میں آج وقت کے ہاتھوں سے گرنے والا ہوں |
میں ٹوٹ پھوٹ کے آخر بکھرنے والا ہوں |
چھپا کے رکھا مجھے بادلوں نے کیوں دن بھر |
یہاں پہ شام ہوئی ہے اترنے والا ہوں |
خزاں رسیدہ درختوں پہ پھوٹنے کی سزا |
بھری بہار میں شاہدؔ میں جھڑنے والا ہوں |
میں آج وقت کے ہاتھوں سے گرنے والا ہوں |
میں ٹوٹ پھوٹ کے آخر بکھرنے والا ہوں |
چھپا کے رکھا مجھے بادلوں نے کیوں دن بھر |
یہاں پہ شام ہوئی ہے اترنے والا ہوں |
خزاں رسیدہ درختوں پہ پھوٹنے کی سزا |
بھری بہار میں شاہدؔ میں جھڑنے والا ہوں |
معلومات