وہ کچھ اِس طرح مِرا کام تمام کر رہے ہیں
سبھی لوگ یاد اللہ کا نام کر رہے ہیں
اُنہیں تیر کی ضرورت ہے نہ خنجر و حجر کی
وہ نگاہ پھیر کے قصہ تمام کر رہے ہیں
تھی یہ آرزو سلامت رہیں دین و دل ہمارے
سو ہم اُن کے کوچہِ بند میں قیام کر رہے ہیں
یہ تو صاحبِ جنوں ہیں کہ تمہاری اِک اَدا پر
سرِ بزمِ عشق خود کو تہِ دام کر رہے ہیں
تری چاہ کا ہے دعوی یہاں لاکھوں کو مگر دیکھ
ہمِیں ہیں جو اپنی ہستی تِرے نام کر رہے ہیں
نہیں رہتے سر سلامت سبھی جانتے ہوے بھی
درِ دلبراں پہ سجدے سرِ عام کر رہے ہیں

0
143