Circle Image

Dr. Shahid Mahmood

@Baardo

میں شاعر تو نہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کہاں ہے مجھے پتہ ہی نہیں
ایسے لگتا ہے وہ ملا ہی نہیں
جیسے دو اجنبی ملیں پل بھر
ایسے بچھڑے کہ اب گلہ ہی نہیں
وصل میں حادثے وہ گذرے ہیں
اب فراق کوئی حادثہ ہی نہیں

2
14
مرے نصیب کے کھاتے کو کیوں سیاہ کیا
یہاں میں تھا ہی نہیں میں نے کیا گناہ کیا
عمر گذر گئی بس دشمنی نبھاتے ہوئے
ملا تو کچھ بھی نہیں خود کو ہی تباہ کیا
مگن تھے لوگ یہاں کام میں مگر میں نے
کیا تو کچھ بھی نہیں عشق بے پناہ کیا

4
اب سمجھ میں آیا ہے
عمر رائیگاں کر کے
خود سے پوچھتا ہوں اب
جب وقت تھا سمجھنے کا
کیوں سمجھ نہیں آیا ؟
راستہ غلط تھا وہ

10
قدم جما کے زمیں میں رکھنا
نگاہ تم آسماں میں رکھنا
اٹھا کے بازو ہوا سے اوپر
پھر ہاتھ تم کہکشاں میں رکھنا

0
4
مرے جسم میں ہے کہیں خلا
یہ خلا مجھے تو نگل گیا
اسے بھر رہا ہوں میں رات دن
نہیں بھر رہا میں کروں گا کیا
جو میں شعر لکھ لوں اگر کبھی
تو خلا کی وسعتوں میں کہیں

0
12
مجھے دنیا نے جلایا کہ میں باغی ٹھہرا
تیرے اب آگ لگانے کی وجہ کیا معلوم

0
5
مجھے دنیا نے جلایا کوئی احساس نہ تھا
نظر انداز کرے وہ تو جلن ہوتی ہے
میری ہر راہ غلط تھی میں رکا پھر بھی نہیں
اب جو سوچوں تو مجھے اس سے تھکن ہوتی ہے
میرے اندر وہ تعفن ہے کہ شاہد اب تو
خود میں جھانکوں تو مجھے سخت گھٹن ہوتی ہے

0
3
مجھے انسان ہونے سے
ذرا آگے نکلنا ہے
مجھے کچھ اور بننا ہے

0
4
سب پرندے یوں صبح ہوتے ہی
گھونسلے چھوڑ چھوڑ جانے لگے
ان کو کس نے بتایا جانے کا
آسماں دن میں ان کو بھانے لگے

0
6
بس ایک زندگی وہ بھی گذر نہیں پاتی
ہمیشہ جینے کی پھر بھی حِرص نہیں جاتی
شکم یہ سیر ہے لیکن یہ ہاتھ کیسے رکیں
اس آنکھ میں ہے جو لیکن ہَوس نہیں جاتی

0
8
وہ میرا ہوتے ہوئے بھی کبھی مرا نہ ہوا
وہ میرے پیار کو اب تک سمجھ نہیں پایا
الجھ گیا تھا تعلق ابھی چلے ہی نہ تھے
عمر گذار دی اب تک سلجھ نہیں پایا

0
2
میں نے یہ زندگی سے سیکھا ہے
دکھ کا دریا میں پار کیسے کروں
اچھے وقتوں کے لوٹنے کا میں
عمر بھر انتظار کیسے کروں

0
8
وہ مسکرائی کچھ ایسے کہ سونے آنگن میں
ہزاروں قمقمے یک لخت جگ مگا اٹھے

0
8
اس نے رکھا ہے مجھے ایسی جگہ پر شاہد
ساری دنیا مرے سائے میں چھپی جاتی ہے

0
12
خوشی کی دوڑ میں گھائل ہوا ہوں میں اکثر
دکھ کی آغوش نے ہر بار سمیٹا ہے مجھے

0
8
خدا ملا مجھے لوگوں کے روپ میں ہر بار
مگر یہ لوگ خدا بن کے مل رہے ہیں مجھے

0
4
دل لگانے کی مسافر سے نہ عجلت کرنا
ہم نہ کہتے تھے کہ ہم سے نہ محبت کرنا
اب اڑے ہیں تو پلٹ کر کبھی آئیں شاید
ہم پرندوں کے مقدر میں ہے ہجرت کرنا
اُن پہاڑوں پہ ہیں جن پر ہیں بہاریں چھائیں
تم خزاؤں کی کبھی بھی نہ شکایت کرنا

0
113
اس نے مجھ سے کہا محبت ہے
میں نے اس سے کہا محبت ہے
اس کو معلوم تھا کہ سچ کیا ہے
مجھ کو معلوم تھا کہ جھوٹ ہے یہ
نہ اس نے سچ بولنے کی ہمت کی
نہ میں نے سچ بولنے کی جرأت کی

9
یہ جو سقراط کی کہاوت ہے
سب سے پہلے تلاش خود کو کرو
عمر گزری ہے ڈھونڈتے خود کو
خود کا کوئی نشاں ملا ہی نہیں
پوچھو سقراط سے بتا تو سہی
خود شناسی کہاں سے آتی ہے

0
5
دکھ تو دل میں بسے تھے بچپن سے
اس کی بچپن سے غم سے یاری تھی
خود کو برباد کر لیا میں نے
دل میں بسنے کی میری باری تھی

0
7
مار کر لوگ اپنے یاروں کو
ان کے پھر مقبرے بناتے ہیں

0
10
ہر طرح کا کمال تھا اس میں
حسن پر بے مثال تھا اس میں
اس سے مل کر لگا ملی منزل
پر زمانے کا چال تھا اس میں
وہ تو دلدل تھا میں پھنسا جس میں
اک شکاری کا جال تھا اس میں

0
14
جب مجھے زندگی سمجھ آئی
کوچ کے دن قریب تھے میرے

0
6
آج سلطان قید میں خود ہے
اب بھکاری بھلا کدھر جائیں

0
2
تمہیں مجھ سے شکایت ہے
کہ مجھ میں پیار کچھ کم ہے
لگن سچی سے ڈھونڈو گر
یہاں فرہاد بھی ہوں گے
نہ جانے کیوں سمجھتے ہو
تمہیں اک خوب صورت ہو

0
15
اس نے وہ خواب دکھائے تھے سہانے کتنے
اب مرے چار سو پھیلے ہیں ویرانے کتنے
مل کے لوٹا تھا ابھی پھر ہے اداسی چھائی
اس سے ملنے کے بناؤں گا بہانے کتنے
ایک زخم اور لگا جب بھی میں اس سے ملا
زخم بھرنے ہی نہ پائے تھے پرانے کتنے

0
9
مجھے تم سے محبت ہے
یہاں تک بات کافی ہے
کہیں میری نہ ہو جانا
تمہیں میں کھو نہیں سکتا

0
7
میرا کردار کہانی میں چلے تو پہلے
اس سے پہلے ہی نیا موڑ کہانی مانگے
اب تو خود کو بھی میں پہچان نہیں پاتا ہوں
آئینہ مجھ سے میری شکل پرانی مانگے
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں سفر ہے اتنا
ہر گھڑی مجھ سے وہ دریا کی روانی مانگے

11
میں اکیلا اور سارا شہر ہے اس کی طرف
دشمنِ جاں کیسے سمجھے گا میری تنہائیاں
دوستوں سے کیا گلا حالات اب ایسے ہوئے
بھاگنے مجھ سے لگی ہیں اب مری پرچھائیاں
صحبتِ یاراں ہوئی برہم کچھ ایسی آج کل
میکدے میں شام کو میں ہوں مری رسوائیاں

8
کبھی یہ اتنا پیچیدہ !!
کبھی یہ اتنا آساں ہے
کہ جیسے کہہ دیا اس نے
مجھے تم سے محبت ہے!

0
3
میری بس داستان اتنی ہے
بات اپنی ہی صرف مانی ہے
آج کا کام کل پہ ڈالا ہے
کل کی پرواہ ہی نہیں کی ہے
ہوا میں کیے کھڑے محل کتنے
ان کو بنیاد پھر نہیں دی ہے

14
بے وقوفوں کی ہمیں کوئی ضرورت ہی نہیں
ان کے سب کام سمجھدار کیے جاتے ہیں
میرے دشمن بھی نہ کر پائے تھے ایسا اب تک
آج کل جو مرے دل دار کیے جاتے ہیں

0
11
زندگی سے مجھ کو حاصل کچھ نہیں
زندگی جینے کے قابل کچھ نہیں
صبح سے بس شام تک آزردگی
دل مرا کرنے پہ مائل کچھ نہیں
زندگی تو روز کا معمول ہے
چل رہے ہیں اپنی منزل کچھ نہیں

0
9
وہ وہاں اور میں یہاں
بس ایک دروازہ کھلا
ہے ہمارے درمیاں

0
6
سردیوں کے موسم میں
برف جب بھی گرتی ہے
اور آندھی چلتی ہے
اکیلا بھیڑیا مرتا ہے
غول زندہ رہتا ہے
میں اکیلا بھیڑیا ہوں

0
1
روح پر خراشیں ہیں
وقت کے اریزر سے
مٹ نہیں رہیں مجھ سے
وقت کے گزرنے سے
گہری ہوتی جاتی ہیں

0
4
اس قافلے میں کوئی سکندر نہیں دیکھا
ہم خاک لڑیں گے کبھی لشکر نہیں دیکھا
جو تین سو تیرہ میں تھا جزبہءِ شہادت
تاریخ میں ایسا کہیں منظر نہیں دیکھا
دیکھے ہیں بہت شاہ و گداگر یہاں لیکن
انسان کو انساں کے برابر نہیں دیکھا

0
4
اس کا حصہ کبھی نہ بن پائے
ہم تو اس آشیاں کے تھے ہی نہیں
ہم یہاں تھے کہ خواب تھا شاہد
ہم تو جیسے یہاں کے تھے ہی نہیں

0
3
بزدلی ظلم کو جنم دے گی
ظلم خود سے روا نہیں ہوتا

0
2
ہم کو جوہڑ میں ہی نکھرنا تھا
پھول آبِ رواں کے تھے ہی نہیں

0
9
جانے کیوں کانچ کا بدن لے کر
بارشِ سنگ میں نکل آئے

0
3
یہاں دل سے جو بھی قریب ہے
وہی شخص مثلِ صلیب ہے
یہاں کوئی اس کا پتا نہ دے
یہاں ہر گلی میں رقیب ہے

0
4
مرے لہو کو وہ اک دن شراب کر دے گا
چبھے ہوئے ہیں جو کانٹے گلاب کر دے گا
اندھیرا ساتھ مرے گر گر کے پھر سنبھلتا ہوں
وہ سنگِ راہ کو ہی آفتاب کر دے گا
جو مجھ کو زخم لگے ان کا شمار کرنا ہے
ملے گا جب تو وہ ان کا حساب کر دے گا

0
5
محبتوں کے بن کر سفیر آتے ہیں
روایتوں کے ہوں جیسے اسیر آتے ہیں
جنابِ شیخ تو حوروں کے خواب دیکھتے ہیں
ہمیں تو خواب میں منکر نکیر آتے ہیں
گلاب بھیجتے ہیں روز اس طرف ہم ہی
مگر ادھر سے ہمیشہ ہی تیر آتے ہیں

0
7
آنسو چھپا کے رکھے تھے دنیا سے آج تک
اس بے وفا کی بزم میں ہم جا کے رو پڑے

0
3
وہ بھی بچھڑ گیا جسے پایا تھا خواب میں
آنکھیں کھلیں تو پھر سے تھیں ویرانیاں وہی
آسودگی کے خواب جو دیکھے تھے کھو گئے
منزل پہ آ کے پھر سے تھیں قربانیاں وہی
غالب نے یہ کہا تھا کہ غم سے نجات ہے
مر کر بھی سکھ نہ تھا تھیں پریشانیاں وہی

0
12
زندگی کو شمیم کیوں نہیں کرتے
تم خوشی کو ندیم کیوں نہیں کرتے
غم سے کیوں دوستی رچائی ہے
غم کو اپنا غنیم کیوں نہیں کرتے
چھوڑو ماضی میں جو ہوا سو ہوا
غم کو دو نیم کیوں نہیں کرتے

0
8
میں ایسے اک سفر پر ہوں
نہ منزل ہے نہ راہی ہے

0
4
میں کچھ بھی کرنہ پایا بس مجھے اس بات کا غم ہے
یہی اک سوچ ہے جس سے کہ میری آنکھ اب نم ہے
چلا تھا اس یقیں کے ساتھ میں قطبی ستارا ہوں
میں اب وہ خضر ہوں جس کا خود اپنا راستہ گم ہے

0
5
میری خوشی کی کوئی بھی وجہ نہیں شاہد
میں خوش ہوں اس لیے کہ آج مسکرایا ہوں

0
5
آج کی رات مجھ پہ بھاری ہے
آج یادوں کی ضرب کاری ہے
ہر قدم پر فریب کھائے ہیں
ہر قدم پر ہی جاں نثاری ہے
کل تو خوشیاں عزیز تھیں مجھ کو
آج میری غموں سے یاری ہے

0
7
امید کی آخری شمع بجھا دی
اس نے مری تصویر جلا دی
غیر کا اس نے ہاتھ پکڑ کر
مجھ کو مری اوقات بتا دی
مجھ پر پھر الزام لگا کر
اس نے مری اوقات گھٹا دی

0
4
مجھے وہ دیکھ کر پہچان ہی نہ پایا ہے
کہ خود کو توڑ کر میں نے نیا بنایا ہے

0
5
ارتقا کی اب آخری منزل
ابنِ آدم کا وقت ختم ہوا
اس سے آگے کی منزلوں کی طرف
ابنِ آدم تو جا نہیں سکتا
آدمیت کا اختتام ہے اب
ابنِ آدم نے ابنِ آدم کو

0
8
اپنی تباہیوں کے یوں آثار آ گئے
قصے ہمارے عشق کے بازار آ گئے
گل تو تمام بانٹ دیئے باغبان نے
حصے ہمارے خار ہی اس بار آ گئے
امید تھی کہ آج وہ بس پھول لائيں گے
وہ لے کے اپنے ہاتھ میں تلوار آ گئے

0
9
میں خود صیاد ہوں میں خود پرندہ
میں کیوں تقدیر پر آنسو بہاؤں ؟

0
2
کچھ درد فقط درد مٹانے کے لیے ہیں
کچھ درد فقط غم کو بھلانے کے لیے ہیں
اک درد کا احساس ہے لگتا ہے کہ میں ہوں
کچھ درد مجھے زندہ جلانے کے لیے ہیں
کچھ درد تو خود سے بھی چھپاتا ہوں ہمیشہ
کچھ درد زمانے کو دکھانے کے لیے ہیں

0
18
اک درد کا گھاؤ ہے وہ بھر کیوں نہیں جاتا
اک غم کا جزر ہے وہ اتر کیوں نہیں جاتا
اک خوف کے حالے نے مجھے گھیر رکھا ہے
ماضی میں ہوا اس کا اثر کیوں نہیں جاتا
ہر روز گرا گر کے سنبھالا ہے خودی کو
ٹوٹا ہوں کئی بار بکھر کیوں نہیں جاتا

0
8
تو خود ہے گم ، تو کیسے ، ملے گا خدا تجھے
سب کام چھوڑ چھاڑ کے ، خود کو تلاش کر

0
5
جب سے زندہ رہنے کا میں نے ارادہ کر لیا
بجلیوں نے مجھ پہ گرنے کا اعادہ کر لیا
جو نہ دشمن کر سکے وہ دوستوں نے کر دیا
دشمنوں نے دوستوں سے استفادہ کر لیا
میں نے اپنی زات کی گہرائیوں میں ڈوب کر
آگہی کی روشنی سے دل کشادہ کر لیا

0
14
بھوک پھیلی ہے ہر گلی شاہد
مانگنے والے اب کدھر جائیں
کام روبوٹ اب کریں گے یہاں
اب تو یہ ہے غریب مر جائیں

0
3
میرے مولا مری دہائی ہے
مجھ پہ الزامِ بے وفائی ہے
میں تو خود ہی خلاف ہوں اپنے
اور اس کی طرف خدائی ہے
ثالثو تم ہی پوچھ لو اس سے
اس نے اب آگ کیوں لگائی ہے

4
26
جہاں دھول اڑتی ہے آج کل
وہاں اپنے کچے مکان تھے

0
4
محبت جب جواں ہو تو
بہت منہ زور جزبہ ہے
بہت ہی ٹھار ہے اس میں
بہت سی نار ہے اس میں
یہ شاہوں سے الجھتی ہے
یہ طوفانوں سے لڑتی ہے

0
8
غم اس کا اپنی روح میں جَڑنا پڑا مجھے
اس کے معاملات میں پڑنا پڑا مجھے
مجھ کو لگا کہ اس کو خزاؤں سے پیار ہے
پھر یوں ہوا بہار میں جھڑنا پڑا مجھے
اس نے کہا کہ شعر تو بس ایلیا* کے ہیں
پھر جون* کی حسد میں اجڑنا پڑا مجھے

4
148
اپنے ہمزاد سے بچھڑا تھا جوانی میں یہیں
انہیں گلیوں میں مری روح بھٹکتی ہو گی
مجھ سے ملنا ہے تو آؤ میں ملاؤں خود سے
کسی کونے میں مری لاش لٹکتی ہو گی

0
8
میں اپنے حال میں خوش ہوں مجھے ماضی سے نفرت ہے
جو کچھ کھویا تھا میں نے اس پہ پچھتانہ نہیں آتا

0
10
یہ شہر زلتوں سے تو خالی کبھی نہ تھا
لیکن ہمارا نام یوں گالی کبھی نہ تھا

0
8
یہ دل عجیب ہے ہر پل بھنور میں رہتا ہے
کہیں ٹھہر نہیں سکتا سفر میں رہتا ہے

0
6
ان کو دیکھے اب ہمیں کتنے زمانے ہو گئے
پیار کے قصے ہمارے سب پرانے ہو گئے
ہاتھ تھامے جن پہ ہم چلتے تھے اب وہ راستے
پوچھتے ہیں کیا ہوا ہم کیوں دیوانے ہو گئے
مجھ کو زندہ دیکھ کر حیران ہیں میرے رقیب
سوچتے ہیں کیوں خطا ان کے نشانے ہو گئے

0
6
میرا احساس میرا قاتل ہے
کاش تھوڑی تو بے حسی ہوتی

4
اس زندگی کی دوڑ میں ہم راکھ ہو گئے
سونے کے تھے بنے ہوئے ہم خاک ہو گئے
پھر آندھیاں اڑا کے ہمیں لے گئیں وہاں
ہم مشتِ خاک رونقِ افلاک ہو گئے

0
5
آؤ کچھ غم مزید لیتے ہیں
تجربے کچھ شدید لیتے ہیں
درد ہی درد ہو بھرا جس میں
آؤ وہ دل خرید لیتے ہیں

0
5
جو بھی میں نے پڑھا وہ بھول گیا
بے محل ہے جو مجھ کو یاد رہا

0
6
موت کے سائے تلے اب ہے سفر میں زندگی
کیسا یہ عفریت ہے جس کے اثر میں زندگی
کوچہ و بازار خالی ، بستیاں ویران ہیں
دوست جس سے جا چکے ایسے شہر میں زندگی
کار زارِ زندگی مشکل تھا اب وہ بھی نہیں
مستقل بیٹھے ہوئے ہیں اپنے گھر میں زندگی

0
5
محبتیں ہوں تو قربانیاں تو ہوتی ہیں
خوشی کے ساتھ پریشانیاں تو ہوتی ہیں
راہ عشق میں لمحوں میں موڑ آتے ہیں
وفا کی راہ میں حیرانیاں تو ہوتی ہیں
بغیر عشق کے کب خواب پورے ہوتے ہیں
کہ عاشقوں میں جہاں بانیاں تو ہوتی ہیں

0
83
جو ساتھ چھوڑ دیں ان سے ملا نہیں کرتے
خاموش رہتے ہیں ان سے گلا نہیں کرتے
انہیں دعاؤں میں اپنی بسائے رکھتے ہیں
کبھی بھی ان کے لیے بد دعا نہیں کرتے
یہ اور بات کہ دل چاک چاک رہتا ہے
یہ زخم پیار کے پھر سے سلا نہیں کرتے

0
11
پیار کا دل مرا بھکاری ہے
پیار کی ہی اسے خماری ہے
پیار میں فیصلہ نہیں کرتا
یہ عدالت تو فوجداری ہے
روز اس کی گلی میں جاتا ہوں
جانے کیسی بے اختیاری ہے

0
14
اس کا مقصد تھا کیا کھوجتا رہ گیا
بات جو کہہ گیا سوچتا رہ گیا
مال جتنا تھا سب لوٹ کر لے گئے
میں تو لاشوں کو ہی ڈھانپتا رہ گیا
سب پجاری جھکے شاہ کے سامنے
مندروں میں تو بس دیوتا رہ گیا

0
15
بے حسی پیدا ہوئی میرے اٹھے ہاتھوں کے بیچ
فاصلہ میں اب رکھوں اپنی مناجاتوں کے بیچ
کچی آبادی یہ میری آفتوں میں گھر گئی
لمبا وقفہ چاہیے ہے اب کے برساتوں کے بیچ
میری قسمت میں اندھیرے اب تمنا دل میں ہے
دن نکل آئے کبھی اب درد کی راتوں کے بیچ

0
11
تمھارے بعد دلِ بے قرار کیا کرتے
کسے دکھاتے چشم اشکبار کیا کرتے
نئی رتوں میں بھی وہ پھول تھے پرانے ہی
بہارِ نو کا ہم اب انتظار کیا کرتے
اب اپنے پاس لٹانے کو کچھ بچا ہی نہیں
سو گھر کو لوٹ گئے سوئے دار کیا کرتے

0
10
دریچہ وا ذرا کر دو صدائیں بھیجی ہیں
ہوا کے دوش پہ میں نے دعائیں بھیجی ہیں
تمہیں پسند بہت بارشوں کا موسم ہے
اپنے حصے کی تم کو گھٹائیں بھیجی ہیں
تم آسمان کو چھو لو یہ میری خواہش ہے
تمھاری سمت میں میں نے ہوائیں بھیجی ہیں

0
8
ہاتھوں میں لے چراغ میں ڈھونڈوں نجیب سے
یہ وہ گہر ہے جو ملے شاید غریب سے
جس سے ملا لگا کہ ملا ہوں رقیب سے
چہرے مجھے تو سب کے لگے ہیں محیب سے
دکھتے بہت تھے خوبرو جب فاصلے پہ تھے
میک اپ کا تھا کمال دکھے جب قریب سے

0
12
قافلہ آ گیا سحابوں کا
آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا
صحبتِ یار جب ہوئی برہم
چھڑ گیا ذکر پھر شرابوں کا
جنگ مذہب کی تھی نجانے کیوں
مسئلہ اٹھ گیا حجابوں کا

0
1
23
مجھے منزلوں کی خبر نہ تھی
اسے راستوں کا پتہ نہ تھا
مجھے دشمنی کی ہوا نہ تھی
اسے دوستی کا پتہ نہ تھا
یونہی چل رہے تھے جدا جدا
پھر یوں ہوا کسی موڑ پر

0
12
اپنے عمل سے وہ مجھے حیران کر گیا
پل بھر میں اپنے خواب وہ قربان کر گیا
نکلا جلا کے پیار کی ساری نشانیاں
جاتے ہوئے یہ مجھ پہ وہ احسان کر گیا
وہ لوٹ کر کبھی بھی اب واپس نہ آۓ گا
وہ جاتے ہوئے گھر سے یہ اعلان کر گیا

0
11
"جب کوئی پیار سے بلائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا"
آنکھ میں خواب بھر کے یار کا
لڑ کھڑا کے پیار کے خمار سا
جب کوئی میرے گیت گائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا

0
14
انا سے خود کو چھڑاؤں کیسے
راز دل کا میں بتاؤں کیسے
اشک آنکھوں میں بھرے ہیں اتنے
پیار دنیا سے چھپاؤں کیسے
وہ تو رگ رگ میں مری بیٹھا ہے
اس کو اندر سے اٹھاؤں کیسے

0
8
ممکن نہیں کہ آج کوئی چشم تر نہ ہو
لگتا ہے جیسے راہ میں کوئی شجر نہ ہو
بچھڑا تو پھر پتا چلا کیا کھو گیا میرا
دل تو ہو جسم میں مگر اس میں جگر نہ ہو

3
201
توڑ کر پھر سے بنا لی جائے گی
زندگی نئے سانچے میں ڈھالی جائے گی
یہ خبر تو روز کا معمول ہے
کس کی پگڑی اب اچھالی جائے گی
چاٹ جائے گی وہ دیمک کی طرح
وہ ہوس جو دل میں پالی جائے گی

0
10
یہ رشتہ کیوں تم نبھا رہے ہو
یہ قرض ہے جو چکا رہے ہو
تمھاری نظریں یہ کہہ رہی ہیں
کہ مجھ سے تم کچھ چھپا رہے ہو
جو سچ ہے وہ آج کہہ دو مجھ سے
یوں بات کو کیوں گھما رہے ہو

0
8
جو باہر سے بہت ہی شنگ نکلا
وہ اندر سے بہت بے رنگ نکلا
بظاہر پھول اک پھینکا تھا اس نے
لگا سر پر تو میرے سنگ نکلا
دبا تھا درد جو سینے میں میرے
وہ نکلا تو زبانِ چنگ نکلا

0
11
میں کسی آسمانی آفت میں مارا جاؤں گا
یا دشمنوں کی عداوت میں مارا جاؤں گا
میں کچھ بھی کر لوں مگر چپ نہیں قبول مجھے
میں باغیوں سا بغاوت میں مارا جاؤں گا
کہیں کچھ ایسا بھی الزام سر پہ آئے گا
میں پانی پانی ندامت میں مارا جاؤں گا

16
سوچا ہے کہ بکنے کو میں بازار میں آؤں
دو چار حسینوں سے ملاقات تو ہو گی
یوسف نہ سہی مصر کے بازار میں بیچو
گر زلیخا نہ خریدے کوئی اوقات تو ہو گی
کوتوالیئے شہر کا آیا ہے بلاوا
چند روز سہی مفت مدارات تو ہو گی

0
8
مجھ کو معاشرے نے سدھرنے نہیں دیا
جو کرنا چاہتا تھا وہ کرنے نہیں دیا
مجھ کو ہر اک مقام پہ صدمہ نیا ملا
دل نے پھر اس مقام سے گذرنے نہیں دیا
ہر مرتبہ کرید کے پھر تازہ کر دیا
دل پر جو زخم تھا اسے بھرنے نہیں دیا

0
22
او ستم گر تجھے ہوا کیا ہے
مجھ سے اب جو ہوئی خطا کیا ہے
میں تو خاموش ہو گیا کب سے
اب نہ پوچھو کہ مدعا کیا ہے
اب تو تیری طلب نہیں مجھ کو
ظلم مجھ پر یہ اب روا کیا ہے

0
11
اب جو پھیلی ہے یہ وبا کیا ہے
ساری خلقت کو اب ہوا کیا ہے
یرغمال اس نے کر لیا سب کو
اس سے آگے کی اب سزا کیا ہے
دور رہنے میں اب بھلائی ہے
یہ بھلا ہے تو پھر برا کیا ہے

13
اب جو پھیلی ہے یہ وبا کیا ہے
ساری خلقت کو اب ہوا کیا ہے
یرغمال اس نے کر لیا سب کو
اس سے آگے کی اب سزا کیا ہے
دور رہنے میں اب بھلائی ہے
یہ بھلا ہے تو پھر برا کیا ہے

0
9
رنجش تھی بچھڑنے کا ارادہ تو نہیں تھا
پہلے جو ہوا اس کا اعادہ تو نہیں تھا
پہلے بھی جو بچھڑے تھے اناؤں کی وجہ سے
رشتوں میں اناؤں کا افادہ تو نہیں تھا
کہتی تھی وفاؤں پہ کبھی شک نہیں کرنا
بولا تھا "ہاں" لیکن کوئی وعدہ تو نہیں تھا

0
26
کچھ نہ سمجھا میں وہ بولتا رہ گیا
اس کے لفظوں کو میں تولتا رہ گیا
میں کہ سونا تھا وہ خاک جانا مجھے
مجھ کو مٹی میں وہ رولتا رہ گیا
میں تو تریاق لانے گیا تھا مگر
وہ زندگی میں زہر گھولتا رہ گیا

0
14
ہر طرف شہر میں پھیلا ہوا شر لگتا ہے
اب تو بچوں سے بھی اپنے مجھے ڈر لگتا ہے
کیوں جڑیں میری زمیں کوئی پکڑتی ہی نہیں
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں سفر لگتا ہے
میری دنیا اپنے محور سے ہٹی ہے جب سے
زیر بھی دیکھوں تو مجھ کو وہ زبر لگتا ہے

0
21
خود اگر آگ لگائی ہے بجھاتا کیوں ہے
تجھ پہ منظر یہ گراں ہے تو جلاتا کیوں ہے
تجھ کو یہ خوف کسی اور کا ہو جاؤں گا
تو اگر مجھ پہ فدا ہے تو چھپاتا کیوں ہے
گر یہ سچ ہے کہ تو اب بھول گیا ہے مجھ کو
آدھی راتوں کو دیئے در پہ جلاتا کیوں ہے

0
2
20
جاہلوں کے دیس میں دانا بچا کوئی نہیں
روگ ایسا لگ گیا جس کی دوا کوئی نہیں
ان دیوں کی روشنی کوئی چرا کر لے گیا
ہر طرف تاریکیاں ہیں پر بجھا کوئی نہیں
اپنی مٹی کی نمو نیلام جب سے کی گئی
پیڑ تو کافی کھڑے ہیں پر ہرا کوئی نہیں

0
18
وہ چند لمحوں کے فاصلے تھے
ہر ایک لمحے میں حادثے تھے
تھی بے یقینی فضا میں ایسی
ہزار قسموں کے واہمے تھے
اندھیرا تھا کچھ عمیق ایسا
بجھے ہوئے واں سبھی دیئے تھے

0
11
وہ ساتھ ہوتے ہوئے بھی کبھی مرا نہ ہوا
وہ جب گیا تو کبھی دل سے وہ جدا نہ ہوا
جو زخم اس نے دیا خشک ہو گیا کب سے
کریدتا رہا برسوں مگر ہرا نہ ہوا
بس اس کی ہاں میں ملاتا رہا میں ہاں برسوں
مگر یہ دکھ ہے کہ خود کا میں ہم نوا نہ ہوا

0
12
سجے ہیں دار صلیبوں پہ سرنہیں آیا
کسی کی روح میں اب تک بھنور نہیں آیا
پڑھا تھا ظلم کی حد پر ہے انقلاب کہیں
ہماری راکھ میں اب تک شرر نہیں آیا
سفرکٹھن تھا بہت پاؤں کھس گئے میرے
ہوئی ہے شام مگر میرا گھر نہیں آیا

0
16
سامنے میرے وہ نکھرتا ہے
تم اسے میرے روبرو دیکھو

0
16
ایک بادل نظر سے گذرا ہے
جام کی میری آرزو دیکھو
مئے سے تر ذرا گلہ کر لوں
پھر تم انداز گفتگو دیکھو
دوست آئیں گے غم غلط کرنے
ہاتھ میں لے کے وہ سبو دیکھو

0
19
میں خود کو وارنے محفل میں تیری آیا ہوں
جلا کے خود کو میں کندن بنا کے لایا ہوں
تمھارے ہونے کی خواہش میں خود کو توڑ دیا
میں ٹوٹ پھوٹ کے پھر سے نیا بنایا ہوں
وہ ایک خواب جو دیکھا تھا زندگی کے لیے
اس ایک خواب کی تکمیل کرنے آیا ہوں

0
16
کوئی تو نقش پا دیا ہوتا
مجھ کو خود سے ملا دیا ہوتا
کاش مجھ کو تم آزما لیتے
میں نے خود کو لٹا دیا ہوتا
تم بتاتے انا کی جنگ ہے یہ
سر کو میں نے جھکا دیا ہوتا

0
22
قسمت نہ ہو تو کوئی بھی نعمت نہیں ملتی
مانگے سے کسی کو کبھی جنت نہیں ملتی
نفرت یہاں اتنی ہے کہ اپنے گلہ کاٹیں
پر پیار میں اتنی یہاں شدت نہیں ملتی
دینے کو بس اک ہاتھ ہے لینے کو ہزاروں
اس شہر کے لوگوں سے رعایت نہیں ملتی

0
11
میری نیت کو جانچ لے اک بار
میری نیت پہ مجھ کو پرکھا کر
میرے اعمال پر نظر مت رکھ
میرے افکار کو تو سمجھا کر

0
10
میرے اجداد کا شیوہ تھا اطاعت کرنا
میری تقدیر میں لکھا تھا بغاوت کرنا

0
17
یہ حادثات کی فہرست بہت پرانی ہے
ہمارے ساتھ ہر اک حادثہ یہ گزرا ہے

9
مجھ کو تم نے زندگی اک غیر جانا ہر گھڑی
مجھ کو اب موقع ملا تجھ سے وفا کیسے کروں

0
17
اس سے مل کر خوشی کو بھول گیا
کب ہنسا تھا ہنسی کو بھول گیا
عشق تو ذات کی نفی ہی ہے
عشق کر کے میں خود کو بھول گیا
اس گلی میں گیا ہوں میں جب سے
اپنے گھر کو گلی کو بھول گیا

0
1
27
زندگی میں کچھ اب تو خاص نہیں
زندہ ہوں زندگی کی آس نہیں
میری جو زندگی کا محور تھا
اس سے بچھڑا ہوں پر اداس نہیں
میں کہ واقف تھا اس کی رگ رگ سے
اب تو اپنا بھی میں شناس نہیں

0
14
داغ دامن پر لگے ہیں ان کو دھو سکتا نہیں
درد دل میں ہے خوشی اس میں سمو سکتا نہیں
وقت اک دولت ہے یہ احساس اب مجھ کو ہوا
وقت جتنا میں نے کھویا اور کھو سکتا نہیں
بوجھ ماضی کا اٹھا کر پھر رہا ہوں پیٹھ پر
درد کا یہ بوجھ میں اب اور ڈھو سکتا نہیں

0
19
کئی راز دل میں چھپائے ہوئے ہیں
نہ دیکھو ہمیں ہم جلائے ہوئے ہیں
اب پتھر سے پکھراج ہونے کو ہیں ہم
کہ صدیوں سے ہم تو دبائے ہوئے ہیں
ہمیں کھل کے ہسنے دو اے دنیا والو
کہ برسوں کے ہم تو رلائے ہوئے ہیں

0
19
محبتوں میں کچھ ایسے سوال ہوتے ہیں
جواب جن کے ہمیشہ محال ہوتے ہیں
حسن اور عشق میں گہرا کوئی تعلق ہے
حسین چہرے محبت کے جال ہوتے ہیں
شروع کے سال گذرتے ہے جیسے دن کوئی
پھر اس کے بعد تو صدیوں کے سال ہوتے ہیں

0
27
چاند پر پاؤں اپنے رکھ آیا
سوچ صدیوں کی وہ الٹ آیا
یخ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی
شوق سے جا کے وہ لپٹ آیا
آدمی آدمی سے دور رہا
پاس جا کر یونہی پلٹ آیا

0
20
کان در پر لگائے رکھتے ہیں
خود کو شب بھر جگائے رکھتے ہیں
وہ نہ آئیں گے راہ میں پھر بھی
دیدہ و دل بچھائے رکھتے ہیں
کہیں جزبے نہ برف ہو جائیں
آگ دل میں لگائے رکھتے ہیں

20
پتی پتی کی طرح مجھ کو بکھرنا ہے ابھی
وقت کی سرحد سے آگے کو گزرنا ہے ابھی

0
9
سچ کی عادت مجھے ورثے میں ملی تھی شاہد
سچ کی لوگوں نے مجھے سخت سزائیں دی ہیں

0
9
شیخ جی مجھ کو نہ مانیں اس سے کیا
رند سارے شہر کے مانیں مجھے
اس شہر کے لوگ نہ جانیں تو کیا
شہر کی سب داسیاں جانیں مجھے

0
13
لگ رہا ہے زندگی میں کچھ علط ہونے کو ہے
شاہ کے فرمان پر اب دستخط ہونے کو ہے

10
دوست بن کر وہ ملا آگ لگانے والا
اس سے اچھا تو وہ دشمن تھا بجھانے والا
کیسا بہروپ تھا باہر سے نیا دکھتا تھا
مگر اندر جو چھپا تھا وہ پرانے والا
وقت پتھر کو بدل دیتا ہے رفتہ رفتہ
ایک مدت میں نہ بدلا وہ ستانے والا

0
19
تو بہت دور جا بسی ہم سے
کبھی تو پاس بھی تو آیا کر
نیند تو دیر تک نہیں آتی
دے کے لوری مجھے سلایا کر
جب میں رات آسمان کو دیکھوں
تو ستاروں سی جھلملایا کر

0
16
اس کے سانچے میں ڈھل نہیں پائے
سنگ تھے ہم بدل نہیں پائے
وہ جلاتا رہا ہمیں برسوں
ہم تو پتھر تھے جل نہیں پائے
لوگ مرتے تھے اک جھلک کے لیے
سامنے تھا مچل نہیں پائے

0
19
عشق جن کے دلوں میں بس جائے
سر پھرے رات جاگتے ہوں گے
صبح بادِ صبا کے کہنے پر
تیری گلیوں میں بھاگتے ہوں گے

0
9
میں تو سمجھا تھا عاجزی اس کی
پر ندامت سے جھک گیا تھا وہ

0
8
یہ کیوں سمجھتے ہو ڈوبا تو پھر نہ نکلوں گا
جہاں میں ڈوبوں گا میں پھر وہیں سے نکلوں گا

0
23
میں اور طرح کا میڈاس* ہوں کہ میں شاہد
میں جس کو چھو لوں وہ مٹی کا ڈھیر ہو جائے
(* King Midas and His Golden Touch)

0
11
وہ مجھ کو چھوڑ گیا اس کو خوف رہتا تھا
کہ اس سے پہلے کہیں اس کو چھوڑ میں جاؤں

0
19
کھیل سارا الٹ گیا ہے
پاس آ کر پلٹ گیا ہے
غم کی دلدل سے کیسے نکلوں
غم تو مجھ سے لپٹ گیا ہے
اس نے منتر پڑھا تھا کوئی
جادو ٹونہ الٹ گیا ہے

0
16
جن کا کوئی صنم نہیں ہوتا
دل میں ان کے الم نہیں ہوتا
خود کو جتنا بھی میں تباہ کروں
اس کو کوئی بھی غم نہیں ہوتا
میں اسے بھول جانا چاہتا ہوں
پیار اس سے ختم نہیں ہوتا

0
15
جب سے اس سے ہوا ہے پیار مجھے
خود سے اب چاہیے فرار مجھے
وعدہ خود سے تھا لوٹ آنے کا
خود کا کب سے ہے انتظار مجھے
آدھے رستے سے لوٹ جاتا ہوں
نہیں خود پر کچھ اختیار مجھے

0
12
غم کی دلدل سے کیسے نکلوں
غم تو مجھ سے لپٹ گیا ہے

0
9
بات لوگوں میں عام ہو جائے
کچھ تو میرا بھی نام ہو جائے
پیار سے وہ اگر نظر ڈالے
دل تو اس کا غلام ہو جائے
وہ تو لفظوں سے کاٹتا ہے مجھے
کاش وہ خوش کلام ہو جائے

0
16
ایسے حالات آج کل شاہد
کہیں جاؤں نہ میں پگھل شاہد
عمر گزری رہے وہی کے وہی
پوری دنیا گئی بدل شاہد
کامیابی کے گر مجھے معلوم
مجھ سے ہوتا نہیں عمل شاہد

0
15
دل کے رازوں کو بتانے میں بہت دیر لگی
پیار کے زخم بھلانے میں بہت دیر لگی
ماسک چہروں پہ چڑھے تھے نظر آتا کیسے
اصلی چہرا نظر آنے میں بہت دیر لگی
ہاتھ تھاما تھا کہ زہر پھیل گیا میرے اندر
اس سے پھر ہاتھ چھڑانے میں بہت دیر لگی

0
25
روز ہی خود کو میں گراتا ہوں
روز ہی خود کو میں اٹھاتا ہوں
روز ہی خود سے روٹھ جاتا ہوں
روز ہی خود کو میں مناتا ہوں
روز ہی خود کو کچھ سکھاتا ہوں
وہ سبق روز بھول جاتا ہوں

0
11
جو نہ کرنا تھا کر گیا ہوں میں
آج حد سے گذر گیا ہوں میں
مار کر اپنی میں اناؤں کو
اس کے قدموں میں گر گیا ہوں میں
آج ٹوٹا ہوں ایسی شدت سے
کرچی کرچی بکھر گیا ہوں میں

0
13
لب کھولنے سے پہلے ذرا یہ خیال ہو
ایسا نہ کچھ کہو کہ تمہں پھر ملال ہو
موقع ملا ہے اس کو گنواؤ نہ اس طرح
ایسا تم کر دکھاؤ کہ جو بے مثال ہو
پکڑو عزیز جاں سے بھی کردار کو سبھی
انگلی کوئی اٹھے نہ کوئی سوال ہو

4
28
میں اپنی اناؤں میں گرفتار بہت ہوں
کہتا تو نہیں پر میں شرم سار بہت ہوں
مصروف ہوں اتنا کہ میں خود سے نہیں ملتا
نطروں میں زمانے کی میں بیکار بہت ہوں
لگتا ہے زمانے کو میں درویش صفت ہوں
لیکن میں حقیقت میں گنہ گار بہت ہوں

0
15
زندگی سے مجھے شکایت ہے
سانس لینا یہاں اذیت ہے
یہاں تریاق اب ملے نہ ملے
زہر پر یاں مگر رعایت ہے
شوق سے زندگی ختم کر لوں
خودکشی کی یہاں سہولت ہے

0
14
پیار کے بدلے جسے میں نے خدائی دی ہے
اسی ظالم نے مجھے آج جدائی دی ہے
پیار مجھ سے وہ وفادار عدو کا نکلا
مجھ کو تقدیر نے ہر چیز پرائی دی ہے
وہی آنکھیں وہی زلفیں وہی کاکل وہی ہونٹ
وہی تصویر پرانی سی دکھائی دی ہے

12
سامنے اس کے ہر اصول گیا
آنکھ ملتے ہی خود کو بھول گیا
اس کے ہاتھوں پہ خون تھا میرا
اس کی بانہوں میں پھر بھی جھول گیا
آگہی کے اندھیرے رستے ہیں
انہیں رستوں پہ ہر رسول گیا

0
11
عشق سب کو عطا نہیں ہوتا
ہر کوئی دل جلا نہیں ہوتا
راستے میں وہ مڑ گیا ایسے
یوں تو کوئی جدا نہیں ہوتا
اسے کیسے میں اب تلاش کروں
ریت پر نقشِ پا نہیں ہوتا

0
13
میں پستیوں میں گرا ہوں کمال دے مجھ کو
کہیں میں ڈوب نہ جاؤں اچھال دے مجھ کو

0
9
لوسٹوری
آغاز
وفا نبھانے میں اس نے کسر نہیں چھوڑی
محبتوں میں بہت بے مثال ہم بھی تھے
درمیان
تھکن سے چور تھا وہ بھی وفا کے رستے پر

0
22
آفت ایک اور آسمانی چاہیے
سیدھے رستے کی نشانی چاہیے
بستیاں برباد کرنے کے لیے
دریا کو تھوڑا اور پانی چاہیے
پیار غائب چند لمحوں میں ہوا
بس ذرا سی بدگمانی چاہیے

0
9
میں ہوں موجود یا ہوں بس گماں میں
میں زندہ ہوں کسی خوابِ رواں میں
مجھے اب ڈھونڈنا ہے ہوں کہاں میں
نشاں ملتا نہیں اب اس مکاں میں
میں مے خانے میں یا کوئے بتاں میں
یوں میری عمر گذری ہے زیاں میں

0
16
سحر ایسا ہے ایسی ہیں ہوائیں
بچھی ہیں راستے میں کہکشائیں
میں اب آزاد ہوں اپنی انا سے
میں بھولا ہوں وہ ماضی کی کتھائیں
خوشی اب روح میں جاگی ہے ایسی
زمانے سے اسے کیسے چھپائیں

0
14
دکھ کا قصہ سنایا جاتا ہے
بانٹ کر غم بھلایا جاتا ہے
زندہ جل کر ہی راکھ ہوتے ہیں
مر کے پھر کیوں جلایا جاتا ہے
قافلہ وقت پر نکلتا ہے
ہرکسی کو چلایا جاتا ہے

0
16
اپنے دل کی سنتا ہوں
میں تو اپنے جیسا ہوں
میرا اپنا رستہ ہے
میں تو خود میں دریا ہوں
اندر ہیں طوفان بہت
باہر سے سناٹا ہوں

0
18
لوگ وہ بدنصیب ہوتے ہیں
دوست جنکے رقیب ہوتے ہیں
شوق پیشے میں جنکے ڈھل جائے
لوگ وہ خوش نصیب ہوتے ہیں
خطائیں لوگوں کی جومعاف کریں
وہ خدا کے حبیب ہوتے ہیں

0
27
گریباں تار تار رہتا ہے
جسم تو بے حصار رہتا ہے
آ تو جاتا ہے میری محفل میں
دل پہ پھر بھی غبار رہتا ہے
میں اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا
اس کا مجھ پر ادھار رہتا ہے

0
12
دل ہتھیلی پہ تھا یار تھا سامنے
دل کو ٹھکرا دیا شوخ اندام نے
کچھ نہ بولا زباں سے چپک سا گیا
لفظ اٹکا دیا دلِ ناکام نے
کم نسب تھا زمانے کی دھتکار تھی
اس پہ رسوا کیا انکی دشنام نے

0
14
اک حسینا ملی بات ہی بات میں
اچھا خاصا تھا مجنوں لقب ہو گیا
راستہ تھا کٹھن ساتھ ہی ساتھ میں
چند لمحوں میں پہنچے عجب ہو گیا
میرے پہلو میں تھے ہاتھ تھا ہاتھ میں
ان کے آنے سے جشنِ طرب ہو گیا

0
7
میری آنکھوں میں خواب رہنے دے
آگہی کے عذاب رہنے دے
جانے والے تو اپنے ہونٹوں پر
کچھ ادھورے جواب رہنے دے
اپنی ناکامیاں مجھے دے کر
خود کو تو کامیاب رہنے دے

0
48
چلو کہ شام ہو گئی
چلو کہ وقت کم بچا
مسافتیں طویل ہیں
منزلوں کی اب تلک
ہم کو کچھ خبر نہیں!
چلے تھے ہم یہ سیکھ کر

0
4
51
نہ ہوئی پیروی روایت کی
میں نے اس دور میں بغاوت کی
میں نے سچ بولنے کی جرأت کی
مجھ کو تھی آرزو شہادت کی
اپنا حق چھیننا ہے اب مجھ کو
اب گھڑی آ گئی قیامت کی

0
10
وہ اک کمزور لمحہ تھا
میرے اندر کا حیواں
شیطان کے قبضے میں آیا تھا
اور اب
ضمیر کی سُولی پہ لٹکا ہوں
میرا انصاف کر دو

0
19
چند دن کی بس آشنائی تھی
پھر مسلسل شبِ جدائی تھی
میں نے سب کچھ لٹا دیا اس پر
جتنی بھی میری سب کمائی تھی
میں نے جاں پیش کی ہتھیلی پر
بدلے میں اس کی بے وفائی تھی

0
19
کھڑا تھا کب سے زمیں ہاتھ میں اٹھائے ہوئے
میں گر گیا ہوں کوئی آ کے اب اٹھائے ہوئے

0
9
گھر سے دنیا بدلنے نکلا تھا
خود کو اب تک بدل نہیں پایا

0
13
نہ کوئی گھر ہے مرا اور نہ ٹھکانہ کوئی
خزاں میں شاخ سے پتا کوئی بچھڑ جائے
گرم ہوا کے بگولے میں پھنس کے اڑ جائے
اسے ہوا لیئے پھرتی ہے دربدر یونہی
نہ انتظار کسی کو کہ در کو کھول رکھے
نہ آنکھ ایسی کوئی راہ دیکھتی ہی رہے

0
12
چند آنسو سنبھال رکھے ہیں
اور رنج و ملال رکھے ہیں
محتسب آ تجھے دکھاؤں میں
میں نے بس درد پال رکھے ہیں
زندگی نے چھپا کے دامن میں
کیسے کیسے زوال رکھے ہیں

0
15
مرے عدو سے کبھی آشنائی مت کرنا
تم اب کی بار کوئی بے وفائی مت کرنا
دیا ہے تم کو اگر اختیار سانسوں پر
ذرا خیال سے، مجھ پر خدائی مت کرنا
نجانے کب ہی بچھڑ جاؤں یا بھٹک جاؤں
مرے لیئے کبھی نوحہ سرائی مت کرنا

0
16
اس جہاں میں ملول آئے ہیں
اپنے حصے ببول آئے ہیں
ہم کہ منصور ہیں زمانے کے
ہم صلیبوں پہ جھول آئے ہیں
جن صلیبوں پہ خون تھا میرا
ان صلیبوں پہ پھول آئے ہیں

0
26