کہنا چاہا تھا مگر اس سے کہا کچھ بھی نہیں
روز ہوتا ہے یہی اس میں نیا کچھ بھی نہیں
اتنی طاقت دی اُسے اُس نے گِنی ہیں سانسیں
اُس نے بدلے میں مگر مجھ کو دیا کچھ بھی نہیں
جی نہ پائے گا مرے بعد کہا تھا اس نے
ایک مدت ہوئی اُس کو تو ہوا کچھ بھی نہیں
مجھ سے گزری نہ گئی صرف گزرتے دیکھی
جانے کاتب نے مقدر میں لکھا کچھ بھی نہیں
اُس نے پوچھا کہ مرے بعد بچا کیا ہے تمہیں
میں نے دل کھول کے دیکھا تو ملا کچھ بھی نہیں
میں نے اِس پیار میں اک عمر گنوا دی شاہدؔ
ُاس کا اِس کھیل میں اب تک تو گیا کچھ بھی نہیں

54