| دو ٹوٹے پھوٹے لوگوں نے |
| ملتے ہی پہلا کام کیا |
| وہ شدت سے یوں ٹکرائے |
| کہ کرچی کرچی بکھر گئے |
| پھر عمر گزاری ساتھ مگر |
| وہ آج تلک نہ جُڑ پائے |
| بعد میں چاہیے نہیں کچھ بھی |
| یہ ضرورت نہیں رہے گی پھر |
| بعد میں سانس ٹوٹ جائے گی |
| وقت کی ریل چھوٹ جائے گی |
| بعد میں عمر بیت جائے گی |
| بعد میں موت جیت جائے گی |