اللہ کا نور اُترا، جب ماہِ رجب آیا
چمکا ہے جَہاں سارا، جب ماہِ رجب آیا
ایمان ہوا تازہ، جب ماہِ رجب آیا
نغمہ خوشی کا گایا، جب ماہِ رجب آیا
حیدر کی ولادت کا حیدر کی سیادت کا
ہر سمت ہوا چرچا، جب ماہِ رجب آیا
ہر سُو پَڑی ہے چہکار، قدسی بھی ہُوے سرشار
یہ کون ہوا پیدا، جب ماہِ رجب آیا
برسائے گئے گوہر، پیدا ہو گئے حیدرؑ
اللہ کا گھر جھوما، جب ماہِ رجب آیا
کعبے کو ملی عظمت، مومن کو ملی نعمت
آقاؐ نے اَخی پایا، جب ماہِ رجب آیا
آقاؐ کی زباں کا لمس حیدرؑ کو ملا شاہدؔ
منظر تھا حَسیں کیسا، جب ماہِ رجب آیا
وہ وقتِ وصال آیا اللہُ محمدؐ کا
چَمّکی ہے شَبِ اَسْریٰ، جب ماہِ رجب آیا
انوارِ خدا برسے، نَفْحاتِ جِناں اُٹّھے
دُلْہا بَنے ہیں آقاؐ، جب ماہِ رجب آیا
اجمیر ہوا روشن, خواجہؓ نے دِیا درشن
خوشیوں کا سَماں لایا، جب ماہِ رجب آیا

0
41