| ہم کو نہ حشر میں ہو گی فکر کوئی حساب کی |
| بندگی جو ہوئی زیارت کسی کے شباب کی |
| دیدہِ مست آفریں سے کیا تم نے سب کو مست |
| اور دکان کھولے بیٹھے رہے ہم شراب کی |
| باغ میں وہ ہے ساقی ہے اور ہیں کچھ سُبُوئے مَے |
| رونقیں یوں بڑھی ہوئی ہیں شبِ ماہتاب کی |
| اس نے یونہی نقاب کو چہرے سے کیا ہٹا دیا |
| ماند پڑی ہوئی ہے اب روشنی ماہتاب کی |
| وہ حَسیں چہرہ وہ لبِ نرم وہ عارضِ گداز |
| سامنے اِن کے کیا ہے اوقات کسی گلاب کی |
| ذکرِ جبینِ یار کیا تذکرہِ عذار کیا |
| یہ چمک آفتاب کی وہ دمک آفتاب کی |
| جو بھی یہاں سمجھتے تھے حسن پرستی کو گناہ |
| داد مجھے وہ دے رہے ہیں مرے انتخاب کی |
معلومات