دیارِ شوق و تمنا سے یہ سراغ ملا
کہ واہیات دلِ خستہ باغ باغ ملا
یوں بھی تپاک سے ہوتی رہی بسر اپنی
کہیں سے مل گئی وحشت کہیں سے داغ ملا

0
3