| پائی خرد تو جنگ و جدل ہے دماغ میں |
| جب سے سنبھالا ہوش خلل ہے دماغ میں |
| خوابوں کے سہمے ہوۓ کہ محنت ہے نیند پر |
| مدت سے ایک یہ ہی عمل ہے دماغ میں |
| شب بھر شبِ فراق میں دیوار دیکھنا |
| گویا کہ تیری یاد اٹل ہے دماغ میں! |
| اس نامراد دل کو جہنم میں ڈالیے! |
| مشکل سہی میاں، یہی حل ہے دماغ میں |
معلومات