| ہم سے جتنی بھی بے رخی کر لو |
| اک ملاقات آخری کر لو |
| دوستی کے نہیں تھے گر قابل |
| اب چلو ہم سے دشمنی کر لو |
| زندگی کس طرح گزارو گے |
| خود سے تھوڑی سی آگہی کر لو |
| نفرتیں روح چاٹ جائیں گی |
| تھوڑی نفرت میں تم کمی کر لو |
| سہل کرنا ہے زندگی کو اگر |
| یوں کرو غم سے دوستی کر لو |
| وقتِ رخصت وہی گلے شکوے |
| بات اس وقت کچھ نئی کر لو |
| کچھ تو ہے جو چھپا رہے ہو تم |
| بات جو بھی ہے تم ابھی کر لو |
| کہہ رہے تھے کہ جی نہ پائیں گے |
| کہہ گیا وہ کہ خود کشی کر لو |
| ق |
| سچ نہ بولو کہ دل دکھے گا بہت |
| اس سے بہتر ہے شاعری کر لو |
معلومات