خُود سے مجھ کو گِلہ نہیں کوئی
گرچہ تُجھ سا مِلا نہیں کوئی
لاکھ کوشش کے باوجود میاں
زخمِ دِل ہی سِلا نہیں کوئی
یار اِس مطلبی زمانے میں
چاہتوں کا صِلہ نہیں کوئی
موسمِ گل چلا گیا آ کر
پھول لیکن کِھلا نہیں کوئی
سب سمندر کھنگال کر دیکھے
تُجھ سا موتی مِلا نہیں کوئی
رات بھر سر پِھری ہواؤں سے
ایک پتا ہلا نہیں کوئی
خون رِسنے لگا ہے آنکھوں سے
گھاؤ ہم نے چِھلا نہیں کوئی
میرے جیسا نہیں کوئی مانی
میرے جیسا مِلا نہیں کوئی

0
14