درد سے جڑ گئے نسب میرے
چھوڑیے آپ تھے ہی کب میرے
بے دلی، آس، ہجر، وحشت، سوز
لمحۂِ شوق میں ہیں سب میرے
آپ کا اعتبار کر لیا تھا
دیکھیے کام ہیں غضب میرے
ایک پر ایک کھلتا جاۓ فریب
غیرِ منطق ہوۓ سبب میرے
کل شبِ ہجر اک تصور میں
آپ کی آنکھوں پر تھے لب میرے
پھر سے کوۓ امید میں ہے قیام
فیصلے ہیں بہت عجب میرے
جانِ من اک تری تمنا میں
ہاتھ گندے ہیں بے سبب میرے

0
32