ہم دیتے صدا، اتنا گوارا بھی نہیں تھا
اُترے تھے جہاں کوئی کنارا بھی نہیں تھا
مدت سے بہت سوچ کے جب بحر میں اترے
تھی بادِ مخالف، کوئی تارا بھی نہیں تھا
جاتے ہوئے کیوں اُس نے پلٹ کر مجھے دیکھا
میں نے تو اُسے آج پکارا بھی نہیں تھا
جب بھی وہ ملا، زخم نیا دے کے گیا تھا
پر اُس کے علاوہ تو گزارا بھی نہیں تھا
وہ اپنی تباہی پہ تُلا مجھ سے ملا تھا
خود اپنا نہیں تھا، وہ ہمارا بھی نہیں تھا
پلکوں پہ بٹھا کر اُسے اک عمر گزاری
ڈوبے تو وہ تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا

59