Circle Image

محمدشاہدعلی صابری

@s96ali

من شاہدؔ علی ہستم, عبدِ مولودِ حرمؑ محبتِ تو درونِ دل بستم, یا نبیِ لحمؑ

کس قدر اعلیٰ ہے یہ فضیلت حُسینؑ کی
عظمت بنی ہے دین کی، عظمت حُسینؑ کی
سجدہ ہے زیرِ تیغ، تلاوت ہے بَر سِناں
بے مثل ہے یہ شانِ عبادت حُسینؑ کی
قرآن اور عترتِ احمد جُدا نہیں
دیکھو زرا سِناں پہ تلاوت حُسینؑ کی

0
17
مردِ جَری، ابو الاحرار ابنِ کرارؑ
غازی و مجاہدوں کے سردار ابنِ کرارؑ
حسنینؑ کی محبت کا ہیں صِلہ محمدؐ
ایمانِ کُل ہیں ابنِ کرار ابنِ کرارؑ
ظلمت کی تم نے توڑی تلوار ابنِ کرارؑ

0
6
دیں کا بڑھائے حشم، حُسینؑ کا پرچم
جاہ و جلالِ حرم، حُسینؑ کا پرچم
ہے جہاں میں محتشم، حُسینؑ کا پرچم
ہو گا کبھی بھی نہ خم، حُسینؑ کا پرچم
روزِ شمار اِس طرح ہی سرخروں ہونگے
تھام کے جائیں گے ہم، حُسینؑ کا پرچم

0
10
واہ حُرؓ کیسی قسمت تُو نے پائی ہے
ایک لمحے میں جنت تُو نے پائی ہے
دے کے اپنا سرِ پاک پیشِ امامؑ
دو جہانوں کی عزت تُو نے پائی ہے
آسماں والے بھی تجھ پہ کرتے ہیں رشک
ابنِ حیدرؑ کی قربت تُو نے پائی ہے

0
19
رَضا کا بھید یوں بتا گئے حُسینؑ
کہ زیرِ تیغ مُسکرا گئے حُسینؑ
عُہُود اِس طرح نبھا گئے حُسینؑ
ہر اِک جہان کو رُلا گئے حُسینؑ
زبانِ خلق پر ثنا حُسینؑ کی
نگاہِ خلق میں سما گئے حُسینؑ

0
15
شیرِ یزداں یا، علیؑ
نائبِ آقاؐ، علیؑ
کُفر پر غلبہ، علیؑ
لا فتی اِلّا، علیؑ
مظہرِ ربُ العُلیٰ
پاک رُخ تیرا، علیؑ

0
30
رہِ کوئے جاناں دِکھائی گئی ہے
مِری سوئی قسمت جگائی گئی ہے
اُنہیں داستاں یوں سنائی گئی ہے
کہ سنتے ہی بگڑی بنائی گئی ہے
بُھلا بیٹھا ہے تُو ہمیں، اور ہم سے
تَری یاد بھی کب بُھلائی گئی ہے

0
19
چہرہ جو ہو منظور میاںؓ کا مِرے آگے
کیسے نہ کُھلے عرفاں کا رستہ مِرے آگے
دل نے دی گواہی کہ یہی چہرہِ حق ہے
آیا جو تمہارا رخِ زیبا مِرے آگے

0
5
ہے شاہِ سَلاطینِ زماں سے مجھے نسبت
جُھکتے ہیں سَلاطینِ زمانہ مِرے آگے
دیتا ہے مجھے لطف و مزہ نامِ محمد
کچھ بھی نہیں یہ ساغر و مینا مِرے آگے
ہو جو ترے دامن کا سہارا مجھے حاصل
پھر کیا تَپَش و وسعتِ صحرا مرے آگے

0
12
مجھے درد کیسا یہ لاحق ہوا
تعجب میں ہیں چارہ گر دیکھیے

0
8
معلوم ہو جس بزم میں مسند نشیں ہیں آپ
اُس بزم میں دل جائے ہے میرا مِرے آگے
کیوں تم نے گرائی ہے دلِ خستہ پہ بجلی
کیوں تم نے کہا غیر کو اچھا مرے آگے
پھر جھوم کے وہ آ گئیں ہیں کالی گھٹائیں
پھر ٹوٹ گِرے گی مِری توبہ مِرے آگے

0
60
اُس کی بَل کھاتی کمر، زلفِ مُعنبر، رُخِ ماہ
ہر شے ہی حد سے سوا خوب ہے، سبحن اللہ
چُلْبُلاہَٹ ہو غضب ہو کہ ہو کوئی صورت
اُس کی ہر ایک ادا خوب ہے، سبحن اللہ
بعد از قتلِ جہاں جو مجھے مارا، تو کہا
بندہ یہ قتل ہوا خوب ہے، سبحن اللہ

0
9
اب اُن کو بھی ادائیں کس قدر سفاک آتی ہیں
ہمیں تازہ بہ تازہ ڈھنگ سے وہ آزماتی ہیں
لگے مجھ کو نگاہیں اُن کی کوئی تیر ہیں گویا
یہ جس پر پڑتی ہیں اُس کے دل و جاں چیر جاتی ہیں
خدا کے واسطے اب آ بھی جا اے میری جانِ جاں
کہ تیری راہ تکتے آنکھیں پتھر ہوتی جاتی ہیں

0
25
بادل آیا ہے مینہ برسا ہے
شہرِ لاہور اور نکھرا ہے
ابر ہے مینہ اور جھالا ہے
مجھ کو حاصل بہار کیا کیا ہے
اب تو ساقی مجھے پِلا دے شراب
دیکھ تو روزِ ابر آیا ہے

0
13
غیر کو یوں مضمحل کر دیجیے
مجھ کو اِک بوسہ لبوں پر دیجیے
پھر مِری فرحت کا ساماں کیجیے
قربت اپنی مجھ کو شب بھر دیجیے

0
3
ہم نے غَزَلِ نو کہہ کے شاہدؔ
ظاہر کئی راز کر دیے ہیں

0
4
اُس رُخ کو نہ ہر گز مَہِ تابان سمجھیے
واللہ سمجھیے جو تو قرآن سمجھیے
ہیں آپ مِرے جسم میں تمثیلِ دل و جاں
بعد اپنے مِرے جسم کو بے جان سمجھیے
وہ جو نَظَرِ لطف کریں گاہے بَگاہے
آپ ایسی نظر کو بھی پھر احسان سمجھیے

0
17
یکسر مہک اُٹھا ہے چمن، عید مبارک
مسرور ہوے اہلِ وطن، عید مبارک
گو تم نے بہت ہم پہ کی دُشنام دَرازی
پھر بھی تجھے اے چاک دَہن، عید مبارک
ہر دور پہ ہر وقت پہ ہر لمحے پہ شاہدؔ
ہے اُن کا کرم سایہ فگن، عید مبارک

0
8
زمرہِ اصحاب میں نایاب گوہر دیکھ کر
وارثِ دانائی و محراب و منبر دیکھ کر
بعد اپنے سب سے اعلیٰ سب سے برتر دیکھ کر
مرتضیٰؑ کو خانہ زادِ ربِ اکبر دیکھ کر
بیاہ دی بیٹی پیمبرؐ نے بڑا گھر دیکھ کر

0
12
حادثہ یہ گُزر گیا آخر
دل سے تُو بھی اُتر گیا آخر
خود وہ مجھ سے بچھڑ گیا آخر
قول سے وہ مُکر گیا آخر
جب ترا جلوہ ہر جگہ ہے تو
پھر میں کیوں تیرے گھر گیا آخر

0
51
بس کہ ہمیں پر کریں آپ جفائیں تمام
غیر ہے کیا، غیر ہے کون، ہے کیا غیر کا؟
جس کا ہے سر چوکھٹِ یار پہ شاہدؔ علی
اُس کو ہو معلوم کیسے حرم و دیر کا

0
12
کبھی بھی اب تو پہلے مرتبے پر آ نہیں سکتا
گِرے جو آنکھ سے آنسو وہ رفعت پا نہیں سکتا

0
8
ہر گھڑی تو وہ مجھ سے لڑتی ہے
پھر بچھڑنے سے کیوں وہ ڈرتی ہے
میرے مرنے کی بات سن کر وہ
سسکیاں اور آہیں بھرتی ہے
بستیِ پھول کی ہر اک رنگت
اس کے دستِ حنا سے لڑتی ہے

0
9
جُھومتا رحمتوں کا سَحاب آ گیا
شہرِ لاہور پر پھر شباب آ گیا
جب بھی پہنچا میں دہلیزِ لاہور پر
یوں لگا مجھ کو جنت کا باب آ گیا
اب رہے تم کو ہر وقت پاسِ اَدب
اب کہ شہروں میں شہرِ مُجاب آ گیا

0
24
جہاں دار اور نہ ہی جہاں سے ہم
رکھتے ہیں نسبت آسماں سے ہم
تم یہیں ہم سے ملتے ہو یا پھر
حشر برپا کریں فُغاں سے ہم
دل ملول اور جاں نڈھال لیے
پلٹے ہیں اُن کے آستاں سے ہم

0
33
تجھے یاد کرتے سحر ہو رہی ہے
مِری زندگی مختصر ہو رہی ہے
دماغ اپنا کیسے نہ ہو آسماں پر
مِری جانب اُن کی نظر ہو رہی ہے

0
13
دیارِ محمدؐ میں ہنسنا اُچھلنا؟
اُٹھا کر نظر سبز گنبد کو تکنا؟
حضور اُن کے آواز کو اونچی کرنا؟
حرم کی زمیں، اور قدم رکھ کے چلنا؟
ارے ! سر کا موقع ہے او جانے والے
مُسلسل اذیت ہی سہتا رہے گا

0
33
کرتے تھے جو خواہش مرے دل میں سمونے کے لیے
اب وہ بہانے ڈھونڈتے ہیں دور ہونے کے لیے
کس چیز کے کھو جانے کا میں غم کروں اے جانِ جاں
کھو کر تمہیں باقی بچا ہی کیا ہے کھونے کے لیے
جاناں تمہارے بعد یوں کی بانٹ اپنے وقت کی
دن رکھا ہنسنے کے لیے اور رات رونے کے لیے

0
27
اگر وہ جذبہِ شدت ہی مر گیا تو تُو کہہ دے
میں تیرے واسطے اچھا نہیں رہا تو تُو کہہ دے
تجھے جدائی کی گر مل گئی دوا تو تُو کہہ دے
مِرے بغیر تجھے چین آ گیا تو تُو کہہ دے
اگر دل اپنا ہلکا ہے کرنا تم نے تو کر لے
 اگر مجھے کہنا ہے بُرا بھلا تو تُو کہہ دے

0
35
کچھ تجھے درد و غم ہوا کوئی ؟
تیری چاہت میں مر گیا کوئی
یوں لگا تُو ہی میری سَمت آیا
جب پڑی کان میں صدا کوئی
دیکھ کر اُن کو بے حجابانہ
جان و ایماں لُٹا گیا کوئی

0
36
اُن کی محفل سے نہ کیوں رحمتِ یزداں نکلے
جن کی محفل سے کبھی بادہ و پیماں نکلے
پورا کر کے سَبھی اُس بزم سے ارماں نکلے
ہم ہی بس مضظَرب الحال پریشاں نکلے
دیکھو کب پھیلتی ہے دنیا میں وحشت میری
دیکھو کب گھر سے مِرے راہِ بیاباں نکلے

0
42
وہ رگِ جاں کے قریں تو یہ ہوے جاں کے قریں
دونوں کے مابین ہے کیا فرق کچھ کھلتا نہیں

0
13
بے بس ہو چرخ، آئے بھونچال یوں زمیں کو
ظاہر کریں کبھی وہ جو حُسنِ آفریں کو
آنکھیں جُھکی رہیں ساری زندگی حیا سے
میں دیکھ ہی نہ پایا جی بھر کے مہ جبیں کو
جس سے یہ کی گئی ہے آرائشِ دو عالم
خواہش ہے دیکھ لوں میں اُس جلوہ آفریں کو

0
32
ہم شکار اِس ظلم کا رب جانے کیسے ہو گئے
ہم پہ تیرا ہجر آیا، اور بوڑھے ہو گئے
جب لگے کی چوٹ دل پر پھر ہی تم یہ جانو گے
کِھلتے چہرے ایک دم افسردہ کیسے ہو گئے
سب طبیبوں کی دوائیں رہ گئیں یونہی دھری
دیکھنے سے تیرے سب بیمار اچھے ہو گئے

0
31
مجلسِ عشق تڑپتی رہی سن کر
بیاں ہوتی رہی یوں سیرتِ دکھ درد
بے دھڑک ہو کے کریں مشقِ جفا آپ
کہ ہمِیں جانتے ہیں قیمتِ دکھ درد
زور آور بھی شکستہ ہوے دیکھے
کبھی ظاہر جو ہوئی صورتِ دکھ درد

0
22
موجِ بحرِ نورِ حق و منبعِ صدق و صفا
کاشفِ رازِ خفی و حق گو و حق آشنا
مقتدائے عارفاں، مخدومِ امت، حق نما
گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
نا قصاں را پیرِ کامل کاملاں را رہنما
وارثِ علمِ علیؑ و راز دارِ ہل اتیٰ

0
53
تُو کہاں ہے دوسْتا کہ یاد تری سے
قلب و جگر میرے رات بھر ہیں سلگتے
گردشِ دوراں کا یہ ستم رہا اچھا
دوست دیے مجھ کو اور دوست بھی، ایسے
آج فُزُوں ہوتی دیکھو شانِ گلستاں
آج چلے ہیں وہ گُل کدے کو ٹہلنے

0
45
نے ترے نے ترے پیغام کے آنے سے ہوئی
بس خوشی مجھ کو رُتِ آم کے آنے سے ہوئی

0
17
مرا عشق یا رب سلامت رہے
وہ آنکھ اور جبیں سب سلامت رہے

0
17
اِقلیمِ ریختہ کا شاہِ بے تاج، غالب
تحسین کی نہیں رکھتا احتیاج، غالب
صورت جو مِصرَعِ تَر کی چاہتا ہے وہ آئے
رکھتا ہے بندشِ مضموں کا علاج، غالب

0
21
زندگی جو خفا ہے، کیا کہیے
یہ بھی اُس کی ادا ہے، کیا کہیے
یہ عجب ماجرا ہے، کیا کہیے
دردِ دل لا دوا ہے، کیا کہیے
پوچھتے ہیں تُو کیا ہے، کیا کہیے؟
اپنا ہے؟ بے وفا ہے؟ کیا کہیے؟

0
78
اُس سے بڑھ کر ہے رُخِ تابندہ کی تابندگی 
 میں نہیں کہتا کہ تیرا رُخ مہِ تمثال  ہے

0
17
یوں جنتِ بریں اپنے نام کر رہے ہیں
ہم اُن کا تذکرہ صبح و شام کر رہے ہیں
اے موت تو زرا تھوڑی دیر اور رک جا
میرے لیے وہ جاری پیغام کر رہے ہیں
عارض پہ ڈال کر گیسوئے سیاہ شاہؔد
دیکھو وہ صبحِ مطلع پر شام کر رہے ہیں

0
22
کیا شوخ طَرَح دار وہ اللہُ غنی ہے
ہے مَرمَریں پیکر، قد سروِ چمنی ہے
ہر عُضوِ بدن رشکِ عَقیقِ یَمَنی ہے
جوبن اُس دوشیزہ کا ایماں شکنی ہے
جس نے اُسے دیکھا جاں پہ پھر اُس کی بَنی ہے
کیا گُل بَدَنی گُل بَدَنی گُل بَدَنی ہے

0
33
یاور علیؑ صفدر علیؑ افسر علیؑ حیدر علیؑ
حاصل علیؑ واصل علیؑ کامل علیؑ برتر علیؑ
ہادی علیؑ شافی علیؑ کافی علیؑ رہبر علیؑ
مالک علیؑ قاسم علیؑ حاکم علیؑ سرور علیؑ
بس ایک اللہ اور نبی ہر گز نہیں میرا علیؑ
اِس کے علاوہ حاملِ ہر رتبہ ہے مولا علیؑ

0
61
السلام اے نازِ ربِ ذُوالمِنَن حضرت حسنؑ
السلام اے راحتِ شاہِ زمنؐ حضرت حسنؑ
السلام اے حُسنِ نورِ ہر زمن حضرت حسنؑ
السلام اے عالمِ رب کی پھبن حضرت حسنؑ
السلام اے نائبِ خیبر شکن حضرت حسنؑ
السلام اے سید و سلطانِ رن حضرت حسنؑ

0
33
آقاؐؐؐ نے میرے ایسا ہے مجھ پر کرم رکھا
شوقِ درود دے کے مجھے محتشم رکھا
دل کو مُجَلاّ رکھنے کا یہ طرز اچھا لگا
سو دل پہ ہم نے نامِ محمدؐ رقم رکھا
ہر چیز نا تمام رکھی ہے جہاں میں، پر
اِک تیری ذات کو ہے خدا نے اُتَم رکھا

0
23
مطلعِ شمسِ وحدت پہ لاکھوں سلام
خاتمِ ہر نبوت پہ لاکھوں سلام
حاملِ ہر فضیلت پہ لاکھوں سلام
مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
صاحبِ اوج و رفعت پہ لاکھوں سلام

0
44
کرم کرنے کو تو ہر بار وہ دشمن کی اور جائیں
مگر میری طرف ہر بار وہ کرنے کو بیداد آئے
مِری وحشت کا پایہ تو نہ کوئی پا سکا یاں پر
اگر چہ دشت و صحرا میں بہت قیس اور فرہاد آئے
جو آب و تاب عز و شان دیکھی خُلد کی شاہدؔ
تو ہم کو اُن کا کوچہ اُن کے بام و در ہی یاد آئے

0
18
شاہؐؐؐ کے نورِ عین آ گئے ہیں
ابنِ شاہِ حُنین آ گئے ہیں
دلِ زہراؑؑؑ کا چین آ گئے ہیں
صد مبارک حُسینؑؑؑ آ گئے ہیں
اِستراحت میں نین آ گئے ہیں
دلِ بے کَل کو چین آ گئے ہیں

0
51
ہم کو نہ حشر میں ہو گی فکر کوئی حساب کی
بندگی جو ہوئی زیارت حُسن و شباب کی

0
12
حق سے ذی شان مرتبہ لیں گے
یعنی ہم حبِ مرتضیؑ لیں گے
کیوں پریشان ہوتا ہے شاہدؔ
علیؑ ہیں, حشر میں بچا لیں گے

0
42
یاد پھر آ رہے ہیں مجھ کو ترے بام و در
کاش قسمت میں مری پھر ہو ترے در کا سفر
مرتبہ ہم نے عجب دیکھا ہے تیرے در کا
شاہ دنیا کے جُھکے دیکھے ہیں تیرے در پر
میں ترا ہوں تُو جگہ دے مجھے میرے شاہا
یا لگے گا تجھے اچھا میں رہوں یونہی بے در

0
82
تمہاری آمد ممنونِ لالہ زار ہوئی ہے
خزاں تمہارے آنے سے ہی بہار ہوئی ہے

0
26
تُو مظہرِ حُسنِ بے نشاں اے ہند کے سلطاں
تُو نائبِ شہِ ہر دو جہاں اے ہند کے سلطاں
تُو جادہِ مکاں و لا مکاں اے ہند کے سلطاں
تُو زاتِ حق کا چمکتا نشاں اے ہند کے سلطاں
تمہارے در پہ جسد میرا سجدہ سجدہ پڑا ہے
مرا ہے کعبہ ترا آستاں اے ہند کے سلطاں

0
21
رہ کر ان سے وابستہ شاہدؔ
جنت کی رہ ہموار کیجئے

0
22
یہ تم سے ملتجی کی التجا ہے
ہو شاہد پر کرم پیہم اے ہمدم

0
12
سب پہ ظاہر ہو چکا ہے حالِ ناتواں تو ہمارا، مگر کیا
سب کے آخر میں تجھ پر بھی ظاہر ہو گیا میرے یارا، مگر کیا

0
19
اُسے سنتا ہے اُسے تکتا ہے
مجھ سے قاصد ہی مرا اچھا ہے
یادِ جاناں مرے ہم رہ رہنا
جان پر سخت وبال آ گیا ہے
وہ ہوے ہیں نظرِ غمِ جہاں
جن سے بھی غمِ سجن چھوٹا ہے

0
38
جانے والا نہیں اب میں کبھی میخانے سے
دل مرا لگ گیا ہے جام سے، پیمانے سے
جامی و رازی و رومی کو پلائی جس سے
مجھے پلا مرے ساقی اُسی پیمانے سے
دیکھیے تو کہیں وہ حضرتِ واعظ ہی نہ ہوں
کون جاتا ہے وہ وقتِ اذاں میخانے سے

0
55
خلق میں ہاں تُو ہی لا شریک ہوا ہے
اور فقط تُو ہی اعلیٰ بعدِ خدا ہے
بیش ہا پردوں میں تیرا جلوہ چُھپا ہے
تجھ کو ہاں پھر کون جان پائے تُو کیا ہے
یہ ہی حدِ کرم یہ ہی اوجِ عطا ہے
آپؐ نے اپنا بنایا, اپنا کہا ہے

0
39
میں جیسے جیسے ترے در کی طرف چلتا گیا
تو ویسے ویسے یہ دل میرا زندہ ہوتا گیا

0
14
اے مَظہَرِ حق و حق جہاں مدد
اے مُظہِرِ حق و حق نشاں مدد
اے شاہِ اقلیمِ عارفاں مدد
اے قبلہ گاہِ سب عاشقاں مدد
اے کامِ شہبازی میں بے ہمتا
اے طائرِ کاخِ لامکاں مدد

0
24
جاری ہی رہتا ہے بحرِ سخا آقاؑ تیرا
آستاں سے ترے ہو غیر کہ اپنا تیرا
سب کو ملتا ہے بِنا مانگے ہی صدقہ تیرا
واہ کیا جُود و کَرَم ہے شہِ بَطْحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
بخشوانا ہے، کرم کرنا ہے شیوا تیرا

0
72
مہ تاب و آفتاب منہ چھپا کے بیٹھے ہیں
وہ جب کہیں نقابِ رُخ ہٹا کے بیٹھے ہیں
ترے یہ عشوے اُن کو لُوٹ پائیں گے کیا
جو اپنا آپ پہلے ہی لُٹا کے بیٹھے ہیں

0
22
ہمارا وہ نہ رہے پر اے ربِ ہر دو جہاں
ہمیں وہ یاد رہے اس کی آرزو بھی رہے
جو چاہتا ہے تُو شاہدؔ فنِ نصیر کا فیض
تو تجھ میں جستجو بھی ہو ادب کی خُو بھی رہے

0
15
انساں کا اِس جہاں میں کچھ نہیں ہے
دی ہے مولا نے تھوڑی سی پی لو
چھوڑ کر ضد تم اپنی اے واعظ
چلو مے خانے تھوڑی سی پی لو
آیا ہے ساقی بٹنے ہے لگی مے
لگا دن جانے تھوڑی سی پی لو

0
66
سنو دیوانے شام ہو چلی ہے
چلو مے خانے شام ہو چلی ہے
صاحبانِ غمِ محبت اب
کہو افسانے شام ہو چلی ہے
اب تو چمن کے بھی سبھی غنچے
لگے سستانے شام ہو چلی ہے

0
40
بھلا چاہا تھا ہم نے کب کہ حالِ دل عیاں ہو
مگر یہ آنسوؤں کی ضد تھی ہر صورت بیاں ہو
قسم سے مجھ کو تو یہ ایک نسبت ہی ہے کافی
میں کم ترِ جہاں اور تم شہنشاہِ جہاں ہو

0
22
دین و ایماں کے مساعد تیری غیرت پر سلام
قاریِ نوکِ سِناں تیری تلاوت پر سلام
سجدہِ شبیری تیری اِس فضیلت پر سلام
ابنِ زہرا تیری اِس شانِ عبادت پر سلام
سر پہ دشمن آ چکا ہے اور تُو سجدے میں ہے
حسن کا بھائی جنابِ زہرا کا لختِ جگر

0
49
اے اولیائے سلطاںؑ چشمِ کرم ہو ہم پر
ہے ناز اِسی کرم کے باعث جہاں کو ہم پر
مشکل کشاؑ ہمارے، سبطِ نبی کے صدقے
پہلے ہی ٹال دے، مشکل آنی ہے جو ہم پر
ہم ہیں غلامِ مولائے کائناتؑ شاہدؔ
عیدِ غدیر کی خوشیاں فرض ہیں، تو ہم پر

0
16
ہمیں پِلا تو نظر اپنی سے پِلا
ساقیا اِتنی سے ہے عرض ہماری
جب تلک دوڑ رہا ہے رگوں میں خوں
کبھی شاہدؔ سے نہ چُھوٹے گی مے خواری

0
43
یہ وعظ و پند ناصح بے کار ہی رہے گا
شاہدؔ مے خوار تھا اور مے خوار ہی رہے گا
یہ سوچ کر قدم رکھنا راہِ عشق پر تم
تمام رستے منزل تک خار ہی رہے گا
زاہد کے واسطے کعبہ بغرضِ طواف اور
شاہدؔ کے واسطے کوئے یار ہی رہے گا

0
40
تیرا شہر اسلام آباد سر آنکھوں پر
لیکن میرے دل کو بھاتا ہے لاہور

0
37
اب دیکھیے کیسے جمتا ہے رنگِ محفل
مجھ آشفتہ کو بزم سے وہ اُٹھا بیٹھے ہیں
یہ اُن کی مرضی ہے وہ چارہ کریں نہ کریں
ہم دردِ دل اپنا ان کو سُنا بیٹھے ہیں
یہ دل اپنا یہ جان اپنی یہ زیست اپنی شاہدؔ
اُن کے اندازِ بیاں پر ہم لُٹا بیٹھے ہیں

0
31
بے تحاشہ پیارا ہے تُو
زیست کا سرمایہ ہے تُو
ہوش کھو دیتا ہے شاہدؔ
سامنے جب آتا ہے تُو

0
89
غموں کی مالا میں منظوم ہاں منظوم ہوں یارم
ترے جانے سے میں مغموم ہاں مغموم ہوں یارم
مری تو اِس سے بڑھ کے اور کیا ہو بدنصیبی اب
تمہارے لمس سے محروم ہاں محروم ہوں یارم
تمہاری ذات لافانی تمہارے جلوے لافانی
میں شاہدؔ ہوں بشر معدوم ہاں معدوم ہوں یارم

0
27
علم نہیں بُرا ہوا یا اچھا ہوا دل کا
تمہیں دیا تھا تم ہی بتاؤ کیا ہوا دل کا

0
35
وہ کلائی میں اپنی گر پہنے
چوڑیاں بھی غرور کرتی ہیں

0
42
با خدا ہم کو وہ کہیں بھی نہ ملا
جو سکوں شاہدؔ شہرِ لاہور میں ہے

0
46
ممکن ہے جاتے جاتے رُک جائے
گر مُڑ کر وہ میری آنکھیں پڑھ لے

0
21
نہ ملنے والی منزل کے مسافر ہو گئے ہیں ہم
یہ کر کے بے وفائی ہائے کافر ہو گئے ہیں ہم

45
وجہِ نشاطِ اہلِ ایمان ماہِ رمضان
بخشش کا ہے مکمل سامان ماہِ رمضان
بخشش بھی مغفرت بھی آزادی نار سے بھی
سربسر ہے یہ کرمِ یزدان ماہِ رمضان
پھر سے ملا ہمیں کارِ خیر کا ہے موقع
شر سے نجات کا ہے فرمان ماہِ رمضان

0
3
88
اُس کے ستم نے ایسی راحت دی مجھ کو
دنیا کے سُکھ دریا بُرد کر آیا ہوں

0
35
با احترام لو نامِ اقدس اُن کا شاہدؔ
وہ سیدہ خدیجہؑ ہیں عزتِ شہِ دیںؐ

25
وہ ستم گر اب تک نہیں آیا شاہدؔ
مر چلے ہم اُس کو صدا دیتے دیتے

0
62
بُنتے ہیں کاج پیرانِ پیرؓ
رکھتے ہیں لاج پیرانِ پیرؓ
ہر دل و جانِ دیوانہ پر
کرتے ہیں راج پیرانِ پیرؓ
تم بھی شاہدؔ خوشی مناؤ
آئے ہیں آج پیرانِ پیرؓ

0
31
غرق ہو ایسا طریقِ عشق جس میں
عاشقوں کے ہاتھوں عاشق مر رہے ہیں

0
31
یہ کیسے ظالموں کا پہرا ہے ترے در پر
کہ شوقِ حاضری بھی پورا کرنے دیتے نہیں
تمہارے در کو مقامِ سکون کہتے ہیں اور
ہمیں سکون کا وہ سانس بھرنے دیتے نہیں

0
48
شرابِ ناب و تُند کا نہ عرقِ نشہ وار کا
میں تو ہوں پیاسا محض شربتِ جمالِ یار کا
وہ آنکھ شرمگیں وہ مہ جبیں وہ زُلف عنبریں
مظاہرہ ہے قدرتِ خدا کے شاہکار کا
تُو اپنا ہاتھ ساقیا خدا کے واسطے نہ روک
پلائے جا مجھے کہ عہد آیا ہے بہار کا

0
59
گر راضی کرنا چاہتا ہے خدا کو
تو پہلے راضی کر بی بی زہراؑ کو
شاہد وہ زندی و مرتد ہے واللہ
زہراؑ سے منسوب کرے جو خطا کو

0
47
اپنا سر ہی پٹختا ہے پِھرتا
شیخ رندوں کو سمجھاتا ہے جب
ہاتھوں سے گِرتے پِھرتے ہیں ساغر
ساقی مے خانے میں آتا ہے جب
چھوٹ جاتی ہے دنیا کی ہر مے
آنکھوں سے ساقی پلاتا ہے جب

0
137