Circle Image

Dr. Shahid Mahmood

@Baardo

ميں اپنے درد کی لینے کو جو دوا نکلا - پتہ چلا کہ مرا درد لا دوا نکلا

زمیں پہ جسم مگر روح ہے ہواؤں میں
یہ شاعری تو کہیں آسماں سے آتی ہے

0
3
جب سے اجمان جا بسی شی جی
تب سے یاں پر خزاں کا ڈیرہ ہے
اب بہاریں یہاں نہیں آتیں
اب تو اجمان ان کا پھیرا ہے

0
4
کتنے جنگوں میں لوگ مرتے ہیں
ان کے مرنے سے فائدہ کیا ہے
جنگ کا فائدہ سمجھ آیا
جنگ لگتی ہے مارنے کے لیے

0
4
تم بھی "کوئی نہیں" ہو میں بھی "نہیں"
دونوں "کوئی نہیں" کا جوڑا ہیں

0
5
ان صلیبوں پہ سر نہیں کوئی
بس زبانیں لٹک رہیں ان پر
جرم کیا ہے کوئی بتائے گا؟
لوگ خاموش ہو گئے ہوں گے

0
5
وہ خواب اتنا بھیانک تھا کیا بتاؤں تمہیں
تمام رات پسینہ تھا برف کی مانند

0
6
بہت کڑا تھا مرا امتحان آخر میں
نا کام ہو کے بھی میں کامیاب ٹھہرا ہوں

0
8
سوچا تھا ہاتھ تھام کے چلتا رہوں مگر
چال اس کی دیکھ کر یہ ارادے بدل گئے
باتیں ہوئیں بہت مگر آنکھیں جھکی رہیں
لگتا ہے پیار کے سبھی وعدے بدل گئے

0
4
درد سے کوئی بھی نہیں مرتا
شرم لوگوں کو مار دیتی ہے

0
4
وہ جو باتیں تھیں قتل تھا میرا
مجھ سے کہتے ہو بھول جاؤں میں
میں وہ باتیں تو بھول سکتا ہوں
پر وہ احساس مر نہیں سکتا

0
5
مفلسی سے گلہ نہیں ہے مگر
جو بھی ملتا ہے چھوٹ جاتا ہے
میرے اندر بہت اندھیرا ہے
کچھ نہ کچھ روز ٹوٹ جاتا ہے
شکل سے مسکرا کے جاتا ہوں
دل مگر جھوٹ موٹ جاتا ہے

18
یہ راستہ غلط ہے مجھے کچھ خبر نہیں
کیسے پتہ چلے یہاں کوئی خضر نہیں
گہری ہے دھند ہر گھڑی ٹھوکر لگے مجھے
میں اس کے پار دیکھ لوں ایسی نظر نہیں
زادِ سفر ہی لٹ گیا فاقے بھی سخت ہیں
کوئی رکے گا کیوں کہ صدا میں اثر نہیں

8
بھول بھلیاں تھا راستہ اپنا
جس سے اب تک نکل نہیں پایا

0
7
میں کچھ دنوں سے سمندر کی تہہ میں رہتا ہوں
تمام شور مرے ساتھ ڈوب جاتے ہیں

0
8
مجھے یہ لوگ خطا کار اچھے لگتے ہیں
مجھے ولی بھی گنہگار اچھے لگتے ہیں
اب دشمنوں پہ بھروسہ نہیں رہا مجھ کو
کہ دشمنوں میں روادار اچھے لگتے ہیں
ہر ایک کام یہاں فن ہے اس لیے مجھ کو
ہر ایک کام میں فنکار اچھے لگتے ہیں

14
میں ٹوٹ پھوٹ چکا تھا سنور گیا کیسے​
خزاں کے موسموں میں میں نکھر گیا کیسے​
مرے وجود کو جکڑے رکھا اندھیروں نے
مرے نصیب کا مجھ سے اثر گیا کیسے
تمام عمر یہاں ٹھوکروں کی زد میں رہا
میں پل صراط سے آخر گزر گیا کیسے

0
20
جب سے امید مر گئی میری
جب سے چھپ کر میں گھر میں بیٹھا ہوں
جب سے خوابوں سے اپنے روٹھا ہوں
جب سے ملتا نہیں میں لوگوں کو
جب سے سوتا نہیں میں راتوں کو
جب سے ہنسنا بھلا دیا میں نے

0
20
آنکھوں سے لگ رہا ہے رلائے ہوئے ہو تم
چہرے پہ ہے لکھا کہ ستائے ہوئے ہو تم
پہلی نظر میں دیکھ کر احساس ہو گیا
اندر سے میری طرح ہی کھائے ہوئے ہو تم
مایوسیوں کے خول میں لپٹے ہو اس طرح
زادِ سفر تمام لٹائے ہوئے ہو تم

0
15
وہ چاہے عمر کا رشتہ ہو یا ہو چند لمحوں کا
یہاں ہر ایک رشتے میں بہت سے راز ہوتے ہیں

0
17
ایک دن اے زندگی تم سے جدا ہو جائیں گے
مستقل پھر قید سے تیری رہا ہو جائیں گے
دو نہ ہم کو واسطہ اپنی وفاداری کا تم
تم سے کیا پھر خود سے بھی ہم بے وفا ہو جائیں گے
زندگی میں بیسیوں دکھ ہیں مداوا ہے نہیں
مر کے پھر تو موت کی بھی ہم دوا ہو جائیں گے

0
20
روشنی مر رہی ہے تیزی سے
اک خلا ہے جو کھا رہا ہے مجھے
اتنی مایوسیاں نہ دیکھی تھیں
مر رہا ہوں بہت ہی شدت سے
جیسے میں آخری ستارہ ہوں
روشنی اور اب نہیں ہو گی

0
11
آج کے بعد میں کچھ بھی تو نہیں بولوں گا
دل بھر آئے گا تو چپ چاپ پڑا رو لوں گا
بند کر دیا دروازہ جو کھلا رکھا تھا
اب تم آئے بھی تو اندر سے نہیں کھولوں گا

0
10
اب تری یاد میں سویا ہی نہیں جا سکتا
جب ملا ہی نہیں کھویا ہی نہیں جا سکتا
تیری لفظوں میں میں تصویر بناؤں کیسے
سوچ میں تجھ کو سمویا ہی نہیں جا سکتا
لفظ بے جان ہیں وہ اصل کی تصویر نہیں
لفظوں میں تجھ کو پرویا ہی نہیں جا سکتا

0
18
جتنا اس سے میں پیار کرتا ہوں
اتنا دل میں فگار کرتا ہوں

0
11
کبھی پہنچا ہی نہیں وہ مری تنہائی تک
مرے اندر نہیں ڈوبا کبھی گہرائی تک
ایک رسمی سا تعلق تھا کہاں تک جاتا
بات ٹھہری رہی اک عمر شناسائی تک
جب تعلق کو سمجھنے کی کبھی بات چلی
لفظ پھر لے کے گئے معرکہ آرائی تک

0
20
ناکامیوں سے واسطہ ہر موڑ پر پڑا
تسلیم میں نے ہار کو اب تک نہیں کیا

0
20
مرا سورج ابھی تک روشنی دینے سے قاصر ہے
کبھی آندھی کبھی طوفاں کبھی بادل کبھی بارش

0
9
میں جوانی کے انتظار میں تھا
لو بڑھاپا پہنچ گیا میرا !!!!!!

0
16
چھپ کے گذری ہے زندگی ساری
خود کے پیچھے چھپا رہا ہوں میں

0
14
یہ داستانِ عشق ہی ناکامیوں کی تھی
ہر موڑ پر نئی نئی طغیانیوں کی تھی
آوارہ گردیوں میں گزاری ہے زندگی
گہری لکیر ہاتھ میں گمنامیوں کی تھی
جو بات روح میں تھی وہ اندر سے کھا گئی
کیسے کہوں کہ بات وہ بدنامیوں کی تھی

0
17
میں اپنے آپ سے بچپن سے دور رہتا ہوں
بغیر چوٹ کے زخموں سے چور رہتا ہوں

0
7
جتنے تھے پاک باز وہ سب میکدے میں تھے
دیر و حرم میں نفس کی عریانیاں ملیں

0
2
32
جوہڑِ مردار میں دجلہ کی طغیانی ملی
سبزہ زاروں میں مجھے صحرا کی ویرانی ملی
لوگ خوش مکھ ہر طرف پھرتے نظر آئے مجھے
ان کے اندر چار سو پھیلی بیابانی ملی
اہلِ دانش شہر کے فٹ پاتھ پر سوتے ملے
اور محلوں میں مجھے ہر سمت نادانی ملی

0
33
میں زاغِ شب ہوں دن کی روشنی آنکھوں کو ڈستی ہے
نجانے دن کو ہی صیاد کیوں آزاد کرتا ہے

0
20
بہت سے تار ٹوٹے اور اب میں ساز سمجھا ہوں
وہ لَے جب روح میں اتری میں تب پرواز سمجھا ہوں
مجھے لگتا ہے اگلا عشق میرا آخری ہو گا
بہت سے درد سہہ کے عشق کے اب راز سمجھا ہوں
اشارے پیار کے مجھ کو بہت مہمل سے لگتے تھے
بہت کچھ کھو کے اب آخر نگاہِ ناز سمجھا ہوں

0
50
اپنے کیے پہ کچھ تو ندامت اسے بھی تھی
جس سے یہ لگ رہا تھا محبت اسے بھی تھی
سن تو رہا تھا غور سے الزام جو بھی تھے
چہرے پہ تھا لکھا کہ شکایت اسے بھی تھی
رشتہ تھا اعتماد کا کب ، کیوں بدل گیا !
پتھر تھا ہاتھ میں تو عداوت اسے بھی تھی

0
35
سفر میں راستہ اپنا کبھی جڑا ہی نہیں
یہ زندگی تو لمحوں کا میل لگتی ہے
نکال دوں جو میں صدیاں فراق کی شاہد
تو زندگی مری لمحوں کا کھیل لگتی ہے

0
22
ہمیں نشانہ بنایا گیا نکھرتے ہی
بھلا دیئے گئے ہم شاخ سے بچھڑتے ہی

0
29
اکیلے پن سے ڈرتے ہیں
نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
وہ پتھر کے پجاری ہیں
بتوں سے پیار کرتے ہیں
بندھے رہتے ہیں رشتوں میں
جو رشتے زہر بھرتے ہیں

0
19
کنول کا پھول تھا اک دن
نکھرنا بھی ضروری تھا
نکھرنے سے یہ یاد آیا
نکھر کر پھر مجھے اک دن
بکھرنا بھی ضروری تھا
مری تاریک دنیا کا

0
3
54
زندگی تو کچھ بھی کر لے کچھ بھی کر سکتی نہیں
جسم کو تو مار بھی لے روح مر سکتی نہیں

0
32
جرم میرا فقط بغاوت ہے
اس کا اقبال کر رہا ہوں میں
شوق سے سر مرا قلم کر دو
پر روایت رہی ہے شاہوں کی
مجرموں سے وہ پوچھ لیتے تھے
کوئی خواہش ہے آخری باقی

0
32
بھوک سے وہ مر گیا
دھوم دھام انتظام
دوست یار رشتہ دار
حلوہ مرغ اور طعام
زندگی تھی نا تمام
ایک شام اس کے نام

0
19
اندھیرے چار سو پھیلے تھے اک دیوار کی مانند
مجھے چھوٹے سے جگنو نے سکھایا روشنی کیا ہے

0
20
جانے ہر شخص محبت میں گرفتار ہے کیوں
ایک بے سود سی خواہش ہے سزاوار ہے کیوں
چند سانسوں کی یہ مہلت ہے سمجھتا کیا ہے
ایک دیوانہ خدائی کا طلب گار ہے کیوں
ایک قطرہ ہے سمندر میں گرے گا اک دن
یہ حقیقت ہے تو پھر اتنی پراسرار ہے کیوں

28
تمہارا نام جب آتا ہے داستاں میں مری
نجانے ساتھ کیوں آواز چھوڑ جاتی ہے

0
14
میں جا رہا ہوں کاش تو مجھ کو پکار دے
تھوڑی تو اب انا کو تو اپنی بھی مار دے
اک لفظ پیار کا مری جھولی میں ڈال دے
اس روحِ بے قرار کو تھوڑا قرار دے
وزنی ہیں اتنے پاؤں کہ اٹھ ہی نہیں رہے
اس پل صراط سے مجھے جلدی گزار دے

0
31
قبر گہری کھودنا اب نیند گہری چاہیے
شور اتنا تھا سکوں سے آج تک سویا نہیں

0
14
سفر میں دھند تھی اور منزلیں بھی مہمل تھیں
بھنور میں پاؤں تھا اور سازشیں مقابل تھیں
یہ غم نہیں کہ مری خواہشیں نہ پوری ہوئیں
مری ضرورتیں پر خواہشوں میں شامل تھیں
مجھے وہ شخص بنایا کہ جس کا وقت نہ تھا
وہ عادتیں کہ مرے راستے میں حائل تھیں

0
51
اک دوسرے کے قتل کی خواہش تھی ساتھ تھے
جب پیار ہو گیا تو جدا ہو گئے ہیں ہم

0
19
اک ماتمِ طویل تھا کس سے گلہ کروں
وہ زندگی جو مجھ سے گزاری نہ جا سکی

0
18
ناکامیوں کو آج مٹا کر یہ لکھ دیا
قیمت تھی اس مقام کی جس پر کھڑا ہوں آج

26
جہاں لگا مجھے اب ختم ہو گیا سب کچھ
سفر نے موڑ نیا لے لیا وہیں پھر سے

0
35
بہت حسین ہو تم تو انا پرست ہوں میں
تمہیں غرور حسن کا تو خود پرست ہوں میں
مرا زمانہ نہیں جس میں آج زندہ ہوں
کسی قدیم صدا کی ہی بازگشت ہوں میں

19
ہمیں کھلنا تھا جوہڑوں میں کہیں
پھول آبِ رواں کے تھے ہی نہیں

0
16
میں بھی اب جواں نہیں تو بھی قدر داں نہیں
عمر جاوداں نہیں وقت مہرباں نہیں
پاؤں میں زمیں نہیں خود پہ بھی یقیں نہیں
سر پہ آسماں نہیں تو بھی تو یہاں نہیں
ظلم عمر بھر سہے پر کوئی گلہ نہیں
منہ میں زباں نہیں لب پہ بھی فغاں نہیں

0
39
درد موجودگی کا حصہ ہے
پر اذیت یاں اختیاری ہے
Although we experience a lot of pain in life, suffering is optional.

0
28
ہر ایک جنگ میں پسپا ہوا ہوں میں شاہد
مگر یہ جنگ اب خود سے ہے جیت جاؤں گا

30
اسے یہ شک کہ مجھے اس سے پیار ہے کہ نہیں
پھر اس کے پیار میں یہ دل فگار ہے کہ نہیں

23
مرے پہاڑ مجھے کب سے یاد کرتے ہیں
چلو یہ کاٹ دو زنجیر مجھ کو جانے دو

24
دیکھے تھے جو بھی خواب وہ سارے بکھر گئے
ہم سوچتے ہی رہ گئے اور دن گزر گئے
ہر راستہ غلط چنا پھر یہ سزا ملی
ہم رہ گزر میں رہ گئے وہ اپنے گھر گئے
ہم زندگی پہ کھیل کے پہنچے جو روبرو
وہ مسکرا کے شرط سے اپنی مکر گئے

47
جی تو رہا ہوں اصل میں زندہ نہیں ہوں میں
اس زندگی نے اک مجھے پتھر بنا دیا

29
بہت سے راز اس دل میں چھپائے پھرتا تھا
کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا شاعری کر لی

40
یہ اور بات کہ تم کو کہیں کھلا نہ ملے
ہر اک فصیل میں اک در چھپا تو ہوتا ہے

34
دودھ کے بدلے زہر دیتے ہیں
میں نے کچھ سانپ پال رکھے ہیں

26
علم میرا ذرا کتابی ہے
سوچ تھوڑی سی انقلابی ہے
ذہن پختہ نہیں ابھی میرا
اس میں ہر وقت اضطرابی ہے
شکل تو مومنوں سی پائی ہے
دل میں بچہ بڑا شرابی ہے

7
80
میں اپنے ذہن کی زنداں میں قید ہوں شاہد
میں بھاگنا بھی جو چاہوں تو کس طرف بھاگوں

34
پہلے خود کو یہاں بنانا ہے
خود کو پھر سے یہاں مٹانا ہے
تم سمجھتے ہو یہ حقیقت ہے
زندگی کیا ہے اک فسانہ ہے
زندگی مایا جال ہے جس کو
جو سمجھتا ہے وہ ہی دانا ہے

48
مجھے تریاق کا کہہ کر پلایا زہر ہے تم نے
مرے قاتل تمہاری یہ ادا اچھی لگی مجھ کو

1
25
زندگی نے تھکا دیا ہے مجھے
اب جو دیوار سامنے ہے مرے
اس سے ٹکرا کے ٹوٹ جاؤں گا

0
27
سرد مہری کی جو دیوار تنی تھی شاہد
عمر اپنی وہی دیوار گراتے گذری

0
23
جانے کیوں شہر کے لوگوں میں محبت کم ہے
دل دھڑکتے ہیں مگر ان میں حرارت کم ہے
ہاتھ میں تسبی ہر اک شخص لیے پھرتا ہے
لب پہ کلمہ ہے مگر دل میں مروت کم ہے
ایک بندھن تھا جسے میں نے نبھایا اب تک
عمر بھر ساتھ دیا پھر بھی رفاقت کم ہے

0
2
44
بجھا دیا گیا اک پل میں آگ جلتے ہی
زمین کھینچ لی اس نے مرے سنبھلتے ہی
مجھے لگا وہ مرے رتجگوں کا ساتھی ہے
چلا گیا مرے گھر سے وہ شام ڈھلتے ہی
وہ زخم زخم مری زندگی میں آیا تھا
وہ مجھ کو چھوڑ گیا برف کے پگھلتے ہی

45
میں خود سے بچھڑا تھا جوانی میں یہیں
انہیں گلیوں میں مری روح بھٹکتی ہو گی
مجھ سے ملنا ہے تو آؤ میں ملاؤں خود سے
اسی کوچے میں مری لاش لٹکتی ہو گی

0
29
میں بھی اب جواں نہیں تو بھی قدر داں نہیں
عمر جاوداں نہیں وقت مہرباں نہیں
پاؤں میں زمیں نہیں خود پہ بھی یقیں نہیں
سر پہ آسماں نہیں تو بھی تو یہاں نہیں
ظلم عمر بھر سہے پر کوئی گلہ نہیں
منہ میں زباں نہیں لب پہ بھی فغاں نہیں

42
میں نے چاند مانگا تھا اے خدا
تو نے سورجوں سے ملا دیا
کبھی مسکرایا تھا اک گھڑی
تو نے پور پور رلا دیا
میں بس اک دیا سرِ رہگزر
تو نے آندھیوں سے بجھا دیا

0
31
خود کی تعمیر کر تو لی میں نے
پر زمیں میں اساس ہے ہی نہیں

0
38
پیار کیسے تباہ کرتا ہے
یہ کتابوں سے جاننا مشکل
پیار کیا ہے یہ جاننے کے لیے
پیار کرنا بہت ضروری ہے

24
میں اک ہجوم میں تھا پھر بھی میں اکیلا تھا
مجھے خبر تھی فقط میں ہی اک نشانہ تھا

0
27
وہ اک ادھوری ملاقات آخری ٹھہری
رکا نہیں کہ بہت دور اس کو جانا تھا

0
27
زندگی کانچ سے بھی نازک ہے
ایک لمحے میں ٹوٹ جاتی ہے
ایک لمحہ گرفت میں آ کر
اگلے لمحے ہی چھوٹ جاتی ہے

22
جدھر زمانہ گیا اس طرف نہ جانا تھا
یہ فیصلہ تھا مرا اور بہت پرانا تھا
میں اک ہجوم میں تھا پھر بھی میں اکیلا تھا
مجھے خبر تھی فقط میں ہی اک نشانا تھا
گنوایا وقت کہ جیسے میں دائمی ہوں یہاں
خبر نہ تھی کہ یہاں سے مجھے بھی جانا تھا

0
58
صحرا کی رات سے بڑی کالی ہے زندگی
ہر طرح کے معانی سے خالی ہے زندگی

0
21
یہی سوال خیالوں میں گونجتا ہے مرے
کیا ملا تجھے یہ عمر رائیگاں کر کے ؟ ؟ ؟

0
32
کوئی بھی خواب ہمارا نہ ہو سکا پورا
سو اب زمانے کے ہم خواب پورے کرتے ہیں

0
26
تمہیں خدا پہ یقیں ہے تو کچھ کمال نہیں
سلوک کیسا ہے لوگوں سے بس کمال ہے یہ

28
زندگی خود کو ڈھونڈتے گذری
وقت سارا تلاش میں کھویا . .
خود کی تخلیق رہ گئی ہم سے

21
پیار کی اب تلاش میں شاہد
کششِ ثقل سے نکلنا ہے

0
15
پیار کی ابتدا سے ڈرتا ہوں
پیار کی انتہا سے ڈرتا ہوں
پیار کی ہر ادا نرالی ہے
ایسی ہر اک ادا سے ڈرتا ہوں
کان میں سیسہ ڈال رکھا ہے
پیار کی اک صدا سے ڈرتا ہوں

35
میں خود اپنی انا سے ڈرتا ہوں
اک دیا ہوں ہوا سے ڈرتا ہوں
زہر پیتا ہوں زندگی کے لیے
بعد میں میں دوا سے ڈرتا ہوں
در کھلا روز چھوڑ دیتا ہوں
رات بھر میں بلا سے ڈرتا ہوں

68
پاس اس کے رہ سکے نہ دور اس سے رہ سکے
زہر بھی اپنا وہی تریاق بھی اپنا وہی

0
13
بہت کچھ کر کے جانا ہے
مگر کچھ بھی نہیں ہوتا

0
19
مری آنکھوں میں دیکھو اور ذرا سا مسکرا دو تم
مجھے بس زندگی کا , ایک پل , احساس ہو جائے

0
27
چلو گھر سے نکلتے ہیں
کسی لمبی مسافت پر
کوئی منزل نہ ہو جس کی
نہ کوئی بوجھ کاندھوں پر
بہت سنسان رستہ ہو
مجھے تم سے اکیلے میں

0
48
لفظوں کی جنگ رات بہت دیر تک چلی
حاصل تو کچھ نہیں ہوا سچ فوت ہو گیا

0
44
میں ایک باغ نہیں ہوں میں ایک جنگل ہوں
کبھی کبھی تو مجھے خود سے خوف آتا ہے

0
34
وہ سنگِ عام سے گر مارتا تو سہہ لیتا
مگر وہ سنگِ تنفر سے وار کرتا ہے

0
21
مجھ سے دھوکا کیا ہے خوشیوں نے
غم ہیں جو چھوڑ کر نہیں جاتے
کچھ بھی کر لیں مگر خدا والے
دل کبھی توڑ کر نہیں جاتے

0
15
اسے کہنا کہ اس کے بعد میں کھویا سا رہتا ہوں
اسے کہنا کہ جیسے دن کو بھی سویا سا رہتا ہوں
اسے کہنا کہ میری آنکھ میں پانی نہیں کب سے
اسے کہنا کہ پھر بھی شکل سے رویا سا رہتا ہوں
اسے کہنا کہ آہٹ کان اب سنتے نہیں کوئی
اسے کہنا کہ پاؤں ریت پر جلتے نہیں کوئی

0
44
میں ایک شاعر غم اور تو خوشی کی سفیر
میں کالی رات ہوں جس میں تو روشنی کی لکیر

0
22
ترا یہ دعویٰ کہ ہے تجھ کو پیار جانے دے
بنا نہ پیار کا تو اشتہار جانے دے
یہ اب عیاں ہے سبھی پر تو مان لے آخر
تو کر رہا تھا فقط کاروبار جانے دے
جو جال تو نے بچھایا تھا اب سمیٹ بھی لے
میں کب کا ہو گیا جس کا شکار جانے دے

2
50
جب میں پیدا ہوا تو مندر کی
گھنٹیوں کا عجیب قصہ ہے
بج رہی تھیں بہت تسلسل سے
سسکیاں لے رہی تھیں جانے کیوں

0
30
قتل کرنے کا نیا , ان کو قرینہ چاہیے
کاٹ کر شہ رگ ہماری خون پینا چاہیے
زخم سینے پر سہے مڑ کر کبھی بھاگے نہیں
اب ڈٹے رہنے کی خاطر اور سینہ چاہیے
اک رفو گر چاہیے تھا جو ملا اب تک نہیں
اپنے زخموں کو ابھی خود سے ہی سینا چاہیے

0
62
پہاڑ عریاں مرے سامنے ہوئے شاہد
یہاں درخت تھے جو بادلوں میں رہتے تھے

0
35
فاصلوں نے دور اس سے کر دیا شاہد مجھے
دل میں جو اس کا مکاں تھا آج تک بدلا نہیں

0
28
ایک پاتال جسم کے اندر
بھر رہا ہوں مگر نہیں بھرتا

0
34
وقت کے سمندر میں
کشتیاں بہت سی ہیں
اک جگہ سے چڑھنا ہے
اک جگہ اترنا ہے
وقت کا سمندر تو
بے کراں سمندر ہے

0
35
میں اپنے خواب کی تعبیر گر جو پا لیتا
بغیر خواب کے پھر زندگی کٹھن ہوتی

0
25
جب سے یہ زندگی سمجھ آئی
زندگی اک مذاق لگتی ہے

0
21
خود سے اب دشمنی نبھانی ہے
بجلی اب خود پہ ہی گرانی ہے
خود سے دھوکے کیے ہیں بچپن سے
سب سے عادت یہی پرانی ہے

0
48
اسے ڈھونڈتا رہا عمر بھر
رہا وہ بھی میری تلاش میں
کبھی موڑ پہلے وہ مڑ گیا
میں بھٹک گیا کبھی راہ میں
جہاں ہونا چاہیے تھا ہمیں
کبھی وہ نہ تھا کبھی میں نہیں

0
62
میں سورج ہاتھ میں لے کر کبھی گھر سے نکلتا تھا
اماوس رات ہے مجھ کو کوئی جگنو نہیں ملتا

0
26
تباہ تم بھی ہو جاناں تباہ میں بھی ہوں
قصور کس کا تھا اس فیصلے سے کیا حاصل

0
64
ہوا میں زہر ہے اتنا کہ بانسری بھی یہاں
پھنکارتی ہے کسی شیش ناگ کی مانند
یہاں پہ نفرتوں کے سرو اتنے اونچے ہیں
کہ سورجوں کو بھی اب راستہ نہیں ملتا

0
39
ساتھ تيرے گزارنا تھا وقت
تيری کشتی میں میں سوار ہوا
میں نے کشتی میں چھید دیکھا تھا
معجزوں پر یقین تھا مجھ کو

0
31
اس سے جو وعدہ کیا تھا آج پورا کر دیا
خود کو مٹی اور اس کو آج سونا کر دیا
میری نسبت ہو کسی سے یہ اسے بھاتا نہ تھا
اس کی خاطر آج میں نے خود کو تنہا کر دیا
اپنی نیلامی ہوئی ایسی بچا تھا اک ضمیر
کوڑیوں کے دام اس کا آج سودا کر دیا

0
36
میں اس سے کیسے کہوں اس کے اختیار میں ہوں
میں درد حد سے گزرنے کے انتظار میں ہوں
نہ میں مسیحا نہ زاہد نہ شیخ ہوں نہ امام
ہر ایک چیز سے منکر میں انتشار میں ہوں
نہ دل میں چین ہے اور روح میں قرار نہیں
کہ میں خزاں میں نہیں ہوں نہ ہی بہار میں ہوں

0
44
چائے پیتے سمے چائے ہی پیجئے
بات سنتے سمے دھیان تو دیجئے
لیٹ کر بند آنکھیں ذرا کیجئے
لمبے لمبے کئی سانس اب لیجئے

0
43
لوگ نظروں کو جھکاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عزتِ نفس بچاتے ہوئے مر جاتے ہیں
چند لقموں کی یہ بیگار نگل جاتی ہے
عمر بھر بھوک مٹاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہاتھ کٹنے کے مراحل سے بہت پہلے ہی
ہم تو بس خواب چراتے ہوئے مر جاتے ہیں

0
65
میں اک کتاب کے وقفے میں وہ نہیں رہتا

0
34
یہ دانائی کا دھارا ہیں
یہ جنت کا نظارہ ہیں
کتابیں درس حرکت کا
سفر کا استعارہ ہیں
کتابیں علم کے موتی
کتابیں اک سہارا ہیں

50
درد سے بوجھل دلِ پکھراج ہے
درد ہی تو عاشقی کا داج ہے
میں کہیں بھی ایک پل رکتا نہیں
سر پہ اب خانہ بدوشی تاج ہے
دکھ کی بارش روح میں تھمتی نہیں
عشق کرنے کا یہی تو باج ہے

0
71
خالی بوتل سے ایک قطرۂ مے
کبھی ٹپکے گا کیوں امید کروں
کون سا میں کوئی مسیحا ہوں
معجزے آج کل نہیں ہوتے

0
31
ختم کرنا ہے گر اندھیرے کو
روشنی تم کہیں سے لے آؤ

0
60
گناہ کا خوف تھا اتنا جناب کیا کرتا
یہ ہاتھ کانپ رہے تھے رباب کیا کرتا
ہمیں تضاد سکھاتا ہے زندگی کا علم
گناہ کیا ہی نہیں تھا ثواب کیا کرتا
کسی نے زہر ملایا تھا پانیوں میں وہاں
مجھے تو اصل نے مارا سراب کیا کرتا

0
60
مجھ کو تو نے زندگی اک غیر جانا ہر گھڑی
مجھ کو اب موقع ملا تجھ سے وفا کیسے کروں
آرزو میری کرے کوشش رہی یہ عمر بھر
اس کو اپنے آپ میں اب مبتلا کیسے کروں

0
45
گلے ہزار ہیں پھر بھی خموش رہتا ہوں
مگر وہ یہ نہ سمجھ لے کہ خوش ہوں میں اس سے

0
42
میں اپنے من میں بہت چیختا ہوں لوگوں پر
میں ان کے سامنے کچھ بھی مگر نہیں کہتا

0
52
آندھیوں کو کیا معلوم
آندھیوں کے چلنے سے
پیڑ جن کی شاخوں پر
گھونسلے پرندوں کے
ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں
پانیوں کے ریلے بھی

60
کئی سالوں میں ہم نے صرف
یہ دیواریں کھڑی کی ہیں
چلو اک بار سب مل کے
بہت سے پل بناتے ہیں

0
41
ماں کے ہوتے ہوئے یہ لگتا تھا
زندگی کھیل کے سوا کیا ہے
ماں نہیں تو اب ایسا لگتا ہے
کھیل میں کھیل کا مزا کیا ہے

0
57
بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا
اپنے حالات پر ابال آیا
زندگی بھر برا نہیں سوچا
مجھ پہ کیوں رنج اور ملال آیا
جتنا ناکامیوں پہ غصہ تھا
اپنے اوپر ہی میں نکال آیا

0
71
ساحلِ تمنا پر
اک صلیب ہے جس پر
روز جھول جاتا ہوں

0
47
میں کائنات کی وسعت پہ جب بھی سوچتا ہوں
میں اس نتیجے پہ ہر بار ہی پہنچتا ہوں
بس ایک قطرہ ہوں میں وقت کے سمندر میں
بس ایک ریت کے گولے پہ آج جیتا ہوں
بس ایک پھل جھڑی سی میری زندگی ہے یہاں
میں اک چراغ ہوں جو آندھیوں میں جلتا ہوں

0
47
قسمتیں جو لائے تھے
چاہتیں کہاں ملیں
نفرتیں ملیں ہمیں
قربتیں کہاں ملیں
عمر اک گذار دی
در نہیں کھلا کبھی

0
61
کوئلہ میں ہو گیا تھا ہیرا ہونا ہے ابھی
داغ دامن پر لگے ہیں ان کو دھونا ہے ابھی
وہ مرے جزبات سے اب کھیلتا ہے رات دن
اس کے ہاتھوں میں مرا دل اک کھلونا ہے ابھی
ہر قدم پر ہی بھٹکنا کیوں پڑا مجھ کو یہاں
لگ رہا ہے مجھ پہ کوئی جادو ٹونا ہے ابھی

0
57
جو بھی ملتا تھا مجھ سے بچپن میں
یہ ہی کہتا تھا ایسے بچے سے
کوئی امید رکھ نہیں سکتے
اس کے کتنے سوال ہیں جن پر
ہم نے سوچا نہیں کبھی ان پر
کچھ تو ایسے سوال ہیں جن پر

0
42
زندگی پر خزاں کا سایہ ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
خون مے ناب ہو گیا میرا
اپنے اندر نکھر رہا ہوں میں

0
37
کھول دو میکدے کا دروازہ
انتظار اور اب نہیں ہو گا
یہ ملاقات آخری سمجھو
میں ہوں مہمان چند لمحوں کا

0
37
زندگی برباد اپنی اس طرح مجھ سے ہوئی
آدھی جینا لے گیا آدھی شرابوں میں بہی

0
53
زندگی کے جام میں کچھ گھونٹ باقی ہیں ابھی
رقص تھم جائے نہ پھر بادہ کشی کر لیں ابھی
زندگی ساری لٹا دی کچھ بچا ہے کیا ابھی
چند سانسیں ہی بچی ہیں ان کو وہ دے دیں ابھی

0
47
میں اپنے آپ میں خانہ بدوش ہوں شاہد
سفر میں رہتا ہوں لیکن کہیں نہیں جاتا

0
50
تمام عمر مجھے اضطرار کس کا تھا
نہ تھا یہ عشق تو پھر انتشار کس کا تھا
مرے وجود میں گر جھانکتا تو پا لیتا
مرا نہ تھا تو دلِ بے قرار کس کا تھا
وہ پاس تھا مرے پر دور تھا بہت مجھ سے
اسے وصال میں اب انتظار کس کا تھا

0
58
مجھ کو کوئی بچا نہیں سکتا
راستہ بھی دکھا نہیں سکتا
راستے میں اگر بچھڑ جاؤں
خود سے کوئی ملا نہیں سکتا
اب مرا درد بانٹنیں والا
درد میرا گھٹا نہیں سکتا

0
61
پوچھا کہ کائنات میں سب سے اہم ہے کیا
میں نے کہا کہ لفظ ہی ہر چیز کی وجہ
اس نے کہا کہ لفظ سے آگے کی بات کر
میں نے کہا کہ لفظ ملے شاعری بنی
پوچھا کہ شاعری کے افق پر رکھا ہے کیا
بولا کہ راگ کی ہوئی پھر آگے ابتدا

0
62
موت ایسے ہے صبح دم جیسے
اٹھ کے ہم گل چراغ کرتے ہیں

0
24
ایک دریا ہوں سمندر سے جدا ہوں کب سے
اب یہ حسرت ہے سمندر گرے آ کر مجھ میں

0
37
جو بھی ،لکھا تھا ہم نے وہ ، مفہوم ہی نہ تھا
شامل جو اس میں ہو گیا ، مضموم ہی نہ تھا
اک رغبتِ شدید تھی ، کس کی تھی ، کیا خبر
کچھ ڈھونڈتے رہے ، کسے ، معلوم ہی نہ تھا
بس زندگی گذار دی ، منزل سے بے خبر
جو کچھ ملا ہمیں یہاں ، مقسوم ہی نہ تھا

0
61
انسان سے بڑا کوئی نادان ہی نہیں
یہ جان کر ذرا بھی میں حیران ہی نہیں
شیطان مفت میں یہاں بدنام ہو گیا
انسان سے بڑا کوئی شیطان ہی نہیں
انسان کے مقام سے انسان جب گرے
اس سے بڑا جہان میں حیوان ہی نہیں

0
50
جہاں میں اس قدر جب غم نہ ہوں گے
خدایا اس جہاں میں ہم نہ ہوں گے
لگیں گے زخم اتنے اس چمن میں
کہ جتنے پھر یہاں مرہم نہ ہوں گے
ہمیں اک ساتھ پا کر لوگ ناخوش
جدا ہوں گے تو یہ برہم نہ ہوں گے

0
85
پوچھا کہ ہم انا پہ کیوں اپنی اڑے رہے
کہنے لگی کہ پاؤں زمیں میں جڑے رہے
میں نے کہا کہ وقت تو آگے نکل گیا
بولی جہاں کھڑے تھے وہیں پر کھڑے رہے
بولی کہ اپنے دل یہاں پتھر کے ہو گئے
میں نے کہا کہ وقت جو ہم پر کڑے رہے

0
54
میں نے کہا کہ چاند ستارے نہیں رہے
بولی سمندروں کے کنارے نہیں رہے
پوچھا کہ اپنی دیدۂ بینا کہاں گئی
بولی کہ آج کل وہ نظارے نہیں رہے
اس نے کہا کہ کھو گئے خاموشیوں میں تم
میں نے کہا کہ اب وہ اشارے نہیں رہے

0
82
میں نے کہا کہ ہم وہ دوانے نہیں رہے
کہنے لگی کہ اب وہ زمانے نہیں رہے
پوچھا کہ اگلی بار ملو گی مجھے کہاں
کہنے لگی کہ اب وہ ٹھکانے نہیں رہے
بولی خطوط کا کوئی اب فائدہ نہیں
کہنے کو اب کوئی بھی فسانے نہیں رہے

41
عجب میری محبت ہے
وہ جب منہ پھیر لیتی ہے
میں روتا ہوں میں گاتا ہوں
میں اس کے سامنے جا کر
ذرا سا ڈگمگاتا ہوں
توجہ اس کی پھر پا کر

0
30
چلو لفظوں سے کھیلیں اور ذرا سی ساحری کر لیں
چلو غالب نہیں پھر بھی ذرا سی شاعری کر لیں
چلو ہم راندۂ درگاہ ہیں اب بندگی کیسی
چلو سجدہ کریں بت کو ذرا سی کافری کر لیں
چلو ہم تو فقیرِ شہر ہیں مردہ ضمیر اپنا
چلو سلطان کے اعمال پر اب خودکشی کر لیں

0
56
بہت اب زندگی کر لی
ذرا سی سرپھری کر لیں
کریں نوحہ گری کب تک
چلو ہاراکری٭ کر لیں
(٭ہاراکری - اجتماعی خودکشی)

0
47
یہاں پر تخت بکتے ہیں
یہاں پر تاج بکتے ہیں
یہاں جو کل نہ بکتے تھے
یہاں وہ آج بکتے ہیں
یہاں فرہاد بکتے ہیں
یہاں جلاد بکتے ہیں

0
1
75
بھول جانا چاہتا ہوں میں جسے
یاد آتا ہے وہ ہی اکثر مجھے

0
44
وہ انسانوں کے جنگل میں
فقط حیوان ہی تو ہے
جو کچھ بھی اپنی مرضی سے
یہاں پر کر نہیں سکتا

0
39
میں اب مصروف رہتا ہوں
میں بس تنقید کرتا ہوں
میں لوگوں پر نہیں کرتا
میں بس شاہد پہ کرتا ہوں
میں اب مصروف رہتا ہوں
میں خود سے پوچھتا ہوں اب

0
49
جلاوطنی میں آوارہ
میں اک ٹوٹا ہوا تارا
جو سینے میں دھڑکتا ہے
دکھوں کا ایک گہوارہ

0
43
وہ دھند اداسیوں کی تھی
لپٹ گئی تھی جو مجھے
وہ دھند موسمی نہ تھی
وہ دھند ابھی گئی نہیں

0
41
جو میں محسوس کر نہیں سکتا
اس کے بارے کبھی نہیں لکھتا
درد اٹھتا ہے جب بھی سینے میں
اس کو الفاظ دے نہیں سکتا
درد سے دور ہے قلم اتنا
جب ضرورت پڑے نہیں ملتا

0
47
ہر چیز وہ نہ تھی کہ جو پہلے کبھی وہ تھی
جب میں وہاں نہ تھا تو زمانہ بدل گیا

0
65
جیسے جیسے سکڑ رہا ہے وقت
فاصلے بڑھ رہے ہیں جانے کیوں

0
34
چلتے چلتے میں تھک گیا لیکن
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

0
40
یہاں انسان پتھر کے
اور ان کے دل بھی پتھر کے
جو گہرے زخم دیتے ہیں
یہاں الفاظ پتھر کے
در و دیوار پتھر کے
یہاں اطوار پتھر کے

0
69
میں کہ خانہ بدوش بچپن سے
آج تک میں کہیں ٹکا ہی نہیں
لوٹ کر جاؤں میں کہاں شاہد
میرے گھر کا کوئی پتہ ہی نہیں
کیسا لگتا ہے واپسی کا سفر
مجھ کو احساس ہی نہیں اس کا

0
50
کجھ ویلے تنگ ہو گئے نیں
کجھ لوک وی سنگ ہو گئے نیں
اے اوکھے ویلے کِنج کٹیے
ہن یار ملنگ ہو گئے نیں

0
55
کبھی جیت ہو گی کبھی مات ہو گی
کبھی صبح ہو گی کبھی رات ہو گی
جدائی کا موسم بھی تبدیل ہو گا
نئے موسموں میں ملاقات ہو گی
یہ بادل برس کر چلے جائیں گے پھر
ہمیشہ نہ غم کی یوں برسات ہو گی

0
78
میں سردابوں میں چھپ جاؤں
میں صحراؤں میں کھو جاؤں
میں کہساروں پہ چڑھ جاؤں
کہیں بے نام ہو جاؤں
میں تلواروں کے سائے میں
میں انگاروں پہ سو جاؤں

0
74
جو دینی ہے مجھ کو یہی بس دعا دیں
جو بچھڑی تھی آواز مجھ سے ملا دیں
میں ظالم میں غاصب میں قاہر نہیں ہوں
مرے حق میں یہ فیصلہ وہ سنا دیں
میں تاریک جذبوں کو الفاظ دوں گا
جو گھٹتی ہے توقیر تو وہ گھٹا دیں

0
58
جب سے حالات آزمانے لگے
دوست مجھ سے نظر چرانے لگے
جوں ہی رکھا قدم جوانی میں
داغ دل کے مجھے جلانے لگے
لکھنے بیٹھے جو اپنی جگ بیتی
قصے ماضی کے سب فسانے لگے

0
36
جھوٹ تو جھوٹ ہے مگر پھر بھی
سچ سے بڑھ کر کوئی دغا ہی نہیں

0
38
خدا کی سر زمیں پر اس کا یوں ہو گا زیاں کب تک
اسے کب تک چھپائیں گے رہے گی بے زباں کب تک
یہ عورت ماں ہے بیٹی ہے بہن ہے اور بیوی ہے
یہ کب تک اور بھٹکے گی رہے گی بے اماں کب تک
یہ اپنا بوجھ ڈھو لے گی بس اک موقع اسے دے دو
یہ اس قابل ہے سمجھو گے اسے بارِ گراں کب تک

0
60
میں گہرے پانیوں کی تہہ میں اک خاموش پتھر ہوں

0
51
بہت باتیں ہوئیں اس سے
مگر میں کچھ نہیں بولا
جو دل میں راز تھا میرے
ابھی تک وہ نہیں کھولا

0
46
جب بھی ملتی ہے مجھ سے کہتی ہے
کتنے تم پر سکون لگتے ہو
میری خواہش ہے جتنا باہر سے
میں اسے پر سکون لگتا ہوں
کاش اندر سے بھی میں اتنا ہی
اک گھڑی پر سکون ہو جاؤں

0
53
چراغ اپنی وفا کے جلا کے جاؤں گا
میں خون اپنے جگر کا بہا کے جاؤں گا
میں ڈھونڈنے اسے شہرِ سبا کو جاؤں گا
میں ابنِ قیس ہوں سب کچھ لٹا کے جاؤں گا
میں تخت کیسے منگاؤں میں کوئی شاہ نہیں
فقیرِ شہر ہوں خود کو مٹا کے جاؤں گا

0
57
جوانی بیچ کے دانائی کچھ خریدی تھی
کہاں سنبھال کے رکھی تھی اب یہ یاد نہیں

0
56
پروں کے ہوتے ہوئے بھی میں اڑ نہیں پایا
مرے پروں کو تراشا گیا تھا پتھر سے

0
45
کہیں درمیان میں پھنس گیا
نہ اِدھر گیا نہ اُدھر گیا
یہ نہیں کہ کی نہیں کوششیں
مری کوششیں رہیں بے ثمر
مجھے اس کا کوئی بھی غم نہیں
مجھے دکھ یہ ہے رہا بے ہنر

0
49
اس کا اندازہ کتنا مشکل ہے
کتنی وسعت ہمارے اندر ہے

0
44
مری خاموشیوں کا شور اب اتنا زیادہ ہے
سنائی کچھ نہیں دیتا سمجھ میں کچھ نہیں آتا

0
48
میری خواہش ہے آگے در ہو کوئی
اس سے گزروں کہیں نکل جاؤں

0
43
خود سے ٹکرائے اور بکھر جائے
میں اک ایسا شہابِ ثاقب ہوں

0
35
زندگی میں سکوں نصیب نہیں
زندگی انتشار ہو جیسے

0
49
وہ یہ چاہتی ہے میں بدل جاؤں
اس کا منطق کبھی سمجھ پاؤں
میں سمجھتا ہوں یہ نہیں ممکن
میں ہمیشہ رہوں گا جو میں ہوں
وہ مثالوں سے مجھ کو سمجھائے
لاروا جیسے تتلی بن جائے

0
50
چل رہا تھا کب سے میں
تھی مسافت اک کڑی
تھک گیا تھا اس گھڑی
چند لمحوں کو رکا
سوچ یونہی آ گئی
میں بہت نذدیک ہوں

0
112
ميں اپنے درد کی لینے کو جو دوا نکلا
پتہ چلا کہ مرا درد بے دوا نکلا
میں دربدر پھرا اس کو گلی گلی ڈھونڈا
عدو کے گھر سے مرا یارِ بے وفا نکلا
تمام شہر میں مے کی سبیل جاری تھی
ہر ایک شخص واں کہنے کو پارسا نکلا

0
62
میں تو آگے نکل گیا ہوں کہیں
میرا سایا ٹھہر گیا پیچھے

48
جہاں میں نے بچپن گذارا تھا شاہد
وہ دیوار و در یاد آنے لگے ہیں

46
جن کے بنا دن گذرتا نہیں تھا
چہرے وہی اب ڈرانے لگے ہیں

0
39
میں اپنی ہی کہانی میں
ولن کا رول کرتا ہوں
میں خود پر ظلم کرتا ہوں
میں خود مظلوم بنتا ہوں
مجھے اب اس کہانی میں
نیا اک رنگ بھرنا ہے

0
83
اس زندگی نے اک مجھے پتھر بنا دیا
پتھر کو پھر سے توڑ کر انساں بناؤں گا

0
42
ماں ہی اب تو نہیں رہی شاہد
لوریاں کون اب سنائے گا

0
62
خود سے خطرہ ہے مجھ کو اب شاہد
کون خود سے مجھے بچائے گا

0
33