| ایسے بھی بے سر و سامانِ خبر چلتے رہے |
| سوزِ تاریخ سے عُشّاق کے گھر چلتے رہے |
| آرزو رنگ سی دکھلائی گئی دل کو، پھر! |
| جتنے بے رنگ تھے موسم وہ اِدھر چلتے رہے |
| یہ بھلا کیا کہ تمنا کا تمنا کو دوش؟ |
| اس تصادم میں دل اور ذہن کے شر چلتے رہے |
| کر لیا ان پہ یقیں اور یقیں سے توبہ |
| ہم عجب سوچ کے قائل تھے کدھر چلتے رہے! |
| فکرِ عالم تو یہ ہے گام محبت میں زیبؔ |
| آپ چلتے ہوۓ بھٹکے تھے مگر چلتے رہے |
معلومات