Circle Image

عمانوئیل نذیر مانؔی

@Emmanuel

زندگی کو عزیز تر ہوں میَں
موت کو بس یہی شکایت ہے

0
4
زندگی چار دِن کا میلہ ہے
موت میلہ اُجاڑ دیتی ہے

0
3
ایک چہرہ گلاب جیسا ہے
سوہنی کے چناب جیسا ہے

0
5
کب کسی کو مِلی بے وفا سے وفا
پھر بھی اچھی لگی حُسن کی ہر ادا
موسمِ گُل میں جو بیج بویا گیا
دیکھ ساون میں وہ پُھول بن کر کِھلا
روشنی سے اسے بھی بڑا پیار ہے
اِس لئے رکھ دیا ہے جلا کر دیا

0
6
تنہائی کا خوف ڈرانے لگتا ہے
جب وہ مجھ سے ہاتھ چُھڑانے لگتا ہے

0
6
لہو برستا ہے جب بھی شکستہ حالوں پر
وہ آسمان کو تکتے ہیں مُسکراتے ہوئے

0
8
آنکھ سے پُوچھتا ہے دِل میرا
تیرے دریا میں کِتنا پانی ہے

0
6
لوٹ بھی آ وفا کے رستے پر
موسمِ گُل کو بے قرار نہ کر

0
5
مَیں ہنسوں بھی تو کس طرح مانی
میری بستی کے لوگ روتے ہیں

0
5
مَیں ہنسوں بھی تو کس طرح مانی
میری بستی کے لوگ روتے ہیں

0
مَیں تو پتّھر ہٹانے والا تھا
آپ نے ہاتھ باندھ رکھے ہیں

0
8
جو وبا سے بِکھر گئے مانی
خواب ترتیب دے رہا ہوں مَیں

0
9
غم سے کچلی ہوئی جوانی سے
اشک بہنے لگے روانی سے
ایک ہی بوند پیاس ہو جس کی
اس کو کیا غرض بہتے پانی سے
تیری محفل میں روشنی ہے مگر
رنگ تھا دوستی پرانی سے

0
12
جان لو گے تو رو پڑو گے مِیاں
عِشق میں ہم فقیر کیسے ہوئے ؟

0
21
دِل کی دُنیا اُداس ہو گئی ہے
یا مُحبّت اساس ہو گئی ہے
جانے کِس گُل بدن کی خوشبو ہے
جو ہمارا لباس ہو گئی ہے
کِتنی انمول ہے نظر میری
جب سے مردم شناس ہو گئی ہے

0
5
51
تیرے گھر کا رستہ ہوں
مَیں قدموں میں پھیلا ہوں
ہے برہا کی دُھوپ کڑی
مَیں چھایا کو ترسا ہوں
زرد رتوں میں آوارہ
میں اِک ٹوٹا پتہ ہوں

0
19
صُبحیں تازہ گلاب دیتی ہیں
اور شامیں عذاب دیتی ہیں
پڑھنے والے کو بھانپ کر آنکھیں
راز اپنے جناب دیتی ہیں
جب مرا دل سوال کرتا ہے
اس کی آنکھیں جواب دیتی ہیں

0
18
اُلجھا ہوا ہوں مَیں بھی خیالوں کے درمیاں
آہوں کے درمیاں کبھی نالوں کے درمیاں
آنکھوں میں خواب رکھ کے یہ پُوچھے ہیں بیٹیاں
چاندی اترتی ہے یہ کیوں بالوں کے درمیاں
پیچھے پلٹ کے دیکھا تو حیران رہ گیا
بِکھرا پڑا تھا میں کئی سالوں کی درمیاں

0
23
خواب آنکھوں میں جب اُگائے ہیں
تیری چاہت کے پھول آئے ہیں
دُکھ سے رشتہ پرانا ہے اپنا
غمِ ہجراں کے ہم پہ سائے ہیں
اُس کی دُنیا بھی ہوگئی ویران
اُس نے کیا غم گلے لگائے ہیں

0
11
تُو نہ آیا مُجھے منانے کو
کیا مَیں سمجھوں ترے بہانے کو
کرب لفظوں میں ڈھل نہیں سکتا
زخم ہی ہیں تُجھے دِکھانے کو
جو چُھپایا ہے تیری نظروں نے
مَیں نے دیکھا ہے اُس خزانے کو

0
8
آنکھ میں اِنتظار دیکھا ہے
جیسے دریا کے پار دیکھا ہے
میری خوشیوں میں میرے ساتھ رہا
غم میں جو اشک بار دیکھا ہے
تیری آنکھوں میں بس گیا وہ ہی
جس نے بھی تیرا پیار دیکھا ہے

0
7
پھیلا تھا جو سُخن کے سوال و جواب میں
وہ شخص کُھل رہا ہے ہماری کِتاب میں
بے رنگ موسموں کو بھی کر دے گی مُشکبار
خُوشبو جو پل رہی ہے مہکتے گلاب میں
موجوں نے جب سے سحر زدہ کر دیا مُجھے
تب سے کوئی پکار رہا ہے چناب میں

0
9
میری یادیں نِکھارتا ہے کوئی
اب بھی مُجھ کو پُکارتا ہے کوئی
اُس کی آنکھیں ہیں میرے چہرے پر
اپنے دِل میں اُتارتا ہے کوئی
روز آتا ہے میری سوچوں میں
شعر میرے نِکھارتا ہے کوئی

0
5
دِل فِدا ہو گیا نظاروں پر
حُسن اُترا ہے کیا بہاروں پر
ہم نئے راستوں پہ چلتے ہیں
آپ چلتے رہیں اِشاروں پر
کون ہے جو مُجھے پُکارتا ہے
خوف ہی خوف ہے چناروں پر

0
9
نیند جنگل میں پِھر رہی ہے کہیں
خواب حسرت سے تک رہے ہیں مُجھے

0
9
ہاتھ رکھتے ہیں جو چراغوں پر
شعر وہ کہہ رہے ہیں راتوں پر
کتنی چاہت سے اس نے میرا نام
لِکھ لیا ہے حسین ہاتھوں پر
دل کے سب راز کھول دیتی ہیں
کیوں بھروسہ کروں میں آنکھوں پر

0
23
تُم کو چاہا ہے زندگی کی طرح
اور مِِلتے ہو اجنبی کی طرح
جب بھی تُم پر نظر پڑی میری
تُم نظر آئے روشنی کی طرح
میرے نغموں میں جان تم سے ہے
میرے ہونٹوں پہ ہو ہنسی کی طرح

0
13
درداں قِصّے سارے لکِھاں
کالی رات چہ تارے لکِھاں
غم دی سولی اُتے ٹنگے
لوکی درداں مارے لِکھاں
جگنو پُھل چراغ تے تارے
تیرے پیار اِشارے لِکھاں

0
17
ہوش آنے کی دیر ہے مانی
عِشق کیا زہر ہے بتا دیں گے

0
16
نقش سارے مٹا کے آیا ہوں
اس کی یادیں بھلا کے آیا ہوں
اک سمندر ہے آنکھ میں باقی
اِیک دریا بہا کے آیا ہوں
جس کو خود پہ غرور ہے، اُس کو
آئینہ اک تھما کے آیا ہوں

11
مبارک ہو یہ دِن تم کو
جو پھر ہے لوٹ کر آیا
محبت کا یہ دِن جس کو
مناتا ہے جہاں سارا
زمین و آسماں سارا
ہمیشہ یاد رکھنا تم

0
12
صِرف اِک پُھول تک پہنچنے میں
کِتنے کانٹوں سے زخم کھائے ہیں

0
9
ہر پل دیکھنے والی آنکھیں
چاہت سے ہیں خالی آنکھیں
اِک دِن پتھر ہو جائیں گی
رستہ دیکھنے والی آنکھیں
جب ہر جانب تاریکی ہو
کرتی ہیں رکھوالی آنکھیں

0
9
روتے روتے کہا میَں نے مُشکل کشا
وہ فلک سے اُتر کر گلے آ مِلا

15
مُجھ پہ اشعار یوں اُترتے ہیں
پُھول کِھلتے ہیں جیسے شاخوں پر

0
10
دِل سے تمہاری یاد کو مِٹنے نہیں دیا
جو بھی دیا ہے زخم وہ بھرنے نہیں دیا
آنکھوں کا آنسوؤں پہ ذرا ضبط دیکھئے
ٹھہرے رہے زمین پہ گرنے نہیں دیا
ایسا نہ ہو کہ یونہی مُجھے کھو نہ دے کہیں
اِس ڈر سے مُجھ کو خُود سے بھی مِلنے نہیں دیا

0
18
پیار سے اِس طرح نہ دیکھا کر
شعر سارے میَں بُھول جاتا ہوں

0
10
زِندگی کو عزیز تر ہوں میَں
موت کو بس یہی شکایت ہے

0
17
ِسِتارے بات کرتے ہیں
تو سارے بات کرتے ہیں
مَیں جب خاموش ہوتا ہوں
نظارے بات کرتے ہیں
اِشاروں کی زباں سمجھو
اِشارے بات کرتے ہیں

0
15
دردِ ہِجراں تُجھے چُھپاتے ہوئے
اشک بہتے ہیں مُسکراتے ہوئے
ٹُوٹ سکتی ہے ڈور سانسوں کی
سانس کے اِس طرح سے آتے ہوئے
اپنے حِصّے کا تُم جلاؤ دِیا
کچھ نہ سوچو دِیا جلاتے ہوئے

0
23
عہد و پیماں بدلتے دیکھے ہیں
روز جاناں بدلتے دیکھے ہیں
ہر طرف ہو گئی زمیں بنجر
جب سے دہقاں بدلتے دیکھے ہیں
دوستو زندگی کے صدموں سے
ہم نے ایماں بدلتے دیکھے ہیں

0
15
جِس گھڑی تیرے شہر آیا تھا
خواب آنکھوں میں باندھ لایا تھا
ایک سایہ تھا میرے آگے بھی
اور پیچھے بھی ایک سایہ تھا
اُس کے جانے پہ بے قرار ہے دل
جِس کے دم سے قرار آیا تھا

0
11
آسماں پہ ہر ستارہ ایک سا
ہر سمندر کا کِنارا ایک سا
چاہتوں میں شِدّتیں بھی ایک سی
چاہتوں میں ہے خسارا ایک سا
ہجر میں پائی فقیری ایک سی
وصل میں موسم گذارا ایک سا

17
میری تُجھ سے جو بات ہو جائے
رنج و غم سے نجات ہو جائے
روشنی بانٹ دو زمانے میں
اس سے پہلے کہ رات ہو جائے
پہلے ہو جائے سامنا تیرا
پھر فنا میری ذات ہو جائے

0
19
مُجھ کو دیکھنے والی آنکھیں
چاہت سے ہیں خالی آنکھیں
اِک دِن پتھر ہو جائیں گی
رستہ دیکھنے والی آنکھیں
جِس رستے میں تاریکی ہو
کرتی ہیں رکھوالی آنکھیں

15
مَیں نے جب بھی لِکھا نام
دِل کی مانند دھڑکا نام
جیسے میں نے سیکھے حرف
ایسے میں نے سیکھا نام
اپنی آپ مثال ہے وہ
جیسی صُورت ویسا نام

8
دِل کی دُنیا اُداس ہو گئی ہے
کیا کوئی بات خاص ہو گئی ہے
جانے کِس گُل بدن کی خوشبو ہے
جو ہمارا لباس ہو گئی ہے
کِتنی انمول آنکھ ہے میری
جب سے مردم شناس ہو گئی ہے

0
11
وفا کے عوض بے وفائی نہ دینا
ملے گر نہیں تو جدائی نہ دینا
محبت ہے تجھ سے کہ دیوانگی ہے
سِوا تیرے کچھ بھی دکھائی نہ دینا
یا اس کو بنا دینا میرا مقدر
یا اس تک مجھے تو رسائی نہ دینا

0
13
زرد رُتوں میں پُھول کِھلانے آیا ہوں
مَیں دھرتی گلزار بنانے آیا ہوں
لوگ وہاں پر بیٹھے ہیں تاریکی میں
مَیں جِس گھر میں دیپ جلانے آیا ہوں
تعبیریں کیسی ہوں، تیری قِسمت ہے
مَیں آنکھوں میں خواب سجانے آیا ہوں

0
9
غزل
کیا خوشنما ہیں آج نظارے زمین پر
اُترے ہیں آسماں کے سِتارے زمین پر
خوشبو، ہوائیں، پھول یہ کوہسار اے خدا
تیرے ظہور کے ہیں اشارے زمین پر
آنکھوں میں وحشتوں کے شرارے لئے ہوئے

0
14
کون آیا ہے آج ساحل پر
موج در موج رقص جاری ہے

0
17
جب بھی رب سے مانگے حرف
لوحِ دل پہ چمکے حرف
رات میں آدھے سوئے حرف
دِن میں جاگے آدھے حرف
میں نے آنکھ میں رکھے خواب
اور لبوں پر رکھے حرف

0
16
روشنی بانٹ دو زمانے میں
اس سے پہلے کہ رات ہو جائے

0
31