| ہم دیتے صدا، اتنا گوارا بھی نہیں تھا |
| اُترے تھے جہاں کوئی کنارا بھی نہیں تھا |
| مدت سے بہت سوچ کے جب بحر میں اترے |
| تھی بادِ مخالف، کوئی تارا بھی نہیں تھا |
| جاتے ہوئے کیوں اُس نے پلٹ کر مجھے دیکھا |
| میں نے تو اُسے آج پکارا بھی نہیں تھا |
| جب بھی وہ ملا، زخم نیا دے کے گیا تھا |
| پر اُس کے علاوہ تو گزارا بھی نہیں تھا |
| وہ اپنی تباہی پہ تُلا مجھ سے ملا تھا |
| خود اپنا نہیں تھا، وہ ہمارا بھی نہیں تھا |
| پلکوں پہ بٹھا کر اُسے اک عمر گزاری |
| ڈوبے تو وہ تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا |
معلومات