| تنگِ جاں! باعثِ گماں لکھیے |
| اور یہ خط نام رفتگاں لکھیے |
| آپ ہیں میرے چشم دید گواہ |
| آرزو کیسے رائیگاں لکھیے؟ |
| بات دل کی تمہیں سمجھ آۓ |
| ایسی تحریر کس زباں لکھیے |
| کسی صف میں نہیں ہیں وعدہ شکن |
| انہیں بے شک گزشتگاں لکھیے |
| جو بھی پیمان دنیا کا ہے میاں |
| صرف آوارگئِ زباں لکھیے |
| خوب ہے آپ کی اڑان مگر! |
| اب کہ دھرتی کو آسماں لکھیے؟ |
| لوگ ہلکان ہیں شتاب سے زیبؔ |
| اپنی موجودگی زیاں لکھیے |
معلومات