| ہر کوئی بے خود ہُوا |
| یوں سُنائے ہیں علیؑ |
| آ نہ پائیں فہم مِیں |
| یوں بَنائے ہیں علیؑ |
| آسمانِ فقر پر |
| جگمگائے ہیں علیؑ |
| چار سُو دیکھو زَرا |
| صرف چھائے ہیں علیؑ |
| ہم ہیں قسمت کے دَھنی |
| ہم نے پائے ہیں علیؑ |
| جو مقدر مِیں نہیں |
| وہ دِلائے ہیں علیؑ |
| کھانے والا ہے جہان |
| اور کِھلائے ہیں علیؑ |
| عالمِ کُل میں ہمیں |
| بس لُبھائے ہیں علیؑ |
| ہو گئی تَزْئِینِ خُلد |
| مسکرائے ہیں علیؑ |
| عدل اور انصاف کی |
| رہ بَتائے ہیں علیؑ |
| مشکل آئی دین پر |
| کام آئے ہیں علیؑ |
| دشمنانِ دین کی |
| دھاک اُٹھائے ہیں علیؑ |
| روزِ محشر پیاسوں کو |
| مے پِلائے ہیں علیؑ |
| شاہدؔ اپنا سر جُھکا |
| دیکھ آئے ہیں علیؑ |
معلومات