میں آج وقت کے ہاتھوں سے گرنے والا ہوں
میں ٹوٹ پھوٹ کے آخر بکھرنے والا ہوں
چھپا کے رکھا مجھے بادلوں نے کیوں دن بھر
یہاں پہ شام ہوئی ہے اترنے والا ہوں
خزاں رسیدہ درختوں پہ پھوٹنے کی سزا
بھری بہار میں شاہدؔ میں جھڑنے والا ہوں

0
10