| ہر طرف ہے خزاں کی سنگینی |
| جابرانہ گماں کی سنگینی |
| پھر اسی طرح عمر جاتی رہی |
| پھر وہی آشیاں کی سنگینی |
| ہر بشر کے گلے سڑے پیمان |
| گر ہیں کچھ، تو زباں کی سنگینی! |
| دل پہ ہاں وحشتیں مسلط ہیں |
| خوب ہے آسماں کی سنگینی |
| ایک ناؤ جو خود میں ڈوب گئی |
| اور سبب بادباں کی سنگینی |
| جب سمجھ آیا ماجرا سارا |
| لے گئی تھی زیاں کی سنگینی |
| اب تو جی ہے کہ جا لگیں کہیں بھی |
| سہل ہے رفتگاں کی سنگینی |
معلومات