شبِ غم! نیند لینے دے کہ مجھے
کل نکلنا ہے روزگاری کو
ایک غم سے سلیقے آتے ہیں
اور کیا چاہیے لکھاری کو
کہیں دنیا میں خوش نہیں ہوں میں
منہ لگا ایسی ناگواری کو
ختم ہے کوۓ آرزو میں دل
لیا دیمک نے پائیداری کو
کتنا شفَّاف جھوٹ ہے پیمان
داد ہے سب کی ہونہاری کو

0
3