Circle Image

Shahid Mahmood

@Baardo

مجھ کو تم نے زندگی اک غیر جانا ہر گھڑی
مجھ کو اب موقع ملا تجھ سے وفا کیسے کروں

0
اس سے مل کر خوشی کو بھول گیا
کب ہنسا تھا ہنسی کو بھول گیا
عشق تو ذات کی نفی ہی ہے
عشق کر کے میں خود کو بھول گیا
اس گلی میں گیا ہوں میں جب سے
اپنے گھر کو گلی کو بھول گیا

0
1
10
زندگی میں کچھ اب تو خاص نہیں
زندہ ہوں زندگی کی آس نہیں
میری جو زندگی کا محور تھا
اس سے بچھڑا ہوں پر اداس نہیں
میں کہ واقف تھا اس کی رگ رگ سے
اب تو اپنا بھی میں شناس نہیں

0
5
داغ دامن پر لگے ہیں ان کو دھو سکتا نہیں
درد دل میں ہے خوشی اس میں سمو سکتا نہیں
وقت اک دولت ہے یہ احساس اب مجھ کو ہوا
وقت جتنا میں نے کھویا اور کھو سکتا نہیں
بوجھ ماضی کا اٹھا کر پھر رہا ہوں پیٹھ پر
درد کا یہ بوجھ میں اب اور ڈھو سکتا نہیں

0
8
کئی راز دل میں چھپائے ہوئے ہیں
نہ دیکھو ہمیں ہم جلائے ہوئے ہیں
اب پتھر سے پکھراج ہونے کو ہیں ہم
کہ صدیوں سے ہم تو دبائے ہوئے ہیں
ہمیں کھل کے ہسنے دو اے دنیا والو
کہ برسوں کے ہم تو رلائے ہوئے ہیں

0
5
محبتوں میں کچھ ایسے سوال ہوتے ہیں
جواب جن کے ہمیشہ محال ہوتے ہیں
حسن اور عشق میں گہرا کوئی تعلق ہے
حسین چہرے محبت کے جال ہوتے ہیں
شروع کے سال گذرتے ہے جیسے دن کوئی
پھر اس کے بعد تو صدیوں کے سال ہوتے ہیں

0
11
چاند پر پاؤں اپنے رکھ آیا
سوچ صدیوں کی وہ الٹ آیا
یخ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی
شوق سے جا کے وہ لپٹ آیا
آدمی آدمی سے دور رہا
پاس جا کر یونہی پلٹ آیا

0
7
کان در پر لگائے رکھتے ہیں
خود کو شب بھر جگائے رکھتے ہیں
وہ نہ آئیں گے راہ میں پھر بھی
دیدہ و دل بچھائے رکھتے ہیں
کہیں جزبے نہ برف ہو جائیں
آگ دل میں لگائے رکھتے ہیں

7
پتی پتی کی طرح مجھ کو بکھرنا ہے ابھی
وقت کی سرحد سے آگے کو گزرنا ہے ابھی

0
2
سچ کی عادت مجھے ورثے میں ملی تھی شاہد
سچ کی لوگوں نے مجھے سخت سزائیں دی ہیں

0
2
شیخ جی مجھ کو نہ مانیں اس سے کیا
رند سارے شہر کے مانیں مجھے
اس شہر کے لوگ نہ جانیں تو کیا
شہر کی سب داسیاں جانیں مجھے

0
5
لگ رہا ہے زندگی میں کچھ علط ہونے کو ہے
شاہ کے فرمان پر اب دستخط ہونے کو ہے

4
دوست بن کر وہ ملا آگ لگانے والا
اس سے اچھا تو وہ دشمن تھا بجھانے والا
کیسا بہروپ تھا باہر سے نیا دکھتا تھا
مگر اندر جو چھپا تھا وہ پرانے والا
وقت پتھر کو بدل دیتا ہے رفتہ رفتہ
ایک مدت میں نہ بدلا وہ ستانے والا

0
7
تو بہت دور جا بسی ہم سے
کبھی تو پاس بھی تو آیا کر
نیند تو دیر تک نہیں آتی
دے کے لوری مجھے سلایا کر
جب میں رات آسمان کو دیکھوں
تو ستاروں سی جھلملایا کر

0
8
اس کے سانچے میں ڈھل نہیں پائے
سنگ تھے ہم بدل نہیں پائے
وہ جلاتا رہا ہمیں برسوں
ہم تو پتھر تھے جل نہیں پائے
لوگ مرتے تھے اک جھلک کے لیے
سامنے تھا مچل نہیں پائے

0
7
عشق جن کے دلوں میں بس جائے
سر پھرے رات جاگتے ہوں گے
صبح بادِ صبا کے کہنے پر
تیری گلیوں میں بھاگتے ہوں گے

0
3
میں تو سمجھا تھا عاجزی اس کی
پر ندامت سے جھک گیا تھا وہ

0
2
یہ کیوں سمجھتے ہو ڈوبا تو پھر نہ نکلوں گا
جہاں میں ڈوبوں گا میں پھر وہیں سے نکلوں گا

0
4
میں اور طرح کا میڈاس* ہوں کہ میں شاہد
میں جس کو چھو لوں وہ مٹی کا ڈھیر ہو جائے
(* King Midas and His Golden Touch)

0
5
وہ مجھ کو چھوڑ گیا اس کو خوف رہتا تھا
کہ اس سے پہلے کہیں اس کو چھوڑ میں جاؤں

0
2
کھیل سارا الٹ گیا ہے
پاس آ کر پلٹ گیا ہے
غم کی دلدل سے کیسے نکلوں
غم تو مجھ سے لپٹ گیا ہے
اس نے منتر پڑھا تھا کوئی
جادو ٹونہ الٹ گیا ہے

0
9
جن کا کوئی صنم نہیں ہوتا
دل میں ان کے الم نہیں ہوتا
خود کو جتنا بھی میں تباہ کروں
اس کو کوئی بھی غم نہیں ہوتا
میں اسے بھول جانا چاہتا ہوں
پیار اس سے ختم نہیں ہوتا

0
8
جب سے اس سے ہوا ہے پیار مجھے
خود سے اب چاہیے فرار مجھے
وعدہ خود سے تھا لوٹ آنے کا
خود کا کب سے ہے انتظار مجھے
آدھے رستے سے لوٹ جاتا ہوں
نہیں خود پر کچھ اختیار مجھے

0
6
غم کی دلدل سے کیسے نکلوں
غم تو مجھ سے لپٹ گیا ہے

0
2
بات لوگوں میں عام ہو جائے
کچھ تو میرا بھی نام ہو جائے
پیار سے وہ اگر نظر ڈالے
دل تو اس کا غلام ہو جائے
وہ تو لفظوں سے کاٹتا ہے مجھے
کاش وہ خوش کلام ہو جائے

0
10
ایسے حالات آج کل شاہد
کہیں جاؤں نہ میں پگھل شاہد
عمر گزری رہے وہی کے وہی
پوری دنیا گئی بدل شاہد
کامیابی کے گر مجھے معلوم
مجھ سے ہوتا نہیں عمل شاہد

0
7
دل کے رازوں کو بتانے میں بہت دیر لگی
پیار کے زخم بھلانے میں بہت دیر لگی
ماسک چہروں پہ چڑھے تھے نظر آتا کیسے
اصلی چہرا نظر آنے میں بہت دیر لگی
ہاتھ تھاما تھا کہ زہر پھیل گیا میرے اندر
اس سے پھر ہاتھ چھڑانے میں بہت دیر لگی

0
8
روز ہی خود کو میں گراتا ہوں
روز ہی خود کو میں اٹھاتا ہوں
روز ہی خود سے روٹھ جاتا ہوں
روز ہی خود کو میں مناتا ہوں
روز ہی خود کو کچھ سکھاتا ہوں
وہ سبق روز بھول جاتا ہوں

0
8
جو نہ کرنا تھا کر گیا ہوں میں
آج حد سے گذر گیا ہوں میں
مار کر اپنی میں اناؤں کو
اس کے قدموں میں گر گیا ہوں میں
آج ٹوٹا ہوں ایسی شدت سے
کرچی کرچی بکھر گیا ہوں میں

0
8
لب کھولنے سے پہلے ذرا یہ خیال ہو
ایسا نہ کچھ کہو کہ تمہں پھر ملال ہو
موقع ملا ہے اس کو گنواؤ نہ اس طرح
ایسا تم کر دکھاؤ کہ جو بے مثال ہو
پکڑو عزیز جاں سے بھی کردار کو سبھی
انگلی کوئی اٹھے نہ کوئی سوال ہو

4
20
میں اپنی اناؤں میں گرفتار بہت ہوں
کہتا تو نہیں پر میں شرم سار بہت ہوں
مصروف ہوں اتنا کہ میں خود سے نہیں ملتا
نطروں میں زمانے کی میں بیکار بہت ہوں
لگتا ہے زمانے کو میں درویش صفت ہوں
لیکن میں حقیقت میں گنہ گار بہت ہوں

0
7
زندگی سے مجھے شکایت ہے
سانس لینا یہاں اذیت ہے
شوق سے زندگی ختم کر لوں
خودکشی کی یہاں سہولت ہے

0
4
پیار کے بدلے جسے میں نے خدائی دی ہے
اسی ظالم نے مجھے آج جدائی دی ہے
پیار مجھ سے وہ وفادار عدو کا نکلا
مجھ کو تقدیر نے ہر چیز پرائی دی ہے
وہی آنکھیں وہی زلفیں وہی کاکل وہی ہونٹ
وہی تصویر پرانی سی دکھائی دی ہے

6
سامنے اس کے ہر اصول گیا
آنکھ ملتے ہی خود کو بھول گیا
اس کے ہاتھوں پہ خون تھا میرا
اس کی بانہوں میں پھر بھی جھول گیا
آگہی کے اندھیرے رستے ہیں
انہیں رستوں پہ ہر رسول گیا

0
7
عشق سب کو عطا نہیں ہوتا
ہر کوئی دل جلا نہیں ہوتا
راستے میں وہ مڑ گیا ایسے
یوں تو کوئی جدا نہیں ہوتا
اسے کیسے میں اب تلاش کروں
ریت پر نقشِ پا نہیں ہوتا

0
7
میں پستیوں میں گرا ہوں کمال دے مجھ کو
کہیں میں ڈوب نہ جاؤں اچھال دے مجھ کو

0
3
لوسٹوری
آغاز
وفا نبھانے میں اس نے کسر نہیں چھوڑی
محبتوں میں بہت بے مثال ہم بھی تھے
درمیان
تھکن سے چور تھا وہ بھی وفا کے رستے پر

0
6
آفت ایک اور آسمانی چاہیے
سیدھے رستے کی نشانی چاہیے
بستیاں برباد کرنے کے لیے
دریا کو تھوڑا اور پانی چاہیے
پیار غائب چند لمحوں میں ہوا
بس ذرا سی بدگمانی چاہیے

0
6
میں ہوں موجود یا ہوں بس گماں میں
میں زندہ ہوں کسی خوابِ رواں میں
مجھے اب ڈھونڈنا ہے ہوں کہاں میں
نشاں ملتا نہیں اب اس مکاں میں
میں مے خانے میں یا کوئے بتاں میں
یوں میری عمر گذری ہے زیاں میں

0
6
سحر ایسا ہے ایسی ہیں ہوائیں
بچھی ہیں راستے میں کہکشائیں
میں اب آزاد ہوں اپنی انا سے
میں بھولا ہوں وہ ماضی کی کتھائیں
خوشی اب روح میں جاگی ہے ایسی
زمانے سے اسے کیسے چھپائیں

0
6
دکھ کا قصہ سنایا جاتا ہے
بانٹ کر غم بھلایا جاتا ہے
زندہ جل کر ہی راکھ ہوتے ہیں
مر کے پھر کیوں جلایا جاتا ہے
قافلہ وقت پر نکلتا ہے
ہرکسی کو چلایا جاتا ہے

0
6
اپنے دل کی سنتا ہوں
میں تو اپنے جیسا ہوں
میرا اپنا رستہ ہے
میں تو خود میں دریا ہوں
اندر ہیں طوفان بہت
باہر سے سناٹا ہوں

0
5
لوگ وہ بدنصیب ہوتے ہیں
دوست جنکے رقیب ہوتے ہیں
شوق پیشے میں جنکے ڈھل جائے
لوگ وہ خوش نصیب ہوتے ہیں
خطائیں لوگوں کی جومعاف کریں
وہ خدا کے حبیب ہوتے ہیں

0
4
گریباں تار تار رہتا ہے
جسم تو بے حصار رہتا ہے
آ تو جاتا ہے میری محفل میں
دل پہ پھر بھی غبار رہتا ہے
میں اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا
اس کا مجھ پر ادھار رہتا ہے

0
6
دل ہتھیلی پہ تھا یار تھا سامنے
دل کو ٹھکرا دیا شوخ اندام نے
کچھ نہ بولا زباں سے چپک سا گیا
لفظ اٹکا دیا دلِ ناکام نے
کم نسب تھا زمانے کی دھتکار تھی
اس پہ رسوا کیا انکی دشنام نے

0
9
اک حسینا ملی بات ہی بات میں
اچھا خاصا تھا مجنوں لقب ہو گیا
راستہ تھا کٹھن ساتھ ہی ساتھ میں
چند لمحوں میں پہنچے عجب ہو گیا
میرے پہلو میں تھے ہاتھ تھا ہاتھ میں
ان کے آنے سے جشنِ طرب ہو گیا

0
5
میری آنکھوں میں خواب رہنے دے
آگہی کے عذاب رہنے دے
جانے والے تو اپنے ہونٹوں پر
کچھ ادھورے جواب رہنے دے
اپنی ناکامیاں مجھے دے کر
خود کو تو کامیاب رہنے دے

0
5
چلو کہ شام ہو گئی
چلو کہ وقت کم بچا
مسافتیں طویل ہیں
منزلوں کی اب تلک
ہم کو کچھ خبر نہیں!
چلے تھے ہم یہ سیکھ کر

0
4
37
نہ ہوئی پیروی روایت کی
میں نے اس دور میں بغاوت کی
میں نے سچ بولنے کی جرأت کی
مجھ کو تھی آرزو شہادت کی
اپنا حق چھیننا ہے اب مجھ کو
اب گھڑی آ گئی قیامت کی

0
4
وہ اک کمزور لمحہ تھا
میرے اندر کا حیواں
شیطان کے قبضے میں آیا تھا
اور اب
ضمیر کی سُولی پہ لٹکا ہوں
میرا انصاف کر دو

0
9
چند دن کی بس آشنائی تھی
پھر مسلسل شبِ جدائی تھی
میں نے سب کچھ لٹا دیا اس پر
جتنی بھی میری سب کمائی تھی
میں نے جاں پیش کی ہتھیلی پر
بدلے میں اس نے بے وفائی تھی

0
8
کھڑا تھا کب سے زمیں ہاتھ میں اٹھائے ہوئے
میں گر گیا ہوں کوئی آ کے اب اٹھائے ہوئے

0
4
ممکن نہیں کہ آج کوئی چشم تر نہ ہو
لگتا ہے جیسے راہ میں کوئی شجر نہ ہو
بچھڑا تو پھر پتا چلا کیا کھو گیا میرا
دل تو ہو جسم میں مگر اس میں جگر نہ ہو

0
72
گھر سے دنیا بدلنے نکلا تھا
خود کو اب تک بدل نہیں پایا

0
5
نہ کوئی گھر ہے میرا
اور نہ ٹھکانہ کوئی ۔ ۔ ۔
خزاں میں شاخ سے پتا کوئی بچھڑ جائے
اور گرم ہوا کے بگولے میں پھنس کے اڑ جائے
اسے ہوا لیئے پھرتی ہے دربدر یونہی
نہ انتظار کسی کو

0
5
چند آنسو سنبھال رکھے ہیں
اور رنج و ملال رکھے ہیں
محتسب آ تجھے دکھاؤں میں
میں نے بس درد پال رکھے ہیں
زندگی نے چھپا کے دامن میں
کیسے کیسے زوال رکھے ہیں

0
8
مرے عدو سے کبھی آشنائی مت کرنا
تم اب کی بار کوئی بے وفائی مت کرنا
دیا ہے تم کو اگر اختیار سانسوں پر
ذرا خیال سے، مجھ پر خدائی مت کرنا
نجانے کب ہی بچھڑ جاؤں یا بھٹک جاؤں
مرے لیئے کبھی نوحہ سرائی مت کرنا

0
7
اس جہاں میں ملول آئے ہیں
اپنے حصے ببول آئے ہیں
ہم کہ منصور ہیں زمانے کے
ہم صلیبوں پہ جھول آئے ہیں
جن صلیبوں پہ خون تھا میرا
ان صلیبوں پہ پھول آئے ہیں

0
16