Circle Image

Habib-ur-Rehman

@habibilyas@hotmail.com

پھر تری یاد کے سبک جھونکے
سازِ دل چھیڑ نے چلے آئے
پھر تری یاد کی بہاروں نے
صحنِ دل میں گلاب مہکائے
پھر ترے صحنِ دل میں یادوں کی
کوئی ڈالی لچک رہی ہو گی

0
8
رات آئی بھی اور چلی بھی گئی
کیسے گزری ہے کون جانے گا
کیسے جلتا رہا ہوں اندر سے
میں کہوں بھی تو کون مانے گا
کتنی بے چین تھی فضا دل کی
حال اس دل کا دل ہی جانے ہے

0
4
کھویا کھویا رہتا ہوں
درد اکیلے سہتا ہوں
سوچ میں ڈوبا بیٹھا ہوں
میں بھی کتنا تنہا ہوں
ہمدم مونس کوئی ہو
کوئی تو دل جوئی ہو

0
6
بے شک جذبوں سے لوگوں کے دل دھڑکانا لازم ہے
لیکن پہلے اپنا خونِ دل گرمانا لازم ہے
جنت ہو یا دوزخ ، لوگو کب یوں ہی مل جائے گی
لیکن پہلے جاں سے اپنی سب کو جانا لازم ہے
جیون کی راہوں سے تنہا کیسے گزرا جا سکتا ہے
کوئی پہچانا ساتھی ہو یا انجانا ، لازم ہے

0
5
مٹی سے مٹیالے رہبر
زہریلے پھن والے رہبر
جمہوری ادواروں میں بھی
وردی کے متوالے رہبر
راتوں کے دیوانے نکلے
اجیالوں کے ڈھالے رہبر

0
7
آنکھوں سے آنسو ٹپکا تھا
یا کوئی تارا ٹوٹا تھا
جب وہ تھا ویرانے میں بھی
ہر موسم اچھا لگتا تھا
بس وہ ہی بچھڑا تھا لیکن
گلیوں میں کیوں سناٹا تھا

0
8
وفا کی راہ میں اک دو گھڑی سستا کے چلتے ہیں
ذرا دم لو مسافت ہے بڑی سستا کے چلتے ہیں
چلے ہیں رفتہ رفتہ منزلیں طے کر ہی جائیں گے
تمہیں کیوں ہے بڑی جلدی پڑی سستا کے چلتے ہیں
ٹھہر جاؤ ذرا دم لو رکو کچھ تازگی آئے
ابھی ہیں جھیلنی کتنی کڑی سستا کے چلتے ہیں

0
5
رشتے ناتے گُم ہو جائیں
جب ہم سے، میں تم ہو جائیں
آنکھیں تو آنکھیں چاہت میں
زلفوں کے خَم، خُم ہو جائیں
اس کی یادوں کے جھرمٹ میں
یوں بیٹھیں ہم گم ہو جائیں

0
16
نہ میرا سر ہے سرا ڈور کا جو جل اٹّھے
نہ ہوں میں شمع سا جل جائے تو پگھل اٹّھے
یہ میری سوچ تھی ہر انتہائیں چھو آئی
یہ جبرئیل کے پر تو نہ تھے، جو جل اٹّھے
اے میری جہدِ مسلسل عجب ہے کیا اس میں
جو آج مجھ سے نہیں اٹھ سکی تھی کل اٹّھے

0
7
دل سے ہر شک نکالئے صاحب
اب نہ آنکھیں نکالئے صاحب
چاند کا دل دھڑک رہا ہوگا
اپنا آنچل سنبھالئے صاحب
اک ذرا سی زبان نے کتنے
دوست دشمن بنا لئے صاحب

0
10
سوا ہے عقل سے یہ بات آپ کی نہ کریں
دلوں ہزار میں چھاتی پہ مونگ، سی نہ کریں
عجیب ضد ہے بھروں چٹکیاں میں لاکھ مگر
لبوں کو سی کے رکھیں، آپ ہائے بھی، نہ کریں
چمن کو آگ لگا کر ستم گروں نے کہا
کوئی ہزار نہ روئے پپیہے پی نہ کریں

0
10
تو جو چاہے ترے ہر لفظ سے خوشبو آئے
پھر ضروری ہے تجھے میر سی اردو آئے
رنگ اڑ جائے گا اے باد بہاری اسکے
بھول کر تو لب و رخسار اگر چھو آئے
خوب ہے، خوب نہیں، ہوجو تری جلوت میں
ایک دنیا، مری خلوت میں اگر تو آئے

6
کوئی ہم کو روکے یہ ہمت کسی کی
وہ جنرل کا بیٹا میں کرنل کی بیوی
کہاں ہم کہاں اس سپاہی کو دیکھو
کہاں نیلی پیلی کہاں خاص وردی
یہ موسم ہی کیا یہ مناظر، ہے اپنی
سیاہی شبوں کی سفیدی سحر کی

0
11
تن اجلوں کے من ہیں کالے
باہر ستھرا گھر میں جالے
کیا اپنے کیا ایرے غیرے
سب ہیں میرے دیکھے بھالے
کن سایوں نے آخر میرے
من آنگن میں ڈیرے ڈالے

0
8
محبت کی صدا گونجے گی کیسے روزن و در سے
زبانیں کاٹی جاتی ہوں جہاں نفرت کے خنجر سے
یہ سب انساں نما بت بولتے ہیں اور نہ سنتے ہیں
مگریہ بات کوئی پوچھنے والا ہے آذر سے
اگر ہو انحصارِ زندگی تو کیوں نہ ہو اچھا
گوہر کے واسطے اک قطرہِ شبنم سمندر سے

0
23
منزلِ شوق سے آتے ہوئے اے خوش بختو
اذنِ اظہار اگر ہو تو میں یہ پوچھوںگا
چشمِ الطاف ادھر ہو تو میں یہ پوچھوں گا
جب درِ حضرتِ والا پہ کھڑے تھے تم لوگ
اپنے ماضی پہ پشیمان ہوئے تھے کہ نہیں
اپنے صد چاکِ گریبان سیئے تھے کہ نہیں

0
8
آدمی وہم بھی گمان بھی ہے
آدمی عزم کی چٹان بھی ہے
آدمی امن بھی ہے جنگ بھی ہے
آدمی موم بھی ہے سنگ بھی ہے
آدمی شاہ بھی ہے فقیر بھی ہے
سب سے اشرف بھی ہے حقیر بھی ہے

0
5
جذبہ خلوص و پیار کا خواب و خیال ہو گیا
دنیا میں اہلِ درد کا جینا محال ہو گیا
مجھ سے بچھڑ کے دیکھئے پھرتا ہے وہ نگر نگر
میرا جو حال تھا کبھی اس کا وہ حال ہو گیا
لب تو خموش ہی رہے آنکھیں نہ ضبط کر سکیں
کچھ بھی سہی دراز تو دستِ سوال ہو گیا

0
7
کوئی داستاں ہو عروج کی یا کوئی زوال کی یاد رکھ
یہی سب تو رنگِ حیات ہے تو ہر اک غمی خوشی یاد رکھ
یہ تو زندگی کا نصیب ہے وہ نشیب ہوں کہ فراز ہوں
نہ بجا کہ تو خوشی بھول جا نہ روا کہ بس غمی یاد رکھ
یہ جو ساعتیں ہیں حیات کی انھیں کاٹ لے انھیں جھیل جا
شبِ ہجر صبحِ وصال کو کبھی بھول جا کبھی یاد رکھ

0
9
شب کہانی کے باب ہوں میرے
تیری آنکھوں میں خواب ہوں میرے
کیا تردد رہے مسافت کا
آپ گر ہم رکاب ہوں میرے
ہاں تمہاری وصال آنکھوں میں
فرقتوں کے عذاب ہوں میرے

10
جو مجھ سے مس ہو بنا دوں اسے سکندر میں
کسی غریب کا ٹھہروں اگر مقدر میں
میں نیند میں تھا زمانے کو نیند آئی تھی
اسی پہ وقت بھی چونکا اٹھا جو سو کر میں
تمنا مہر بہ لب ہے مری طلب خاموش
صدائے لب پہ بہت کھا چکا ہوں ٹھوکر میں

0
6
یہ نظارہ سمجھ سے ماورا ہے
کہ ہر سایہ ہر اک قد سے سوا ہے
بظاہر مسکراہٹ ہے لبوں پر
مگر اندر کا انساں رو رہا ہے
اسے مجھ سی نہیں کیوں بے قراری
دلوں کا گر دلوں سے رابطہ ہے

0
7
شام ڈھل جائے نئی صبح کی ساعت مہکے
کوئی مل جائے تو احساسِ رفاقت مہکے
تیری پاکیزہ محبت کو زمانہ مانے
تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی شرافت مہکے
فاصلوں کے در و دیوار سے یادیں چھلکیں
دوریوں میں بھی ترے قرب کی مدحت مہکے

0
7
نور و ظلمت کی یہ تفریق مٹا دی جائے
جو نہ ڈوبے اسی سورج کو صدا دی جائے
کس کی خاطر لبِ سوزاں سے صدا دی جائے
کس لئے ہاتھ اٹھیں کس کو دعا دی جائے
آئینہ بن کے سرِ شہرِ فقیہاں آیا
میری تصویر زمانے کو دکھا دی جائے

0
5
کب ہم نے کہا ہم سے نوازش نہیں ہوتی
ہر شخص پہ اکرام کی بارش نہیں ہو تی
ہر وقت تو گردش میں ستارے نہیں رہتے
ہر گام تو حالات کی سازش نہیں ہوتی
ہم بزم میں جاکر کبھی واپس نہیں آتے
ابرو کی اگر آپ کے جنبش نہیں ہو تی

0
9
یہ بھی نہیں کہ ہم ترے در پر نہیں گئے
ہاں مانتے ہیں سر کو جھکا کر نہیں گئے
اے وقت جب بھی تجھکو ضرورت پڑی تو ہم
اپنی ہتھیلیوں پہ لئے سر نہیں گئے
لازم ہے ان کے واسطے سب در کھلے رہیں
مانا وہ بے وفا ہی سہی مر نہیں گئے

0
14
بے شک یہ بات ہے کہ کہا مانتے نہیں
ہم کب خدا کو اپنا خدا مانتے نہیں
سب کج ادائیوں کو بجا مانتے نہیں
اچھا کہیں کہ آپ برا مانتے نہیں
سر اس لئے نہیں کہ یہ نذرِ صلیب ہو
لیکن یہ بات اہل وفا مانتے نہیں

0
8
آخر تم نقصان میں کیوں ہو
بے صبرے انسان میں کیوں ہو
ساتھ تو سانس کے ساتھ جڑا ہے
میرے جسم و جان میں کیوں ہو
جب میں تم کو بھول چکا ہوں
میرے ہر ارمان میں کیوں ہو

0
8
اپنے دل کے دام میں پھر آگئے
کتنے دھوکے کھا کے دھوکا کھا گئے
حشر کا میدان دل میں سج گیا
آپ کیا آئے قیامت ڈھا گئے
آس کی آنکھیں بھی اب پتھرا گئیں
یاد کے منظر بھی سب دھندلا گئے

10
بڑا سکون ملا عرضِ مدعا کرکے
کوئی بھی کچھ نہیں پاتا، مگر دعا کرکے
کسی کے پاس نہیں کچھ مگر عمل یارو
ملا ہے سب کو، مگر قرضِ جاں ادا کر کے
جو دسترس ہی نہیں اپنے دل پہ کوئی تو
بتا ملے گا مجھے کیا تجھے بُھلا کر کے

0
11
جب کبھی قول اور قرار کرو
زخم دل کے نہ پھر شمار کرو
ہوسکے تو کبھی کسی پہ کوئی
راز دل کا نہ آشکار کرو
لطف جاتا رہے کسک کا کہیں
ہم پہ ایسا نہ کاری وار کرو

0
7
جب ہوا پیشِ درِ والا نبی
کچھ نہ تھا ہمراہ جز شرمندگی
اُس گھڑی میرا سہارا بن گئی
چشمِ نم دیدہ لبوں کی کپکپی
یہ صدا آئی یہاں لائے ہو کیا
ناتواں ایمان دل کی بے حسی

0
8
دنیائے بے ثبات میں انساں کی ہے طلب
پھر آج مجھ کو صاحبِ ایماں کی ہے طلب
گھمبیر خامشی مرے دل پر محیط ہے
جیسے کہ میرے دل کو بھی طوفاں کی ہے طلب
شاید کہ حشر میں یہی وجہِ نجات ہوں
راہِ وفا میں حسرت و حرماں کی ہے طلب

0
12
ایک انساں ہوں اور کیاٍ سوچوں
آپ کی ذات کو میں کیا سمجھوں
سارے عالم کو مان کر نقطہ
ایسی ہستی کو دائرہ کہدوں

0
6
جو تھا سرا پا مشک و عنبر
اس پر بر سے جہل کے پتھر
آپ کا رتبہ رتبہِ عالی
کوئی نہیں ہے آپ سے بڑھ کر
سب دنیا کے ہیں میں تیرا
یہ ہے اپنا اپنا مقدر

0
11
دو جہاں کی بھلائی چاہتے ہیں
آپ کی رہنمائی چاہتے ہیں
ہم کہاں تختِ شاہی چاہتے ہیں
تیرے در کی گدائی چاہتے ہیں
کیجے اصحاب سی فقیری عطا
کب بھلا بادشاہی چاہتے ہیں

0
8
نور و ظلمت کی یہ تفریق مٹا دی جائے
جو نہ ڈوبے اسی سورج کو صدا دی جائے
کس کی خاطر لبِ سوزاں سے صدا دی جائے
کس لئے ہاتھ اٹھیں کس کو دعا دی جائے
آئینہ بن کے سرِ شہرِِ فقیہاں آیا
میری تصویر زمانے کو دکھا دی جائے

0
6
نور و ظلمت کی یہ تفریق مٹا دی جائے
جو نہ ڈوبے اسی سورج کو صدا دی جائے
کس کی خاطر لبِ سوزاں سے صدا دی جائے
کس لئے ہاتھ اٹھیں کس کو دعا دی جائے
آئینہ بن کے سرِ شہرِِ فقیہاں آیا
میری تصویر زمانے کو دکھا دی جائے

0
5
تیری تکمیل کر رہا ہوں میں
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
گھر کے آنگن میں چاندنی بن کر
تیرے دل میں اتر رہا ہوں میں
جانے کیا جان کر چنے دنیا
پھول، شیشہ، گہر، رہا ہوں میں

0
14
دسترس کسے جاناں کب ہے پیار میں رکھنا
اضطرابیِ دل کو اختیار میں رکھنا
عشق کی یہ قسمت ہے حسن کی یہ فطرت ہے
انتظار میں رہنا انتظار میں رکھنا
سادگی ہے یہ دل کی اور کمال ہے اس کو
اعتبار کر لینا اعتبار میں رکھنا

0
10
گھر ہے صرف اپنا گھر بچے اپنے بچے ہیں
ورنہ یہ بھی بستی ہے یاں بھی لوگ رہتے ہیں
رات سے بہت پہلے گھر کو لوٹ آتے ہیں
ہم سے تو کہیں بہتر بے زباں پرندے ہیں
ریت سی بنا لی ہے مسکرانے کی ورنہ
درد و کرب کے دریا جسم و جاں میں بہتے ہیں

0
8
دل اگر جبر کی ہر حد سے گزر آئے تو
پھر بھی آنکھوں میں کوئی دکھ نہ نظر آئے تو
بند دروازے کا کیا ہے کہ وہ کھل سکتا ہے
صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آئے تو
دیکھتے دیکھتے ہر سمت لہو ارزانی
میری آنکھوں میں اگر خون اتر آئے تو

0
9
ہمیں کیا ہیں سب ہی وہیں دیکھتے ہیں
جدھر آپ سے بھی حسیں دیکھتے ہیں
کبھی دیکھتے ہیں ترے کارنامے
کبھی تیرا داغِ جبیں دیکھتے ہیں
بہت چل لئے ہم اکڑ کر زمیں پر
چلو اب جھکا کر جبیں دیکھتے ہیں

0
7
در بدر ہونا کسے کہتے ہیں اندازا ہوا
بند جب ہم پر ہمارے دل کا دروازہ ہوا
سوئے محفل اٹھ رہی ہے کیوں یہ دیوانی نظر
ان کو آخر کس کو ٹھکرانے کا پچھتاوہ ہوا
برچھیوں بھالوں کے گھاؤ بھر ہی جاتے ہیں مگر
زخم کب لفظوں کے تیروں کا لگا اچھا ہوا

0
7
ہونٹوں پر مسکان سجاکر دل میں پیار جگا سکتے تھے
نفرت دوری بغض و حسد کی سب دیواریں ڈھا سکتے تھے
زلفوں کے سر کرلینے کو سختی نے دشوار بنایا
ورنہ ہر دل کی بستی میں دل کے رستے جا سکتے تھے
خود ہی لاکھوں روگ لگائے پاگل دل کو ورنہ ہم بھی
اس دنیا کی سب راہوں پر ہنستے گاتے جا سکتے تھے

0
8
عذاب جس نے مری زندگی بنائی بھی تھی
اسی سے رسم و رہِ دوستی نبھائی بھی تھی
یہ حشر ہے تو حساب و کتاب ہونا ہی تھا
تمہیں نے دل پہ قیامت ہمارے ڈھائی بھی تھی
فریب گر دیا ہوتا بجا تھا شکوہ گلہ
برائی آپ سے اپنی کوئی چھپائی بھی تھی

0
11
عذاب جس نے مری زندگی بنائی بھی تھی
اسی سے رسم و رہِ دوستی نبھائی بھی تھی
یہ حشر ہے تو حساب و کتاب ہونا ہی تھا
تمہیں نے دل پہ قیامت ہمارے ڈھائی بھی تھی
فریب گر دیا ہوتا بجا تھا شکوہ گلہ
برائی آپ سے اپنی کوئی چھپائی بھی تھی

0
6
جوں شمع سا ہم کو جلنا ہوگا
ظلمت کا لہو تو کرنا ہوگا
مانا ہے وفا صراط کا پل
سر ہم کو یہ پل تو کرنا ہوگا
دعوت تو جنون مانگتی ہے
پاگل سا ہمیں بھی بننا ہوگا

0
8
زباں سے کہہ دیا جو شکل تیری پیاری لگی
تجھے یہ بات مگر کیوں بری ہماری لگی
دیئے سبھی نے کچوکے کِسے کہیں کہ تری
وہ ضربِ کج نظری دل پہ کتنی کاری لگی
جو سب نے کی تری توصیف ہم نے کی تو بتا
بری لگی تو تجھے کیوں بری ہماری لگی

0
8
کیوں وہ دیکھا نہیں کرتے کبھی پیچھے مڑ کے
ہم بھی دیکھیں ذرا اوقات سے اونچا اڑ کے
ٹوٹ سکنا کہاں آسان تھا زنجیروں کا
ہم نے رہنا کبھی سیکھا ہی نہیں ہے جڑ کے
سبز پتوں کو شجر کے یہ گماں کب تھا وہ
سوکھ کر خاک میں مل جائیں گے سب مڑ تڑ کے

0
7
پھر سے اچھے بن جاتے ہیں
ہم بچہ سے بن جاتے ہیں
کیا محفل وہ جس محفل میں
جھوٹے سچے بن جاتے ہیں
سیدھے سادے مجنوں پاگل
ہم سے تم سے بن جاتے ہیں

0
9
چل دیا بزم سے یوں سر کو جھکائے ہوئے کیوں
اپنی آنکھوں میں، کوئی اشک چھپائے ہوئے کیوں
آپ کو صرف شکایات ہیں سوچا بھی ہے کیا
کل جو اپنے تھے وہ سب، آج پرائے ہوئے کیوں
جی نہ سکتے ہوں اگر سر کو اٹھا کر تو کہو
ہم پھریں بوجھ یہ شانوں پہ اٹھائے ہوئے کیوں

0
10
جو رہا کرتے تھے راہیں تری تکتے وہی سب
عمر بھر چین سے جی لینے کو ترسے وہی سب
مجھ پہ ہنستے تھے جو پاگل مجھے کہہ کر کہو کیوں
دیکھے ہیں سر اسی چوکھٹ پہ پٹختے وہی سب
جان و دل آپ پہ قربان یہ دعویٰ تھا مگر
آئے لاشے پہ مری گاتے تھرکتے وہی سب

0
7
منوں مٹی میں دفنایا گیا تھا
کبھی میں لاڈ سے پالا گیا تھا
وفا کی راہ میں دار و رسن تک
میں ہنستا کھیلتا گاتا گیا تھا
نہ مانا دل اگرچہ وقت سب کچھ
اسے سو سو طرح سمجھا گیا تھا

0
9
جنوں کی بارگاہ میں بصد جلال مسترد
محبتوں کے بر خلاف ہر سوال مسترد
عدم وجود رونقِ جہان کی دلیل ہے
سو کر دیا زوال کے بنا کمال مسترد
نہ دین کو خطر کوئی نہ ڈر ہو جان و مال کا
تو سب جدال مسترد ہے ہر قتال مسترد

0
25
ہنر دکھا کمال کر
زبان کو سنبھال کر
کہاں چلا گیا مجھے
رہِ وفا میں ڈال کر
بہارِ لا زوال لا
جہان کو کھگال کر

0
19
ذرا بھی اس میں خدایا مجھے گمان نہیں
سوائے تیرے کوئی خالقِ جہان نہیں
یہ سچ ہے کوئی بھی منزل کبھی ہوئی نہیں سر
وفا شعارو اگر ہمتیں جوان نہیں
امیرِ شہر کی فرعونیت بڑھے نہیں کیوں
غریبِ شہر کے منھ میں اگر زبان نہیں

0
16
کیا ہے اچھا برا بتا دیگا
وقت سب کچھ ہمیں سکھا دیگا
میرے احساس کو جِلا دیگا
میرا غم مجھ کو حوصلہ دیگا
خود ہی تہمت دھرے گا پھر خود ہی
اپنے ہاتھوں مجھے سزا دیگا

0
8
کبھی منزل تو کبھی نقلِ مکانی مانگے
زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے
سونا بھٹی سے گزر کر ہی بنے گا کندن
سو مرے سر کی یہ چاندی بھی جوانی مانگے
اس کی زہریلا لبی کا کوئی ثانی ہوگا
جس کی باتوں کا ڈسا، گرکے نہ پانی مانگے

0
9
جلتے جو اپنی یاد کے، تونے مجھے دیے
چاہا بجھانا لاکھ نہیں بجھ سکے دیے
مقصد ہے کچھ تو خلق کا، اس نے اگر ہمیں
فہم و کتاب دے کے، دیے نور کے دیے
اکڑے انھیں ذرا نہ جلال و ہنر ملا
جو تیرے در پہ سر کو جھکا کر گئے دیے

0
8
گرد کو حاصلِ سفر جانا
دھوپ کو سایہِ شجر جانا
دعوے باتیں تمام لا حاصل
کام وہ ہے جو کر گزر جانا
بے وفا ہے، وفا کے پیکر کو
جانتے خوب تھے مگر جانا

0
11
رہ جائیں نہ کیوں تیز ہواؤں سے بکھر کے
ہم لوگ تو ٹوٹے ہوئے پتے ہیں شجر کے
جس روز سے ہم نے درِ اغیار کو چوما
اس دن سے رہے ہم نہ کسی گھاٹ نہ گھر کے
جب آپ کی ہم پر نہ توجہ نہ عنایت
پھر خود ہی کہیں جائیں کدھر بن کے سنور کے

0
7
جذبہِ شوق تجھے ہم یہ بتائیں کیسے
دل جنھیں یاد کرے وہ نہیں آئیں کیسے
پیار بویا ہو تو نفرت نہیں پھوٹا کرتی
پھول بوئے ہوں تو کانٹے نکل آئیں کیسے
یہ بھی سمجھاؤ ہمیں تم سے مگر دوری کی
کوئی دیوار اٹھائیں تو اٹھائیں کیسے

0
17
کہتا ہے ہر اک بجھتا دیا اور ہی کچھ ہے
اب کے جو چلی ہے وہ ہوا اور ہی کچھ ہے
کب میری زمیں پر نہیں ٹوٹیں ہیں بلائیں
اس بار مگر میرے خدا اور ہی کچھ ہے
دیتی ہے در عرش پہ فوراً ہی وہ دستک
جو دل سے نکلتی ہے دعا اور ہی کچھ ہے

0
13
شرمانے، جھجکنے کا مزا اور ہی کچھ ہے
یک ٹک اسے تکنے کا مزا اور ہی کچھ ہے
خود سے کبھی کھلنے کا الگ لطف ہے، خود میں
بل کھا کے سمٹنے کا مزا اور ہی کچھ ہے
سینوں میں دھڑکنے کا مزا اور ہے لیکن
آنکھوں میں کھٹکنے کا مزا اور ہی کچھ ہے

0
17
ہم پہ لازم ہے کہ سب اُس کا کہا سچ بولیں
جھوٹ بھی اُس نے اگر سچ میں لکھا سچ بولیں
کامیابی کی یہی شرط ہے پہلی یارو
جو بھی کچھ اُس کے لبوں سے ہو ادا سچ بولیں
سچ زمانے میں لکھا کرتے ہیں غیرت والے
دل ہی سینے میں نہ ہو جن کے بھلا سچ بولیں

0
9
کس زباں سے کریں بیاں انکے
دن جو گزرے تھے درمیاں انکے
گرد آلود ہے فضا میری
کتنے اجلے ہیں آسماں انکے
چاند تارے زمین کیا سورج
جو ہوئے ان کے سب جہاں انکے

0
9
غیر دنیا میں نہ اپنا ہے نہ اپنا اپنا
اور ہم ڈھونڈھنے نکلے ہیں سہارا اپنا
سیم و زر تیرا مقدر میں دریدہ دامن
نہ جگا تو مری ان آنکھوں میں سپنا اپنا
زندگی اتنی ہمیں کاش خبر ہو جا تی
غیر کہتے ہیں کسے ہوتا ہے کیسا اپنا

0
10
ہر گھڑی شکوہ و گلہ صاحب
آپ کو ہو گیا ہے کیا صاحب
ُٓآپ بھی کیجئے کبھی روشن
اپنے خوں سے کوئی دیا صاحب
بل جبیں کے کبھی نہ جائیں گے
ہم نے کیا ایسا کہہ دیا صاحب

0
8
بے لوث محبت کی گھنی چھاؤں میں آؤ
کیا شہر میں رکھا ہے مرے گاؤں میں آؤ
اے دھوپ کے مارو مجھے دیوار بنالو
سایوں کی طرح تم نہ مرے پاؤں میں آؤ
جانا ہے تو یادوں کے سبھی نقش مٹادو
خوابوں میں خیالوں میں نہ آشاؤں میں آؤ

0
13
بیاں کر دے جو اُس سے مدعا وہ
کہاں سے لاؤں ایسا حوصلہ وہ
نہیں تھا آشنا پھر بھی مجھے کیوں
لگا برسوں پرانا آشنا وہ
اِسے کیا نام دوں، جب میں نے دل کا
رکھا جو مدعا تو ہنس دیا وہ

0
15
یہ جو لکنت تری زبان میں ہے
جھول کچھ تو ترے بیان میں ہے
کیسے سمجھوں اسے میں گھر جو اگر
بے سکونی اگر مکان میں ہے
وہ سکوں کب کسی بھی چھاؤں میں جو
تیری پلکوں کے سائیبان میں ہے

0
9
ایسا انصاف کا معیار بنایا جائے
اونٹ بھی سوئی کے ناکے سے گزارا جائے
شرق تا غرب جہالت کے اندھیرے چھٹ جائیں
علم کا ایسا زمانے میں اجالا جائے
گھر تو پھر گھر ہیں، سیاہ بخت منور کر دے
ایسا سورج کوئی مشرق سے ابھارا جائے

0
6
اس کا ملنا سراب ہی جانا
خواب کو میں نے خواب ہی مانا
ایک کنکر ہوں ایک کنکر کی
قسمتوں میں ہے ٹھوکریں کھانا
ہیں کٹھن سچ کے راستے دیکھو
ہم نے تم سے یہی کہا تھانا

0
8
بستیوں کا باسی ہوں شہریوں میں رہتا ہوں
پھر بھی یوں لگے جیسے جنگلوں میں رہتا ہوں
ہنس پڑوں تو ہنس پڑنا رو پڑوں تو رو دینا
میں بھی کتنا پاگل ہوں پاگلوں میں رہتا ہوں
ہر طرف دکھائی دیں گھورتی ہوئی آنکھیں
شہر میں بھی رہ کر میں وحشیوں میں رہتا ہوں

0
8
یوں تو دل سب کا ہوتا ہے
کیا تم سا ہم سا ہوتا ہے؟
جانے کب کس پر آ جائے
دل کس پاگل کا ہوتا ہے
اک دن لوٹ کے آجاو¿ گے
کیوں دل کو دھوکا ہوتا ہے

0
12
تم بھی خوش رہ نہ سکو گے کبھی دھوکا کر کے
خود بھی ہو جاؤگے رسوا ہمیں رسوا کر کے
اتنی رسوائی اٹھائیں گے تری محفل میں
ہم کو معلوم نہ تھا عرضِ تمنا کر کے
بات کہنی ہے مگر آپ سے کیسے کہہ دوں
کتنی مشکل سے کہا اس نے مجھے آکر کے

0
8
چاپ ہے واہمہ نہیں میں ہوں
کوئی موج ہوا نہیں میں ہوں
دیکھئے تو ذرا جھروکے سے
یہ صدائے گدا نہیں میں ہوں
وہ چراغِ منیر ہوں جب تک
گل کرے گا خدا نہیں میں ہوں

0
20
جو بات وہ پسِ دیوار کرنا چاہتے ہیں
وہی تو ہم سرِ بازار کرنا چاہتے ہیں
کبھی ہوا ہی نہیں وقت یہ کسی کا تمہیں
ستم شعارو خبردار کرنا چاہتے ہیں
جنھیں ہے اپنی انا کا غرور پیارا بہت
وہ اس کے حکم سے انکار کرنا چاہتے ہیں

0
10
تمام دیواریں توڑ ڈالو تمام اینٹیں فروخت کر دو
ہمارے اس شہر کی مڈیریں سبھی فصیلیں فروخت کر دو
ہمیں ہی مجرم قرار دینا جو چاہتے ہو تو اے وکیلو
جو جا رہی ہوں ہمارے حق میں وہ سب دلیلیں فروخت کر دو
جو ایک دو خواب رہ گئے ہیں اگر خوشی کے، نہ دیکھ پائیں
جو بچ گئیں ہیں ہماری آنکھوں میں کچھ، وہ نیندیں فروخت کر دو

0
28
میرے دل میں ہی رہو گے مجھے معلوم نہ تھا
پھر بھی مجھ پر نہ کھلو گے مجھے معلوم نہ تھا
ساری دنیا کو سناؤ گے غم و حالِ دروں
مجھ سے کچھ بھی نہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا
ساری دنیا مجھے پاگل ہی کہے تم بھی مگر
میری حالت پہ ہنسو گے مجھے معلوم نہ تھا

0
4
وجد میں کون و مکاں کو دیکھا
جب بھی ہنستی ہوئی ماں کو دیکھا
جو چلا تیری رضا کی خاطر
اس نے کب مڑ کے جہاں کو دیکھا
کب مرے عزم و یقیں نے کوئی
راہ کے کوہِ گراں کو دیکھا

0
7
مشکل کیا ناممکن ٹھہرا میرے اللہ ثابت کرنا
جھوٹوں کی دنیا میں کتنا خود کو سچا ثابت کرنا
کتنا سمجھایا تھا ہم نے تم کو مہنگا پڑجائے گا
خود کو چوروں کی بستی میں دل کا دریا ثابت کرنا
یہ تو سب دنیا والوں کی ایک پرانی ریت ہے یارو
دن سا اجلے من والے کا شب کے جیسا ثابت کرنا

0
10
کس بستی میں
آن بسا ہوں
جس بستی کی
ہر شے پتھر
رستے پتھر
کوچے پھتر

0
24
قدرت مجھے اڑنے کو دوچار جو پر دیتی
ان کو بھی شقی دنیا قینچی سے کتر دیتی
قسمت، جو مجھے بخشے کچھ خواب محل ، تو نے
پھر ان کو امیدوں کے، دروازہ و در دیتی
تقدیر نے بخشی تھی گر مجھکو سخن گوئی
تخئیل کو پروازیں اور سوچ کو پر دیتی

0
1
28
انجمن ماضی کی یادوں کی نہ راس آئی مجھے
مجھ کو لوٹا دے زمانے میری تنہائی مجھے
کیا بہار آئی کہ دل کے زخم تازہ ہو گئے
اور مضطر کر گئی موسم کی انگڑائی مجھے
میری ہر اک بات پر ہنستا رہا تھا میرا دل
اور دل کی بات پر کتنی ہنسی آئی مجھے

0
1
10
وفا کی راہ میں اک دو گھڑی سستا کے چلتے ہیں
ذرا دم لو مسافت ہے بڑی سستا کے چلتے ہیں
چلے ہیں رفتہ رفتہ منزلیں طے کر ہی جائیں گے
تمہیں کیوں ہے بڑی جلدی پڑی سستا کے چلتے ہیں
ٹھہر جاؤ ذرا دم لو رکو کچھ تازگی آئے
ابھی ہیں جھیلنی کتنی کڑی سستا کے چلتے ہیں

0
7
اندھیرے رفتہ رفتہ چھٹ گئے ہیں
دلوں کے فاصلے سب گھٹ گئے ہیں
ابھی ہم اس سے ملنے بھی نہ پائے
مگر کتنے دلوں میں کٹ گئے ہیں
انھیں خوشیاں اجالیں تو اجالیں
جو چہرے گرد غم سے اٹ گئے ہیں

9
جو میں نے چاہا تھا میرے خدا نہیں ہوا وہ
جدا تو ہو گیا، دل سے جدا نہیں ہوا وہ
زمین و آسماں سب تیری بات مانتے ہیں
جو تو نے کہہ دیا منھ سے، بتا نہیں ہوا وہ
وہی ہے دونوں جہانوں میں کامیاب کہ جو
کسی بھی حال میں خود سے سوا نہیں ہوا وہ

0
11
کبھی منزل تو کبھی نقلِ مکانی مانگے
زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے
سونا بھٹی سے گزر کر ہی بنے گا کندن
سو مرے سر کی یہ چاندی بھی جوانی مانگے
اس کی زہریلا لبی کا کوئی ثانی ہوگا
جس کی باتوں کا ڈسا، گرکے نہ پانی مانگے

0
8
میری ہر سانس کو وہ سچ کا اجالا سمجھے
میرا سقراط مجھے زہر کا پیالہ سمجھے
میری ماں میں تو کفِ پا بھی نہیں ہوں تیری
پھر بھی چاہوں تو مجھے چاند ستارا سمجھے
دل میں اٹھتی ہوئی ان درد بھری ٹیسوں کو
غیر سمجھا، نہ کبھی کوئی ہمارا سمجھے

0
9
مندمل ہو گئے سب زخم، مقدر جاگا
جب بھی انسان کا سویا ہوا اندر جاگا
رات کے پچھلے پہر دور کسی بستی میں
کس کا اس زور سے دروازہ بجا گھر جاگا
سب شبستانِ ستم بہہ گئے تنکا بن کر
جب بھی مظلوم کی آنکھوں کا سمندر جاگا

0
8
دل میں آہستگی سے گھر کرنا
کام آساں نہیں مگر کرنا
دل میں رکھنا کوئی غرض مندی
سب دعاؤں کو بے اثر کرنا
تم ارادہ اڑان بھرنے کا
باندھ کر میرے بال و پر کرنا

0
8
کون کہتا ہے غموں کی دھوپ میں تنہا جلا
جسم و جاں کے ساتھ میرا دل مرا سایہ جلا
باہمی ربط و تعلق کی ضرورت دیکھئے
ٹوٹ کر ہی پیڑ سے سوکھا ہوا پتا جلا
میں یہی سمجھا مری قسمت کا تارا ہے یہی
آسماں سے ٹوٹ کر جب کوئی سیارہ جلا

0
10
زخم کھائے نہیں اداؤں سے
ٹھیک ہو جائیں گے دواؤں سے
شہر میں آگئے ہیں گاؤں سے
دھوپ میں آگئے ہیں چھاؤں سے
جب بھی اکتا گئے فضاؤں سے
دوستی بڑھ گئی خلاؤں سے

0
11
یہ امتحان عجب مجھ سے آسماں چاہے
کہ میرے خوں کا پیا سا مری اماں چاہے
الٰہی تن کا جہاں کیسے میں رکھوں قائم
تری رضا بھی اگر مجھ سے جسم و جاں چاہے
اس اتفاق پہ حیران کیوں نہ ہوں مجھ کو
زمیں سلام کرے اور آسماں چاہے

0
8
جو دور کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے
وہاں بھی آگ کا دریا دکھائی دیتا ہے
وہ آنکھ جس میں ذرا روشنی نہیں ہوتی
اسے اجالا اندھیرا دکھائی دیتا ہے
بس ایک آس کبھی تو خیال آئے گا
وہ کون ہے جو اکیلا دکھائی دیتا ہے

0
10
نجوم و شمس و قمر کیوں نہ ہم زباں بنتے
فلک نے دیکھے ہیں ابرو ترے کماں بنتے
چرا نہ ہم سے نگاہیں کہ ہم نے دیکھا ہے
ہر ایک بات پہ سو سو کہانیاں بنتے
زمین چیختی اور آسمان پھٹ جاتا
جو دل میں اٹھی ہوئی ٹیس کی زباں بنتے

0
7
کارِ خیرات بے اثر نہ کریں
دائیں کی بائیں کو خبر نہ کریں
کھول دیں دل کے بند در کو ذرا
ہم کو اللہ در بدر نہ کریں
انتقامانہ کاروائی مگر
گرچہ ہو اختیار پر نہ کریں

0
5
منزلوں سے فاصلہ اچھا لگا
گھر سے گھر کا راستہ اچھا لگا
چپکے چپکے بولنا اچھا لگا
کان میں رس گھولنا اچھا لگا
ہلکی پھلکی دشمنی کے درمیاں
دوستی کا سلسلہ اچھا لگا

0
23
نغمہِ سوزِ غم کے سُر بھی بتا
عمر کر نے کے ہم کو گُر بھی بتا
جز کوئی مثل چشمِ اشکِ بتاں
اے سمندر ہمیں وہ دُر بھی بتا
موجہِ بادِ صبح جا کے کبھی
پھول زادوں کو رازِ بُر بھی بتا

14
کچھ مناسب نہیں گمان اچھا
چاند صورت پے اتنا مان اچھا
بد نصیبوں کے واسطے یارب
یہ جہاں ہے نہ وہ جہان اچھا
دوسروں کے لئے بھلا سوچے
جس کو لگتا ہو اطمنان اچھا

7
چندا سورج تارے دیکھے
تکتے تیرے رستے دیکھے
لیکن یہ سب خواب نہیں تھا
غم کے بادل چھٹتے دیکھے
جانے کیوں تیری گلیوں میں
ہم نے کتنے بھٹکے دیکھے

0
10
ہوا نژاد بھی بن کر حباب دیکھتے ہیں
تھے زیرِ آب، جنھیں سطحِ آب دیکھتے ہیں
ثواب سوچ کا منظر عذاب دیکھتے ہیں
سوال سے کہیں پہلے جواب دیکھتے ہیں
جو سوتی جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں
ہمارے جیسے کئی ماہتاب دیکھتے ہیں

0
14
ان گنت دائروں میں بٹنے سے
فاصلے رہ گئے سمٹنے سے
روز و شب جان و دل کے گھٹنے سے
کیا ملا آنکھ میں کھٹکنے سے
کیا ملے گا تمہیں جہاں بھر کی
عزتیں چھاج میں پھٹکنے سے

0
8
نفرت کی پڑے کوئی روایت نہیں اچھا
جس بات سے بڑھتی ہو کدورت نہیں اچھا
تحقیق بنا دوش خدایا نہ کسی پر
تہمت دھریں ہر گز کسی بابت نہیں اچھا
تلخی نہ بڑھے اور بہت پہلے گھٹن ہے
ہونٹوں پے سجے کوئی شکایت نہیں اچھا

0
6
رات کو دن تو دن کو رات پہ ہاں
کہہ نہ پائے ہر ایک بات پہ ہاں
جو نظر عیب ہی تلاشتی ہو
کیسے کہتی بھلا صفات پہ ہاں
کیا گھڑی آگئی کہ سوچتے ہیں
موت پر یا کہیں حیات پہ ہاں

0
14
کاٹ بے شک تری زبان میں ہو
پھر بھی دانتوں کے درمیان میں ہو
ان ستاروں میں ایک تارا کوئی
میری قسمت کے آسمان میں ہو
زندگی زندگی میں گھل کے رہے
جان اک دوسرے کی جان میں ہو

0
10
سلسلہ گفتگو کا چل جانا
بس یہی مسئلے کا حل جانا
جو نہ آئی کبھی نہ آئے گی
تیرے آنے کو ایسی کل جانا
کیا غضب ان کا لہجہ و آنکھیں
دیکھتے دیکھتے بدل جانا

0
8
تلاشِ صبح سہی رات ہو بھی سکتی ہے
عجب نہیں کہ ہمیں مات ہو بھی سکتی ہے
حقیقتیں نہ سہی خواب تو ہمارے ہیں
سو ان سے روز ملاقات ہو بھی سکتی ہے
یہ ابرِ درد ان آنکھوں کا چھٹ بھی سکتا ہے
گھرا رہے گا تو برسات ہو بھی سکتی ہے

0
12
دھوپ رنگوں میں نہ بٹ کر ملنا
منعکس زادوں سے ہٹ کر ملنا
کب گوارہ ہے انا داروں کو
جانے والے کا پلٹ کر ملنا
جانتا ہوں کہ زمانے بھر سے
اس سے ملنا ہے تو کٹ کر ملنا

0
13
گھپ اندھیروں میں راستہ کر لوں
اپنی آنکھیں اگر دیا کر لوں
گر دعائیں سمیٹنا لینا ہے
ساری دنیا کے کام آکر لوں
ہو اجازت تو میں ترے دل میں
آج کی رات رت جگا کر لوں

0
14
نغمگی کھول دیجئے صاحب
درد کو بول دیجئے صاحب
کوئی تعبیر بن کے آیا ہے
آنکھ اب کھول دیجئے صاحب
دستکیں دے رہا ہے دل، دل کا
اب تو در کھول دیجئے صاحب

0
15
خط کو تکیے میں رکھا اور منہ چھپا کر سو گئے
اپنی یادیں اپنے سینے سے لگا کر سو گئے
حرف تھے بیدار لیکن فکر تھی سوئی ہوئی
جانے کیا احساس جاگا مسکرا کر سو گئے
حرکتیں مچلیں تو کاغذ کے کنارے رک گئیں
لفظ بھی نوکِ قلم تک آئے آکر سوگئے

0
27
اشارا ہے گمانوں کا تمہارے دل میں گھر کر نا
میانِ گفتگو ہم سے اگر کرنا مگر کر نا
لکھا ہے انتظارِ دوست قصہ مختصر کر نا
سحر سے تا بہ شب کر نا تو شب سے تا سحر کر نا
یہ لگتا ہے مقدر صرف دو لفظوں کو کہتے ہیں
سفر کرنا سفر کرنا سفر کرنا سفر کرنا

0
20
ہائے وہ صاحبِ ایمان ہوئے جاتے ہیں
کتنے کافر ہیں مسلمان ہوئے جاتے ہیں
آسماں کیا ہے ارادہ ترے سب ماہ و نجم
ہم پہ قربان و مہربان ہوئے جاتے ہیں
دیکھ کر آج وہ خود گیسوئے پر پیچ اپنے
صورتِ آئینہ حیران ہوئے جاتے ہیں

0
16
جو بھی کر نا ہے وہ میری جان کر
ہاں مگر اچھا برا پہچان کر
کیوں ہوئے ہو، کیا نہ ہم پچھتائیں گے
دشمنِ جاں، جانِ جاناں جان کر
کچھ تو ہو رختِ سفر وقتِ سفر
دھوپ ہی کا سر پہ سائیبان کر

0
9
جو بھی کر نا ہے وہ میری جان کر
ہاں مگر اچھا برا پہچان کر
کیوں ہوئے ہو، کیا نہ ہم پچھتائیں گے
دشمنِ جاں، جانِ جاناں جان کر
کچھ تو ہو رختِ سفر وقتِ سفر
دھوپ ہی کا سر پہ سائیبان کر

0
5
پھر بلا سے مری تقدیر میں مر نا ٹھیرے
بات سچی ہو تو پھر بات ہی کر نا ٹھیرے
جان دینے کا جنھیں حوصلہ ہو ساتھ چلیں
جس نے سیکھا ہو کڑے وقت میں ڈرنا ٹھیرے
پہلے احساس کی اک آ گ لگا دی جا ئے
پھر اسی آ گ کے در یا سے گزر نا ٹھیرے

0
9
اپنے من میں اتنا اترا، اترا جنتا جا سکتا تھا
لیکن اس دلدل کے اندر کتنا اترا جا سکتا تھا
یہ سب تو ممکن تھا جاناں خود سے بچھڑا جا سکتا تھا
لیکن تیری چاہت سے منہ کیسے پھیرا جا سکتا تھا
سارا گاؤں تیرا پاگل اور میں تنہا شہری بابو
سچ کہہ دے پھر میرے دل کا کیسے دھڑکا جا سکتا تھا

24
زمانے سے بغاوت کیوں کریں ہم
ملیں، چھپ چھپ کے لیکن کیوں ملیں ہم
یہ کب لازم ہے سب، سب کو خبر ہو
دلوں کی آنکھوں آنکھوں میں کہیں ہم
تمہیں بھی شعلہ سا کر دیں تو کیسا
محبت میں اکیلے کیوں جلیں ہم

17
ہو وقت کڑا ڈھال بھی تلوار بھی ہم ہیں
ٹل جائے تو دہشت گر و غدار بھی ہم ہیں
جب دیس پکارے تو ہتھیلی پہ رکھیں سر
اور لائقِ تعزیر و سزاوار بھی ہم ہیں
موقع ہو تو چھوڑیں کوئی مردار نہ زندہ
کہنے کو بڑے صاحبِ کردار بھی ہم ہیں

0
21
چھپ کر آہیں بھر لیتے ہیں
جی کو ہلکا کر لیتے ہیں
اس کی خاطر ہر تہمت ہم
بڑھ کر اپنے سر لیتے ہیں
اس کو صحرا پیارا ہے تو
چلیے ہم بھی تھر لیتے ہیں

0
7
کچھ نہ کچھ ظلمتیں بجھا جائیں
اک دیا ہی سہی جلا جائیں
جائیں، لیکن کہاں بتا جائیں
مان کر تیرا فیصلہ جائیں
ہے رکاوٹ ہمارے رستے کی
تیری ضد اور مری انا جائیں

0
6
کچھ نہ کچھ ظلمتیں بجھا جائیں
اک دیا ہی سہی جلا جائیں
جائیں، لیکن کہاں بتا جائیں
مان کر تیرا فیصلہ جائیں
ہے رکاوٹ ہمارے رستے کی
تیری ضد اور مری انا جائیں

0
7
ہر حقیقت سے ہے افضل مرا افسانہِ غم
کیسے سمجھے گا مرا غم کوئی بیگانہِ غم
میں کہ شیدائیِ چشمِ مئے افرنگِ بتاں
کوئی تو ہو جو بھرے میرا یہ پیمانہِ غم
میں نے دیکھا ہے جہاں میں عجب اک رنگ جہاں
کوئی فرزانہِ راحت کوئی دیوانہِ غم

0
30
ابھی ہم کچھ نہیں کہتے
کبھی وہ وقت آئے گا
در و دیوار بولیں گے
اگر زنداں میں ڈالا تو
پسِ دیوار بولیں گے
اگر لب سی دیئے تم نے

0
11
اپنے پیروں کو سمیٹو سبھی سر پر رکھ دو
حکمِ آقا ہے، غلامو، مرے در پر رکھ دو
توڑ کر تم جو ستاروں کو فلک سے، اچھا
لے ہی آئے تو کسی اور کے گھر پر رکھ دو
اف یہ دنیا ہے زمانہ بھی ہے گھر والے بھی
سو سبھی مجھ سے کئے عہد اگر پر رکھ دو

0
19
میں سے تم سے ہم ہو جائیں
دونوں ایسے ضم ہو جائیں
وہ چھولے تو ہم مٹی کے
کوزے جامِ جم ہو جائیں
جب تک ہم زندہ ہیں کیسے
دنیا سے بے غم ہو جائیں

0
15
رشتے ناتے گم ہو جائیں
جب ہم سے، میں تم ہو جائیں
آنکھیں تو آنکھیں چاہت میں
زلفوں کے خَم، خُم ہو جائیں
اس کی یادوں کے جھرمٹ میں
یوں بیٹھیں ہم گم ہو جائیں

0
6
بے ہنگم سے شور و غل میں کتنی ہم آہنگی دیکھی
سر والوں کی ہراک دھن کی دھن سے خانہ جنگی دیکھی
ایوانوں سے باہر ہم نے مستوں کی بد مستی دیکھی
اور جب ایوانوں میں جھانکا، ہم نے دھینگا مشتی دیکھی
جس بستی میں سب بے رنگے رنگیلے کہلائے جائیں
اس بستی میں کہتے سنتے رنگی کو نارنگی دیکھی

0
21
صداقتوں کا گلا تھے دبا دیئے گئے ہم
جہاں میں فتنہ و شر تھے، اٹھا دیئے گئے ہم
تمام شہر ہوا راکھ پر نہ سوچا گیا
کہ نفرتوں کو کہاں تک ہوا دیئے گئے ہم
ہوا بجھاتی گئی پھر بھی روشنی کے لئے
جلا جلا کے دیے پر دیا دیئے گئے ہم

0
23
میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط

0
16
چرچے ہر سو ہیں ہماری دُھن کے
تجھ کو لائے ہیں کہاں سے چُن کے
گھنگھرؤں کے تری پازیبوں کے
ہم ہیں دیوانے اسی چُھن چُھن کے
جو سنایا تھا وہ افسانہ تھا
روئے کیوں میری کہانی سُن کے

0
15
تذکرے چاہے کریں ہم جِن کے
آسماں کیوں ترا ماتھا ٹھنکے
اب ستایا تو زمانے والو
ہم بھی لوٹائیں گے غم گِن گِن کے
صبر تھوڑا سا تو کر لے دنیا
ہم ہیں مہمان یہاں کچھ دن کے

0
9
پیڑ بیشک تھے گھنے آنگن کے
دھوپ پھر بھی اتر آئی چھن کے
تربیت خاک ہو ان بچوں کی
بھول بیٹھیں جنھیں مائیں جنکے
ان کو پایا کیا من کا کالا
جتنے دیکھا کئے اجلے تن کے

0
15
ہم اپنے آپ کا سب کچھ بدل کے دیکھتے ہیں
ترے مزاج کے سانچے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے خوش ہے تجھے خود سپردگی کی ادا
چلو تو آج ذرا سا پگھل کے دیکھتے ہیں
جو نرم خوئی زمانے کو خوش نہیں ہے تو پھر
ذرا سی دیر کو لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

0
34
ہر حقیقت سے ہے افضل مرا افسانہِ غم
کیسے سمجھے گا مرا غم کوئی بیگانہ غم
میں کہ شیدائیِ چشمِ مئے افرنگِ بتاں
کوئی تو ہو جو بھرے میرا یہ پیمانہ ِغم
میں نے دیکھا ہے جہاں میں عجب اک رنگ جہاں
کوئی فرزانہِ راحت کوئی دیوانہِ غم

0
22
دَور ہے ذلتوں کے ڈھونے کا
ڈر گیا عزتوں کے کھونے کا
ہم نے سب کچھ لٹا دیا، اب تو
کوئی ساماں نہیں ڈبونے کا
بھوک کی بے کلی میں یہ بچے
کیا کہیں گے ہمیں کھلونے کا

0
13
حضور کا پر غرور رہنا
قریب رہ کر بھی دور رہنا
کھلا ہے دروازہ شہر دل کا
جو چاہو اس میں حضور رہنا
نہ آشنائی نہ قربتیں ہیں
تو پھر یہ کیوں دور دور رہنا

0
10
تری زلفیں نکھاری جا رہی ہیں
سیاہی سے اجالی جا رہی ہیں
عجب، ظلمت کے دریاؤں سے کرنیں
امیدوں کی نکالی جارہی ہیں
فلک سے کیا جواب آتا ہے، بن کر
تمنائیں سوالی جارہی ہیں

0
14
شہر میں تو سبھی پرائے ہیں
پھر یہ پتھر کہاں سے آئے ہیں
تم زمانے کو آزماتے ہو
ہم زمانے کے آزمائے ہیں
مسکراتے چمن اجاڑے گی
کس ہوا نے قدم جمائے ہیں

0
14
جو تری راہ تکتے رہتے ہیں
بس وہی راہ رو بھٹکتے ہیں
سچ کی منزل کا ایک رستہ ہے
جھوٹ کے بیشمار رستے ہیں
کیسے پاجائیں گے کوئی منزل
روز ہم راستے بدلتے ہیں

0
10
محدود ہے ہر علم مرا صرف خبر تک
میں دیکھ بھی سکتا ہوں مگر حدِ نظر تک
سدرہ کی حدوں سے ہے پرے میرا تخیل
اور اس پہ یہ اعجاز کہ جلتے نہیں پر تک
اک وہ کہ حسیں رخ پہ سیاہ داغ سجائیں
اک ہم ، ہمیں لگتی ہی نہیں اپنی نظر تک

0
27
پھر تمہارے کہے میں آؤں گا
پھر نیا کوئی زخم کھاؤں گا
اک نہ اک دن تمہارے ہونٹوں پر
بن کے نغمہ سا گنگناؤں گا
بن کے آنسو کوئی امیدوں کا
تیری آنکھوں میں مسکراؤں گا

0
6
سورج اک روز پھر سے ابھرے گا
اس کے مغرب سے میرے مشرق کا
میری آنکھوں کو سارے عالم میں
بن ترے کچھ نظر نہیں آتا
میں ہی کیا جب سے تجھ کو دیکھا ہے
حال اچھا نہیں ہے ناصح کا

0
5
کیوں ہوں ممنون کسی ہمدم کے
زخم قائل ہی نہیں مرہم کے
زندگی، دن نہ مری راتوں میں
کلیاں چٹکیں نہ ستارے چمکے
اب اسے تھامے لئے پھرتے ہیں
وہ جو قائل ہی نہ تھے پرچم کے

0
21
مفارقت میں کوئی اس نے درد پایا نہیں
کہ جس نے ہجر کا صدمہ کوئی اٹھایا نہیں
اسی لئے تو کوئی شخص من کو بھایا نہیں
کہ ہم نے بھول سے بھی آپ کو بھلایا نہیں
چلو یہ بات یہیں پر تمام کر تے ہیں ہم
جو روٹھ بیٹھے کبھی تم، تمہیں منایا نہیں

0
10
مفارقت میں کوئی اس نے درد پایا نہیں
کہ جس نے ہجر کا صدمہ کوئی اٹھایا نہیں
اسی لئے تو کوئی شخص من کو بھایا نہیں
کہ ہم نے بھول سے بھی آپ کو بھلایا نہیں
چلو یہ بات یہیں پر تمام کر تے ہیں ہم
جو روٹھ بیٹھے کبھی تم، تمہیں منایا نہیں

0
11
میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط

0
21
میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط

0
10
زباں سے کہہ دیا جو شکل تیری پیاری لگی
تجھے یہ بات مگر کیوں بری ہماری لگی
دیئے سبھی نے کچوکے کِسے کہیں کہ تری
وہ ضربِ کج نظری دل پہ کتنی کاری لگی
جو سب نے کی تری توصیف ہم نے کی تو بتا
بری لگی تو تجھے کیوں بری ہماری لگی

0
11
صداقتوں کا گلا تھے دبا دیئے گئے ہم
جہاں میں فتنہ و شر تھے، اٹھا دیئے گئے ہم
تمام شہر ہوا راکھ پر نہ سوچا گیا
کہ نفرتوں کو کہاں تک ہوا دیئے گئے ہم
ہوا بجھاتی گئی پھر بھی روشنی کے لئے
جلا جلا کے دیے پر دیا دیئے گئے ہم

0
13
کیوں وہ دیکھا نہیں کرتے کبھی پیچھے مڑ کے
ہم بھی دیکھیں ذرا اوقات سے اونچا اڑ کے
ٹوٹ سکنا کہاں آسان تھا زنجیروں کا
ہم نے رہنا کبھی سیکھا ہی نہیں ہے جڑ کے
سبز پتوں کو شجر کے یہ گماں کب تھا وہ
سوکھ کر خاک میں مل جائیں گے سب مڑ تڑ کے

0
18
بیری جب جوبن پر آئے
ڈھیروں میٹھے پھل بر سائے
کانٹوں سا دکھ سہ کر بخشے
سب کو گہرے ٹھنڈے سائے
سائے کیوں اس میں لوگوں نے
جن بھوتوں پریوں کے پائے

0
7
آنکھیں جل تھل ہو جائیں تو
چہرے اوجھل ہو جائیں تو
صدیوں سے پل ہو جائیں تو
بیکل بیکل ہو جائیں تو
کیا کہیے جب بے کیفی کا
اک وہ ہی حل ہو جائیں تو

0
8
رشتے ناتے گم ہو جائیں
جب ہم سے، میں تم ہو جائیں
آنکھیں تو آنکھیں چاہت میں
زلفوں کے خَم، خ±م ہو جائیں
اس کی یادوں کے جھرمٹ میں
یوں بیٹھیں ہم گم ہو جائیں

0
14
بے ہنگم سے شور و غل میں کتنی ہم آہنگی دیکھی
سر والوں کی ہراک دھن کی دھن سے خانہ جنگی دیکھی
ایوانوں سے باہر ہم نے مستوں کی بد مستی دیکھی
اور جب ایوانوں میں جھانکا، ہم نے دھینگا مشتی دیکھی
جس بستی میں سب بے رنگے رنگیلے کہلائے جائیں
اس بستی میں کہتے سنتے رنگی کو نارنگی دیکھی

0
15
میں سے تم سے ہم ہو جائیں
دونوں ایسے ضم ہو جائیں
وہ چھولے تو ہم مٹی کے
کوزے جامِ جم ہو جائیں
جب تک ہم زندہ ہیں کیسے
دنیا سے بے غم ہو جائیں

0
9