Circle Image

محمدشاہدعلی صابری

@s96ali

ہم ہیں شاہؔد، علیؑ کی حُب والے

مِرے ارماں میں یہ بھی ایک ہے ارماں شاہد
اُسے سگریٹ پلاؤں میں پلائے وہ مجھے

0
2
جو کسی دلکش پہ آ جائے کبھی
مقصدِ تخلیقِ دل پورا ہو جائے

0
5
یَداللہ ہو، قوی ہو، مرتضیؑ ہو
خدا کے شیر ہو، مرحب کَشا ہو
تمہیں تیغِ خدا ہو، لافتٰی ہو
تمہیں زورِ محمد مصطفیؐ ہو
تمہیں تو واقفِ ارض و سما ہو
تمہیں تو تاجدارِ ہل اتی ہو

0
12
چشت کے تاجور, عطائے رسول
عارفِ نامور, عطائے رسول
سایہِ ذاتِ لم یزل تم ہو
ابنِ خیرالبشر, عطائے رسول
ہو گئیں رحمتیں خدا کی اُدھر
ہو گئے ہیں جدھر، عطائے رسول

0
11
وقتِ آخر ہی نظر رشکِ مسیحا کرتے
عمر گزری تھی مِری تیری تمنا کرتے
کیا یہی ہے تِرے دیوانوں کی قسمت جاناں
یاد میں تیری شب و روز ہیں تڑپا کرتے
مانتے ہم بھی یہ اعجازِ مسیحائی ترا
جو ہمارے دلِ تفتہ کا مداوا کرتے

0
32
تُو بھی چرچا کر ہمارا اے خدا
دیکھ چرچا کر رہے ہیں ہم تِرا

0
15
اُس کی صورت بہت بَھلی ہے کیا؟
غنچہ لب، چشم سُرمئی ہے کیا؟
تُو نے دیکھا ہے اُس کو نامہ بھر
تُو ہی بتلا وہ چاند سی ہے کیا؟
ہم سے چہرہ چھپائے بیٹھے ہو
جانِ جاناں یہ دل لگی ہے کیا؟

0
32
خوف کھاتے نہیں عہدِ ہجراں سے ہم
تیرے عاشق ہوے ہیں دل و جاں سے ہم
دیکھ کر دشت میں، مجنوں حیراں ہوا
پِھر رہے تھے وہاں چاک داماں سے ہم
پہلے کرتے ہیں خود ہی یقیں اُن پہ، اور
پھر ہو جاتے ہیں خود ہی پشیماں سے ہم

0
34
گر مِری قسمت میں اُس کا دور ہونا ہے لکھا
پھر مجھے بھی دیدہِ تبریق دے میرے خدا

0
12
ہر سمت شہرِ یار میں شور اِک یہی اُٹھا
آئی بلا، لے قہر پڑا، دل لہو ہوا
پہلے تو بزمِ ساقی میں دورِ غزل چلا
پھر ایک اِک کو جامِ شرابِ کُہن مِلا
محشر کے دن بھی تازگی اپنی نہ جائے گی
کھائی ہے یار ہم نے تِرے دشت کی ہوا

0
35
سنو دیوانے شام ہو چلی ہے
چلو مے خانے شام ہو چلی ہے
صاحبانِ غمِ محبت اب
کہو افسانے شام ہو چلی ہے
پہلے ساقی غزل سناؤ, پھر
بَھرو پیمانے شام ہو چلی ہے

0
23
دل زرا اُجڑ جائے تو میں یاد آؤں گا
فصلِ گُل گزر جائے تو میں یاد آؤں گا
جو ہوائے رنج و تاب میں کبھی کہیں تیری
زندگی بِکھر جائے تو میں یاد آؤں گا
پھول دیکھ کر گُلشن میں کہیں تمہارا جو
دل ٹھہر ٹھہر جائے تو میں یاد آؤں گا

0
40
حالِ دل اُن سے کہہ نہیں سکتا
جانتے ہیں وہ سب بغیر کہے
نیند میں موت کا رہے کھٹکا
وہ نہ جس رات شب بخیر کہے
نیند آتی نہیں مجھے شاہد
جب تلک وہ نہ شب بخیر کہے

0
17
یہ تو خلافِ اَدب ہے, یہ آرزو بھی رہے
میں اُن کی بزم میں جاؤں تو گفتگو بھی رہے
تلاشِ یار مِیں مَیں دیکھوں غیر کی جانب؟
حرام ہے جو مجھے میری جستجو بھی رہے
دلِ بشر تو ٹھکانہ خدا کا ہے ہی مگر
ہے میرے دل کی یہ ضد کوئی خوبرو بھی رہے

0
22
وجدانِ عبادت تو مِلا ہی نہیں, صد حیف
قدموں مِیں تُمہارے مَیں جُھکا ہی نہیں, صد حیف
سجدے سے میں انکار کِیا ہی نہیں, صد حیف
لیکن تُو خدا میرا بَنا ہی نہیں, صد حیف
اب تم سے مجھے کوئی گِلہ ہی نہیں, صد حیف
اے جان! مَیں, مَیں تو وہ رہا ہی نہیں, صد حیف

0
24
مت اب بنائیں صورتیں بہانے کی
قسم نبھائیں آپ اپنے آنے کی
جب آپ آئیں گے تو یہ دل و نگاہ
ہے میری چاہ, راہ میں بچھانے کی
سبھی دِیے بُجھانے میں لگے ہیں، تم
سبیل کچھ کرو دِیا جَلانے کی

0
37
اِک کھیل ہے یہ عالَمِ ادنیٰ مِرے آگے
بے معنی ہے یہ شانِ زمانہ مِرے آگے
کچھ قدر یہ عالم نہیں رکھتا مِرے آگے
بازیچہِ اطفال ہے دنیا مِرے آگے
ہوتا ہے شَب و روز تَماشہ مِرے آگے
بے دین ہوا, راہ سے بھٹکا تِرے پیچھے

0
21
ایسا مِرے حضورؐ نے فضل و کرم کِیا
شوقِ درود دے کے مجھے محتشم کِیا
دل کو مُجَلاّ رکھنے کا یہ طرز اچھا لگا
سو دل پہ میں نے نامِ محمدؐ رقم کِیا
ہر چیز نا تمام رکھی دو جہاں میں، پَر
اِک تیری ذات کو ہے خدا نے اَتَم کِیا

0
11
زندگی سے کیا پایا؟
دوست بے وفا پایا
خوش نصیب ہیں، ہم نے
درد بے دوا پایا
رہ گئیں تمنائیں
دل مَرا ہوا پایا

0
40
غموں کو بُھلا دینے والے حَسیں، دوست
مِری ہر خوشی کے ہوے ہیں اَمیں، دوست
اے میرے دلِ ناتواں کے مَکیں، دوست
تِرا ہجر مجھ کو گوارا نہیں، دوست
تجھے کس طرح، کیسے سمجھاؤں یہ بات
تِرے بِن سکونِ دل و جاں نہیں، دوست

0
46
شرحِ حرفِ لن ترانی اور ہے؟
ہاں ابھی رازِ نہانی اور ہے
جو کُھلا مجھ پر معانی اور ہے
عاشقی سے تیری مجھ پر عشق کا
جو کُھلا ہے وہ معانی اور ہے
جو کہا تھا شعر وہ کچھ اور تھا

0
57
اہلِ غم پر ہوئی تیری رحمت
اہلِ دیر و حرم رہ گئے ہیں
نامہ بھر! خط اُنہیں دے کے کہنا
کچھ الم بے رقم رہ گئے ہیں
وہ مِرے ساتھ اپنی وفا کی
کھاتے کھاتے قسم رہ گئے ہیں

0
52
دن جو پھیلا تو چلے مسجد کی سمت
رات پھیلی، چل دیے میخانے ہم
پینے کو جو ملتی آنکھوں سے تِری
کیوں اُٹھاتے پھرتے یہ پیمانے ہم

0
18
میں سارے جہاں کو بُھلائے ہوے ہوں
تُجھے اپنے دل میں بَسائے ہوے ہوں
سکونِ دل و جاں گنوائے ہوے ہوں
دل اِک بے وفا سے لگائے ہوے ہوں
مِرے ساتھ تم مت چلو عشق کی چال
بہت اِس کو میں آزمائے ہوے ہوں

0
66
ڈھونڈتے پِھرتے ہو دنیا مِیں مثیلِ مصطفیٰ
دوسرا تو دو جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں
علم و حکمت میں امامت میں جہانِ فقر میں
جُز علی المرتضیٰ کے بادشا کوئی نہیں
میرا جینا میرا مرنا ہو علیؑ کے واسطے
میرے دل کی آرزو اِس کے سوا کوئی نہیں

64
کیا؟ تِرا دل اُچاٹ ہوتا ہے
لو، چَلا جاتا ہوں مِیں محفل سے
کچھ ادھورا کبھی رہا ہی نہیں
نسبت اپنی ہے پیرِ کامل سے
بن کے شاہد نشانِ جادہ ہم
رہتے جاتے ہیں دور منزل سے

0
24
مِرا سانس اب تو رُکا جا رہا ہے
تِرے ظلم کی کیا کوئی انتہا ہے؟
زرا دیکھ لو تم ہمیں مسکرا کر
ہمارے دلِ خستہ کی التجا ہے
فقط اِک مِرا دل جَلانے کی خاطر
وہ روز اِک نیا نامہ بر بھیجتا ہے

0
28
غموں کی مالا میں منظوم؟ ہاں منظوم ہوں یارم
ترے جانے سے میں مغموم؟ ہاں مغموم ہوں یارم
اب اِس سے بڑھ کے میری بد نصیبی اور کیا ہو گی
تمہارے لمس سے محروم؟ ہاں محروم ہوں یارم
تمہاری ذات لافانی تمہارے جلوے لافانی
میں شاہدؔ اِک بشر معدوم؟ ہاں معدوم ہوں یارم

0
20
ہم ہیں مولا علی کے متوالے
اِک تِرے نامِ نامی کے صدقے
لمحے مشکل میں نے بہت ٹالے
ہمیں کیا خوف روزِ محشر کا
ہم ہیں شاہؔد، علیؑ کی حُب والے

0
31
بُنتے ہیں کاج, غوثِ جَلیؓ نائبِ علیؑ
رکھتے ہیں لاج, غوثِ جَلیؓ نائبِ علیؑ
ملکِ کرم میں شہرِ سخاوت میں دیکھیے
کرتے ہیں راج, غوثِ جَلیؓ نائبِ علیؑ
بیمارِ قلبِ زار کا بیمارِ عشق کا
بس ہے علاج، غوثِ جَلیؓ نائبِ علیؑ

0
39
زندگی مجھ کو کیا ملی ہوئی ہے
بے خطا اِک سزا ملی ہوئی ہے
یونہی فضلِ خدا نہیں مجھ پر
یہ کسی کی دعا ملی ہوئی ہے
یا رب آنسو مِرے رہیں زندہ
اِن سے دل کو جِلا ملی ہوئی ہے

0
57
اُس کو سنتا ہے اُس کو تکتا ہے
مجھ سے قاصد ہی میرا اچھا ہے
ہم تو رہتے ہیں اُن کے زیرِ ستم
یہ کرم کیا ہے کس پہ ہوتا ہے؟
ہیں اُدھر کرنے کو جفائیں ہزار
اور اِدھر میری جان تنہا ہے

0
49
تُو سلطان ہر اِک جہاں گیر کا ہے، تو آقا و مولا ہر اِک پیر کا ہے
تُو رہبر تُو ہادی ہر اِک میر کا ہے، یہ رتبہ تِرا کتنی توقیر کا ہے
تمہاری تو چلتی ہیں چودہ طبق مِیں، خدا نے دی ہر خلق تیرے نَسق مِیں
لکھو پیرِ حق! عشقِ حق میرے حق مِیں، تِرے ہاتھ مِیں خامہ تقدیر کا ہے
بنا کر دل و آنکھ کا تم وضو اہلِ ایماں، چَلو جانبِ شہرِ جیلاں
کہ عرس آج غوثِ زماں، شاہِ اقطاب ابنِ حسنؑ اہلِ تطہیر کا ہے

0
56
خدا کے محبوب خلق کے دستگیر کا ہے
یہ دن ہمارے کریم لجپال پیر کا ہے
ہوے ہیں شامل بشر بھی نوری ملائکہ بھی
کہ عرسِ پاک آج شاہِ گردوں سریر کا ہے
ضرور اہلِ صفا بھی تشریف لائے ہیں آج
کہ دیکھیے عرسِ پاک غوثِ کبیر کا ہے

0
55
وہ کلائی میں اپنی گر پہنے
چوڑیاں بھی غرور کرتی ہیں
تیری آنکھیں عجیب ہیں شاہدؔ
یہ شکایت ضرور کرتی ہیں

0
22
وہ کچھ اِس طرح مِرا کام تمام کر رہے ہیں
سبھی اہلِ بزم یاد اللہ کا نام کر رہے ہیں
ہیں تمہارے چاہنے والے یہاں بہت مگر دیکھ
ہمِیں ہیں جو اپنی ہستی تِرے نام کر رہے ہیں
اُنہیں تیر کی ضرورت ہے نہ خنجر و حجر کی
وہ نگاہ پھیر کے قصہ تمام کر رہے ہیں

0
55
گناہوں سے حفاظت ہو گئی ہے
دِل و جاں میں حَلاوت ہو گئی ہے
مِرے حق میں شَفاعت ہو گئی ہے
مِری ہستی عبادت ہو گئی ہے
مجھے اُن سے محبت ہو گئی ہے
مجھے تم سے نہیں کوئی شکایت

0
38
اِک نظر سے ہزاروں مارے ہیں
کہ غضب ابرو کے اِشارے ہیں
عشوہ و ناز جو تمہارے ہیں
سبھی اندازِ حُسن پیارے ہیں
ہم مگر سادگی کے مارے ہیں
تھا جو ہم میں وہ التزام، نہ پوچھ

0
36
ہمیں کیا پَتا اُن کی نظرِ کرم کا
کہاں ہو رہی ہے، کدھر ہو رہی ہے
ہو نظرِ کرم ہم پہ تو ہم بتائیں
کہ نظرِ کرم ہاں، اِدھر ہو رہی ہے

0
6
خلق میں تُو ہی تو لا شریک ہوا ہے
اور فقط تُو ہی اعلیٰ بعدِ خدا ہے
بیش ہا پردوں میں تیرا جلوہ چُھپا ہے
کون تجھے جان پائے پھر کہ تُو کیا ہے
نعمتیں وہ دو جہاں کو بانٹ رہا ہے
دستِ محمدؐ ہی واللہ دستِ خدا ہے

24
خود پہ بیداد کر رہا ہوں میں
تجھ کو پھر یاد کر رہا ہوں میں
دل کو ناشاد کر رہا ہوں میں
غم سے آزاد کر رہا ہوں میں
ساری دنیا کو بھول کر ہمدم
اِک تجھے یاد کر رہا ہوں میں

47
فقر کی انتہا، امام حُسینؑ
نازشِ انبیا، امام حُسینؑ
رحمتِ کبریا ، امام حُسینؑ
ابنِ خیر الوریٰ، امام حُسینؑ
راہِ عرشِ خدا، امام حُسینؑ
فہم سے ہیں ورا، امام حُسینؑ

43
اِک سراپا جلوہِ اِنّ تَنْصُرو سجدے میں ہے
معنیِ تطہیر شرحِ وصبرو سجدے میں ہے
دیکھیے وہ بندہِ سُبْحَانَهٝ سجدے میں ہے
جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
آج وہ رمز آشنائے سرِّ ھو سجدے میں ہے
کیسا پامردی ہے, بے بس ہو گئے اہلِ جفا

44
بے شجرہ انسان ہی تو جملے پلید، ناپاک بولتا ہے
رہے نہ جس میں کوئی حیا، وہ بے دید، ناپاک بولتا ہے
امامِ عالی مقامؑ کے نام سے وَہی منہ بگارتے ہیں
کہ جن کے خونِ نَجس میں اب بھی یزید، ناپاک بولتا ہے

23
اے سیدہ پاکؑ کے دُلارو، تمہیں ہمارا سلام ہر دم
کتابِ لاریب کے سپارو، تمہیں ہمارا سلام ہر دم
امامِ بَر حقؑ کے جاں نثارو، تمہیں ہمارا سلام ہر دم
محمدی دیں کے سازگارو، تمہیں ہمارا سلام ہر دم
اے ملکِ صبرو رضا کے شاہو، اے زُمرہِ فقر کے اِمامو
اے کشورِ حق کے تاجدارو، تمہیں ہمارا سلام ہر دم

0
43
کس قدر اعلیٰ ہے یہ فضیلت حُسینؑ کی
عظمت بنی ہے دین کی، عظمت حُسینؑ کی
تختِ یزید تختِ اُمیہ کدھر گیا؟
ہے آج بھی دِلوں پہ حکومت حُسینؑ کی
سجدہ ہے زیرِ تیغ، تلاوت ہے بَر سِناں
بے مثل ہے یہ شانِ عبادت حُسینؑ کی

0
57
مردِ جَری، ابو الاحرار ابنِ کرارؑ
بَر حق مجاہدوں کے سردار ابنِ کرارؑ
حسنینؑ کی محبت کا ہیں صِلہ محمدؐ
ایمانِ کُل ہیں ابنِ کرار ابنِ کرارؑ
حضرت حسن ہوں یا ہوں حضرت حُسین شاہدؔ
ظلمت کی توڑتے ہیں تلوار ابنِ کرارؑ

34
افراطِ غم کا دن ہے احباب، یومِ عاشور
لاتا ہے آنسوؤں کا سیلاب، یومِ عاشور
آنسو بہائیں جب خود آقاؐ غمِ ذکیؑ میں
غمگین ہوں جب آقائے دو جہان غم میں
کیسے ہو ضبط کی مجھ کو تاب، یومِ عاشور
اللہ کی ہو لعنت تجھ پر اے دشمنِ دیں

0
40
دیں کا بڑھائے حشم، حُسینؑ کا پرچم
جاہ و جلالِ حرم، حُسینؑ کا پرچم
ہے جہاں میں محتشم، حُسینؑ کا پرچم
ہو گا کبھی بھی نہ خم، حُسینؑ کا پرچم
روزِ شمار اِس طرح ہی سرخروں ہونگے
تھام کے جائیں گے ہم، حُسینؑ کا پرچم

0
74
واہ حُرؓ کیسی قسمت تُو نے پائی ہے
ایک لمحے میں جنت تُو نے پائی ہے
دے کے اپنا سرِ پاک پیشِ امامؑ
دو جہانوں کی عزت تُو نے پائی ہے
آسماں والے بھی تجھ پہ کرتے ہیں رشک
ابنِ حیدرؑ کی قربت تُو نے پائی ہے

0
59
رَضا کا بھید یوں بتا گئے حُسینؑ
کہ زیرِ تیغ مُسکرا گئے حُسینؑ
عُہُود اِس طرح نبھا گئے حُسینؑ
ہر اِک جہان کو رُلا گئے حُسینؑ
زبانِ خلق پر ثنا حُسینؑ کی
نگاہِ خلق میں سما گئے حُسینؑ

0
34
رہِ کوئے جاناں دِکھائی گئی ہے
مِری سوئی قسمت جگائی گئی ہے
یوں معراج خود کو کرائی گئی ہے
جَبیں اُن کے در پر جھکائی گئی ہے
اُنہیں داستاں یوں سنائی گئی ہے
کہ سنتے ہی بگڑی بنائی گئی ہے

0
70
چہرہ جو ہو منظور میاںؓ کا مِرے آگے
کیسے نہ کُھلے عرفاں کا رستہ مِرے آگے
دل نے دی گواہی کہ یہی چہرہِ حق ہے
آیا جو تمہارا رخِ زیبا مِرے آگے

0
24
جبریلؑ قلم، لوح لے آیا مِرے آگے
تھا مدحتِ سرورؐ کا اِرادہ مِرے آگے
کیا خوب ثنا ہوتی ہے قرآن کے ہوتے
کُھلتے ہیں مضامین یوں کیا کیا مِرے آگے
ہوتی ہے شَبِ تار مِری تجھ سے منور
رہتا ہے تَرے رُخ سے اُجالا مِرے آگے

0
68
مجھے درد کیسا یہ لاحق ہوا
تعجب میں ہیں چارہ گر دیکھیے

0
38
جب حرصِ جہاں ختم ہوئی دل سے مِرے, پھر
اُس ذات کے جلوے ہوے کیا کیا مرے آگے
پھر آ گئی ہے دیکھیے وہ فصلِ بہاراں
پھر ٹوٹ گِرے گی مِری توبہ مِرے آگے
معلوم ہو جس بزم میں مسند نشیں ہیں آپ
اُس بزم میں دل جائے ہے میرا مِرے آگے

0
88
اُس کی بَل کھاتی کمر، زلفِ مُعنبر، رُخِ ماہ
ہر شے ہی حد سے سوا خوب ہے، سبحن اللہ
چُلْبُلاہَٹ ہو غضب ہو کہ ہو کوئی صورت
اُس کی ہر ایک ادا خوب ہے، سبحن اللہ
بعد از قتلِ جہاں جو مجھے مارا، تو کہا
بندہ یہ قتل ہوا خوب ہے، سبحن اللہ

0
30
اب اُن کو بھی ادائیں کس قدر سفاک آتی ہیں
ہمیں تازہ بہ تازہ ڈھنگ سے وہ آزماتی ہیں
لگے مجھ کو نگاہیں اُن کی کوئی تیر ہیں گویا
یہ جس پر پڑتی ہیں اُس کے دل و جاں چیر جاتی ہیں
خدا کے واسطے اب آ بھی جا اے میری جانِ جاں
کہ تیری راہ تکتے آنکھیں پتھر ہوتی جاتی ہیں

0
73
بادل آیا ہے مینہ برسا ہے
شہرِ لاہور اور نکھرا ہے
ابر ہے مینہ اور جھالا ہے
مجھ کو حاصل بہار کیا کیا ہے
اب تو ساقی مجھے پِلا دے شراب
دیکھ تو روزِ ابر آیا ہے

0
39
غیر کو یوں مضمحل کر دیجیے
مجھ کو اِک بوسہ لبوں پر دیجیے
پھر مِری فرحت کا ساماں کیجیے
قربت اپنی مجھ کو شب بھر دیجیے

0
22
ہم نے غَزَلِ نو کہہ کے شاہدؔ
ظاہر کئی راز کر دیے ہیں

0
23
اُس رُخ کو نہ ہر گز مَہِ تابان سمجھیے
واللہ سمجھیے جو تو قرآن سمجھیے
ہیں آپ مِرے جسم میں تمثیلِ دل و جاں
بعد اپنے مِرے جسم کو بے جان سمجھیے
وہ جو نَظَرِ لطف کریں گاہے بَگاہے
کیوں ایسی نظر کو نہ پھر احسان سمجھیے

0
47
یکسر مہک اُٹھا ہے چمن، عید مبارک
مسرور ہوے اہلِ وطن، عید مبارک
گو تم نے بہت ہم پہ کی دُشنام دَرازی
پھر بھی تجھے اے چاک دَہن، عید مبارک
ہر دور پہ ہر وقت پہ ہر لمحے پہ شاہدؔ
ہے اُن کا کرم سایہ فگن، عید مبارک

0
24
زمرہِ اصحاب میں نایاب گوہر دیکھ کر
وارثِ دانائی و محراب و منبر دیکھ کر
بعد اپنے سب سے اعلیٰ سب سے برتر دیکھ کر
مرتضیٰؑ کو خانہ زادِ ربِ اکبر دیکھ کر
بیاہ دی بیٹی پیمبرؐ نے بڑا گھر دیکھ کر

0
28
حادثہ یہ گُزر گیا آخر
دل سے تُو بھی اُتر گیا آخر
خود وہ مجھ سے بچھڑ گیا آخر
قول سے وہ مُکر گیا آخر
جب ترا جلوہ ہر جگہ ہے تو
پھر میں کیوں تیرے گھر گیا آخر

0
71
پھول کِھل اُٹھے عجب رنگ ہوا طیر کا
عزم جب اُس نے کیا گل کدے کی سیر کا
آپ کی ہر بات میں تذکرہ ہے غیر کا
پہلو پھر ایسے میں کیا نکلے کوئی خیر کا
بس کہ ہمیں پر کریں آپ جفائیں تمام
غیر ہے کیا، غیر ہے کون، ہے کیا غیر کا؟

0
40
کبھی بھی اب تو پہلے مرتبے پر آ نہیں سکتا
گِرے جو آنکھ سے آنسو وہ رفعت پا نہیں سکتا

0
25
ہر گھڑی تو وہ مجھ سے لڑتی ہے
پھر بچھڑنے سے کیوں وہ ڈرتی ہے
میرے مرنے کی بات سن کر وہ
سسکیاں اور آہیں بھرتی ہے
بستیِ پھول کی ہر اک رنگت
اس کے دستِ حنا سے لڑتی ہے

0
22
جُھومتا رحمتوں کا سَحاب آ گیا
شہرِ لاہور پر پھر شباب آ گیا
جب بھی پہنچا میں دہلیزِ لاہور پر
یوں لگا مجھ کو جنت کا باب آ گیا
اب رہے تم کو ہر وقت پاسِ اَدب
اب کہ شہروں میں شہرِ مُجاب آ گیا

0
43
جہاں دار اور نہ ہی جہاں سے ہم
رکھتے ہیں نسبت آسماں سے ہم
تم یہیں ہم سے ملتے ہو یا پھر
حشر برپا کریں فُغاں سے ہم
دل ملول اور جاں نڈھال لیے
پلٹے ہیں اُن کے آستاں سے ہم

0
63
تجھے یاد کرتے سحر ہو رہی ہے
مِری زندگی مختصر ہو رہی ہے
تُمِہیں سے تو ہے خدشہِ بے وفائی
تُمِہیں سے محبت مگر ہو رہی ہے
جدا ہو کے تم سے یہ حالت ہوئی ہے
جگر چھلنی ہے، چشم تر ہو رہی ہے

0
57
خدائے دو عالم سے ملوانے والے
اُجالوں کی جانب لے کر جانے والے
خدا سے خدا کی ضیا لانے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
ہو بنجر زمیں یا چمن کی طَراوت

0
176
کرتے تھے جو خواہش مرے دل میں سمونے کے لیے
اب وہ بہانے ڈھونڈتے ہیں دور ہونے کے لیے
کس چیز کے کھو جانے کا میں غم کروں اے جانِ جاں
کھو کر تمہیں باقی بچا ہی کیا ہے کھونے کے لیے
جاناں تمہارے بعد یوں کی بانٹ اپنے وقت کی
دن رکھ لیا ہنسنے کی خاطر، رات رونے کے لیے

0
56
اگر وہ جذبہِ شدت ہی مر گیا تو تُو کہہ دے
میں تیرے واسطے اچھا نہیں رہا تو تُو کہہ دے
تجھے جدائی کی گر مل گئی دوا تو تُو کہہ دے
مِرے بغیر تجھے چین آ گیا تو تُو کہہ دے
اگر دل اپنا ہلکا ہے کرنا تم نے تو کر لے
 اگر مجھے کہنا ہے بُرا بھلا تو تُو کہہ دے

0
75
کچھ تجھے درد و غم ہوا کوئی ؟
تیری چاہت میں مر گیا کوئی
یوں لگا تُو ہی میری سَمت آیا
جب پڑی کان میں صدا کوئی
دیکھ کر اُن کو بے حجابانہ
جان و ایماں لُٹا گیا کوئی

0
71
اُن کی محفل سے نہ کیوں رحمتِ یزداں نکلے
جن کی محفل سے کبھی بادہ و پیماں نکلے
پورا کر کے سَبھی اُس بزم سے ارماں نکلے
ہم ہی بس مضظَرب الحال پریشاں نکلے
دیکھو کب پھیلتی ہے دنیا میں وحشت میری
دیکھو کب گھر سے مِرے راہِ بیاباں نکلے

0
71
وہ رگِ جاں کے قریں تو یہ ہوے جاں کے قریں
دونوں کے مابین ہے کیا فرق کچھ کھلتا نہیں

0
21
بے بس ہو چرخ، آئے بھونچال پھر زمیں کو
ظاہر کریں کبھی وہ جو حُسنِ آفریں کو
آنکھیں جُھکی رہیں ساری زندگی حیا سے
میں دیکھ ہی نہ پایا جی بھر کے مہ جبیں کو
جس سے یہ کی گئی ہے آرائشِ دو عالم
خواہش ہے دیکھ لوں میں اُس جلوہ آفریں کو

0
53
ہم شکار اِس ظلم کا رب جانے کیسے ہو گئے
ہم پہ تیرا ہجر آیا، اور بوڑھے ہو گئے
جب لگے کی چوٹ دل پر پھر ہی تم یہ جانو گے
کِھلتے چہرے ایک دم افسردہ کیسے ہو گئے
سب طبیبوں کی دوائیں رہ گئیں یونہی دھری
دیکھنے سے تیرے سب بیمار اچھے ہو گئے

0
60
مجلسِ عشق تڑپتی رہی سن کر
یوں بیاں ہوتی رہی سیرتِ دکھ درد
بے دھڑک ہو کے کریں مشقِ جفا آپ
کہ ہمِیں جانتے ہیں قیمتِ دکھ درد
زور آور بھی شکستہ ہوے دیکھے
کبھی ظاہر جو ہوئی صورتِ دکھ درد

0
42
تُو کہاں ہے دوسْتا کہ یاد تری سے
قلب و جگر میرے رات بھر ہیں سلگتے
گردشِ دوراں کا یہ ستم رہا اچھا
دوست دیے مجھ کو اور دوست بھی، ایسے
آج فُزُوں ہوتی دیکھو شانِ گلستاں
آج چلے ہیں وہ گُل کدے کو ٹہلنے

0
92
نے ترے نے ترے پیغام کے آنے سے ہوئی
بس خوشی مجھ کو رُتِ آم کے آنے سے ہوئی

0
29
مرا عشق یا رب سلامت رہے
وہ آنکھ اور جبیں سب سلامت رہے

0
36
اِقلیمِ ریختہ کا شاہِ بے تاج، غالب
تحسین کی نہیں رکھتا احتیاج، غالب
صورت جو مِصرَعِ تَر کی چاہتا ہے وہ آئے
رکھتا ہے بندشِ مضموں کا علاج، غالب

0
40
زندگی جو خفا ہے، کیا کہیے
یہ بھی اُس کی ادا ہے، کیا کہیے
یہ عجب ماجرا ہے، کیا کہیے
دردِ دل لا دوا ہے، کیا کہیے
پوچھتے ہیں تُو کیا ہے، کیا کہیے؟
اپنا ہے؟ بے وفا ہے؟ کیا کہیے؟

0
93
اُس سے بڑھ کر ہے رُخِ تابندہ کی تابندگی 
 میں نہیں کہتا کہ تیرا رُخ مہِ تمثال  ہے

0
24
یوں جنتِ بریں اپنے نام کر رہے ہیں
ہم اُن کا تذکرہ صبح و شام کر رہے ہیں
عارض پہ ڈال کر گیسوئے سیاہ شاہؔد
دیکھو وہ صبحِ مطلع پر شام کر رہے ہیں

0
54
کیا شوخ طَرَح دار وہ اللہُ غنی ہے
ہے مَرمَریں پیکر، قد سروِ چمنی ہے
ہر عُضوِ بدن رشکِ عَقیقِ یَمَنی ہے
جوبن اُس دوشیزہ کا ایماں شکنی ہے
جس نے اُسے دیکھا جاں پہ پھر اُس کی بَنی ہے
کیا گُل بَدَنی گُل بَدَنی گُل بَدَنی ہے

0
49
یاور علیؑ صفدر علیؑ افسر علیؑ حیدر علیؑ
حاصل علیؑ واصل علیؑ کامل علیؑ برتر علیؑ
ہادی علیؑ شافی علیؑ کافی علیؑ رہبر علیؑ
مالک علیؑ قاسم علیؑ حاکم علیؑ سرور علیؑ
بس ایک اللہ اور نبی ہر گز نہیں میرا علیؑ
اِس کے علاوہ حاملِ ہر رتبہ ہے مولا علیؑ

0
80
السلام اے نازِ ربِ ذُوالمِنَن حضرت حسنؑ
السلام اے راحتِ شاہِ زمنؐ حضرت حسنؑ
السلام اے حُسنِ نورِ ہر زمن حضرت حسنؑ
السلام اے عالمِ رب کی پھبن حضرت حسنؑ
السلام اے نائبِ خیبر شکن حضرت حسنؑ
السلام اے سید و سلطانِ رن حضرت حسنؑ

0
42
مطلعِ شمسِ وحدت پہ لاکھوں سلام
خاتمِ ہر نبوت پہ لاکھوں سلام
حاملِ ہر فضیلت پہ لاکھوں سلام
مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
صاحبِ اوج و رفعت پہ لاکھوں سلام

0
159
اِک اُداسی سی کھا رہی ہے مجھے
زندگی آزما رہی ہے مجھے
پہلے وہ خود لگا کر اپنی لگن
اب تماشا بنا رہی ہے مجھے
یاد تیری مِیں مَر رہا ہوں مَیں
اور تُو ہے بُھلا رہی ہے مجھے

0
59
ہر شجر ہر پھول پتا کاہشِ جاں ہو گیا
وہ گیا ایسا, چمن سارا بیاباں ہو گیا
اب محبت کا گماں اِس طَور سے کیسے نہ ہو
دیکھ کے مجھ کو پریشاں وہ پریشاں ہو گیا
یہ ہماری بے خودی تھی یا کہ تھا سوزِ دروں
آنکھ سے آنسو جو چھلکا وہ ہی طوفاں ہو گیا

0
84
کرم کرنے کو تو ہر بار وہ دشمن کی اور جائیں
مگر میری طرف ہر بار وہ کرنے کو بیداد آئے
مِری وحشت کا پایہ تو نہ کوئی پا سکا یاں پر
اگر چہ دشت و صحرا میں بہت قیس اور فرہاد آئے
جو آب و تاب عز و شان دیکھی خُلد کی شاہدؔ
تو ہم کو اُن کا کوچہ اُن کے بام و در ہی یاد آئے

0
34
شاہؐؐؐ کے نورِ عین آ گئے ہیں
ابنِ شاہِ حُنین آ گئے ہیں
دلِ زہراؑؑؑ کا چین آ گئے ہیں
صد مبارک حُسینؑؑؑ آ گئے ہیں
اِستراحت میں نین آ گئے ہیں
دلِ بے کَل کو چین آ گئے ہیں

0
67
ہم کو نہ حشر میں ہو گی فکر کوئی حساب کی
بندگی جو ہوئی زیارت حُسن و شباب کی

0
37
حق سے ذی شان مرتبہ لیں گے
یعنی ہم حبِ مرتضیؑ لیں گے
کیوں پریشان ہوتا ہے شاہدؔ
علیؑ ہیں, حشر میں بچا لیں گے

0
64
یاد پھر آ رہے ہیں مجھ کو ترے بام و در
کاش قسمت میں مری پھر ہو ترے در کا سفر
مرتبہ ہم نے عجب دیکھا ہے تیرے در کا
شاہ دنیا کے جُھکے دیکھے ہیں تیرے در پر
میں ترا ہوں تُو جگہ دے مجھے میرے شاہا
یا لگے گا تجھے اچھا میں رہوں یونہی بے در

0
103
تمہاری آمد ممنونِ لالہ زار ہوئی ہے
خزاں تمہارے آنے سے ہی بہار ہوئی ہے

0
38
تُو مظہرِ حُسنِ بے نشاں اے ہند کے سلطاں
تُو نائبِ شہِ ہر دو جہاں اے ہند کے سلطاں
تُو جادہِ مکاں و لا مکاں اے ہند کے سلطاں
تُو زاتِ حق کا چمکتا نشاں اے ہند کے سلطاں
تمہارے در پہ جسد میرا سجدہ سجدہ پڑا ہے
مرا ہے کعبہ ترا آستاں اے ہند کے سلطاں

0
36
رہ کر ان سے وابستہ شاہدؔ
جنت کی رہ ہموار کیجئے

0
26
جس نے بھی سنا، دھمال میں تھا
وہ ایسے سُر اور تال میں تھا
ملنا کسی ایک حال میں تھا
میں اُلجھا ماہ و سال میں تھا
جب تُو میرے خیال میں تھا
وہ دور اپنا کمال میں تھا

0
65
یہ تم سے ملتجی کی التجا ہے
ہو شاہد پر کرم پیہم اے ہمدم

0
28
سب پہ ظاہر ہو چکا ہے حالِ ناتواں تو ہمارا، مگر کیا
سب کے آخر میں تجھ پر بھی ظاہر ہو گیا میرے یارا، مگر کیا

0
45
جانے والا نہیں اب میں کبھی میخانے سے
دل مرا لگ گیا ہے جام سے، پیمانے سے
جامی و رازی و رومی کو پلائی جس سے
مجھے پلا مرے ساقی اُسی پیمانے سے
دیکھیے تو کہیں وہ حضرتِ واعظ ہی نہ ہوں
کون جاتا ہے وہ وقتِ اذاں میخانے سے

0
79
اسیری میں ہمیں ایسی نہیں مجبوری و علت
رضا صیاد کی ہے تو قفس بھی ہے ہمیں جنت
اِسی میں اب مجھے ملنے لگا ہے لطف و حظِ جاں
الہی چھٹ نہ جاوے یہ سیاہیِ شبِ فرقت
مری وحشت کا عالم دیکھ کر بولے فرشتے بھی
کہ محشر قبل از محشر ہے زیرِ کشتہِ تربت

0
59
میں جیسے جیسے ترے در کی طرف چلتا گیا
تو ویسے ویسے یہ دل میرا زندہ ہوتا گیا

0
32
اے مَظہَرِ حق و حق جہاں مدد
اے مُظہِرِ حق و حق نشاں مدد
اے شاہِ اقلیمِ عارفاں مدد
اے قبلہ گاہِ سب عاشقاں مدد
اے کامِ شہبازی میں بے ہمتا
اے طائرِ کاخِ لامکاں مدد

0
50
جاری ہی رہتا ہے بحرِ سخا آقاؑ تیرا
آستاں سے ترے ہو غیر کہ اپنا تیرا
سب کو ملتا ہے بِنا مانگے ہی صدقہ تیرا
واہ کیا جُود و کَرَم ہے شہِ بَطْحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
بخش دینا ہے، کرم کرنا ہے شیوا تیرا

0
161
مہ تاب و آفتاب منہ چھپا کے بیٹھے ہیں
وہ جب کہیں نقابِ رُخ ہٹا کے بیٹھے ہیں
ترے یہ عشوے اُن کو لُوٹ پائیں گے کیا
جو اپنا آپ پہلے ہی لُٹا کے بیٹھے ہیں

0
42
انساں کا اِس جہاں میں کچھ نہیں ہے
دی ہے مولا نے تھوڑی سی پی لو
چھوڑ کر ضد تم اپنی اے واعظ
چلو مے خانے تھوڑی سی پی لو
آیا ہے ساقی بٹنے ہے لگی مے
لگا دن جانے تھوڑی سی پی لو

0
87
بھلا چاہا تھا ہم نے کب کہ حالِ دل عیاں ہو
مگر یہ آنسوؤں کی ضد تھی ہر صورت بیاں ہو
قسم سے مجھ کو تو یہ ایک نسبت ہی ہے کافی
میں کم ترِ جہاں اور تم شہنشاہِ جہاں ہو

0
40
اے اولیائے سلطاںؑ چشمِ کرم ہو ہم پر
ہے ناز اِسی کرم کے باعث جہاں کو ہم پر
مشکل کشاؑ ہمارے، سبطِ نبی کے صدقے
پہلے ہی ٹال دے، مشکل آنی ہے جو ہم پر
ہم ہیں غلامِ مولائے کائناتؑ شاہدؔ
عیدِ غدیر کی خوشیاں فرض ہیں، تو ہم پر

0
30
ہمیں پِلا تو نظر اپنی سے پِلا
ساقیا اِتنی سے ہے عرض ہماری
جب تلک دوڑ رہا ہے رگوں میں خوں
کبھی شاہدؔ سے نہ چُھوٹے گی مے خواری

0
58
یہ وعظ و پند ناصح بے کار ہی رہے گا
شاہدؔ مے خوار تھا اور مے خوار ہی رہے گا
یہ سوچ کر قدم رکھنا راہِ عشق پر تم
تمام رستے منزل تک خار ہی رہے گا
زاہد کے واسطے کعبہ بغرضِ طواف اور
شاہدؔ کے واسطے کوئے یار ہی رہے گا

0
55
تیرا شہر اسلام آباد سر آنکھوں پر
لیکن میرے دل کو بھاتا ہے لاہور

0
56
اب دیکھیے کیسے جمتا ہے رنگِ محفل
مجھ آشفتہ کو بزم سے وہ اُٹھا بیٹھے ہیں
یہ اُن کی مرضی ہے وہ چارہ کریں نہ کریں
ہم دردِ دل اپنا ان کو سُنا بیٹھے ہیں
یہ دل اپنا یہ جان اپنی یہ زیست اپنی شاہدؔ
اُن کے اندازِ بیاں پر ہم لُٹا بیٹھے ہیں

0
41
بے تحاشہ پیارا ہے تُو
زیست کا سرمایہ ہے تُو
ہوش کھو دیتا ہے شاہدؔ
سامنے جب آتا ہے تُو

0
97
علم نہیں بُرا ہوا یا اچھا ہوا دل کا
تمہیں دیا تھا تم ہی بتاؤ کیا ہوا دل کا

0
66
با خدا ہم کو وہ کہیں بھی نہ ملا
جو سکوں شاہدؔ شہرِ لاہور میں ہے

0
64
ممکن ہے جاتے جاتے رُک جائے
گر مُڑ کر وہ میری آنکھیں پڑھ لے

0
39
نہ ملنے والی منزل کے مسافر ہو گئے ہیں ہم
یہ کر کے بے وفائی ہائے کافر ہو گئے ہیں ہم

62
وجہِ نشاطِ اہلِ ایمان ماہِ رمضان
بخشش کا ہے مکمل سامان ماہِ رمضان
بخشش بھی مغفرت بھی آزادی نار سے بھی
سربسر ہے یہ کرمِ یزدان ماہِ رمضان
پھر سے ملا ہمیں کارِ خیر کا ہے موقع
شر سے نجات کا ہے فرمان ماہِ رمضان

0
3
99
اُس کے ستم نے ایسی راحت دی مجھ کو
دنیا کے سُکھ دریا بُرد کر آیا ہوں

0
40
با احترام لو نامِ اقدس اُن کا شاہدؔ
وہ سیدہ خدیجہؑ ہیں عزتِ شہِ دیںؐ

42
وہ ستم کوش ابھی تک نہیں آیا شاہدؔ
زندگی بیت چلی اُس کو صدا دیتے ہوے

0
82
غرق ہو ایسا طریقِ عشق جس میں
عاشقوں کے ہاتھوں عاشق مر رہے ہیں

0
49
یہ کیسے ظالموں کا پہرا ہے ترے در پر
کہ شوقِ حاضری بھی پورا کرنے دیتے نہیں
تمہارے در کو مقامِ سکون کہتے ہیں اور
ہمیں سکون کا وہ سانس بھرنے دیتے نہیں

0
58
شرابِ ناب و تُند کا نہ عرقِ نشہ وار کا
میں تو ہوں پیاسا محض شربتِ جمالِ یار کا
وہ آنکھ شرمگیں وہ مہ جبیں وہ زُلف عنبریں
مظاہرہ ہے قدرتِ خدا کے شاہکار کا
تُو اپنا ہاتھ ساقیا خدا کے واسطے نہ روک
پلائے جا مجھے کہ عہد آیا ہے بہار کا

0
88
گر راضی کرنا چاہتا ہے خدا کو
تو پہلے راضی کر بی بی زہراؑ کو
شاہد وہ زندی و مرتد ہے واللہ
زہراؑ سے منسوب کرے جو خطا کو

0
62
اپنا سر ہی پٹختا ہے پِھرتا
شیخ رندوں کو سمجھاتا ہے جب
ہاتھوں سے گِرتے پِھرتے ہیں ساغر
ساقی مے خانے میں آتا ہے جب
چھوٹ جاتی ہے دنیا کی ہر مے
آنکھوں سے ساقی پلاتا ہے جب

0
153