Circle Image

اسامہ اکبر زیبؔ

@usama2255

جو تیرے ساتھ نہ گزرے وہ زندگی کیا ہے
متاع جاں تُو نہیں تو کوئی خوشی کیا ہے
شریرو شوخ سہی پر یہ بے رخی کیا ہے
وہ جانے کیا، شبِ ہجراں کی بے کلی کیا ہے
جو تیرے لب ہوں میسر تو مے کشی کیا ہے
کہ دیکھیے دلِ ناداں کی کج روی کیا ہے

1
8
جب تلک ان کی گلی میں رہے بیزار رہے۔۔
مدتوں ہم کسی کے واسطے یوں خوار رہے۔۔
زخم دینے کی وہ رفتار میں پرکار رہے۔۔
مست اس بان میں وہ خوگرِ پندار رہے۔۔
ہم کچھ اس طرح سے حالات سے دو چار رہے۔۔
لاش پر چیل کی جو گردشِ سیار رہے۔۔

52
عاشق وہ کیسا ہے کہ جو مشتاقِ مے نہیں۔۔
پی لیجیے کہ مے سی کوئی اور شے نہیں۔۔
فرقت میں تیری سلسلۂ اردی بھی گیا۔۔
دل تھرتھراۓ اب کوئی سفّاکِ دے نہیں۔۔
کب تک ترا فراق ستاۓ گا یوں مجھے۔۔
ہاں سینکڑوں برس تو مری عمر طے نہیں۔۔

2
123
غمِ فراق کا جو ماجرا کہا ، تو کہا “ تری یہی ہے سزا”
فراق میں ترے میں مر رہا ، کہا، تو کہا “ بلا سے جا مر جا”
وصالِ شوق میں ہوں مبتلا، کہا، تو کہا، “ میں کیا کروں یہ بتا”
یہ عشق مجھ کو کرے گا فنا ، کہا، تو کہا، “ یہ ہے ہی ایسی بلا”
تو آخرش کی ہے مجھ سے دغا، کہا، تو کہا،” ہے کیا کچھ اس میں نیا؟”
مجھے تھی تم سے امیدِ وفا، کہا ، تو کہا، “ یہ میرا مسئلہ کیا؟”

0
2
28
ہوشُ حواس سے مرے شدتِ وصل ہی گئی۔۔
زیست کی شاموں میں تری یاد سمیٹ لی گئی۔۔
خواب و خیال سے مرے قرب و وصال سے مرے۔۔
اے مری جاں تُو جو گئی وجہ قرار بھی گئی۔۔
خوب پرستشِ بدن اور تھا عجب خمار وہ۔۔
ناف پیالے سے ترے جب وہ شراب پی گئی۔۔

0
9
بدن کے اعضاء ہجر میں گروی رکھ کر
شراب پیتے ہیں ہم، جوا کھیلتے ہیں

5
خواب مرے، تیری ست رنگی ردا لے اڑی۔۔
زیست کی سب رونقیں کوئی بلا لے اڑی۔۔
زور کہ کمزور کا چلتا نہیں کیا کہیں۔۔
دیپ کی رخشندگی تیز ہوا لے اڑی۔۔
جا رہا تھا شیخ کے ساتھ میں مسجد کی طرف۔۔
پر مرے ہوش و حواس تیری ادا لے اڑی۔۔

0
16
بات جب وہ نکل کے عام ہوئی۔۔
شہرِ جاناں میں رام رام ہوئی۔۔
ملتے ہیں طعنے اب جدھر جائیں۔۔
یعنی خوب اپنی دھوم دھام ہوئی۔۔
جرم ہے اپنا کیا کہ یہ دنیا۔۔
قتل کو محوِ انتظام ہوئی۔۔

55