مری اداسیوں کا کچھ تو اب خیال کرے
کلام کا ہی کوئی سلسلہ بحال کرے
اسے کہو کہ وہ اب رنج بانٹ لے مجھ سے
اسے کہو مجھے اپنا شریکِ حال کرے
جواب دے کے اگر ٹوٹ جاؤں رنج نہیں
اسے کہو کہ بہت سخت اب سوال کرے
اسے کہو کہ خوشی راس ہی نہیں آتی
اسے کہو کہ وہ جینا مرا وبال کرے
اسے کہو کہ جو رشتہ نہ ہم سنبھال سکے
اسے کہو کہ تعلق وہ پائمال کرے
گرا دیا مجھے فہرستِ عاشقاں سے کیوں
اسے کہو کہ وہ رتبہ مرا بحال کرے

0
12