وہ آنگن وہ مہک وہ گل وہ شمعیں اب کہاں
بھلا ایسی اداسی بھی کہیں ہے؟
دریچوں میں وہ آہٹ ہی نہیں ہے
وہ اک آواز! آوازِ ترنم!
کہ اب اس دھیان میں وہ رنج ملتا ہے
تمہیں سوچیں بھی تو زخم اور چھلتا ہے

0
2