Circle Image

Dr. Shahid Mahmood

@Baardo

میں شاعر تو نہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔

میری دعاؤں پہ اب تک ثمر نہیں آیا
میری زمین میں اب تک وتر نہیں آیا
میرے خدا مجھے مانگے بنا تو کر دے عطا
مجھے دعا کا ابھی تک ہنر نہیں آیا

0
2
میں اب کچھ بھی نہیں کرتا
مگر مصروف رہتا ہوں

0
1
جب کبھی مجھ پہ مشکلیں آئیں
اچھی قسمت نے میرا ساتھ دیا

0
2
ہم کواٹھنا ہے پستیوں سے ابھی
ہم ابھی تک کسی نشاں میں نہیں
چاند نکلے تو راستہ سوجھے
اب ستارے بھی آسماں میں نہیں

0
6
دکھ کے آنے کے راستے ہیں بہت
لوٹ جانے کا راستہ ہی نہیں

0
6
میں سب کے سامنے خود کو رلا تو سکتا ہوں
میں سب کے سامنے خود کو ہنسا نہیں سکتا ہوں

0
7
تری تلاش میں صدیوں سے یہ بھٹکتے ہیں
تو ایک لمحہ بھی مجھ سے جدا نہیں ہوتا
یہ لوگ سجدوں کو ہی بندگی سمجھتے ہیں
یہ سر جھکے نہ جھکے تو خفا نہیں ہوتا
یہ گھڑ رہے ہیں فسانے مجھے ڈرانے کو
یہ کہہ رہے ہیں جو تو نے کہا نہیں ہوتا

0
10
مری زمیں کا تمہیں آسمان ہونا تھا
تمہارے گھر کا مجھے سائبان ہونا تھا
جو خواب تم نے دکھائے ابھی ادھورے ہیں
ابھی تو قسمتوں کو مہربان ہونا تھا
جو آندھیوں کی دشاؤں کو موڑ دیتی ہے
مرے وجود کی تم کو چٹان ہونا تھا

0
4
کوئی سپنا اب یہ دل بُنتا نہیں
میری باتیں اب کوئی سنتا نہیں
ٹوٹنا اب روز کا معمول ہے
اپنے ٹکڑوں کو میں اب چنتا نہیں

0
3
اس کے اور میرے درمیان میں اب
کتنا گہرا خلیج حائل ہے
دشمنوں سے گلہ نہیں شاہد
میرا ہمزاد میرا قاتل ہے

0
5
اس نے اچھا نہیں کیا شاہد
کون سا میں کوئی فرشتہ ہوں

0
5
وہ اپنے سر کو مرے سامنے جھکائے بھی
وہ چوٹ کھائے بھی لیکن وہ مسکرائے بھی
مری یہ آخری خواہش وہ گر قبول کرے
وہ ایک بار مجھے آ کے آزمائے بھی

0
6
مجھ سے دھوکے کیے ہیں لوگوں نے
ان میں اپنے بھی ہیں پرائے بھی
ان سے رشتہ رکھوں میں اب کیسے
ان پہ اب اعتبار آئے بھی
اپنی عادت عجیب تھی شاہدؔ
زخم کھائے بھی مسکرائے بھی

0
4
وہ زندگی جو مجھ سے گذاری نہ جا سکی
میری اذیتوں کی وجہ بن گئی ہے وہ

0
5
میری تنہائی کے پاتال میں کوئی اترا ہی نہیں

0
5
موت ماضی کو مار دیتی ہے
___________________
موت سے کوئی ڈر نہیں شاہد
مجھ کو مرنے سے خوف آتا ہے

0
8
دل پر جو زخم تھا وہ دکھانا پڑا مجھے
اپنا مذاق خود ہی اڑانا پڑا مجھے
وہ کر نہیں رہا تھا وفا کا مری یقین
پھر بے وفا ہی بن کے دکھانا پڑا مجھے
خود کو تلاش کرنے میں صدیاں لگیں مجھے
جب مل گیا تو پھر سے گنوانا پڑا مجھے

0
14
نیلے پیلے ایک طائر کو یوں گھائل کر دیا
اس کے پر میں ایک گھاؤ ہے جو اب بھرتا نہیں
دل میں اک امید ہے چھوئے گا پھر یہ آسماں
بس یہی امید ہے طائر یہ اب مرتا نہیں
اے شکاری کیا ہوا حاصل تجھے اب تو بتا
کیا بگاڑا تھا بتا تو اس پرندے نے ترا

0
9
ہم کسی بات پر جھکے ہی نہیں
اس میں مجھ میں یہی تو خوبی ہے
فاصلہ بڑھ رہا ہے لمحوں میں
پیار کی ناؤ بیچ ڈوبی ہے

0
6
پہلے خود کو تباہ کر کے میں
غم کی پھر داستان لکھ لوں گا

0
6
سمت اس کی قطب شمالی ہے
مرے رخ پر قطب جنوبی ہے

0
5
مجھ پہ فاقہ کشی کا عالم ہے
وقت کتنا بڑا تو ظالم ہے
اجنبی تیرا کیا گلہ کرنا
میرا محرم ہی مجھ سے برہم ہے
اپنا موسم کبھی تو بدلے گا
کب سے بس بے رخی کا موسم ہے

0
15
میں چاہتا تو میں خود کو بدل بھی سکتا تھا
میں زمانے کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا
مرا یہ عزم کہ تیرا میں ہمسفر ہی رہوں
میں ہاتھ چھوڑ کے آگے نکل بھی سکتا تھا
مجھے جلانے میں تم نے کسر نہیں چھوڑی
میں سنگ ہو گیا ورنہ میں جل بھی سکتا تھا

0
9
میں چلا تھا خود کو ہی ڈھونڈنے
ہوں اب آئینوں میں گھرا ہوا
میں ہوں ایک عکس ہزار ہیں
یہ میں ہی ہوں یا کوئی اور ہے

0
5
حسن کو لا جواب ہونا تھا
کِھل کے اس کو گلاب ہونا تھا
آج گہنا گئے سبھی سورج
آج اسے بے نقاب ہونا تھا
وہ گرا کر گزر گیا مجھ سے
دوست کو کامیاب ہونا تھا

0
8
خزاں کا پھول ہوں میں آج بکھر جاؤں گا
پیار کی ایک نظر سے میں نکھر جاؤں گا
آندھیاں راہ میں ہیں آج پہنچتی ہوں گی
سوکھے پتوں کی طرح میں تو بکھر جاؤں گا
سرد راتیں ہیں مجھے خود سے جدا مت کرنا
تم سے بچھڑا جو اگر آج تو مر جاؤں گا

0
11
سنہرے دن تھے جب تو دوستوں کے جھنڈ ہوتے تھے
اندھیری رات ہے اب کوئی بھی اپنا نہیں لگتا

0
11
برا وقت اپنی قسمت میں مجھے لکھا نہیں لگتا
جو تالا زہن کا کھولا وہ اب تالا نہیں لگتا
سمندر کے کنارے بیٹھ کر موجوں سے ڈرتا تھا
میں اترا ہوں سمندر میں تو اب خطرا نہیں لگتا
محبت نے یوں نظریۂ اضافیت سمجھایا
وہ اک لمحا محبت کا مجھے لمحا نہیں لگتا

0
17
تعلق یاں پہ دو دھاری بہت ہے
یہاں لوگوں میں ہشیاری بہت ہے
یہاں اپنے گرانے کے ہیں درپے
وہاں دشمن کی تیاری بہت ہے
مری مٹی میں مرا خون ٹپکے
مرے خوں میں جاں نثاری بہت ہے

0
10
جنونِ عشق اب طاری بہت ہے
مگر اس کام میں خواری بہت ہے
ہیں آنسو خشک پر خونِ جگر تو
مری آنکھوں سے وہ جاری بہت ہے
اب کتنی بار دل ٹوٹے گا میرا
دل محبت کا پجاری بہت ہے

0
13
ہر ایک زخم کی اپنی زبان ہوتی ہے

0
16
میں نے چاند مانگا تھا اے خدا
تو نے سورجوں سے ملا دیا

0
32
اپنی قسمت میں کیوں یہ سفر ہو گئے
ہم تو گھر سے یونہی دربدر ہو گئے
ہم جن رستوں پہ چلتے رہے عمر بھر
وہ ہی رستے سبھی پر خطر ہو گئے
وہ شروع میں تو لکھتے تھے تفصیل سے
ان کے پیغام اب مختصر ہو گئے

0
15
میں جب پیدا ہوا اس دن سے میں آرام کرتا ہوں
میں اپنے آپ کو ہر کام میں ناکام کرتا ہوں
میں جاہل تھا تو میں اپنا ہنر نیلام کرتا تھا
مگر پڑھ لکھ کے اپنے آپ کو نیلام کرتا ہوں
مرے دشمن قصیدے لکھ رہے ہیں میری عظمت کے
یہ میں خود ہوں جو اپنے آپ کو بد نام کرتا ہوں

0
13
جس دن سے میں اناؤں کی نفرت میں بٹ گیا
قد میرا میری اپنی نظر میں ہی گھٹ گیا
میں نے جو راستہ چنا کچھ مختلف سا تھا
میں اپنے کاروان کے لوگوں سے کٹ گیا
خطبہ بھرا ہوا تھا کدورت سے اس قدر
مسجد کی سیڑھیوں سے میں واپس پلٹ گیا

3
20
ہم اپنے گھر کو کبھی چھوڑ ہی نہیں سکتے
جہاں بھی جاتے ہیں گھر ساتھ ساتھ رہتا ہے

0
11
بڑھاپا جسم کا ہر دن شکار کرتا ہے
وہ میری روح کو پھر تار تار کرتا ہے

0
7
گل بے رنگ فضا میں بھی نکھار نہیں
بہار آئی تو ہے بادِ نو بہار نہیں
میں دیکھتا تھا اسے تب یہ سانس چلتی تھی
عجیب وقت ہے اس کا بھی انتظار نہیں
میں کوئے یار کو جاؤں کہ سوئے دار چلوں
اب اپنے فیصلوں پر مجھ کو اختیار نہیں

0
11
ہم کو معلوم تھا کیا ایسے خدایا ہو گا
"کل جو اپنا تھا وہی آج پرایا ہو گا"
اب جو ٹوٹا ہوں کچھ ایسے کہ ہوں ریزہ ریزہ
اس نے نظروں سے مجھے آج گرایا ہو گا

0
8
مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے ڈر لگتا ہے
روند کر پاؤں تلے وقت نکل جاتا ہے
اے زمانے تری رفتار سے ڈر لگتا ہے
وہاں آسیب اتر آتا ہے جہاں پیار نہ ہو
ایسے گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے

0
28
اب عاشقی کے سارے فسانے بدل گئے
اپنے تمام یار پرانے بدل گئے
ایسی چلی یہ آندھی کہ کچھ بھی نہیں بچا
لگتا ہے چند دن میں زمانے بدل گئے
پہلے تو پنچھیوں سے عداوت تھی کچھ اسے
اس بار تو وبا کے نشانے بدل گئے

0
21
ہم تو زہنی غلام تھے شاہد
یہ غلامی میں چاند تک پہنچے

0
17
دن گذارا ہے اک سزا کر کے
خود سے بجھڑا ہوں میں وفا کر کے
یہ ہی ہونا تھا جو ہوا آخر
خود کو تجھ میں یوں مبتلا کر کے
میرے ذمے مری تباہی ہے
تجھ کو مانگا تھا بس دعا کر کے

0
12
دن گذارا ہے اک سزا کر کے
خود سے بجھڑا ہوں میں وفا کر کے

0
10
تتلیاں تو سب کا ہی
دل بہت لبھاتی ہیں
پر ہوا میں وہ اپنے
ایسے پھڑ پھڑاتی ہیں
گیت جیسے گاتی ہیں
ہر طرح کے رنگوں سے

0
15
یہ کہانی ہی زندگی کی ہے
جل کے خود ہم نے روشنی کی ہے
بھول بانٹے ہیں ہم نے لوگوں میں
اور کانٹوں سے دوستی کی ہے
خون کے گھونٹ پی لیے ہم نے
جب ستمگر نے بے رخی کی ہے

0
13
وہ مجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہے تب سے
میں اپنے آپ میں کھویا ہوں جب سے
مرا واقف یہاں کوئی نہیں ہے
بہت تنہا ہوا ترکِ نسب سے
مرے دشمن تو میرے سامنے تھے
کسی اپنے کا تیر آیا عقب سے

0
20
"حسین تھا حسین ہے
نبی کا نورِ عین ہے"
حسین ہی زمین ہے
حسین آسمان ہے
وہ دو جہاں کا بادشاہ
وہ کائنات کی وجہ

0
59
تمہارے سامنے جھک کر روایت عام کرتے ہیں
تمہارے حسن کا چرچا ہم صبح و شام کرتے ہیں
تمہیں پر دل نچھاور جان کا صدقہ تمہیں پر ہے
ہمارے پاس جو کچھ ہے تمہارے نام کرتے ہیں
تمہیں دیکھا نہیں تھا تو سفر تھا اپنے پاؤں میں
تمہیں دیکھا ہے جب سے خود کو زیرِ دام کرتے ہیں

0
11
طرز کافی یاں گفتگو کی ہیں
ان میں سب سے اہم اصول ہے یہ
جس بھی محفل میں لوگ جاہل ہوں
وہاں چپ گفتگو سے بہتر ہے

0
8
میرے ہاتھوں سے قتل ہونا تھا
بچ گیا وہ مری شرافت ہے
آج کوئی بھی غم گسار نہیں
دوستوں سے یہی شکایت ہے

0
7
میں اسے ڈھونڈتا رہا برسوں
میں سمجھتا تھا مجھ سے باہر تھا
وہ ملا تو کہاں ملا مجھ کو
میرا دشمن تو میرے اندر تھا

0
17
کس سفر پر نجانے نکلا تھا
ایسا بھٹکا ہوں یہ بھی بھول گیا
جانے کیوں میں سفر پہ نکلا تھا
اور منزل مری کہاں پر تھی
کب پہنچنا تھا کیوں پہنچنا تھا
کیا کوئی میرا منتظر تھا وہاں

0
24
ظلم دشمن نہ کر سکے جتنا
میری سوچوں نے کر دیا اتنا

0
10
اس نے پوچھا تھا وقت کیا ہو گا
اب گھڑی ساز ہو گیا ہے وہ

0
9
ہر ایک زخم یوں میں نے سنبھال رکھا ہے
ہر ایک زخم کوئی کوہ نور ہو جیسے

0
14
یہ ہاتھ دیکھ کے لگتا ہے کچھ تو رشتہ ہے
یہ لوگ پھر کیوں خود کو خدا سمجھتے ہیں

0
22
جستجو برگدوں کی تھی شاہد
کیکروں میں الجھ گیا کیسے

0
9
آج سمجھا ہوں ابنِ آدم کو
ابنِ آدم کی کھال کے اندر
ایک حیوان چھپ کے بیٹھا ہے
جب تک اس کا مفاد ہے کوئی
وہ تو بس رام رام کرتا ہے
اپنے مقصد میں کامیابی پر

0
21
بھرا ہو جس کا کٹورا ہمیشہ پانی سے
وہ سیکھتا نہیں کچھ اپنی زندگانی سے
نہ بچ سکا یہاں فرعون تیری وقعت کیا
وفا کسی نے نہ پائی یاں عمرِ فانی سے

11
مجھے حیات کی جب تلخیاں بھلانی ہوں
بھڑوں کو ہاتھ سے اکثر میں چھیڑ دیتا ہوں

0
17
میں اگر رویا تو میرا راز پھر کھل جائے گا
میرے دل کا حال لوگوں کو پتا چل جائے گا
تم نہیں تو سورجوں نے بھی کنارا کر لیا
اس طرح تو رات دن کا اب تسلسل جائے گا
موم کے پر ہیں تمھارے آسماں چھونا نہیں
تھوڑا بادل ہٹ گیا تو پر وہیں گھل جائے گا

0
114
میں اور لوگوں کی طرح آج تک بدل نہ سکا
قدم ملا کے زمانے سے میں تو چل نہ سکا
وہ زخم زخم بھی صحرا عبور کر آئے
میں پہلے آبلے کے بعد آگے چل نہ سکا
وہ اور لوگ تھے جو دل جلا کے ہنستے رہے
شبِ وصال میں بھی میں ذرا بہل نہ سکا

0
13
مری جوانی کو اس موڑ سے بچھڑنا ہے
جو دن گزر گئے ہیں ان کو یاد کرنا ہے
تمام عمر میں دوڑا ہوں جیتنے کے لیے
ٹھہر کے مجھ کو اب سکھ کا سانس بھرنا ہے
تمام عمر کہیں پستیوں میں کھویا رہا
ان ذلتوں سے تو اب آج سے ابھرنا ہے

0
16
جو نہ ہونا تھا وہ کیسے ہو گیا
لگ گئی کس کی نجانے بد دعا
چار دن کا ساتھ تھا پھر ہم جدا
مٹ نہ پایا تھا ابھی رنگِ حنا
"میں" ہمارے بیچ کیسے آ گئی
کھا گئی رشتوں کو اپنی یہ انا

0
12
بیچ دیواریں تھیں ایسی کاٹتی تھیں رابطہ
جب سے دیواریں گریں اب بڑھ گیا ہے فاصلہ
جرس کی آواز سے کٹنے لگا ہے دل مرا
وہ ابھی آیا نہیں اور چل دیا ہے قافلہ
سوچتے ہو اس سے ان کا حق ادا ہو جائے گا
دے کے ان کو دال روٹی سر چھپانے کی جگہ

0
15
خود میں کیڑے بہت نکالتا ہوں
میں اپنی برائیاں اچھالتا ہوں
لوگ تعریف کر رہے ہیں مری
خود سے نفرت میں دل میں پالتا ہوں

0
8
دل درد سے بوجھل ہو تو میں سو نہیں سکتا
چپ چاپ میں رہتا ہوں کہ کچھ ہو نہیں سکتا
اب کوئی نہیں جو مری گہرائی میں اترے
لوگوں سے لپٹ کر میں کبھی رو نہیں سکتا

0
13
کچھ درد مرا درد جگانے کے لیے ہیں
کچھ درد مجھے اونچا اڑانے کے لیے ہیں

0
10
میں سوچ سوچ کے خود کو ہی کیوں نڈھال کروں
ابھی بھی وقت ہے خود کا میں کچھ خیال کروں
مجھے غلامی کی تعلیم سے نوازا گیا
میں کیا بڑا کروں کیسے میں اب کمال کروں
منافقت ریا نفرت کی یاں روایت ہے
روایت کون سی چھوڑوں کسے بحال کروں

0
26
مخالف سمت ہے میری ہمیشہ سے
طبیعت مختلف میری ہمیشہ سے
ترے معیار پر میں کیسے آؤں
علیحدہ سوچ ہے میری ہمیشہ سے

0
8
حوصلوں کو بلند رکھتی ہے
میری منزل مری نظر میں ہے
رت جگوں کے عذاب جھیلنے ہیں
میری کشتی ابھی بھنور میں ہے
ناخدا تھوڑا بس دھیان رہے
آج تیزی بڑی لہر میں ہے

0
9
مجھ پہ ہر دور میں عذاب آئے
اتنے آئے کہ بے حساب آئے
منزلیں مجھ سے ہر دفع روٹھیں
میں جہاں بھی گیا سراب آئے
اک نظر میں نے دیکھنا تھا اسے
جب بھی آئے تہِ نقاب آئے

0
19
دل میں تمھارے غم کو سمونے نہیں دیا
آنکھوں کو اپنی ٹوٹ کے رونے نہیں دیا
وہ ابتدائے عشق میں جو لذتیں ملیں
اس سرمایہ حیات کو کھونے نہیں دیا
وہ میرے ساتھ اور میں خود سے بھی ماورا
اس بے خودی نے اس کا بھی ہونے نہیں دیا

0
23
حصہ اول
وہ اک دن مجھ سے گھر پر ملنے آئی
مجھے آ کر خبر کچھ یوں سنائی
مجھے ہیرے کی انگوٹھی دکھائی
کہا اب اس سے آگے ہے جدائی
وہ کہتی تھی اسے میں بھول جاؤں

0
11
میں نے کیا کچھ کیا عداوت میں
میں نہ کچھ کر سکا محبت میں
وقت رخصت نہ کچھ میں کہہ پایا
آنکھیں بس جھک گئیں ندامت میں
اک مرا جسم تھا کہ لرزش میں
جانے کیا کہہ گیا شکایت میں

0
18
یہ کہانی ہر زندگی کی ہے
جل کے خود ہم نے روشنی کی ہے
بھول بانٹے ہیں ہم نے لوگوں میں
اور کانٹوں سے دوستی کی ہے
خون کے گھونٹ پی لیے ہم نے
جب ستمگر نے بے رخی کی ہے

0
12
منزلیں کرنی ہیں مجھ کو سرنگوں
اب سمایا سر میں ہے یہ ہی جنوں
اپنے ہونے کی نشانی خود کو دوں
کچھ نہ کرنے کی یہ عادت چاک دوں
ہے نصیبوں میں سفر تو اب چلوں
راہ میں ہوں جو بھی کانٹے ان کو میں

0
19
تمھاری راہ میں لاکھوں رکاوٹیں ہوں گی
کہیں تم اپنی رکاوٹ نہ خود ہی بن جانا

0
8
وہ جو آگ کا ہے دریا میں خوشی سے پار کرتا
وہ پلک سے گر اشارہ مجھے ایک بار کرتا
یہ فضائے بے یقینی یوں یقین میں بدلتی
وہ ذرا یقین رکھتا تو میں جاں نثار کرتا
مرے سامنے وہ آیا برسات کی جھڑی میں
مرے آنسوؤں کے موتی وہ کہاں شمار کرتا

0
22
کیوں سمجھتے ہو آسمانی ہوں
میں حقیقت میں ناگہانی ہوں
میری بس داستان اتنی ہے
میں کہانی میں اک کہانی ہوں
مجھ کو پتھر بنا دیا غم نے
اصل میں تو میں صرف پانی ہوں

0
18
دل میں جو ایک راز تھا تم کو نہ ہم بتا سکے
"قصہ غم سنے گا کون" تم کو نہ ہم سنا سکے
دردر سے ٹھوکریں لگیں رسوائیاں ہم نے سہیں
گہری تھی ہجر کی لکیر اس کو نہ ہم مٹا سکے
پر تو ہمارے کٹ گئے اڑنے کی یہ سزا ملی
زنداں کا در جب وا ہوا خود کو نہ ہم اڑا سکے

0
27
زمانے میں ہوں میں لیکن زمانے کا نہیں ہوں
میں ہوں اس جسم کے اندر مگر اس کا نہیں ہوں
یہاں موجود ہوں اس بات پر حیران ہوں میں
میں اک زندہ حقیقت ہوں فسانے کا نہیں ہوں
دکھوں کی آگ نے مجھ کو جلایا ہے ہمیشہ
سلگنے کا نہیں ہوں اب جلانے کا نہیں ہوں

0
12
اس سے ملا ہوں تب سے بڑی الجھنوں میں ہوں
وہ ساتھ تو ہے پھر بھی میں تنہائیوں میں ہوں
بھگدڑ مچی کچھ ایسی کہ وہ ہاتھ چھٹ گیا
ڈھونڈوں کہاں اسے کہ ابھی آندھیوں میں ہوں
گرگٹ نما وہ رنگ بدلتا ہے ہر گھڑی
میں اس کو جاننے کے ابھی مرحلوں میں ہوں

0
26
اب تو دشمن نظر نہیں آتا
وار سے اس کے کیسے بچ پاؤں
اب ہلاکت مری یقینی ہے
میرا دشمن جو خورد بینی ہے

0
11
پانچ دن میں نے بے گھری کر لی
باقی دو دن گداگری کر لی
کام یاں کچھ نہیں تھا کرنے کو
اس لیے میں نے شاعری کر لی
سب دیۓ تو ہوا میں رکھے تھے
دل جلا کے ہی روشنی کر لی

0
16
دوستوں سے بھی جب وفا نہ ملی
میں نے شاہد سے دوستی کر لی

0
8
کسی کو گھونٹ پلایا تو ہو گیا ممنون
کسی کو سارا سمندر قدر نہیں پھر بھی
جو چاند لا کے رکھا ان کے نرم ہاتھوں پر
کہا انہوں نے کہ یہ تو بدر نہیں پھر بھی
(بدر: چودھویں رات کا پورا چاند)

0
15
میں خوش ہوں اس لیے تو میرا پیار آج بھی ہے
مری ان آنکھوں میں وہ اک خمار آج بھی ہے
سدھر گئی مری ہستی میں جب ملا تم سے
مرے وجود میں تم سے سدھار آج بھی ہے
سنا ہے صورتیں من کی شبیہ ہوتی ہیں
تمہارے پیار کا مجھ پر نکھار آج بھی ہے

0
23
چلے بھی آؤ کہ دل بے قرار آج بھی ہے
ترے فراق کا دل میں غبار آج بھی ہے
تمہیں خیال ہے تم کو بھلا دیا میں نے
تمہارے پیار کا دل پر خمار آج بھی ہے

0
18
لوگ مجھ پہ ہنستے ہیں
مختلف ہوں ان سے میں
میں بھی ان پہ ہنستا ہوں
سب وہ ایک جیسے ہیں

0
8
میری میت پہ لوگ آئیں گے
چند آنسو بھی وہ بہائیں گے
زندہ ہوں کوئی پوچھتا ہی نہیں
پھول تربت پہ وہ بچھائیں گے
وہ زمیں پر کوئی فرشتہ تھا
لوگ لوگوں کو یہ بتائیں گے

0
29
دل نہیں لگتا اس جہان میں کیا
تم رہو گے اب آسمان میں کیا
اس پہ مایوسیوں کے سائے ہیں
کوئی رہتا ہے اب مکان میں کیا
میری کشتی تو ساحلوں پہ رہی
جھید تھا اس کے بادبان میں کیا

0
18
وہ کہاں ہے مجھے پتہ ہی نہیں
ایسے لگتا ہے وہ ملا ہی نہیں
جیسے دو اجنبی ملیں پل بھر
ایسے بچھڑے کہ اب گلہ ہی نہیں
وصل میں حادثے وہ گذرے ہیں
اب فراق کوئی حادثہ ہی نہیں

2
132
مرے نصیب کے کھاتے کو کیوں سیاہ کیا
یہاں میں تھا ہی نہیں میں نے کیا گناہ کیا
عمر گذر گئی بس دشمنی نبھاتے ہوئے
ملا تو کچھ بھی نہیں خود کو ہی تباہ کیا
مگن تھے لوگ یہاں کام میں مگر میں نے
کیا تو کچھ بھی نہیں عشق بے پناہ کیا

18
اب سمجھ میں آیا ہے
عمر رائیگاں کر کے
خود سے پوچھتا ہوں اب
جب وقت تھا سمجھنے کا
کیوں سمجھ نہیں آیا ؟
راستہ غلط تھا وہ

15
قدم جما کے زمیں میں رکھنا
نگاہ تم آسماں میں رکھنا
اٹھا کے بازو ہوا سے اوپر
پھر ہاتھ تم کہکشاں میں رکھنا

0
10
مرے جسم میں ہے کہیں خلا
یہ خلا مجھے تو نگل گیا
اسے بھر رہا ہوں میں رات دن
نہیں بھر رہا میں کروں گا کیا
جو میں شعر لکھ لوں اگر کبھی
تو خلا کی وسعتوں میں کہیں

0
25
مجھے دنیا نے جلایا کہ میں باغی ٹھہرا
تیرے اب آگ لگانے کی وجہ کیا معلوم

0
13
مجھے دنیا نے جلایا کوئی احساس نہ تھا
نظر انداز کرے وہ تو جلن ہوتی ہے
میری ہر راہ غلط تھی میں رکا پھر بھی نہیں
اب جو سوچوں تو مجھے اس سے تھکن ہوتی ہے
میرے اندر وہ تعفن ہے کہ شاہد اب تو
خود میں جھانکوں تو مجھے سخت گھٹن ہوتی ہے

0
7
مجھے انسان ہونے سے
ذرا آگے نکلنا ہے
مجھے کچھ اور بننا ہے

0
8
سب پرندے یوں صبح ہوتے ہی
گھونسلے چھوڑ چھوڑ جانے لگے
ان کو کس نے بتایا جانے کا
آسماں دن میں ان کو بھانے لگے

0
13
بس ایک زندگی وہ بھی گذر نہیں پاتی
ہمیشہ جینے کی پھر بھی حِرص نہیں جاتی
شکم یہ سیر ہے لیکن یہ ہاتھ کیسے رکیں
اس آنکھ میں ہے جو لیکن ہَوس نہیں جاتی

0
21
وہ میرا ہوتے ہوئے بھی کبھی مرا نہ ہوا
وہ میرے پیار کو اب تک سمجھ نہیں پایا
الجھ گیا تھا تعلق ابھی چلے ہی نہ تھے
عمر گذار دی اب تک سلجھ نہیں پایا

0
11
میں نے یہ زندگی سے سیکھا ہے
دکھ کا دریا میں پار کیسے کروں
اچھے وقتوں کے لوٹنے کا میں
عمر بھر انتظار کیسے کروں

0
33
وہ مسکرائی کچھ ایسے کہ سونے آنگن میں
ہزاروں قمقمے یک لخت جگ مگا اٹھے

0
15
اس نے رکھا ہے مجھے ایسی جگہ پر شاہد
ساری دنیا مرے سائے میں چھپی جاتی ہے

0
42
خوشی کی دوڑ میں گھائل ہوا ہوں میں اکثر
دکھ کی آغوش نے ہر بار سمیٹا ہے مجھے

0
52
خدا ملا مجھے لوگوں کے روپ میں ہر بار
مگر یہ لوگ خدا بن کے مل رہے ہیں مجھے

0
23
دل لگانے کی مسافر سے نہ عجلت کرنا
ہم نہ کہتے تھے کہ ہم سے نہ محبت کرنا
اب اڑے ہیں تو پلٹ کر کبھی آئیں شاید
ہم پرندوں کے مقدر میں ہے ہجرت کرنا
اُن پہاڑوں پہ ہیں جن پر ہیں بہاریں چھائیں
تم خزاؤں کی کبھی بھی نہ شکایت کرنا

0
146
اس نے مجھ سے کہا محبت ہے
میں نے اس سے کہا محبت ہے
اس کو معلوم تھا کہ سچ کیا ہے
مجھ کو معلوم تھا کہ جھوٹ ہے یہ
نہ اس نے سچ بولنے کی ہمت کی
نہ میں نے سچ بولنے کی جرأت کی

15
یہ جو سقراط کی کہاوت ہے
سب سے پہلے تلاش خود کو کرو
عمر گزری ہے ڈھونڈتے خود کو
خود کا کوئی نشاں ملا ہی نہیں
پوچھو سقراط سے بتا تو سہی
خود شناسی کہاں سے آتی ہے

0
11
دکھ تو دل میں بسے تھے بچپن سے
اس کی بچپن سے غم سے یاری تھی
خود کو برباد کر لیا میں نے
دل میں بسنے کی میری باری تھی

0
14
مار کر لوگ اپنے یاروں کو
ان کے پھر مقبرے بناتے ہیں

0
27
ہر طرح کا کمال تھا اس میں
حسن پر بے مثال تھا اس میں
اس سے مل کر لگا ملی منزل
پر زمانے کا چال تھا اس میں
وہ تو دلدل تھا میں پھنسا جس میں
اک شکاری کا جال تھا اس میں

0
18
جب مجھے زندگی سمجھ آئی
کوچ کے دن قریب تھے میرے

0
10
آج سلطان قید میں خود ہے
اب بھکاری بھلا کدھر جائیں

0
9
تمہیں مجھ سے شکایت ہے
کہ مجھ میں پیار کچھ کم ہے
لگن سچی سے ڈھونڈو گر
یہاں فرہاد بھی ہوں گے
نہ جانے کیوں سمجھتے ہو
تمہیں اک خوب صورت ہو

0
21
اس نے وہ خواب دکھائے تھے سہانے کتنے
اب مرے چار سو پھیلے ہیں ویرانے کتنے
مل کے لوٹا تھا ابھی پھر ہے اداسی چھائی
اس سے ملنے کے بناؤں گا بہانے کتنے
ایک زخم اور لگا جب بھی میں اس سے ملا
زخم بھرنے ہی نہ پائے تھے پرانے کتنے

0
19
مجھے تم سے محبت ہے
یہاں تک بات کافی ہے
کہیں میری نہ ہو جانا
تمہیں میں کھو نہیں سکتا

0
12
میرا کردار کہانی میں چلے تو پہلے
اس سے پہلے ہی نیا موڑ کہانی مانگے
اب تو خود کو بھی میں پہچان نہیں پاتا ہوں
آئینہ مجھ سے میری شکل پرانی مانگے
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں سفر ہے اتنا
ہر گھڑی مجھ سے وہ دریا کی روانی مانگے

15
میں اکیلا اور سارا شہر ہے اس کی طرف
دشمنِ جاں کیسے سمجھے گا میری تنہائیاں
دوستوں سے کیا گلا حالات اب ایسے ہوئے
بھاگنے مجھ سے لگی ہیں اب مری پرچھائیاں
صحبتِ یاراں ہوئی برہم کچھ ایسی آج کل
میکدے میں شام کو میں ہوں مری رسوائیاں

19
کبھی یہ اتنا پیچیدہ !!
کبھی یہ اتنا آساں ہے
کہ جیسے کہہ دیا اس نے
مجھے تم سے محبت ہے!

0
12
میری بس داستان اتنی ہے
بات اپنی ہی صرف مانی ہے
آج کا کام کل پہ ڈالا ہے
کل کی پرواہ ہی نہیں کی ہے
ہوا میں کیے کھڑے محل کتنے
ان کو بنیاد پھر نہیں دی ہے

21
بے وقوفوں کی ہمیں کوئی ضرورت ہی نہیں
ان کے سب کام سمجھدار کیے جاتے ہیں
میرے دشمن بھی نہ کر پائے تھے ایسا اب تک
آج کل جو مرے دل دار کیے جاتے ہیں

0
18
زندگی سے مجھ کو حاصل کچھ نہیں
زندگی جینے کے قابل کچھ نہیں
صبح سے بس شام تک آزردگی
دل مرا کرنے پہ مائل کچھ نہیں
زندگی تو روز کا معمول ہے
چل رہے ہیں اپنی منزل کچھ نہیں

0
30
وہ وہاں اور میں یہاں
بس ایک دروازہ کھلا
ہے ہمارے درمیاں

0
20
سردیوں کے موسم میں
برف جب بھی گرتی ہے
اور آندھی چلتی ہے
اکیلا بھیڑیا مرتا ہے
غول زندہ رہتا ہے
میں اکیلا بھیڑیا ہوں

0
7
روح پر خراشیں ہیں
وقت کے اریزر سے
مٹ نہیں رہیں مجھ سے
وقت کے گزرنے سے
گہری ہوتی جاتی ہیں

0
8
اس قافلے میں کوئی سکندر نہیں دیکھا
ہم خاک لڑیں گے کبھی لشکر نہیں دیکھا
جو تین سو تیرہ میں تھا جزبہءِ شہادت
تاریخ میں ایسا کہیں منظر نہیں دیکھا
دیکھے ہیں بہت شاہ و گداگر یہاں لیکن
انسان کو انساں کے برابر نہیں دیکھا

0
9
اس کا حصہ کبھی نہ بن پائے
ہم تو اس آشیاں کے تھے ہی نہیں
ہم یہاں تھے کہ خواب تھا شاہد
ہم تو جیسے یہاں کے تھے ہی نہیں

0
7
بزدلی ظلم کو جنم دے گی
ظلم خود سے روا نہیں ہوتا

0
7
ہم کو جوہڑ میں ہی نکھرنا تھا
پھول آبِ رواں کے تھے ہی نہیں

0
31
جانے کیوں کانچ کا بدن لے کر
بارشِ سنگ میں نکل آئے

0
52
یہاں دل سے جو بھی قریب ہے
وہی شخص مثلِ صلیب ہے
یہاں کوئی اس کا پتا نہ دے
یہاں ہر گلی میں رقیب ہے

0
7
مرے لہو کو وہ اک دن شراب کر دے گا
چبھے ہوئے ہیں جو کانٹے گلاب کر دے گا
اندھیرا ساتھ مرے گر گر کے پھر سنبھلتا ہوں
وہ سنگِ راہ کو ہی آفتاب کر دے گا
جو مجھ کو زخم لگے ان کا شمار کرنا ہے
ملے گا جب تو وہ ان کا حساب کر دے گا

0
21
محبتوں کے بن کر سفیر آتے ہیں
روایتوں کے ہوں جیسے اسیر آتے ہیں
جنابِ شیخ تو حوروں کے خواب دیکھتے ہیں
ہمیں تو خواب میں منکر نکیر آتے ہیں
گلاب بھیجتے ہیں روز اس طرف ہم ہی
مگر ادھر سے ہمیشہ ہی تیر آتے ہیں

0
18
آنسو چھپا کے رکھے تھے دنیا سے آج تک
اس بے وفا کی بزم میں ہم جا کے رو پڑے

0
9
وہ بھی بچھڑ گیا جسے پایا تھا خواب میں
آنکھیں کھلیں تو پھر سے تھیں ویرانیاں وہی
آسودگی کے خواب جو دیکھے تھے کھو گئے
منزل پہ آ کے پھر سے تھیں قربانیاں وہی
غالب نے یہ کہا تھا کہ غم سے نجات ہے
مر کر بھی سکھ نہ تھا تھیں پریشانیاں وہی

0
20
زندگی کو شمیم کیوں نہیں کرتے
تم خوشی کو ندیم کیوں نہیں کرتے
غم سے کیوں دوستی رچائی ہے
غم کو اپنا غنیم کیوں نہیں کرتے
چھوڑو ماضی میں جو ہوا سو ہوا
غم کو دو نیم کیوں نہیں کرتے

0
18
میں ایسے اک سفر پر ہوں
نہ منزل ہے نہ راہی ہے

0
13
میں کچھ بھی کرنہ پایا بس مجھے اس بات کا غم ہے
یہی اک سوچ ہے جس سے کہ میری آنکھ اب نم ہے
چلا تھا اس یقیں کے ساتھ میں قطبی ستارا ہوں
میں اب وہ خضر ہوں جس کا خود اپنا راستہ گم ہے

0
16
میری خوشی کی کوئی بھی وجہ نہیں شاہد
میں خوش ہوں اس لیے کہ آج مسکرایا ہوں

0
14
آج کی رات مجھ پہ بھاری ہے
آج یادوں کی ضرب کاری ہے
ہر قدم پر فریب کھائے ہیں
ہر قدم پر ہی جاں نثاری ہے
کل تو خوشیاں عزیز تھیں مجھ کو
آج میری غموں سے یاری ہے

0
12
امید کی آخری شمع بجھا دی
اس نے مری تصویر جلا دی
غیر کا اس نے ہاتھ پکڑ کر
مجھ کو مری اوقات بتا دی
مجھ پر پھر الزام لگا کر
اس نے مری اوقات گھٹا دی

0
11
مجھے وہ دیکھ کر پہچان ہی نہ پایا ہے
کہ خود کو توڑ کر میں نے نیا بنایا ہے

0
13
ارتقا کی اب آخری منزل
ابنِ آدم کا وقت ختم ہوا
اس سے آگے کی منزلوں کی طرف
ابنِ آدم تو جا نہیں سکتا
آدمیت کا اختتام ہے اب
ابنِ آدم نے ابنِ آدم کو

0
34
اپنی تباہیوں کے یوں آثار آ گئے
قصے ہمارے عشق کے بازار آ گئے
گل تو تمام بانٹ دیئے باغبان نے
حصے ہمارے خار ہی اس بار آ گئے
امید تھی کہ آج وہ بس پھول لائيں گے
وہ لے کے اپنے ہاتھ میں تلوار آ گئے

0
15
میں خود صیاد ہوں میں خود پرندہ
میں کیوں تقدیر پر آنسو بہاؤں ؟

0
8
کچھ درد فقط درد مٹانے کے لیے ہیں
کچھ درد فقط غم کو بھلانے کے لیے ہیں
اک درد کا احساس ہے لگتا ہے کہ میں ہوں
کچھ درد مجھے زندہ جلانے کے لیے ہیں
کچھ درد تو خود سے بھی چھپاتا ہوں ہمیشہ
کچھ درد زمانے کو دکھانے کے لیے ہیں

0
26
اک درد کا گھاؤ ہے وہ بھر کیوں نہیں جاتا
اک غم کا جزر ہے وہ اتر کیوں نہیں جاتا
اک خوف کے حالے نے مجھے گھیر رکھا ہے
ماضی میں ہوا اس کا اثر کیوں نہیں جاتا
ہر روز گرا گر کے سنبھالا ہے خودی کو
ٹوٹا ہوں کئی بار بکھر کیوں نہیں جاتا

0
16
تو خود ہے گم ، تو کیسے ، ملے گا خدا تجھے
سب کام چھوڑ چھاڑ کے ، خود کو تلاش کر

0
14
جب سے زندہ رہنے کا میں نے ارادہ کر لیا
بجلیوں نے مجھ پہ گرنے کا اعادہ کر لیا
جو نہ دشمن کر سکے وہ دوستوں نے کر دیا
دشمنوں نے دوستوں سے استفادہ کر لیا
میں نے اپنی زات کی گہرائیوں میں ڈوب کر
آگہی کی روشنی سے دل کشادہ کر لیا

0
27
بھوک پھیلی ہے ہر گلی شاہد
مانگنے والے اب کدھر جائیں
کام روبوٹ اب کریں گے یہاں
اب تو یہ ہے غریب مر جائیں

0
14
میرے مولا مری دہائی ہے
مجھ پہ الزامِ بے وفائی ہے
میں تو خود ہی خلاف ہوں اپنے
اور اس کی طرف خدائی ہے
ثالثو تم ہی پوچھ لو اس سے
اس نے اب آگ کیوں لگائی ہے

4
38
جہاں دھول اڑتی ہے آج کل
وہاں اپنے کچے مکان تھے

0
34
محبت جب جواں ہو تو
بہت منہ زور جزبہ ہے
بہت ہی ٹھار ہے اس میں
بہت سی نار ہے اس میں
یہ شاہوں سے الجھتی ہے
یہ طوفانوں سے لڑتی ہے

0
36
غم اس کا اپنی روح میں جَڑنا پڑا مجھے
اس کے معاملات میں پڑنا پڑا مجھے
مجھ کو لگا کہ اس کو خزاؤں سے پیار ہے
پھر یوں ہوا بہار میں جھڑنا پڑا مجھے
اس نے کہا کہ شعر تو بس ایلیا* کے ہیں
پھر جون* کی حسد میں اجڑنا پڑا مجھے

4
156
اپنے ہمزاد سے بچھڑا تھا جوانی میں یہیں
انہیں گلیوں میں مری روح بھٹکتی ہو گی
مجھ سے ملنا ہے تو آؤ میں ملاؤں خود سے
کسی کونے میں مری لاش لٹکتی ہو گی

0
26
میں اپنے حال میں خوش ہوں مجھے ماضی سے نفرت ہے
جو کچھ کھویا تھا میں نے اس پہ پچھتانہ نہیں آتا

0
27
یہ شہر زلتوں سے تو خالی کبھی نہ تھا
لیکن ہمارا نام یوں گالی کبھی نہ تھا

0
12
یہ دل عجیب ہے ہر پل بھنور میں رہتا ہے
کہیں ٹھہر نہیں سکتا سفر میں رہتا ہے

0
12
ان کو دیکھے اب ہمیں کتنے زمانے ہو گئے
پیار کے قصے ہمارے سب پرانے ہو گئے
ہاتھ تھامے جن پہ ہم چلتے تھے اب وہ راستے
پوچھتے ہیں کیا ہوا ہم کیوں دیوانے ہو گئے
مجھ کو زندہ دیکھ کر حیران ہیں میرے رقیب
سوچتے ہیں کیوں خطا ان کے نشانے ہو گئے

0
13
میرا احساس میرا قاتل ہے
کاش تھوڑی تو بے حسی ہوتی

10
اس زندگی کی دوڑ میں ہم راکھ ہو گئے
سونے کے تھے بنے ہوئے ہم خاک ہو گئے
پھر آندھیاں اڑا کے ہمیں لے گئیں وہاں
ہم مشتِ خاک رونقِ افلاک ہو گئے

0
15
آؤ کچھ غم مزید لیتے ہیں
تجربے کچھ شدید لیتے ہیں
درد ہی درد ہو بھرا جس میں
آؤ وہ دل خرید لیتے ہیں

0
11
جو بھی میں نے پڑھا وہ بھول گیا
بے محل ہے جو مجھ کو یاد رہا

0
15
موت کے سائے تلے اب ہے سفر میں زندگی
کیسا یہ عفریت ہے جس کے اثر میں زندگی
کوچہ و بازار خالی ، بستیاں ویران ہیں
دوست جس سے جا چکے ایسے شہر میں زندگی
کار زارِ زندگی مشکل تھا اب وہ بھی نہیں
مستقل بیٹھے ہوئے ہیں اپنے گھر میں زندگی

0
14
محبتیں ہوں تو قربانیاں تو ہوتی ہیں
خوشی کے ساتھ پریشانیاں تو ہوتی ہیں
راہ عشق میں لمحوں میں موڑ آتے ہیں
وفا کی راہ میں حیرانیاں تو ہوتی ہیں
بغیر عشق کے کب خواب پورے ہوتے ہیں
کہ عاشقوں میں جہاں بانیاں تو ہوتی ہیں

0
99
جو ساتھ چھوڑ دیں ان سے ملا نہیں کرتے
خاموش رہتے ہیں ان سے گلا نہیں کرتے
انہیں دعاؤں میں اپنی بسائے رکھتے ہیں
کبھی بھی ان کے لیے بد دعا نہیں کرتے
یہ اور بات کہ دل چاک چاک رہتا ہے
یہ زخم پیار کے پھر سے سلا نہیں کرتے

0
25
پیار کا دل مرا بھکاری ہے
پیار کی ہی اسے خماری ہے
پیار میں فیصلہ نہیں کرتا
یہ عدالت تو فوجداری ہے
روز اس کی گلی میں جاتا ہوں
جانے کیسی بے اختیاری ہے

0
17
اس کا مقصد تھا کیا کھوجتا رہ گیا
بات جو کہہ گیا سوچتا رہ گیا
مال جتنا تھا سب لوٹ کر لے گئے
میں تو لاشوں کو ہی ڈھانپتا رہ گیا
سب پجاری جھکے شاہ کے سامنے
مندروں میں تو بس دیوتا رہ گیا

0
35
بے حسی پیدا ہوئی میرے اٹھے ہاتھوں کے بیچ
فاصلہ میں اب رکھوں اپنی مناجاتوں کے بیچ
کچی آبادی یہ میری آفتوں میں گھر گئی
لمبا وقفہ چاہیے ہے اب کے برساتوں کے بیچ
میری قسمت میں اندھیرے اب تمنا دل میں ہے
دن نکل آئے کبھی اب درد کی راتوں کے بیچ

0
14
تمھارے بعد دلِ بے قرار کیا کرتے
کسے دکھاتے چشم اشکبار کیا کرتے
نئی رتوں میں بھی وہ پھول تھے پرانے ہی
بہارِ نو کا ہم اب انتظار کیا کرتے
اب اپنے پاس لٹانے کو کچھ بچا ہی نہیں
سو گھر کو لوٹ گئے سوئے دار کیا کرتے

0
17
دریچہ وا ذرا کر دو صدائیں بھیجی ہیں
ہوا کے دوش پہ میں نے دعائیں بھیجی ہیں
تمہیں پسند بہت بارشوں کا موسم ہے
اپنے حصے کی تم کو گھٹائیں بھیجی ہیں
تم آسمان کو چھو لو یہ میری خواہش ہے
تمھاری سمت میں میں نے ہوائیں بھیجی ہیں

0
17
ہاتھوں میں لے چراغ میں ڈھونڈوں نجیب سے
یہ وہ گہر ہے جو ملے شاید غریب سے
جس سے ملا لگا کہ ملا ہوں رقیب سے
چہرے مجھے تو سب کے لگے ہیں محیب سے
دکھتے بہت تھے خوبرو جب فاصلے پہ تھے
میک اپ کا تھا کمال دکھے جب قریب سے

0
23
قافلہ آ گیا سحابوں کا
آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا
صحبتِ یار جب ہوئی برہم
چھڑ گیا ذکر پھر شرابوں کا
جنگ مذہب کی تھی نجانے کیوں
مسئلہ اٹھ گیا حجابوں کا

0
1
29
مجھے منزلوں کی خبر نہ تھی
اسے راستوں کا پتہ نہ تھا
مجھے دشمنی کی ہوا نہ تھی
اسے دوستی کا پتہ نہ تھا
یونہی چل رہے تھے جدا جدا
پھر یوں ہوا کسی موڑ پر

0
25
اپنے عمل سے وہ مجھے حیران کر گیا
پل بھر میں اپنے خواب وہ قربان کر گیا
نکلا جلا کے پیار کی ساری نشانیاں
جاتے ہوئے یہ مجھ پہ وہ احسان کر گیا
وہ لوٹ کر کبھی بھی اب واپس نہ آۓ گا
وہ جاتے ہوئے گھر سے یہ اعلان کر گیا

0
15
"جب کوئی پیار سے بلائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا"
آنکھ میں خواب بھر کے یار کا
لڑ کھڑا کے پیار کے خمار سا
جب کوئی میرے گیت گائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا

0
70
انا سے خود کو چھڑاؤں کیسے
راز دل کا میں بتاؤں کیسے
اشک آنکھوں میں بھرے ہیں اتنے
پیار دنیا سے چھپاؤں کیسے
وہ تو رگ رگ میں مری بیٹھا ہے
اس کو اندر سے اٹھاؤں کیسے

0
13
ممکن نہیں کہ آج کوئی چشم تر نہ ہو
لگتا ہے جیسے راہ میں کوئی شجر نہ ہو
بچھڑا تو پھر پتا چلا کیا کھو گیا میرا
دل تو ہو جسم میں مگر اس میں جگر نہ ہو

3
203
توڑ کر پھر سے بنا لی جائے گی
زندگی نئے سانچے میں ڈھالی جائے گی
یہ خبر تو روز کا معمول ہے
کس کی پگڑی اب اچھالی جائے گی
چاٹ جائے گی وہ دیمک کی طرح
وہ ہوس جو دل میں پالی جائے گی

0
15
یہ رشتہ کیوں تم نبھا رہے ہو
یہ قرض ہے جو چکا رہے ہو
تمھاری نظریں یہ کہہ رہی ہیں
کہ مجھ سے تم کچھ چھپا رہے ہو
جو سچ ہے وہ آج کہہ دو مجھ سے
یوں بات کو کیوں گھما رہے ہو

0
10
جو باہر سے بہت ہی شنگ نکلا
وہ اندر سے بہت بے رنگ نکلا
بظاہر پھول اک پھینکا تھا اس نے
لگا سر پر تو میرے سنگ نکلا
دبا تھا درد جو سینے میں میرے
وہ نکلا تو زبانِ چنگ نکلا

0
18
میں کسی آسمانی آفت میں مارا جاؤں گا
یا دشمنوں کی عداوت میں مارا جاؤں گا
میں کچھ بھی کر لوں مگر چپ نہیں قبول مجھے
میں باغیوں سا بغاوت میں مارا جاؤں گا
کہیں کچھ ایسا بھی الزام سر پہ آئے گا
میں پانی پانی ندامت میں مارا جاؤں گا

32
سوچا ہے کہ بکنے کو میں بازار میں آؤں
دو چار حسینوں سے ملاقات تو ہو گی
یوسف نہ سہی مصر کے بازار میں بیچو
گر زلیخا نہ خریدے کوئی اوقات تو ہو گی
کوتوالیئے شہر کا آیا ہے بلاوا
چند روز سہی مفت مدارات تو ہو گی

0
9
مجھ کو معاشرے نے سدھرنے نہیں دیا
جو کرنا چاہتا تھا وہ کرنے نہیں دیا
مجھ کو ہر اک مقام پہ صدمہ نیا ملا
دل نے پھر اس مقام سے گذرنے نہیں دیا
ہر مرتبہ کرید کے پھر تازہ کر دیا
دل پر جو زخم تھا اسے بھرنے نہیں دیا

0
29
او ستم گر تجھے ہوا کیا ہے
مجھ سے اب جو ہوئی خطا کیا ہے
میں تو خاموش ہو گیا کب سے
اب نہ پوچھو کہ مدعا کیا ہے
اب تو تیری طلب نہیں مجھ کو
ظلم مجھ پر یہ اب روا کیا ہے

0
25
اب جو پھیلی ہے یہ وبا کیا ہے
ساری خلقت کو اب ہوا کیا ہے
یرغمال اس نے کر لیا سب کو
اس سے آگے کی اب سزا کیا ہے
دور رہنے میں اب بھلائی ہے
یہ بھلا ہے تو پھر برا کیا ہے

19
اب جو پھیلی ہے یہ وبا کیا ہے
ساری خلقت کو اب ہوا کیا ہے
یرغمال اس نے کر لیا سب کو
اس سے آگے کی اب سزا کیا ہے
دور رہنے میں اب بھلائی ہے
یہ بھلا ہے تو پھر برا کیا ہے

0
13