میں کہوں دن کو جو دن رات کو جو رات غلط
ہر غلط اس کی سہی میری سہی بات غلط
وہ جسے چاہے اسے راکھ بنا کر رکھ دے
اس کے جیسے جو کبھی ہوں مرے جذبات غلط
وہ رقیبوں سے ملے ان کے گھروں پر، جو مری
اس سے ہو جائے سرِ راہ ملاقات غلط
تیری آنکھوں سے برستے ہوئے اشکوں کی قسم
آسماں سے جو برستی ہے وہ برسات غلط
ہے عجب دور کہ اس دور میں پرکھوں کی ہوئیں
ساری اقدار و حکایات و روایات غلط
تیری نظروں میں نہیں کچھ بخدا سب ہی ہوئی
عزت و دولت و شہرت مری اوقات غلط
ایک ہی آدم و حوا سے سبھی ہوتے ہوئے
جو یہ سمجھا، ہے الگ اس کی کوئی ذات غلط
درد و غم رنج و الم سوچو تو ہیں راحت جاں
اس نے بخشی ہی نہیں ہے کوئی سوغات غلط
میں نے خود ہار کے بازی ترا دل جیت لیا
لاکھ تو سمجھا کرے اس کو مری مات غلط
جوش کی بات سند ہے تو کوئی کیسے کہے
ساتھ حبیب اس نے جو شعروں میں لکھا سات غلط

0
14