منبعِ دین ہے شبِ عاشور
ایک آئین ہے شبِ عاشور
چشمِ احمدؑ سے اشک بہنا بھی
غم کی تلقین ہے، شبِ عاشور
آسماں سرخ، ماہ و نجم اُداس
کتنی غمگین ہے، شبِ عاشور
ٹکڑے ٹکڑے ہے جسمِ ابنِ نبی
ہائے سنگین ہے شبِ عاشور
سن کے رنجیدہ ہیں سبھی قُدسی
کیسی تحزین ہے، شبِ عاشور
یہ فقط رات ہی نہیں شاہدؔ
ایک آئین ہے شبِ عاشور

0
89