مرے جینے کی اب دُعا نہ کرو
زندگی کو مری سَزا نہ کرو
زَخم ناسُور بَن گیا اب تو
درد سہنے دو کچھ دوا نہ کرو
دُکھ سے مجھ کو سکون ملتا ہے
اس سکوں سے مجھے جدا نہ کرو
ایک احسان بس یہی کر دو
ساتھ میرے کوئی بھلا نہ کرو
تنگ دلی میں یہ زندگی گزری
آخری وقت دل کُشا نہ کرو
صبح سے شام ہو گئی شاہدؔ
شام کے وقت کچھ نِیا نہ کرو

38