا یہ بن بیٹھے مطاف
جب بھی ہوتا ہے جنوں مست ، دلِ مومن میں
توڑ آتے ہیں زمانے کے ھبل ، لات و مناف

1
60
اے وارثِ پیغمبرِ محمود و محمد ﷺ
سوچا ہے کہ کیوں قوم تری سب سے ہے نیچے
ملت کی حفاظت کے لئے پاس بھی کچھ ہے
تدبیرِ سیاست میں تجارت میں ہو پیچھے
تقلید میں اندھے ہو یا محرومِ خرد ہو
یا شوق ہے تا عمر رہو غیر کے چمچے

50
حیف ہے وارثِ قرآن و فقیہانِ امم
ملک و ملت کی حفاظت میں جو پیچھے ہیں
یاد کر امتِ مرحوم پہ کیا گزری ہے
دہر میں اٰلِ سلاطین پہ کیا بیتے ہیں
چھوڑ کر راہِ سیاست کو مسلمانِ عجم
کیسے محرومِ تماشائی بنے بیٹھے ہیں

65
ہونٹوں پہ ہنسی دل میں یہ رکھتے ہیں کدورت
آرا بھی دیے جاتے ہیں کرتے ہیں نصیحت
اے نغمہ سرا ذکرِ حسینہ ہو غزل میں
کہتی ہے مجھے آکے یہ یاروں کی جماعت
اس دور میں مجنوں کی محبت کے ہیں چرچے
دل شوخ حسینوں سے لگا چھوڑو حکومت

53
افکار و خیالات و خرد کے نظریات
اسرار کے پردے میں چھپاتی ہیں روایات
آتے ہیں خردمند بتاتے ہیں روایات
بچوں کو جوانوں کو سکھاتے ہیں روایات
گو دین و شریعت کا ہو نقصان و لیکن
ماضی کے تسلسل کو یہ کہتے ہیں روایات

2
60
ہمیشہ ہر گھڑی ہر لمحہ فکرِ آرزو رہنا
بہت مشکل ہے دے کے دل کسی کو سرخرو رہنا
عجب لذت ہے اے دل ! وصل سے بیزار رہنے میں
فراقِ یار میں ہردم سراپا جستجو رہنا
کبھی تو رنگ لاۓ گا تجھے پانے کی چاہت میں
مرا یوں دربدر پھرنا مرا یوں کوبکو رہنا

49
دل چیخ اٹھا سوز و تب و تاب سے آخر
میں کیوں نہ ہوا خالدؓ و حیدرؓ کا معاصر
جس راہ کا رخ شوکتِ اسلام فقط تھا
اس راہ کا میں کیوں نہ ہوا رہرو، مسافر
یہ حسرتِ دیرینہ مری بر نہیں آئی
میں ہو نہ سکا دینِ محمدﷺ کا مہاجر

1
67
آتی ہے ندا مجھ کو یہی کوہ و کمر سے
تہ خانۂ ہستی سے یہی قلب و جگر سے
جو دردِ محبت میں چلے آتے ہیں آنسوں
اک سیلِ رواں بن کے گزر جاتے ہیں در سے
میں بندہ سیاسی ہوں سیاست میرا مذہب
مت دیکھو مجھے فرقہ و مسلک کی نظر سے

39
. زیـب تن کر کے یہ اجـداد کا انـدازِ کہـن
. شیر و شاہین کی صورت بھی دکھاتی ہے یہ
. تـصـویـر
( انظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال)
درسِ آئینِ جہابانی سکھاتی ہے یہ
اپنا گزرا ہوا کل یاد دلاتی ہے یہ

54
لئے آزردہ دل جب میں مزارِ یار پر پہنچا
نگاہیں اشک ریزاں تھیں تھا دل بیتاب سینے میں
صدا رک رک کے آتی تھی مری مضطر سی دھڑکن سے
بنا تیرے مرے ہمدم مزہ کیا میرے جینے میں
ترے دل کش تصور سے چھلک جاتا ہے پیمانہ
پیوں کیا میں اے ساقی ! کیا بچا ہے میرے مینے میں

54
سفر نامہ
سجی تھی محفلِ شاہی تھا بیٹھا اپنے یاروں میں
ہو جیسے چاند روشن آسماں کے بیچ تاروں میں
سکوتِ شب کو توڑا چھیڑ کر کے داستاں ایسی
تھا چرچہ جس کا شب کے قصہ گو کے تاجداروں میں
وہ نظارہ مگر کیسے بیاں تجھ سے کروں سامر!

1
49
باقی ہے بھلے جسم مگر جان نہیں ہے
یہ زندہ و جاوید کی پہچان نہیں ہے
جو دل کہ شناسائے غم و رنج نہیں ہے
وہ سنگ مگر ہے دلِ انسان نہیں ہے
سوچو تو ذرا قوم کے غیور جیالو
کیا ہے کہ خدا کے یہاں کچھ مان نہیں ہے

1
54
ہستی میں اپنی جو تم کچھ بھی کمال رکھتے
پتھر دلوں میں بھی تم شوقِ وصال رکھتے
کچھ مصلحت پسندی سے تم بھی کام لیتے
اپنی روایتوں کا کچھ تو خیال رکھتے
اپنی ہی لاج رکھتے اے قوم کے لٹیرو !
چہرے کی سرخیوں میں کچھ تو جلال رکھتے

1
89
عالَم کی قیادت سے جو مومن ہے کنارا
ہے اس میں سراسر تری دنیا کا خسارا
ہے بس کہ یہی غیرتِ ایماں کا تقاضہ
کافر کی اطاعت نہ ہو مومن کو گوارا
ہاں ، مردِ جہاں گیر و جہاں بان و جہاں دار
یورپ کی غلامی پہ نہیں کرتا گزارا

2
96
لَــوْلَاكَ لَـــمَا خَـــلَقْـتُ الأفْــــلَاكَ
کہنے کو تو کہتے ہیں یہ سبھی کہ عشق حسین تماشا ہے
لیکن کہ وجودِ عالم ہی سمجھو تو عشق سراپا ہے
محبوب کے قدموں میں قرباں کرنے کو کہیں سے کیا لاؤں
خورشید و قمر تارے یہ سبھی یہ بزمِ جہاں بھی ذرا سا ہے
رندوں کو پلانا خونِ جگر یہ خاص صفت ہے شبیری

1
112
اے شمس و قمر کوکب و انجم کے محافظ !
ہر ذرہ تجھے دیتا ہے تعلیمِ خلافت
چھوڑو بھی اسے جانے دو اے حسن کے طالب!
کب تک ترے جلووں میں پلے ناز و نزاکت
اے مردِ جواں! خود کو ہلاکت سے بچاؤ
ہے شاہیں جوانوں کے لئے حسن ہلاکت

1
57
اٹھو بزم کے شہسوارِ قلم
جہالت کے سب توڑ ڈالو صنم
لے آ ذوقِ تحریر سے انقلاب
گئی صبحِ غفلت گئی شامِ غم
صحافت نگاری، مضامیں، مقالہ
یہ ہے تیری منزل اٹھاؤ قدم

1
93
میں شوخیِ گل بہار ہوتا اگر اسے مجھ سے پیار ہوتا
خزاں کے رت میں گلاب لہجہ بناۓ میں استوار ہوتا
فضاۓ محرومِ گلستاں ہوں مرا نشیمن کہیں نہیں ہے
جو ریگزاروں میں نہ بھٹکتا چمن میں بادِ بہار ہوتا
میں بلبلِ نغمہ ساز نے ہوں ؟ چمن میں جانے سے روک ڈالا
برا مگر اس پہ کیا گزرتا چمن سے گر ہم کنار ہوتا

1
59