دن جو پھیلا تو چلے مسجد کی سمت
رات پھیلی، چل دیے میخانے ہم
پینے کو جو ملتی آنکھوں سے تِری
کیوں اُٹھاتے پھرتے یہ پیمانے ہم

0
18