لوگ تھے بے مثال ماضی میں
ہم بھی تھے با کمال ماضی میں
دائرہ بڑھ گیا جہالت کا
تھے ہزاروں سوال ماضی میں
کیا بتاؤں سبب تباہی کا
چل گیا تھا وہ چال ماضی میں
وہ بھی کیا دن تھے روز ملتے تھے
ان سے تھی بول چال ماضی میں
روگ اب اپنی جان لے لے گا
اتنے کب تھے نڈھال ماضی میں
حال تک ہم پہنچ نہیں پائے
ہر قدم پر تھے جال ماضی میں
آج زندہ ہیں اس لیے شاہدؔ
بچ گئے بال بال ماضی میں

2
101
وہ بھی کیا دن تھے روز ملتے تھے
ان سے تھی بول چال ماضی میں

آپ کی ٹائپو کی نشاندہی اور میری شاعری کو پسند کرنے کا بہت شکریہ۔