جس زندگی مِیں علیؑ نہیں ہے
وہ زندگی, زندگی نہیں ہے
ذکرِ حیدر سے بھاگتے ہو
کیا یہ بھی خودکشی نہیں ہے
رکھیے حضرت علی سے الفت
کیا یہ حکمِ نبی نہیں ہے
کہیے خوشی سے علی کو مولا
ایمان کی یہ نفی نہیں ہے
وہ روزِ شُمار سے ہوں دِلگِیر
جن کے دل مِیں علیؑ نہیں ہے
میں نے کَہا! یا علیؑ مدد اور
مشکل مری پھر رہی نہیں ہے
بھائی نبیؐ کے ہیں اور بھی لیکن
کوئی علیؑ سا اَخی نہیں ہے
بے معنی ہے اُس جَبیں کا سجدہ
جو سوئے نَجف جُھکی نہیں ہے
جو دل چاہے وہ مانگ شاہدؔ
حیدر کے ہاں کمی نہیں ہے

0
101