Circle Image

Habib-ur-Rehman

@habibilyas@hotmail.com

گھپ اندھیروں میں راستہ کر لوں
اپنی آنکھیں اگر دیا کر لوں
گر دعائیں سمیٹنا لینا ہے
ساری دنیا کے کام آکر لوں
ہو اجازت تو میں ترے دل میں
آج کی رات رت جگا کر لوں

0
نغمگی کھول دیجئے صاحب
درد کو بول دیجئے صاحب
کوئی تعبیر بن کے آیا ہے
آنکھ اب کھول دیجئے صاحب
دستکیں دے رہا ہے دل، دل کا
اب تو در کھول دیجئے صاحب

0
7
خط کو تکیے میں رکھا اور منہ چھپا کر سو گئے
اپنی یادیں اپنے سینے سے لگا کر سو گئے
حرف تھے بیدار لیکن فکر تھی سوئی ہوئی
جانے کیا احساس جاگا مسکرا کر سو گئے
حرکتیں مچلیں تو کاغذ کے کنارے رک گئیں
لفظ بھی نوکِ قلم تک آئے آکر سوگئے

0
5
اشارا ہے گمانوں کا تمہارے دل میں گھر کر نا
میانِ گفتگو ہم سے اگر کرنا مگر کر نا
لکھا ہے انتظارِ دوست قصہ مختصر کر نا
سحر سے تا بہ شب کر نا تو شب سے تا سحر کر نا
یہ لگتا ہے مقدر صرف دو لفظوں کو کہتے ہیں
سفر کرنا سفر کرنا سفر کرنا سفر کرنا

0
3
ہائے وہ صاحبِ ایمان ہوئے جاتے ہیں
کتنے کافر ہیں مسلمان ہوئے جاتے ہیں
آسماں کیا ہے ارادہ ترے سب ماہ و نجم
ہم پہ قربان و مہربان ہوئے جاتے ہیں
دیکھ کر آج وہ خود گیسوئے پر پیچ اپنے
صورتِ آئینہ حیران ہوئے جاتے ہیں

0
1
جو بھی کر نا ہے وہ میری جان کر
ہاں مگر اچھا برا پہچان کر
کیوں ہوئے ہو، کیا نہ ہم پچھتائیں گے
دشمنِ جاں، جانِ جاناں جان کر
کچھ تو ہو رختِ سفر وقتِ سفر
دھوپ ہی کا سر پہ سائیبان کر

0
1
جو بھی کر نا ہے وہ میری جان کر
ہاں مگر اچھا برا پہچان کر
کیوں ہوئے ہو، کیا نہ ہم پچھتائیں گے
دشمنِ جاں، جانِ جاناں جان کر
کچھ تو ہو رختِ سفر وقتِ سفر
دھوپ ہی کا سر پہ سائیبان کر

0
پھر بلا سے مری تقدیر میں مر نا ٹھیرے
بات سچی ہو تو پھر بات ہی کر نا ٹھیرے
جان دینے کا جنھیں حوصلہ ہو ساتھ چلیں
جس نے سیکھا ہو کڑے وقت میں ڈرنا ٹھیرے
پہلے احساس کی اک آ گ لگا دی جا ئے
پھر اسی آ گ کے در یا سے گزر نا ٹھیرے

0
1
اپنے من میں اتنا اترا، اترا جنتا جا سکتا تھا
لیکن اس دلدل کے اندر کتنا اترا جا سکتا تھا
یہ سب تو ممکن تھا جاناں خود سے بچھڑا جا سکتا تھا
لیکن تیری چاہت سے منہ کیسے پھیرا جا سکتا تھا
سارا گاؤں تیرا پاگل اور میں تنہا شہری بابو
سچ کہہ دے پھر میرے دل کا کیسے دھڑکا جا سکتا تھا

5
زمانے سے بغاوت کیوں کریں ہم
ملیں، چھپ چھپ کے لیکن کیوں ملیں ہم
یہ کب لازم ہے سب، سب کو خبر ہو
دلوں کی آنکھوں آنکھوں میں کہیں ہم
تمہیں بھی شعلہ سا کر دیں تو کیسا
محبت میں اکیلے کیوں جلیں ہم

9
ہو وقت کڑا ڈھال بھی تلوار بھی ہم ہیں
ٹل جائے تو دہشت گر و غدار بھی ہم ہیں
جب دیس پکارے تو ہتھیلی پہ رکھیں سر
اور لائقِ تعزیر و سزاوار بھی ہم ہیں
موقع ہو تو چھوڑیں کوئی مردار نہ زندہ
کہنے کو بڑے صاحبِ کردار بھی ہم ہیں

0
11
چھپ کر آہیں بھر لیتے ہیں
جی کو ہلکا کر لیتے ہیں
اس کی خاطر ہر تہمت ہم
بڑھ کر اپنے سر لیتے ہیں
اس کو صحرا پیارا ہے تو
چلیے ہم بھی تھر لیتے ہیں

0
3
کچھ نہ کچھ ظلمتیں بجھا جائیں
اک دیا ہی سہی جلا جائیں
جائیں، لیکن کہاں بتا جائیں
مان کر تیرا فیصلہ جائیں
ہے رکاوٹ ہمارے رستے کی
تیری ضد اور مری انا جائیں

0
3
کچھ نہ کچھ ظلمتیں بجھا جائیں
اک دیا ہی سہی جلا جائیں
جائیں، لیکن کہاں بتا جائیں
مان کر تیرا فیصلہ جائیں
ہے رکاوٹ ہمارے رستے کی
تیری ضد اور مری انا جائیں

0
2
ہر حقیقت سے ہے افضل مرا افسانہِ غم
کیسے سمجھے گا مرا غم کوئی بیگانہِ غم
میں کہ شیدائیِ چشمِ مئے افرنگِ بتاں
کوئی تو ہو جو بھرے میرا یہ پیمانہِ غم
میں نے دیکھا ہے جہاں میں عجب اک رنگ جہاں
کوئی فرزانہِ راحت کوئی دیوانہِ غم

0
9
ابھی ہم کچھ نہیں کہتے
کبھی وہ وقت آئے گا
در و دیوار بولیں گے
اگر زنداں میں ڈالا تو
پسِ دیوار بولیں گے
اگر لب سی دیئے تم نے

0
6
اپنے پیروں کو سمیٹو سبھی سر پر رکھ دو
حکمِ آقا ہے، غلامو، مرے در پر رکھ دو
توڑ کر تم جو ستاروں کو فلک سے، اچھا
لے ہی آئے تو کسی اور کے گھر پر رکھ دو
اف یہ دنیا ہے زمانہ بھی ہے گھر والے بھی
سو سبھی مجھ سے کئے عہد اگر پر رکھ دو

0
11
میں سے تم سے ہم ہو جائیں
دونوں ایسے ضم ہو جائیں
وہ چھولے تو ہم مٹی کے
کوزے جامِ جم ہو جائیں
جب تک ہم زندہ ہیں کیسے
دنیا سے بے غم ہو جائیں

0
4
رشتے ناتے گم ہو جائیں
جب ہم سے، میں تم ہو جائیں
آنکھیں تو آنکھیں چاہت میں
زلفوں کے خَم، خُم ہو جائیں
اس کی یادوں کے جھرمٹ میں
یوں بیٹھیں ہم گم ہو جائیں

0
3
بے ہنگم سے شور و غل میں کتنی ہم آہنگی دیکھی
سر والوں کی ہراک دھن کی دھن سے خانہ جنگی دیکھی
ایوانوں سے باہر ہم نے مستوں کی بد مستی دیکھی
اور جب ایوانوں میں جھانکا، ہم نے دھینگا مشتی دیکھی
جس بستی میں سب بے رنگے رنگیلے کہلائے جائیں
اس بستی میں کہتے سنتے رنگی کو نارنگی دیکھی

0
4
صداقتوں کا گلا تھے دبا دیئے گئے ہم
جہاں میں فتنہ و شر تھے، اٹھا دیئے گئے ہم
تمام شہر ہوا راکھ پر نہ سوچا گیا
کہ نفرتوں کو کہاں تک ہوا دیئے گئے ہم
ہوا بجھاتی گئی پھر بھی روشنی کے لئے
جلا جلا کے دیے پر دیا دیئے گئے ہم

0
3
میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط

0
10
چرچے ہر سو ہیں ہماری دُھن کے
تجھ کو لائے ہیں کہاں سے چُن کے
گھنگھرؤں کے تری پازیبوں کے
ہم ہیں دیوانے اسی چُھن چُھن کے
جو سنایا تھا وہ افسانہ تھا
روئے کیوں میری کہانی سُن کے

0
4
تذکرے چاہے کریں ہم جِن کے
آسماں کیوں ترا ماتھا ٹھنکے
اب ستایا تو زمانے والو
ہم بھی لوٹائیں گے غم گِن گِن کے
صبر تھوڑا سا تو کر لے دنیا
ہم ہیں مہمان یہاں کچھ دن کے

0
3
پیڑ بیشک تھے گھنے آنگن کے
دھوپ پھر بھی اتر آئی چھن کے
تربیت خاک ہو ان بچوں کی
بھول بیٹھیں جنھیں مائیں جنکے
ان کو پایا کیا من کا کالا
جتنے دیکھا کئے اجلے تن کے

0
4
ہم اپنے آپ کا سب کچھ بدل کے دیکھتے ہیں
ترے مزاج کے سانچے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے خوش ہے تجھے خود سپردگی کی ادا
چلو تو آج ذرا سا پگھل کے دیکھتے ہیں
جو نرم خوئی زمانے کو خوش نہیں ہے تو پھر
ذرا سی دیر کو لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

0
14
ہر حقیقت سے ہے افضل مرا افسانہِ غم
کیسے سمجھے گا مرا غم کوئی بیگانہ غم
میں کہ شیدائیِ چشمِ مئے افرنگِ بتاں
کوئی تو ہو جو بھرے میرا یہ پیمانہ ِغم
میں نے دیکھا ہے جہاں میں عجب اک رنگ جہاں
کوئی فرزانہِ راحت کوئی دیوانہِ غم

0
4
دَور ہے ذلتوں کے ڈھونے کا
ڈر گیا عزتوں کے کھونے کا
ہم نے سب کچھ لٹا دیا، اب تو
کوئی ساماں نہیں ڈبونے کا
بھوک کی بے کلی میں یہ بچے
کیا کہیں گے ہمیں کھلونے کا

0
5
حضور کا پر غرور رہنا
قریب رہ کر بھی دور رہنا
کھلا ہے دروازہ شہر دل کا
جو چاہو اس میں حضور رہنا
نہ آشنائی نہ قربتیں ہیں
تو پھر یہ کیوں دور دور رہنا

0
4
تری زلفیں نکھاری جا رہی ہیں
سیاہی سے اجالی جا رہی ہیں
عجب، ظلمت کے دریاؤں سے کرنیں
امیدوں کی نکالی جارہی ہیں
فلک سے کیا جواب آتا ہے، بن کر
تمنائیں سوالی جارہی ہیں

0
4
شہر میں تو سبھی پرائے ہیں
پھر یہ پتھر کہاں سے آئے ہیں
تم زمانے کو آزماتے ہو
ہم زمانے کے آزمائے ہیں
مسکراتے چمن اجاڑے گی
کس ہوا نے قدم جمائے ہیں

0
4
جو تری راہ تکتے رہتے ہیں
بس وہی راہ رو بھٹکتے ہیں
سچ کی منزل کا ایک رستہ ہے
جھوٹ کے بیشمار رستے ہیں
کیسے پاجائیں گے کوئی منزل
روز ہم راستے بدلتے ہیں

0
3
محدود ہے ہر علم مرا صرف خبر تک
میں دیکھ بھی سکتا ہوں مگر حدِ نظر تک
سدرہ کی حدوں سے ہے پرے میرا تخیل
اور اس پہ یہ اعجاز کہ جلتے نہیں پر تک
اک وہ کہ حسیں رخ پہ سیاہ داغ سجائیں
اک ہم ، ہمیں لگتی ہی نہیں اپنی نظر تک

0
5
پھر تمہارے کہے میں آؤں گا
پھر نیا کوئی زخم کھاؤں گا
اک نہ اک دن تمہارے ہونٹوں پر
بن کے نغمہ سا گنگناؤں گا
بن کے آنسو کوئی امیدوں کا
تیری آنکھوں میں مسکراؤں گا

0
2
سورج اک روز پھر سے ابھرے گا
اس کے مغرب سے میرے مشرق کا
میری آنکھوں کو سارے عالم میں
بن ترے کچھ نظر نہیں آتا
میں ہی کیا جب سے تجھ کو دیکھا ہے
حال اچھا نہیں ہے ناصح کا

0
2
کیوں ہوں ممنون کسی ہمدم کے
زخم قائل ہی نہیں مرہم کے
زندگی، دن نہ مری راتوں میں
کلیاں چٹکیں نہ ستارے چمکے
اب اسے تھامے لئے پھرتے ہیں
وہ جو قائل ہی نہ تھے پرچم کے

0
3
مفارقت میں کوئی اس نے درد پایا نہیں
کہ جس نے ہجر کا صدمہ کوئی اٹھایا نہیں
اسی لئے تو کوئی شخص من کو بھایا نہیں
کہ ہم نے بھول سے بھی آپ کو بھلایا نہیں
چلو یہ بات یہیں پر تمام کر تے ہیں ہم
جو روٹھ بیٹھے کبھی تم، تمہیں منایا نہیں

0
3
مفارقت میں کوئی اس نے درد پایا نہیں
کہ جس نے ہجر کا صدمہ کوئی اٹھایا نہیں
اسی لئے تو کوئی شخص من کو بھایا نہیں
کہ ہم نے بھول سے بھی آپ کو بھلایا نہیں
چلو یہ بات یہیں پر تمام کر تے ہیں ہم
جو روٹھ بیٹھے کبھی تم، تمہیں منایا نہیں

0
5
میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط

0
5
میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط

0
4
زباں سے کہہ دیا جو شکل تیری پیاری لگی
تجھے یہ بات مگر کیوں بری ہماری لگی
دیئے سبھی نے کچوکے کِسے کہیں کہ تری
وہ ضربِ کج نظری دل پہ کتنی کاری لگی
جو سب نے کی تری توصیف ہم نے کی تو بتا
بری لگی تو تجھے کیوں بری ہماری لگی

0
3
صداقتوں کا گلا تھے دبا دیئے گئے ہم
جہاں میں فتنہ و شر تھے، اٹھا دیئے گئے ہم
تمام شہر ہوا راکھ پر نہ سوچا گیا
کہ نفرتوں کو کہاں تک ہوا دیئے گئے ہم
ہوا بجھاتی گئی پھر بھی روشنی کے لئے
جلا جلا کے دیے پر دیا دیئے گئے ہم

0
4
کیوں وہ دیکھا نہیں کرتے کبھی پیچھے مڑ کے
ہم بھی دیکھیں ذرا اوقات سے اونچا اڑ کے
ٹوٹ سکنا کہاں آسان تھا زنجیروں کا
ہم نے رہنا کبھی سیکھا ہی نہیں ہے جڑ کے
سبز پتوں کو شجر کے یہ گماں کب تھا وہ
سوکھ کر خاک میں مل جائیں گے سب مڑ تڑ کے

0
4
بیری جب جوبن پر آئے
ڈھیروں میٹھے پھل بر سائے
کانٹوں سا دکھ سہ کر بخشے
سب کو گہرے ٹھنڈے سائے
سائے کیوں اس میں لوگوں نے
جن بھوتوں پریوں کے پائے

0
4
آنکھیں جل تھل ہو جائیں تو
چہرے اوجھل ہو جائیں تو
صدیوں سے پل ہو جائیں تو
بیکل بیکل ہو جائیں تو
کیا کہیے جب بے کیفی کا
اک وہ ہی حل ہو جائیں تو

0
4
رشتے ناتے گم ہو جائیں
جب ہم سے، میں تم ہو جائیں
آنکھیں تو آنکھیں چاہت میں
زلفوں کے خَم، خ±م ہو جائیں
اس کی یادوں کے جھرمٹ میں
یوں بیٹھیں ہم گم ہو جائیں

0
2
بے ہنگم سے شور و غل میں کتنی ہم آہنگی دیکھی
سر والوں کی ہراک دھن کی دھن سے خانہ جنگی دیکھی
ایوانوں سے باہر ہم نے مستوں کی بد مستی دیکھی
اور جب ایوانوں میں جھانکا، ہم نے دھینگا مشتی دیکھی
جس بستی میں سب بے رنگے رنگیلے کہلائے جائیں
اس بستی میں کہتے سنتے رنگی کو نارنگی دیکھی

0
5
میں سے تم سے ہم ہو جائیں
دونوں ایسے ضم ہو جائیں
وہ چھولے تو ہم مٹی کے
کوزے جامِ جم ہو جائیں
جب تک ہم زندہ ہیں کیسے
دنیا سے بے غم ہو جائیں

0
5