| جانے والا نہیں اب میں کبھی میخانے سے |
| دل مرا لگ گیا ہے جام سے، پیمانے سے |
| جامی و رازی و رومی کو پلائی جس سے |
| مجھے پلا مرے ساقی اُسی پیمانے سے |
| دیکھیے تو کہیں وہ حضرتِ واعظ ہی نہ ہوں |
| کون جاتا ہے وہ وقتِ اذاں میخانے سے |
| جینے کے واسطے ہر لحظہ ہی مرنا پڑے ہے |
| جیتا ہے کون فقط یوں ہی جئے جانے سے |
| اب اِسے دار پہ ہی چڑھا دے تو اچھا ہے |
| بے جا دنیا ہے الجھتی ترے دیوانے سے |
| شیخ جی آپ بھی چکھ لیں زرا سی بادہِ ناب |
| گھونٹ دو سے تو اب ایمان رہا جانے سے |
| جیتے جی تو کبھی اُٹھنے نہیں والا واعظ |
| اب جنازہ ہی اُٹھے گا مِرا میخانے سے |
معلومات