| وہ آنگن وہ مہک وہ گل وہ شمعیں اب کہاں |
| بھلا ایسی اداسی بھی کہیں ہے؟ |
| دریچوں میں وہ آہٹ ہی نہیں ہے |
| وہ اک آواز! آوازِ ترنم! |
| کہ اب اس دھیان میں وہ رنج ملتا ہے |
| تمہیں سوچیں بھی تو زخم اور چھلتا ہے |
| وہ آنگن وہ مہک وہ گل وہ شمعیں اب کہاں |
| بھلا ایسی اداسی بھی کہیں ہے؟ |
| دریچوں میں وہ آہٹ ہی نہیں ہے |
| وہ اک آواز! آوازِ ترنم! |
| کہ اب اس دھیان میں وہ رنج ملتا ہے |
| تمہیں سوچیں بھی تو زخم اور چھلتا ہے |
معلومات