جنتِ رب العلیٰ مشتاق ہے جن چار کی
اُن میں ہے اِک ذاتِ اقدس حضرتِ عمّارؓ کی
ہڈیوں تک ہے بھرا ایمان اس کے جسم میں
مثل ایسی ہے کہیں ایمان کے معیار کی
مومنوں کے واسطے راہِ ہدایت بن گیا
دیکھیے عظمت شہیدِ حیدرِ کرار کی
قاتلانِ حضرتِ عمار کو باغی گروہ
کہہ دیا سرکار نے تم مان لو سرکار کی
وہ لڑائی ہو جَمَل کی یا کہ پھر صِفِّین کی
یہ مدد کرتے رہے ہیں حیدرِ کرارؑ کی
بارگاہِ مرتضی میں پہنچے ہم آسانی سے
گردِ رہ بن کے جنابِ میثم و عمار کی
لاکھ ہو ظلم اس پہ لیکن سر بہ خم ہوتا نہیں
شان ہے یہ حیدرِ کرار کے حب دار کی
جس کے والد، والدہ اسلام کے پہلے شہید
منقبت شاہدؔ کہو اُس عاشقِ ابرارؐ کی

0
180