| شبِ غم! نیند لینے دے کہ مجھے |
| کل نکلنا ہے روزگاری کو |
| ایک غم سے سلیقے آتے ہیں |
| اور کیا چاہیے لکھاری کو |
| کہیں دنیا میں خوش نہیں ہوں میں |
| منہ لگا ایسی ناگواری کو |
| ختم ہے کوۓ آرزو میں دل |
| لیا دیمک نے پائیداری کو |
| کتنا شفَّاف جھوٹ ہے پیمان |
| داد ہے سب کی ہونہاری کو |
معلومات