Circle Image

محمدشاہدعلی صابری

@s96ali

من شاہدؔ علی ہستم, عبدِ مولودِ حرمؑ محبتِ تو درونِ دل بستم, یا نبیِ لحمؑ

یہ تم سے ملتجی کی التجا ہے
ہو شاہد پر کرم پیہم اے ہمدم

0
3
سب پہ ظاہر ہو چکا ہے حالِ ناتواں تو ہمارا، مگر کیا
سب کے آخر میں تجھ پر بھی ظاہر ہو گیا میرے یارا، مگر کیا

0
3
بادل آیا ہے مینہ برسا ہے
شہرِ لاہور اور نکھر گیا ہے
ملک میں شہر اور بھی ہیں مگر
مجھ کو لاہور جاں سے پیارا ہے

0
6
جانے والا نہیں اب میں کبھی میخانے سے
دل مرا لگ گیا ہے جام سے پیمانے سے
جامی و رازی و رومی کو پلائی جس سے
میں پیوں گا مرے ساقی اسی پیمانے سے
جیتے جی تو یہ اب اُٹھنے نہیں والا واعظ
میت ہی اُٹھے گی شاہدؔ جی کی میخانے سے

0
4
اسیری میں ہمیں ایسی نہیں ہے ماندگی و علت
رضا صیاد کی ہے تو قفس بھی ہے ہمیں جنت
اِسی میں اب مجھے ملنے لگا ہے لطف و حظِ جاں
الہی چھٹ نہ جاوے یہ سیاہیِ شبِ فرقت
مری وحشت کا عالم دیکھ کر بولے فرشتے بھی
کہ محشر قبل از محشر ہے زیرِ کشتہِ تربت

0
19
میں جیسے جیسے ترے در کی طرف چلتا گیا
تو ویسے ویسے یہ دل میرا زندہ ہوتا گیا

0
7
اے مَظہَرِ حق و حق جہاں مدد
اے مُظہِرِ حق و حق نشاں مدد
اے شاہِ اقلیمِ عارفاں مدد
اے قبلہ گاہِ سب عاشقاں مدد
اے کامِ شہبازی میں بے ہمتا
اے طائرِ کاخِ لامکاں مدد

0
11
جاری ہی رہتا ہے بحرِ سخا آقاؑ تیرا
آستاں سے ترے ہو غیر یا اپنا تیرا
سب کو ملتا ہے بِنا مانگے ہی صدقہ تیرا
واہ کیا جُود و کَرَم ہے شہِ بَطْحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
گُنہ دُھلتے ہیں جا کے وہ ہے ٹھکانہ تیرا

0
11
مہ تاب و آفتاب منہ چھپا کے بیٹھے ہیں
وہ جب کہیں نقابِ رُخ ہٹا کے بیٹھے ہیں
ترے یہ عشوے اُن کو لُوٹ پائیں گے کیا
جو اپنا آپ پہلے ہی لُٹا کے بیٹھے ہیں

0
5
کیا حُسن کا ندرت نشاں وہ اللہ غنی ہے
ہے مَرمَریں پیکر, قد سروِ چمنی ہے
ہر عضوئے تن رشکِ عقیقِ یمنی ہے
جوبن اُس دوشیزہ کا ایماں شکنی ہے
جس نے اُسے دیکھا جاں پہ پھر اُس کی بَنی ہے
کیا گُل بَدَنی گُل بَدَنی گُل بَدَنی ہے

0
81
ہمارا وہ نہ رہے پر اے ربِ ہر دو جہاں
ہمیں وہ یاد رہے اس کی آرزو بھی رہے
جو چاہتا ہے تُو شاہدؔ فنِ نصیر کا فیض
تو تجھ میں جستجو بھی ہو ادب کی خُو بھی رہے

0
7
انساں کا اِس جہاں میں کچھ نہیں ہے
دی ہے مولا نے تھوڑی سی پی لو
چھوڑ کر ضد تم اپنی اے واعظ
چلو مے خانے تھوڑی سی پی لو
آیا ہے ساقی بٹنے ہے لگی مے
لگا دن جانے تھوڑی سی پی لو

0
26
سنو دیوانے شام ہو چلی ہے
چلو مے خانے شام ہو چلی ہے
صاحبانِ غمِ محبت اب
کہو افسانے شام ہو چلی ہے
اب تو چمن کے بھی سبھی غنچے
لگے سستانے شام ہو چلی ہے

0
21
بھلا چاہا تھا ہم نے کب کہ حالِ دل عیاں ہو
مگر یہ آنسوؤں کی ضد تھی ہر صورت بیاں ہو
قسم سے مجھ کو تو یہ ایک نسبت ہی ہے کافی
میں کم ترِ جہاں اور تم شہنشاہِ جہاں ہو

0
7
دین و ایماں کے مساعد تیری غیرت پر سلام
قاریِ نوکِ سِناں تیری تلاوت پر سلام
سجدہِ شبیری تیری اِس فضیلت پر سلام
ابنِ زہرا تیری اِس شانِ عبادت پر سلام
سر پہ دشمن آ چکا ہے اور تُو سجدے میں ہے
حسن کا بھائی جنابِ زہرا کا لختِ جگر

0
4
اے اولیائے سلطاںؑ نظرِ کرم ہو ہم پر
ہے ناز اِسی کرم کے باعث جہاں کو ہم پر
مشکل کشاؑ ہمارے، سبطِ نبی کے صدقے
پہلے ہی ٹال دے، مشکل آنی ہے جو ہم پر
ہم ہیں غلامِ مولائے کائناتؑ شاہدؔ
عیدِ غدیر کی خوشیاں فرض ہیں، تو ہم پر

0
6
جہاں دار اور نہ ہی جہاں سے ہم
رکھتے ہیں نسبت آسماں سے ہم
اُن کے در پر جھکے تو پھر جا کے
ہوے بے پروا دو جہاں سے ہم
التفات اُن کا ہو تو کچھ سکوں ہو
آج کل ہیں بڑے پریشاں سے ہم

0
81
ہمیں پِلا تو نظر اپنی سے پِلا
ساقیا اِتنی سے ہے عرض ہماری
جب تلک دوڑ رہا ہے رگوں میں خوں
کبھی شاہدؔ سے نہ چُھوٹے گی مے خواری

0
22
یہ وعظ و پند ناصح بے کار ہی رہے گا
شاہدؔ مے خوار تھا اور مے خوار ہی رہے گا
یہ سوچ کر قدم رکھنا راہِ عشق پر تم
تمام رستے منزل تک خار ہی رہے گا
زاہد کے واسطے کعبہ بغرضِ طواف اور
شاہدؔ کے واسطے کوئے یار ہی رہے گا

0
29
تیرا شہر اسلام آباد سر آنکھوں پر
لیکن میرے دل کو بھاتا ہے لاہور

0
21
اب دیکھیے کیسے جمتا ہے رنگِ محفل
مجھ آشفتہ کو بزم سے وہ اُٹھا بیٹھے ہیں
یہ اُن کی مرضی ہے وہ چارہ کریں نہ کریں
ہم دردِ دل اپنا ان کو سُنا بیٹھے ہیں
یہ دل اپنا یہ جان اپنی یہ زیست اپنی شاہدؔ
اُن کے اندازِ بیاں پر ہم لُٹا بیٹھے ہیں

0
15
بے تحاشہ پیارا ہے تُو
زیست کا سرمایہ ہے تُو
ہوش کھو دیتا ہے شاہدؔ
سامنے جب آتا ہے تُو

0
59
غموں کی مالا میں منظوم ہاں منظوم ہوں یارم
ترے جانے سے میں مغموم ہاں مغموم ہوں یارم
مری تو اِس سے بڑھ کے اور کیا ہو بدنصیبی اب
تمہارے لمس سے محروم ہاں محروم ہوں یارم
تمہاری ذات لافانی تمہارے جلوے لافانی
میں شاہدؔ ہوں بشر معدوم ہاں معدوم ہوں یارم

0
12
کچھ تجھے درد و غم ہوا کوئی ؟
تیری چاہت میں مر گیا کوئی
یوں لگا تُو ہی میری طرف آیا
جب پڑی کان میں صدا کوئی
مدتوں بعد بھی ہوں میں مدہوش
آنکھ سے مے پلا گیا کوئی

0
60
علم نہیں بُرا ہوا یا اچھا ہوا دل کا
تمہیں دیا تھا تم ہی بتاؤ کیا ہوا دل کا

0
19
وہ کلائی میں اپنی گر پہنے
چوڑیاں بھی غرور کرتی ہیں

0
29
اگر وہ شدت کا جذبہ مر گیا تو کہہ دے
 ترے لئے میں اچھا نہیں رہا تو کہہ دے
 اگر جدائی کی مل گئی دوا تو کہہ دے
 مرے بنا تمہیں چین آ گیا تو کہہ دے
 دل اپنا ہلکا کرنا ہے چاہتا تو کر لے
 اگر مجھے کہنا ہے بُرا بھلا تو کہہ دے 

0
26
کرتے تھے جو خواہش مرے دل میں سمونے کے لیے
اب وہ بہانے ڈھونڈتے ہیں دور ہونے کے لیے
کس چیز کے کھو جانے کا میں غم کروں اے جان اب
تمہیں کھو کر باقی بچا ہی کیا ہے کھونے کے لیے
جاناں تمہارے بعد یوں کی بانٹ شب و روز کی
دن رکھا ہنسنے کے لیے اور رات رونے کے لیے

0
42
با خدا ہم کو وہ کہیں بھی نہ ملا
جو سکوں شاہدؔ شہرِ لاہور میں ہے

0
19
ممکن ہے جاتے جاتے رُک جائے
گر مُڑ کر وہ میری آنکھیں پڑھ لے

0
11
نہ ملنے والی منزل کے مسافر ہو گئے ہیں ہم
یہ کر کے بے وفائی ہائے کافر ہو گئے ہیں ہم

26
وجہِ نشاطِ اہلِ ایمان ماہِ رمضان
بخشش کا ہے مکمل سامان ماہِ رمضان
بخشش بھی مغفرت بھی آزادی نار سے بھی
سربسر ہے یہ کرمِ یزدان ماہِ رمضان
پھر سے ملا ہمیں کارِ خیر کا ہے موقع
شر سے نجات کا ہے فرمان ماہِ رمضان

0
3
61
اُس کے ستم نے ایسی راحت دی مجھ کو
دنیا کے سُکھ دریا بُرد کر آیا ہوں

0
21
السلام اے مونسِ ذوالمنن، امام حسنؑ
السلام اے راحتِ شہ زمن، امام حسنؑ
السلام اے حُسنِ نورِ زمن، امام حسنؑ
السلام اے عالمین کی پھبن، امام حسنؑ
السلام اے پسرِ خیبر شکن، امام حسنؑ
السلام اے ردِ رنج و محن، امام حسنؑ

0
8
با احترام لو نامِ اقدس اُن کا شاہدؔ
وہ سیدہ خدیجہؑ ہیں عزتِ شہِ دیںؐ

13
وہ ستم گر اب تک نہیں آیا شاہدؔ
مر چلے ہم اُس کو صدا دیتے دیتے

0
45
بُنتے ہیں کاج پیرانِ پیرؓ
رکھتے ہیں لاج پیرانِ پیرؓ
ہر دل و جانِ دیوانہ پر
کرتے ہیں راج پیرانِ پیرؓ
تم بھی شاہدؔ خوشی مناؤ
آئے ہیں آج پیرانِ پیرؓ

0
21
غرق ہو ایسا طریقِ عشق جس میں
عاشقوں کے ہاتھوں عاشق مر رہے ہیں

0
20
یہ کیسے ظالموں کا پہرا ہے ترے در پر
کہ شوقِ حاضری بھی پورا کرنے دیتے نہیں
تمہارے در کو مقامِ سکون کہتے ہیں اور
ہمیں سکون کا وہ سانس بھرنے دیتے نہیں

0
17
شرابِ ناب و تُند کا نہ عرقِ نشہ وار کا
میں تو ہوں پیاسا محض شربتِ جمالِ یار کا
وہ آنکھ شرمگیں وہ مہ جبیں وہ زُلف عنبریں
مظاہرہ ہے قدرتِ خدا کے شاہکار کا
تُو اپنا ہاتھ ساقیا خدا کے واسطے نہ روک
پلائے جا مجھے کہ عہد آیا ہے بہار کا

0
46
گر راضی کرنا چاہتا ہے خدا کو
تو پہلے راضی کر بی بی زہراؑ کو
شاہد وہ زندی و مرتد ہے واللہ
زہراؑ سے منسوب کرے جو خطا کو

0
38
اپنا سر ہی پٹختا ہے پِھرتا
شیخ رندوں کو سمجھاتا ہے جب
ہاتھوں سے گِرتے پِھرتے ہیں ساغر
ساقی مے خانے میں آتا ہے جب
چھوٹ جاتی ہے دنیا کی ہر مے
آنکھوں سے ساقی پلاتا ہے جب

0
113