دل میں کسی بھی چیز کا کچھ غم نہیں رکھا
آنکھوں کو دیر تک کبھی پر نم نہیں رکھا
ہم وہ درخت تھے کہ خزاں راس آ گئی
اپنے لیے بہار کا موسم نہیں رکھا
دشمن کے خوف سے ہوئے سب کے چراغ گُل
ہم نے کوئی چراغ بھی مدھم نہیں رکھا
صف بستہ ہر محاز پہ پائے گئے ہمیں
لیکن کسی کا ہاتھ میں پرچم نہیں رکھا
گردن پہ تیغ آ گئی، حالات سخت تھے
پھر بھی کسی کے سامنے سر خم نہیں رکھا
شاہدؔ یہ سچ ہے راہ میں کچلے گئے مگر
لیکن کسی بھی زخم پہ مرہم نہیں رکھا

66