دل میں کسی بھی چیز کا کچھ غم نہیں رکھا
آنکھوں کو دیر تک کبھی پر نم نہیں رکھا
ہم وہ درخت جن کو خزائیں پسند تھیں
اپنے لیے بہار کا موسم نہیں رکھا
دشمن کے خوف سے ہوئے سب کے چراغ گُل
ہم نے کوئی چراغ بھی مدھم نہیں رکھا
صف بستہ ہر محاز پہ پائے گئے ہمیں
لیکن کسی کا ہاتھ میں پرچم نہیں رکھا
کٹ کر بکھر رہی تھیں یہاں گردنیں مگر
اس سر کو پھر بھی ہم نے کبھی خم نہیں رکھا
شاہدؔ یہ سچ ہے راہ میں کچلے گئے مگر
لیکن کسی بھی زخم پہ مرہم نہیں رکھا

0
7