| چل دیا ہائے شیرِ جلی دہر سے |
| کم ہوئی جاتی ہے روشنی دہر سے |
| روتے تھے اور کَہے جاتے تھے سب یَتیم |
| ہر خوشی اپنی رخصت ہوئی دہر سے |
| تم کہو کس نے دھتکارا ہے دہر کو |
| تم کہو کس کو الفت رہی دہر سے |
| یہ سمجھنے سے قاصر رہے اہلِ شام |
| ہے علی کی مَحَبَّت بَھلی دَہْر سے |
| دشمنی کلِ ایماں سے رکھنے لگے |
| الفت اس درجہ بھی کیا ہوئی دہر سے |
| دشمنِ دینِ احمد اُبھرنے لگے |
| چل دِیا جب نبی کا اَخی دَہْر سے |
| کامیاب ایسے کوئی جہاں میں ہوا |
| جیسے ہو کے گئے ہیں علی دہر سے |
| شاہؔد اللہ کی سَج رَہی ہے بَہِشْت |
| جا رَہے ہیں جنابِ علی دَہْر سے |
معلومات