Circle Image

Dr. Shahid Mahmood

@Baardo

ميں اپنے درد کی لینے کو جو دوا نکلا - پتہ چلا کہ مرا درد لا دوا نکلا

لوگ نظروں کو جھکاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عزتِ نفس بچاتے ہوئے مر جاتے ہیں
چند لقموں کی یہ بیگار نگل جاتی ہے
عمر بھر بھوک مٹاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہاتھ کٹنے کے مراحل سے بہت پہلے ہی
ہم تو بس خواب چراتے ہوئے مر جاتے ہیں

0
12
میں اک کتاب کے وقفے میں وہ نہیں رہتا

0
3
یہ دانائی کا دھارا ہیں
یہ جنت کا نظارہ ہیں
کتابیں درس حرکت کا
سفر کا استعارہ ہیں
کتابیں علم کے موتی
کتابیں اک سہارا ہیں

0
9
درد سے بوجھل دلِ پکھراج ہے
درد ہی تو عاشقی کا داج ہے
میں کہیں بھی ایک پل رکتا نہیں
سر پہ اب خانہ بدوشی تاج ہے
دکھ کی بارش روح میں تھمتی نہیں
عشق کرنے کا یہی تو باج ہے

0
16
خالی بوتل سے ایک قطرۂ مے
کبھی ٹپکے گا کیوں امید کروں
کون سا میں کوئی مسیحا ہوں
معجزے آج کل نہیں ہوتے

0
4
ختم کرنا ہے گر اندھیرے کو
روشنی تم کہیں سے لے آؤ

0
11
گناہ کا خوف تھا اتنا جناب کیا کرتا
یہ ہاتھ کانپ رہے تھے رباب کیا کرتا
ہمیں تضاد سکھاتا ہے زندگی کا علم
گناہ کیا ہی نہیں تھا ثواب کیا کرتا
کسی نے زہر ملایا تھا پانیوں میں وہاں
مجھے تو اصل نے مارا سراب کیا کرتا

0
23
مجھ کو تو نے زندگی اک غیر جانا ہر گھڑی
مجھ کو اب موقع ملا تجھ سے وفا کیسے کروں
آرزو میری کرے کوشش رہی یہ عمر بھر
اس کو اپنے آپ میں اب مبتلا کیسے کروں

0
12
گلے ہزار ہیں پھر بھی خموش رہتا ہوں
مگر وہ یہ نہ سمجھ لے کہ خوش ہوں میں اس سے

0
12
میں اپنے من میں بہت چیختا ہوں لوگوں پر
میں ان کے سامنے کچھ بھی مگر نہیں کہتا

0
7
آندھیوں کو کیا معلوم
آندھیوں کے چلنے سے
پیڑ جن کی شاخوں پر
گھونسلے پرندوں کے
ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں
پانیوں کے ریلے بھی

0
17
کئی سالوں میں ہم نے صرف
یہ دیواریں کھڑی کی ہیں
چلو اک بار سب مل کے
بہت سے پل بناتے ہیں

0
11
ماں کے ہوتے ہوئے یہ لگتا تھا
زندگی کھیل کے سوا کیا ہے
ماں نہیں تو اب ایسا لگتا ہے
کھیل میں کھیل کا مزا کیا ہے

0
15
بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا
اپنے حالات پر ابال آیا
زندگی بھر برا نہیں سوچا
مجھ پہ کیوں رنج اور ملال آیا
جتنا ناکامیوں پہ غصہ تھا
اپنے اوپر ہی میں نکال آیا

0
9
ساحلِ تمنا پر
اک صلیب ہے جس پر
روز جھول جاتا ہوں

0
10
میں کائنات کی وسعت پہ جب بھی سوچتا ہوں
میں اس نتیجے پہ ہر بار ہی پہنچتا ہوں
بس ایک قطرہ ہوں میں وقت کے سمندر میں
بس ایک ریت کے گولے پہ آج جیتا ہوں
بس ایک پھل جھڑی سی میری زندگی ہے یہاں
میں اک چراغ ہوں جو آندھیوں میں جلتا ہوں

0
12
قسمتیں جو لائے تھے
چاہتیں کہاں ملیں
نفرتیں ملیں ہمیں
قربتیں کہاں ملیں
عمر اک گذار دی
در نہیں کھلا کبھی

0
18
کوئلہ میں ہو گیا تھا ہیرا ہونا ہے ابھی
داغ دامن پر لگے ہیں ان کو دھونا ہے ابھی
وہ مرے جزبات سے اب کھیلتا ہے رات دن
اس کے ہاتھوں میں مرا دل اک کھلونا ہے ابھی
ہر قدم پر ہی بھٹکنا کیوں پڑا مجھ کو یہاں
لگ رہا ہے مجھ پہ کوئی جادو ٹونا ہے ابھی

0
27
جو بھی ملتا تھا مجھ سے بچپن میں
یہ ہی کہتا تھا ایسے بچے سے
کوئی امید رکھ نہیں سکتے
اس کے کتنے سوال ہیں جن پر
ہم نے سوچا نہیں کبھی ان پر
کچھ تو ایسے سوال ہیں جن پر

0
7
زندگی پر خزاں کا سایہ ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
خون مے ناب ہو گیا میرا
اپنے اندر نکھر رہا ہوں میں

0
5
کھول دو میکدے کا دروازہ
انتظار اور اب نہیں ہو گا
یہ ملاقات آخری سمجھو
میں ہوں مہمان چند لمحوں کا

0
9
زندگی برباد اپنی اس طرح مجھ سے ہوئی
آدھی جینا لے گیا آدھی شرابوں میں بہی

0
10
زندگی کے جام میں کچھ گھونٹ باقی ہیں ابھی
رقص تھم جائے نہ پھر بادہ کشی کر لیں ابھی
زندگی ساری لٹا دی کچھ بچا ہے کیا ابھی
چند سانسیں ہی بچی ہیں ان کو وہ دے دیں ابھی

0
8
میں اپنے آپ میں خانہ بدوش ہوں شاہد
سفر میں رہتا ہوں لیکن کہیں نہیں جاتا

0
16
تمام عمر مجھے اضطرار کس کا تھا
نہ تھا یہ عشق تو پھر انتشار کس کا تھا
مرے وجود میں گر جھانکتا تو پا لیتا
مرا نہ تھا تو دلِ بے قرار کس کا تھا
وہ پاس تھا مرے پر دور تھا بہت مجھ سے
اسے وصال میں اب انتظار کس کا تھا

0
30
مجھ کو کوئی بچا نہیں سکتا
راستہ بھی دکھا نہیں سکتا
راستے میں اگر بچھڑ جاؤں
خود سے کوئی ملا نہیں سکتا
اب مرا درد بانٹنیں والا
درد میرا گھٹا نہیں سکتا

0
20
پوچھا کہ کائنات میں سب سے اہم ہے کیا
میں نے کہا کہ لفظ ہی ہر چیز کی وجہ
اس نے کہا کہ لفظ سے آگے کی بات کر
میں نے کہا کہ لفظ ملے شاعری بنی
پوچھا کہ شاعری کے افق پر رکھا ہے کیا
بولا کہ راگ کی ہوئی پھر آگے ابتدا

0
18
موت ایسے ہے صبح دم جیسے
اٹھ کے ہم گل چراغ کرتے ہیں

0
2
ایک دریا ہوں سمندر سے جدا ہوں کب سے
اب یہ حسرت ہے سمندر گرے آ کر مجھ میں

0
13
جو بھی ،لکھا تھا ہم نے وہ ، مفہوم ہی نہ تھا
شامل جو اس میں ہو گیا ، مضموم ہی نہ تھا
اک رغبتِ شدید تھی ، کس کی تھی ، کیا خبر
کچھ ڈھونڈتے رہے ، کسے ، معلوم ہی نہ تھا
بس زندگی گذار دی ، منزل سے بے خبر
جو کچھ ملا ہمیں یہاں ، مقسوم ہی نہ تھا

0
30
انسان سے بڑا کوئی نادان ہی نہیں
یہ جان کر ذرا بھی میں حیران ہی نہیں
شیطان مفت میں یہاں بدنام ہو گیا
انسان سے بڑا کوئی شیطان ہی نہیں
انسان کے مقام سے انسان جب گرے
اس سے بڑا جہان میں حیوان ہی نہیں

0
16
جہاں میں اس قدر جب غم نہ ہوں گے
خدایا اس جہاں میں ہم نہ ہوں گے
لگیں گے زخم اتنے اس چمن میں
کہ جتنے پھر یہاں مرہم نہ ہوں گے
ہمیں اک ساتھ پا کر لوگ ناخوش
جدا ہوں گے تو یہ برہم نہ ہوں گے

0
20
پوچھا کہ ہم انا پہ کیوں اپنی اڑے رہے
کہنے لگی کہ پاؤں زمیں میں جڑے رہے
میں نے کہا کہ وقت تو آگے نکل گیا
بولی جہاں کھڑے تھے وہیں پر کھڑے رہے
بولی کہ اپنے دل یہاں پتھر کے ہو گئے
میں نے کہا کہ وقت جو ہم پر کڑے رہے

0
20
میں نے کہا کہ چاند ستارے نہیں رہے
بولی سمندروں کے کنارے نہیں رہے
پوچھا کہ اپنی دیدۂ بینا کہاں گئی
بولی کہ آج کل وہ نظارے نہیں رہے
اس نے کہا کہ کھو گئے خاموشیوں میں تم
میں نے کہا کہ اب وہ اشارے نہیں رہے

0
25
میں نے کہا کہ ہم وہ دوانے نہیں رہے
کہنے لگی کہ اب وہ زمانے نہیں رہے
پوچھا کہ اگلی بار ملو گی مجھے کہاں
کہنے لگی کہ اب وہ ٹھکانے نہیں رہے
بولی خطوط کا کوئی اب فائدہ نہیں
کہنے کو اب کوئی بھی فسانے نہیں رہے

23
عجب میری محبت ہے
وہ جب منہ پھیر لیتی ہے
میں روتا ہوں میں گاتا ہوں
میں اس کے سامنے جا کر
ذرا سا ڈگمگاتا ہوں
توجہ اس کی پھر پا کر

0
8
چلو لفظوں سے کھیلیں اور ذرا سی ساحری کر لیں
چلو غالب نہیں پھر بھی ذرا سی شاعری کر لیں
چلو ہم راندۂ درگاہ ہیں اب بندگی کیسی
چلو سجدہ کریں بت کو ذرا سی کافری کر لیں
چلو ہم تو فقیرِ شہر ہیں مردہ ضمیر اپنا
چلو سلطان کے اعمال پر اب خودکشی کر لیں

0
21
بہت اب زندگی کر لی
ذرا سی سرپھری کر لیں
کریں نوحہ گری کب تک
چلو ہاراکری٭ کر لیں
(٭ہاراکری - اجتماعی خودکشی)

0
14
یہاں پر تخت بکتے ہیں
یہاں پر تاج بکتے ہیں
یہاں جو کل نہ بکتے تھے
یہاں وہ آج بکتے ہیں
یہاں فرہاد بکتے ہیں
یہاں جلاد بکتے ہیں

0
1
24
بھول جانا چاہتا ہوں میں جسے
یاد آتا ہے وہ ہی اکثر مجھے

0
8
وہ انسانوں کے جنگل میں
فقط حیوان ہی تو ہے
جو کچھ بھی اپنی مرضی سے
یہاں پر کر نہیں سکتا

0
8
میں اب مصروف رہتا ہوں
میں بس تنقید کرتا ہوں
میں لوگوں پر نہیں کرتا
میں بس شاہد پہ کرتا ہوں
میں اب مصروف رہتا ہوں
میں خود سے پوچھتا ہوں اب

0
15
جلاوطنی میں آوارہ
میں اک ٹوٹا ہوا تارا
جو سینے میں دھڑکتا ہے
دکھوں کا ایک گہوارہ

0
10
وہ دھند اداسیوں کی تھی
لپٹ گئی تھی جو مجھے
وہ دھند موسمی نہ تھی
وہ دھند ابھی گئی نہیں

0
13
جو میں محسوس کر نہیں سکتا
اس کے بارے کبھی نہیں لکھتا
درد اٹھتا ہے جب بھی سینے میں
اس کو الفاظ دے نہیں سکتا
درد سے دور ہے قلم اتنا
جب ضرورت پڑے نہیں ملتا

0
18
ہر چیز وہ نہ تھی کہ جو پہلے کبھی وہ تھی
جب میں وہاں نہ تھا تو زمانہ بدل گیا

0
12
جیسے جیسے سکڑ رہا ہے وقت
فاصلے بڑھ رہے ہیں جانے کیوں

0
11
چلتے چلتے میں تھک گیا لیکن
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

0
11
یہاں انسان پتھر کے
اور ان کے دل بھی پتھر کے
جو گہرے زخم دیتے ہیں
یہاں الفاظ پتھر کے
در و دیوار پتھر کے
یہاں اطوار پتھر کے

0
26
میں کہ خانہ بدوش بچپن سے
آج تک میں کہیں ٹکا ہی نہیں
لوٹ کر جاؤں میں کہاں شاہد
میرے گھر کا کوئی پتہ ہی نہیں
کیسا لگتا ہے واپسی کا سفر
مجھ کو احساس ہی نہیں اس کا

0
20
کجھ ویلے تنگ ہو گئے نیں
کجھ لوک وی سنگ ہو گئے نیں
اے اوکھے ویلے کِنج کٹیے
ہن یار ملنگ ہو گئے نیں

0
15
کبھی جیت ہو گی کبھی مات ہو گی
کبھی صبح ہو گی کبھی رات ہو گی
جدائی کا موسم بھی تبدیل ہو گا
نئے موسموں میں ملاقات ہو گی
یہ بادل برس کر چلے جائیں گے پھر
ہمیشہ نہ غم کی یوں برسات ہو گی

0
40
میں سردابوں میں چھپ جاؤں
میں صحراؤں میں کھو جاؤں
میں کہساروں پہ چڑھ جاؤں
کہیں بے نام ہو جاؤں
میں تلواروں کے سائے میں
میں انگاروں پہ سو جاؤں

0
25
جو دینی ہے مجھ کو یہی بس دعا دیں
جو بچھڑی تھی آواز مجھ سے ملا دیں
میں ظالم میں غاصب میں قاہر نہیں ہوں
مرے حق میں یہ فیصلہ وہ سنا دیں
میں تاریک جذبوں کو الفاظ دوں گا
جو گھٹتی ہے توقیر تو وہ گھٹا دیں

0
24
جب سے حالات آزمانے لگے
دوست مجھ سے نظر چرانے لگے
جوں ہی رکھا قدم جوانی میں
داغ دل کے مجھے جلانے لگے
لکھنے بیٹھے جو اپنی جگ بیتی
قصے ماضی کے سب فسانے لگے

0
11
جھوٹ تو جھوٹ ہے مگر پھر بھی
سچ سے بڑھ کر کوئی دغا ہی نہیں

0
6
خدا کی سر زمیں پر اس کا یوں ہو گا زیاں کب تک
اسے کب تک چھپائیں گے رہے گی بے زباں کب تک
یہ عورت ماں ہے بیٹی ہے بہن ہے اور بیوی ہے
یہ کب تک اور بھٹکے گی رہے گی بے اماں کب تک
یہ اپنا بوجھ ڈھو لے گی بس اک موقع اسے دے دو
یہ اس قابل ہے سمجھو گے اسے بارِ گراں کب تک

0
26
میں گہرے پانیوں کی تہہ میں اک خاموش پتھر ہوں

0
24
بہت باتیں ہوئیں اس سے
مگر میں کچھ نہیں بولا
جو دل میں راز تھا میرے
ابھی تک وہ نہیں کھولا

0
18
جب بھی ملتی ہے مجھ سے کہتی ہے
کتنے تم پر سکون لگتے ہو
میری خواہش ہے جتنا باہر سے
میں اسے پر سکون لگتا ہوں
کاش اندر سے بھی میں اتنا ہی
اک گھڑی پر سکون ہو جاؤں

0
14
چراغ اپنی وفا کے جلا کے جاؤں گا
میں خون اپنے جگر کا بہا کے جاؤں گا
میں ڈھونڈنے اسے شہرِ سبا کو جاؤں گا
میں ابنِ قیس ہوں سب کچھ لٹا کے جاؤں گا
میں تخت کیسے منگاؤں میں کوئی شاہ نہیں
فقیرِ شہر ہوں خود کو مٹا کے جاؤں گا

0
30
جوانی بیچ کے دانائی کچھ خریدی تھی
کہاں سنبھال کے رکھی تھی اب یہ یاد نہیں

0
18
پروں کے ہوتے ہوئے بھی میں اڑ نہیں پایا
مرے پروں کو تراشا گیا تھا پتھر سے

0
16
کہیں درمیان میں پھنس گیا
نہ اِدھر گیا نہ اُدھر گیا
یہ نہیں کہ کی نہیں کوششیں
مری کوششیں رہیں بے ثمر
مجھے اس کا کوئی بھی غم نہیں
مجھے دکھ یہ ہے رہا بے ہنر

0
15
اس کا اندازہ کتنا مشکل ہے
کتنی وسعت ہمارے اندر ہے

0
13
مری خاموشیوں کا شور اب اتنا زیادہ ہے
سنائی کچھ نہیں دیتا سمجھ میں کچھ نہیں آتا

0
19
میری خواہش ہے آگے در ہو کوئی
اس سے گزروں کہیں نکل جاؤں

0
21
خود سے ٹکرائے اور بکھر جائے
میں اک ایسا شہابِ ثاقب ہوں

0
14
زندگی میں سکوں نصیب نہیں
زندگی انتشار ہو جیسے

0
18
وہ یہ چاہتی ہے میں بدل جاؤں
اس کا منطق کبھی سمجھ پاؤں
میں سمجھتا ہوں یہ نہیں ممکن
میں ہمیشہ رہوں گا جو میں ہوں
وہ مثالوں سے مجھ کو سمجھائے
لاروا جیسے تتلی بن جائے

0
21
چل رہا تھا کب سے میں
تھی مسافت اک کڑی
تھک گیا تھا اس گھڑی
چند لمحوں کو رکا
سوچ یونہی آ گئی
میں بہت نذدیک ہوں

0
44
ميں اپنے درد کی لینے کو جو دوا نکلا
پتہ چلا کہ مرا درد بے دوا نکلا
میں دربدر پھرا اس کو گلی گلی ڈھونڈا
عدو کے گھر سے مرا یارِ بے وفا نکلا
تمام شہر میں مے کی سبیل جاری تھی
ہر ایک شخص واں کہنے کو پارسا نکلا

0
26
میں تو آگے نکل گیا ہوں کہیں
میرا سایا ٹھہر گیا پیچھے

12
جہاں میں نے بچپن گذارا تھا شاہد
وہ دیوار و در یاد آنے لگے ہیں

12
جن کے بنا دن گذرتا نہیں تھا
چہرے وہی اب ڈرانے لگے ہیں

0
14
میں اپنی ہی کہانی میں
ولن کا رول کرتا تھا
میں خود پر ظلم کرتا تھا
میں خود مظلوم بنتا تھا
مجھے اب اس کہانی میں
نیا اک رنگ بھرنا ہے

0
29
اس زندگی نے اک مجھے پتھر بنا دیا
پتھر کو پھر سے توڑ کر انساں بناؤں گا

0
21
ماں ہی اب تو نہیں رہی شاہد
لوریاں کون اب سنائے گا

0
28
خود سے خطرہ ہے مجھ کو اب شاہد
کون خود سے مجھے بچائے گا

0
7
مرا گمان تھا میں جانتا ہوں لوگوں کو
ہر ایک شخص کی اپنی الگ کہانی ہے

0
18
زندگی اک سراب ہو جیسے
ادھ کھلی اک کتاب ہو جیسے
ایک مشکل سوال ہو جس میں
اور غائب جواب ہو جیسے
نہ حقیقت کا علم ہے تم کو
اور کچھ بھی پتہ نہیں مجھ کو

0
24
زندگی اک سراب ہو جیسے
ادھ کھلی اک کتاب ہو جیسے
ایک مشکل سوال ہو جس میں
اور غائب جواب ہو جیسے

0
11
یہ بھی کیسا عجب کھلونا ہے
کتنے اس میں تضاد ہوتے ہیں
گر کوئی انتخاب کرنا ہو
پہلے کہتا ہے "الف" اچھا ہے
"الف" لینے کا فیصلہ کر لوں
پھر یہ کہتا ہے "بے" بہتر ہے

0
17
مجھ کو اڑنے کی تھی خواہش آسمانوں میں کبھی
میرے پاؤں کو جکڑ رکھا ہے مٹی نے ابھی

0
12
جاہلوں کے دیس میں میں تو تماشا ہو گیا
جو مجھے معلوم تھا تاریکیوں میں کھو گیا
لا مکاں کی وسعتوں سے لوٹ آتا تھا کبھی
آج اپنی ذات کی باریکیوں میں کھو گیا
دستکیں دیتا رہا میرا مقدر عمر بھر
آج میں بیدار ہوں میرا مقدر سو گیا

0
27
لا مکاں کی وسعتوں سے لوٹ آتا تھا کبھی
آج اپنی ذات کی تاریکیوں میں کھو گیا

23
ہمدردیوں کی بھیک جو لائے تھے میرے دوست
خنجر کدورتوں کے وہ دل میں چبھو گئے

0
21
میرا پکڑ کے ہاتھ وہ واپس چلا گیا
جاتے ہوئے چراغ وہ سارے بجھا گیا
میرا گنہ یہ تھا کہ میں خاموش ہی رہی
لمحہ بہ لمحہ ہستی وہ میری مٹا گیا
کہتا تھا اس کے سامنے کیوں بولتی نہیں
میری زباں کھلی تو وہ اٹھ کر چلا گیا

0
39
یہاں پہ لوگ ہیں زندہ تو میں بھی زندہ ہوں
اکیلا میں یہاں ہوتا تو مر گیا ہوتا

0
28
کنول کھلا کبھی دیکھا ہے سنگِ مر مر پر
کنول جو چاہیے کیچڑ کہیں سے بھر لاؤ
جو جنگ جیتنا چاہو تو ایک نسخہ ہے
زباں پہ شیر اور دل میں سکون بھر لاؤ

0
25
کچھ دن کا میرے واسطے کھانا پکا گیا
جانے سے پہلے دھو کے وہ کپڑے سکھا گیا
کاغذ جلے تھے جن کی بو گھر کی فضا میں تھی
اپنی محبتوں کے وہ خط بھی جلا گیا
نکڑ کی جس دوکان کا مجھ پر ادھار تھا
سارا کا سارا قرض وہ میرا چکا گیا

0
33
میت پہ میری آ کے وہ آنسو بہا گیا
ان موتیوں میں قرضِ وفا وہ چکا گیا
میں نے تو بس کہا تھا کہ اب راستے جدا
جاتے ہوئے وہ آگ ہی گھر کو لگا گیا
اس زندگی میں غم تو ہے لیکن خوشی بھی ہے
قسمت میں میری دکھ ہی کیوں آخر لکھا گیا

0
27
فیصلہ جب اٹل نہیں ہو گا
مسئلہ کوئی حل نہیں ہو گا
کاوشوں پر جو پھل نہیں ہو گا
بعد اس کے عمل نہیں ہو گا
جو بھی کرنا ہے آج ہی کر لو
آج جو ہے وہ کل نہیں ہو گا

0
17
میں تو الجھا رہا خیالوں میں
کچھ بھی مجھ سے سلجھ نہیں پایا
زندگی جو بتا رہی تھی مجھے
آج تک وہ سمجھ نہیں پایا

0
25
جیسے میں تو کبھی جیا ہی نہیں
کام جیسے کوئی کیا ہی نہیں
خواب میں جیسے چل رہا ہوں میں
آگ میں اپنی جل رہا ہوں میں
گر کے پل پل سنبھل رہا ہوں میں
لمحہ لمحہ بدل رہا ہوں میں

0
21
وقت مجھ سے بچھڑ گیا تھا کہیں
میری انگلی پکڑ کے نکلا تھا
اور میلے میں بھیڑ تھی اتنی
اور پھر شور بھی بہت تھا وہاں
بھولی بسری سی یاد تھی کوئی
چند لمحوں کو لے گئی تھی کہیں

0
21
میں ایک رکھ کے کوئی دوسری اٹھا لوں گا
اے زندگی تجھے اک دن نئی بنا لوں گا

0
12
دل میں ابھی اس کے کوئی آزار نہیں ہے
لگتا ہے اسے مجھ سے ابھی پیار نہیں ہے
کہتا ہے کہ کچھ بھی اسے اچھا نہیں لگتا
وہ میری محبت میں گرفتار نہیں ہے
رشتے اسے لگتے ہیں زندان کی مانند
میرا ابھی اتنا وہ طلب گار نہیں ہے

0
27
یوسف ہوں مگر کوئی خریدار نہیں ہے
بکنے کو یہاں مصر کا بازار نہیں ہے
سر دار پہ ہے لوگ بھی بیتاب بہت ہیں
جلاد مگر شہر کا تیار نہیں ہے
لکھنا کوئی مشکل نہیں شاہوں کے قصیدے
میرا گرا اتنا ابھی معیار نہیں ہے

0
23
میں خاک ہو گیا ہوں زندگی کی راہوں میں
مرا شمار اب ہوتا ہے بے پناہوں میں
تمام عمر مری کٹ گئی سزاوں میں
خدا کے سامنے پہنچا ہوں بے گناہوں میں

0
17
زندگی سے ہمیشہ گلے ہیں
امتحاں کے ابھی مرحلے ہیں
ان سے ملنے کی امید کیوں ہے
اب تو اپنے جدا راستے ہیں
میں جہاں سے چلا پھر وہیں ہوں
وقت کے ہر طرف دائرے ہیں

0
15
میں انہیں پھر سے چھیل دیتا ہوں
جب میرے زخم بھرنے لگتے ہیں

0
9
صبح سے شام تک یہ کرتا ہوں
روح خالی ہے اس کو بھرتا ہوں

0
8
ابھی جینا شروع کیا ہی نہیں
زندگی میں میں مبتلا ہی نہیں
خواب دیکھے تھے جس کے بچپن سے
شخص وہ آج تک ملا ہی نہیں
جو بھی شکوے ہیں سب خودی سے ہیں
اور لوگوں سے کچھ گلا ہی نہیں

0
27
جو یہاں ایک بار ہوتا ہے
پھر وہی بار بار ہوتا ہے
دریا گرتے ہیں سب سمندر میں
کیا سمندر کبھی بھی بھرتا ہے
خشک ہوتا ہے ایک دریا جب
ایک دریا وہیں ابھرتا ہے

0
15
کب اٹھوں گا میں آسماں کی طرف
اب تو گہرائیوں کو چھو بھی لیا

0
7
میں پرندے دیکھ کر مایوسیوں میں کھو گیا
کتنے یہ آزاد ہیں اور میں زمیں پر بوجھ ہوں

0
15
زندگی مایوسیوں کا نام ہو کر رہ گئی
کب سے اک خالی پڑا وہ جام ہو کر رہ گئی
پیٹ بھرنے کی تگ و دو وقت سارا لے گئی
زندگی کی صبح نکلے شام ہو کر رہ گئی
دوستوں سے کہہ تو دی فاقہ کشی کی داستاں
داستاں افلاس کی اب عام ہو کر رہ گئی

0
26
یہ زندگی کے کھیل میں کرنا پڑا مجھے
جینے سے پہلے بار ہا مرنا پڑا مجھے

0
8
جو ساتھ ہو کسی دن وہ جدا تو ہوتا ہے
جو پیار کرتا ہے وہ بھی خفا تو ہوتا ہے
بغیر وجہ کوئی چھوڑ کر نہیں جاتا
پتہ چلے نہ چلے کچھ ہوا تو ہوتا ہے
تم آزمانے کی غلطی کبھی نہیں کرنا
ہر ایک شخص میں اک بے وفا تو ہوتا ہے

0
18
جو مجھے معلوم تھا تاریکیوں میں کھو گیا
اُس طرف سب ہو گئے اور میں اکیلا ہو گیا
روشنی کم تھی وہاں اور ہر طرف تنہائی تھی
خامشی گہری ہوئی خود سے لپٹ کر سو گیا

0
11
میری پرچھائیوں سے ڈرتے ہیں
دوست جب پاس سے گذرتے ہیں

0
25
وقت باہر گذارتے ہیں لوگ
گھر کی خاموشیوں سے ڈرتے ہیں

0
12
مجھ پہ دیوانگی سی طاری ہے
دشت میں زندگی گذاری ہے
ان سے مل کر میں چوٹ کھاتا ہوں
آج کانٹوں سے میری یاری ہے
موت سے کوئی ڈر نہیں مجھ کو
گھات میں زندگی شکاری ہے

0
28
غم سے خوشیوں کے لمحے چھانتے ہیں
آؤ دکھ درد مل کے بانٹتے ہیں

0
20
یہ سر جھکا تھا کچھ ایسے بتا نہیں سکتا
یہ ہر کسی کے اب آگے جھکا نہیں سکتا
میں آج پہنچا ہوں ایسے مقام پر شاہد
کوئی بھی مجھ کو وہاں سے گرا نہیں سکتا

0
23
کچھ ایسے زخم تھے جو عمر بھر بھرنے نہ پائے تھے
مگر یہ زخم ایسے تھے جو دل پر خود لگائے تھے

0
28
مرا دل بھر بھری سی ریت کی تعمیر لگتا ہے
میں اس کو جوڑ کے رکھتا ہوں یہ پھر ٹوٹ جاتا ہے

0
17
ظلم کر کے وہ پھر خفا بھی ہوا
مار کر مجھ کو غمزدہ بھی ہوا

0
11
بسترِ مرگ پر یہ مجھ پہ کھلا
عمر بھر میں کبھی جیا ہی نہیں

0
8
جرم ایسا کیا سزا ہی نہیں
عمر بھر ساتھ پر وفا ہی نہیں
اس نے چپ کی مجھے سزا دی ہے
اب تو مجھ سے وہ بولتا ہی نہیں
مدتوں بعد اس کا خط آیا
صفحہ خالی ہے کچھ لکھا ہی نہیں

0
16
جب سے گیا یہ زندگی ساکت سی ہو گئی
مجھ کو اکیلے پن سے رفاقت سی ہو گئی

0
17
پکڑ کے ہاتھ جو چلنا تھا عمر بھر مجھ کو
وہ چند دن کی مسافت کے بعد چھوٹ گیا
تھا ساتھ دینے کا وعدہ ہر ایک موسم میں
وہ امتحان کی پہلی گھڑی میں ٹوٹ گیا
بلند و بانگ تھے دعوے کبھی محبت کے
اب آ کے بھانڈا محبت کا اس کی پھوٹ گیا

0
21
عمر گذری مری کتابوں میں
لوگ مجھ سے ملے حجابوں میں
میں تو بس سر جھکا کے چلتا رہا
نہ گناہوں میں نہ ثوابوں میں
رند ہو کے نہ کچھ ملا مجھ کو
نہ ہی بہکا کبھی شرابوں میں

0
30
مری ہواؤں کا رخ راستے میں موڑ دیا
میں شاہیں تھا مجھے کیوں کرگسوں میں چھوڑ دیا
میں مختلف تھا قبیلے کے اپنے لوگوں سے
سمجھ نہ پائے مجھے اور مجھ کو توڑ دیا
وہ ہمسفر تھا مرا پچھلے تیس سالوں سے
اب آ کے بھانڈا محبت کا اس نے پھوڑ دیا

0
24
مجھے تو تلخئ ایام کھا گئ ہوتی
خود فریبی کا سہارا جو نہ ملا ہوتا

0
22
اس کے ہونٹوں پہ نام تھا ہی نہیں
اس کے دل میں مقام تھا ہی نہیں
مجھ کو صیاد وہ سمجھتا تھا
وہ مرے زیرِ دام تھا ہی نہیں
مجھ پہ الزام بے وفائی کا
میں کبھی بے لگام تھا ہی نہیں

0
32
نہ قید کرتا ہے آزاد بھی نہیں کرتا
وہ اپنی روح میں آباد بھی نہیں کرتا
بھکاری بن کے میں اس کی گلی میں پھرتا ہوں
عجیب شخص ہے امداد بھی نہیں کرتا
وہ خلیہ خلیہ مجھے مارنے کا ماہر ہے
وہ ایک بار میں برباد بھی نہیں کرتا

0
19
وہ سمجھتا ہے میں خوش ہوں اسے کھو کر شاہد
یہ قہقہے تو مرا درد چھپانے کے لیے ہیں

0
7
جو چند آنسو ندامت کے تم بہا دیتے
تو میرا خوں بہا آخر وصول ہو جاتا

0
17
میں زمیں کی گرفت توڑ گیا
اس نے جب یہ کہا محبت ہے

0
11
دن جوانی کے ڈھل گیۓ آخر
ہم بھی کتنے بدل گیۓ آخر
ہم کو لڑنا تھا سورجوں سے ابھی
اک دیۓ سے پگھل گیۓ آخر

0
22
اک کڑا وقت ٹل گیا آخر
اب میں کتنا بدل گیا آخر
وہ سمجھتے تھے اب اٹھوں گا نہیں
گر کے پھر سے سنبھل گیا آخر
دکھ نے پتھر بنا دیا تھا مجھے
اک نظر سے پگھل گیا آخر

0
28
اس کو دیکھوں تو میرے سینے میں
درد و غم کی چبھن سی آتی ہے
اس سے کیسے کہوں کہ اب مجھ کو
اس کی صورت سے گھن سی آتی ہے

0
15
آؤ اس شہر سے نکلتے ہیں
لوگ لمحوں میں یاں بدلتے ہیں
بے حسی کی یہاں روایت ہے
مونگ سینے پہ میرے دلتے ہیں
سب خطا کار ہیں مگر پھر بھی
سنگ زنی کے لیے مچلتے ہیں

0
13
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں نہ ڈھونڈو خود کو
ان لکیروں میں حوادث کے سوا کچھ بھی نہیں

0
18
تم سے جو مراسم تھے وہ موہوم ہیں سارے
ملنے کے مواقع ابھی معدوم ہیں سارے
دل توڑنا چاہو تو ابھی شوق سے توڑو
اب تیرے ارادے مجھے معلوم ہیں سارے

0
24
کسی سنسان مسجد میں
کسی ویران مندر میں
سمندر کے کنارے پر
کسی صحرا کی وسعت میں
کسی جنگل کے سائے میں
کہیں تاریک غاروں میں

0
24
تو کیا میں اس محبت سے ہمیشہ دور ہی رہتا
اگر مجھ کو پتہ ہوتا محبت درد دیتی ہے

0
50
جتنا ہنسنا تھا بس اتنا ہنس لیا
زندگی نے اب مجھے تو ڈس لیا
کیسے نکلوں گا میں اس دلدل سے اب
جتنا پھنسنا تھا اب اتنا پھنس لیا

0
8
حال پر میرے مسکرائے بھی
آنکھ میں آنسو جھلملائے بھی
یہاں رشتے عجیب ہوتے ہیں
دھوپ دیتے ہیں اور سائے بھی
مجھ سے دھوکے کیے ہیں لوگوں نے
ان میں اپنے بھی ہیں پرائے بھی

0
38
یہاں رشتے عجیب ہیں شاہد
دھوپ دیتے ہیں اور سائے بھی

0
23
جنہیں پتا نہیں وہ کس طرف سے آئے تھے
انہیں خبر نہیں وہ کس طرف چلے ہیں ابھی

0
13
میں اک ہجوم سے بچ کر نکل گیا شاہد
پر اپنے آپ سے خود کو بچا نہیں پایا

0
14
جن دوستوں پہ جان یہ واری تھی میں نے آج
مجھ پر وہ پاؤں رکھ کے بس آگے گذر گئے

0
14
جو تم نے باغ لگایا تھا سب ہرا ہے آج
بس ایک پیڑ ذرا کھوکھلا ہے اندر سے

0
29
ایک ان دیکھی سی دیوار ہے حائل کب سے
روز ملتے ہیں ملاقات نہیں ہوتی ہے

0
15
میری دعاؤں پہ اب تک ثمر نہیں آیا
میری زمین میں اب تک وتر نہیں آیا
میرے خدا مجھے مانگے بنا تو کر دے عطا
مجھے دعا کا ابھی تک ہنر نہیں آیا

0
9
میں اب کچھ بھی نہیں کرتا
مگر مصروف رہتا ہوں

0
10
جب کبھی مجھ پہ مشکلیں آئیں
اچھی قسمت نے میرا ساتھ دیا

0
12
ہم کواٹھنا ہے پستیوں سے ابھی
ہم ابھی تک کسی نشاں میں نہیں
چاند نکلے تو راستہ سوجھے
اب ستارے بھی آسماں میں نہیں

0
20
دکھ کے آنے کے راستے ہیں بہت
لوٹ جانے کا راستہ ہی نہیں

0
16
میں سب کے سامنے خود کو رلا تو سکتا ہوں
میں سب کے سامنے خود کو ہنسا نہیں سکتا ہوں

0
24
تری تلاش میں صدیوں سے یہ بھٹکتے ہیں
تو ایک لمحہ بھی مجھ سے جدا نہیں ہوتا
یہ لوگ سجدوں کو ہی بندگی سمجھتے ہیں
یہ سر جھکے نہ جھکے تو خفا نہیں ہوتا
یہ گھڑ رہے ہیں فسانے مجھے ڈرانے کو
یہ کہہ رہے ہیں جو تو نے کہا نہیں ہوتا

0
28
مری زمیں کا تمہیں آسمان ہونا تھا
تمہارے گھر کا مجھے سائبان ہونا تھا
جو خواب تم نے دکھائے ابھی ادھورے ہیں
ابھی تو قسمتوں کو مہربان ہونا تھا
جو آندھیوں کی دشاؤں کو موڑ دیتی ہے
مرے وجود کی تم کو چٹان ہونا تھا

0
21
کوئی سپنا اب یہ دل بُنتا نہیں
میری باتیں اب کوئی سنتا نہیں
ٹوٹنا اب روز کا معمول ہے
اپنے ٹکڑوں کو میں اب چنتا نہیں

0
17
اس کے اور میرے درمیان میں اب
کتنا گہرا خلیج حائل ہے
دشمنوں سے گلہ نہیں شاہد
میرا ہمزاد میرا قاتل ہے

0
21
اس نے اچھا نہیں کیا شاہد
کون سا میں کوئی فرشتہ ہوں

0
19
وہ اپنے سر کو مرے سامنے جھکائے بھی
وہ چوٹ کھائے بھی لیکن وہ مسکرائے بھی
مری یہ آخری خواہش وہ گر قبول کرے
وہ ایک بار مجھے آ کے آزمائے بھی

0
14
وہ زندگی جو مجھ سے گذاری نہ جا سکی
میری اذیتوں کی وجہ بن گئی ہے وہ

10
میری تنہائی کے پاتال میں کوئی اترا ہی نہیں

0
20
موت ماضی کو مار دیتی ہے
___________________
موت سے کوئی ڈر نہیں شاہد
مجھ کو مرنے سے خوف آتا ہے

0
16
دل پر جو زخم تھا وہ دکھانا پڑا مجھے
اپنا مذاق خود ہی اڑانا پڑا مجھے
وہ کر نہیں رہا تھا وفا کا مری یقین
پھر بے وفا ہی بن کے دکھانا پڑا مجھے
خود کو تلاش کرنے میں صدیاں لگیں مجھے
جب مل گیا تو پھر سے گنوانا پڑا مجھے

0
40
نیلے پیلے ایک طائر کو یوں گھائل کر دیا
اس کے پر میں ایک گھاؤ ہے جو اب بھرتا نہیں
دل میں اک امید ہے چھوئے گا پھر یہ آسماں
بس یہی امید ہے طائر یہ اب مرتا نہیں
اے شکاری کیا ہوا حاصل تجھے اب تو بتا
کیا بگاڑا تھا بتا تو اس پرندے نے ترا

0
21
ہم کسی بات پر جھکے ہی نہیں
اس میں مجھ میں یہی تو خوبی ہے
فاصلہ بڑھ رہا ہے لمحوں میں
پیار کی ناؤ بیچ ڈوبی ہے

0
32
پہلے خود کو تباہ کر کے میں
غم کی پھر داستان لکھ لوں گا

0
26
سمت اس کی قطب شمالی ہے
مرے رخ پر قطب جنوبی ہے

0
20
مجھ پہ فاقہ کشی کا عالم ہے
وقت کتنا بڑا تو ظالم ہے
اجنبی تیرا کیا گلہ کرنا
میرا محرم ہی مجھ سے برہم ہے
اپنا موسم کبھی تو بدلے گا
کب سے بس بے رخی کا موسم ہے

0
26
میں چاہتا تو میں خود کو بدل بھی سکتا تھا
میں زمانے کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا
مرا یہ عزم کہ تیرا میں ہمسفر ہی رہوں
میں ہاتھ چھوڑ کے آگے نکل بھی سکتا تھا
مجھے جلانے میں تم نے کسر نہیں چھوڑی
میں سنگ ہو گیا ورنہ میں جل بھی سکتا تھا

0
32
میں چلا تھا خود کو ہی ڈھونڈنے
ہوں اب آئینوں میں گھرا ہوا
میں ہوں ایک عکس ہزار ہیں
یہ میں ہی ہوں یا کوئی اور ہے

0
12
حسن کو لا جواب ہونا تھا
کِھل کے اس کو گلاب ہونا تھا
آج گہنا گئے سبھی سورج
آج اسے بے نقاب ہونا تھا
وہ گرا کر گزر گیا مجھ سے
دوست کو کامیاب ہونا تھا

0
23
خزاں کا پھول ہوں میں آج بکھر جاؤں گا
پیار کی ایک نظر سے میں نکھر جاؤں گا
آندھیاں راہ میں ہیں آج پہنچتی ہوں گی
سوکھے پتوں کی طرح میں تو بکھر جاؤں گا
سرد راتیں ہیں مجھے خود سے جدا مت کرنا
تم سے بچھڑا جو اگر آج تو مر جاؤں گا

0
27
سنہرے دن تھے جب تو دوستوں کے جھنڈ ہوتے تھے
اندھیری رات ہے اب کوئی بھی اپنا نہیں لگتا

0
25
برا وقت اپنی قسمت میں مجھے لکھا نہیں لگتا
جو تالا زہن کا کھولا وہ اب تالا نہیں لگتا
سمندر کے کنارے بیٹھ کر موجوں سے ڈرتا تھا
میں اترا ہوں سمندر میں تو اب خطرا نہیں لگتا
محبت نے یوں نظریۂ اضافیت سمجھایا
وہ اک لمحا محبت کا مجھے لمحا نہیں لگتا

0
34
تعلق یاں پہ دو دھاری بہت ہے
یہاں لوگوں میں ہشیاری بہت ہے
یہاں اپنے گرانے کے ہیں درپے
وہاں دشمن کی تیاری بہت ہے
مری مٹی میں مرا خون ٹپکے
مرے خوں میں جاں نثاری بہت ہے

0
17
جنونِ عشق اب طاری بہت ہے
مگر اس کام میں خواری بہت ہے
ہیں آنسو خشک پر خونِ جگر تو
مری آنکھوں سے وہ جاری بہت ہے
اب کتنی بار دل ٹوٹے گا میرا
دل محبت کا پجاری بہت ہے

0
23
ہر ایک زخم کی اپنی زبان ہوتی ہے

0
28
میں نے چاند مانگا تھا اے خدا
تو نے سورجوں سے ملا دیا

110
اپنی قسمت میں کیوں یہ سفر ہو گئے
ہم تو گھر سے یونہی دربدر ہو گئے
ہم جن رستوں پہ چلتے رہے عمر بھر
وہ ہی رستے سبھی پر خطر ہو گئے
وہ شروع میں تو لکھتے تھے تفصیل سے
ان کے پیغام اب مختصر ہو گئے

0
23
میں جب پیدا ہوا اس دن سے میں یہ کام کرتا ہوں
میں اپنے آپ کو ہر کام میں ناکام کرتا ہوں
میں جاہل تھا تو میں اپنا ہنر نیلام کرتا تھا
مگر پڑھ لکھ کے اپنے آپ کو نیلام کرتا ہوں
مرے دشمن قصیدے لکھ رہے ہیں میری عظمت کے
یہ میں خود ہوں جو اپنے آپ کو بد نام کرتا ہوں

0
47
جس دن سے میں اناؤں کی نفرت میں بٹ گیا
قد میرا میری اپنی نظر میں ہی گھٹ گیا
میں نے جو راستہ چنا کچھ مختلف سا تھا
میں اپنے کاروان کے لوگوں سے کٹ گیا
خطبہ بھرا ہوا تھا کدورت سے اس قدر
مسجد کی سیڑھیوں سے میں واپس پلٹ گیا

3
69
ہم اپنے گھر کو کبھی چھوڑ ہی نہیں سکتے
جہاں بھی جاتے ہیں گھر ساتھ ساتھ رہتا ہے

0
20
بڑھاپا جسم کا ہر دن شکار کرتا ہے
وہ میری روح کو پھر تار تار کرتا ہے

0
15
گل بے رنگ فضا میں بھی نکھار نہیں
بہار آئی تو ہے بادِ نو بہار نہیں
میں دیکھتا تھا اسے تب یہ سانس چلتی تھی
عجیب وقت ہے اس کا بھی انتظار نہیں
میں کوئے یار کو جاؤں کہ سوئے دار چلوں
اب اپنے فیصلوں پر مجھ کو اختیار نہیں

0
23
ہم کو معلوم تھا کیا ایسے خدایا ہو گا
"کل جو اپنا تھا وہی آج پرایا ہو گا"
اب جو ٹوٹا ہوں کچھ ایسے کہ ہوں ریزہ ریزہ
اس نے نظروں سے مجھے آج گرایا ہو گا

0
15
مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے ڈر لگتا ہے
روند کر پاؤں تلے وقت نکل جاتا ہے
اے زمانے تری رفتار سے ڈر لگتا ہے
وہاں آسیب اتر آتا ہے جہاں پیار نہ ہو
ایسے گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے

0
47
اب عاشقی کے سارے فسانے بدل گئے
اپنے تمام یار پرانے بدل گئے
ایسی چلی یہ آندھی کہ کچھ بھی نہیں بچا
لگتا ہے چند دن میں زمانے بدل گئے
پہلے تو پنچھیوں سے عداوت تھی کچھ اسے
اس بار تو وبا کے نشانے بدل گئے

0
70
ہم تو زہنی غلام تھے شاہد
یہ غلامی میں چاند تک پہنچے

0
56
دن گذارا ہے اک سزا کر کے
خود سے بجھڑا ہوں میں وفا کر کے
یہ ہی ہونا تھا جو ہوا آخر
خود کو تجھ میں یوں مبتلا کر کے
میرے ذمے مری تباہی ہے
تجھ کو مانگا تھا بس دعا کر کے

0
28
دن گذارا ہے اک سزا کر کے
خود سے بجھڑا ہوں میں وفا کر کے

0
23
تتلیاں تو سب کا ہی
دل بہت لبھاتی ہیں
پر ہوا میں وہ اپنے
ایسے پھڑ پھڑاتی ہیں
گیت جیسے گاتی ہیں
ہر طرح کے رنگوں سے

0
32
یہ کہانی ہی زندگی کی ہے
جل کے خود ہم نے روشنی کی ہے
بھول بانٹے ہیں ہم نے لوگوں میں
اور کانٹوں سے دوستی کی ہے
خون کے گھونٹ پی لیے ہم نے
جب ستمگر نے بے رخی کی ہے

0
35
وہ مجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہے تب سے
میں اپنے آپ میں کھویا ہوں جب سے
مرا واقف یہاں کوئی نہیں ہے
بہت تنہا ہوا ترکِ نسب سے
مرے دشمن تو میرے سامنے تھے
کسی اپنے کا تیر آیا عقب سے

0
27
"حسین تھا حسین ہے
نبی کا نورِ عین ہے"
حسین ہی زمین ہے
حسین آسمان ہے
وہ دو جہاں کا بادشاہ
وہ کائنات کی وجہ

0
103
تمہارے سامنے جھک کر روایت عام کرتے ہیں
تمہارے حسن کا چرچا ہم صبح و شام کرتے ہیں
تمہیں پر دل نچھاور جان کا صدقہ تمہیں پر ہے
ہمارے پاس جو کچھ ہے تمہارے نام کرتے ہیں
تمہیں دیکھا نہیں تھا تو سفر تھا اپنے پاؤں میں
تمہیں دیکھا ہے جب سے خود کو زیرِ دام کرتے ہیں

0
30