| زندگی سہل ہوتی جینے میں! |
| دل سا بہروپیا ہے سینے میں |
| مثل کیا، آرزوۓ لاحاصل |
| کہ لہو مل گیا پسینے میں |
| دل نہ کھنگال میرے چارہ گر |
| آس کا ڈھیر ہے دفینے میں |
| وہ آنگن وہ مہک وہ گل وہ شمعیں اب کہاں |
| بھلا ایسی اداسی بھی کہیں ہے؟ |
| دریچوں میں وہ آہٹ ہی نہیں ہے |
| وہ اک آواز! آوازِ ترنم! |
| کہ اب اس دھیان میں وہ رنج ملتا ہے |
| تمہیں سوچیں بھی تو زخم اور چھلتا ہے |
| دیکھا ہے ہم نے اس طرف جا کر |
| رکھنا چاہا تھا دل کو بہلا کر |
| اب کہ اپنے خیال میں رکھو |
| کیا کروں خود کے حصے میں آ کر |
| آجکل آپ ہیں عدو کے ساتھ |
| ہم نے کیا کر لیا ہے منوا کر |
| کوئی خواب وقت کی ریت پر کبھی استوار کروں تو کیا! |
| دلِ غم زدہ! غلطی تو ہے اسے بار بار کروں تو کیا! |
| شبِ حزن تیرا خیال ہے دمِ صبح تیرا ملال ہے |
| کوئی بوجھ آنکھوں پہ ڈال کے انہیں اشکبار کروں تو کیا |
| تری آس میرا خلل سہی ترا ہجر میرا قصور ہے |
| تجھے سوچنا ہے زیاں مرا ترا انتظار کروں تو کیا! |
| نہیں سہل شوق کا ماجرا تجھے کیا خبر تجھے کیا پتا |
| ہے یہ مدعا! میں ہوں مبتلا! تجھے کیا خبر تجھے کیا پتا |
| کبھی ضبطِ حال سے حوصلہ تو کبھی امید پہ اکتفا |
| میں مغالطوں میں رہا بسا تجھے کیا خبر تجھے کیا پتا |
| سرِ شام روز ہو اک کسک رہے کوئی یوں بھی کب تلک |
| یہ وہ رنج ہے مرے آشنا تجھے کیا خبر تجھے کیا پتا |
| کسی مصروت سڑک پر |
| جانے کیا بوجھ اٹھاۓ ہوۓ ہوں |
| اک ترا غم ہے سو ہے |
| کچھ طمانچے کھا کے |
| وقت کے میں |
| گھر کی روٹی بھی چلاۓ ہوۓ ہوں |