ہر طرف ہے خزاں کی سنگینی
جابرانہ گماں کی سنگینی
پھر اسی طرح عمر جاتی رہی
پھر وہی آشیاں کی سنگینی
ہر بشر کے گلے سڑے پیمان
گر ہیں کچھ، تو زباں کی سنگینی!
دل پہ ہاں وحشتیں مسلط ہیں
خوب ہے آسماں کی سنگینی
ایک ناؤ جو خود میں ڈوب گئی
اور سبب بادباں کی سنگینی
جب سمجھ آیا ماجرا سارا
لے گئی تھی زیاں کی سنگینی
اب تو جی ہے کہ جا لگیں کہیں بھی
سہل ہے رفتگاں کی سنگینی

0
2